ڈاکٹر صباحت اسلم کی کتاب ایجوکیشن فار آل پر تبصرہ - اشفاق پرواز

تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوارتی ہے۔

دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے۔ آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے تعلیم کا اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی ،جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے۔ حصولِ تعلیم کےلئے قابل اساتذہ بھی بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو اعلٰی تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائے بلکہ استاد وہ ہے جو طلب و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک ،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے انہیں مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ،ان کے شاگرد آخری سائنس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔

وادی کشمیر کی معروف دانش گاہ یونیورسٹی آف کشمیر ریاست کی مایہ ناز جامعہ ہے جہاں سے ہر سال ہزاروں طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اسی کشمیر یونیورسٹی میں راقم الحروف کا داخلہ سال 2015 میں ہوا۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہر طالب علم کا شوق رہتا ہے جسے وہ پورا کرکے ہی رکھنا چاہتا ہے۔ اس نوعیت سے ہم انتہائی خوش قسمت تھے کہ ہمیں یہاں اوپن مرٹ میں داخلہ ملا ہے۔ یونیورسٹی آف کشمیر میں پہنچتے ہی ہمیں کئی سارے نئے احباب سے تعارف ہوا جو ریاست کے مختلف اضلاء سے تعلق رکھتے تھے۔

یہاں کا درس و تدریسی عملہ بھی کافی شفیق معلوم ہوا۔ تدریسی عملے میں ڈاکٹر صباحت اسلم نامی ایک خاتون مدرسہ تھیں۔ قابل، شفیق اور ملنسار اس معلمہ کا تعلق ضلع سرینگر سے ہے۔ آپ پڑھائی کے تئیں اتنے مخلص تھے کہ کبھی بھی دیر سے کلاس میں نہیں آتے تھے۔ ڈاکٹر صباحت اسلم نے بی ایس سی۔ ایم۔ایڈ اور ایم فل کیا ہے۔ انہوں نے نیشنیل ایلیگجبلٹی ٹیسٹ بھی پاس کیا ہے۔ انہوں نے ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ آپ اس وقت گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر آپ کے متعدد ریسرچ پیپر بھی شائع ہوئے ہیں۔

حال ہی میں ڈاکٹر صباحت اسلم کی کتاب ایجوکیشن فار آل یعنی تعلیم سب کے لئے منظر عام پر آئی جسکی باضابطہ رسم رونمائی یونیورسٹی آف کشمیر میں ہوئی۔ واضح رہے یہ کتاب جموں کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے سیلبس کے مطابق جماعت بارہویں کے طلاب کے لئے لکھی گئی ہے۔ اور نصابی کتاب ایجوکیشن کے لئے مختص ہے۔ اس کتاب کے ذریعے بچوں کو آسان فہم الفاظ میں ایجوکیشن کے تمام Concepts سمجھائے گئے ہیں۔ اس کتاب میں سیلبس کے مطابق ہر موضوع پر باریک بینی کے ساتھ سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ آسان الفاظ میں لکھی گئی اس کتاب کا انداز ہی کچھ اور ہے۔ یہ کتاب نہ صرف طلاب کے لئے آسان اور فائدہ بخش ہے بلکہ اساتذہ صاحبان کے لئے بھی یہ کتاب موثر ثابت ہوگی۔ ڈاکٹر صباحت اسلم کو طلباء کے تئیں اس لگن اور خلوص پرمبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالی اس شفیق استانی کا سایہ ہم پر تادیر قائم و دائم رکھے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */