سنبھل کر یہ بزم یاران رسول ہے - صالحہ نور

غیر مسلم مؤرخین بھی تاریخ عالم کے اس تابناک دور پر محو حیرت ہیں کہ کس طرح ایک مختصر جماعت نے بعثت نبوی سے فتح مکہ اور وصال نبوی تا ادوار خلفاء محدود وسائل اور دشمن کے مقابل قلیل افرادی قوت کے باوجود انتہائی مختصر عرصے میں اپنے وقت کی سپر پاور ایرانی اور رومی سلطنتوں سے ٹکرا کر انہیں پاش پاش کردیا...یہ کارنامہ انجام دینے والے ہیروز اصحاب رسول ہیں جن کے لئے بشارت دی گئی ہے کہ اللہ ان سے اور وہ اللہ سے راضی ہیں..یہ انسانوں کا وہ عظیم گروہ تھا جس کو اللہ نے فردا فردا اپنے محبوب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے طور پر منتخب فرمایا.۔

یہ بھی واضح ہے کہ بطور بشر بعض اوقات ان سے کوتاہیاں بھی سرزد ہوئیں ہیں..بعینہ اسی طرح ان کے مابین بھی اختلافات کےواقعات پیش آئے جس کا پیشگی فیصلہ ہروردگار کے دربار سے رضی اللہ عنہم کی صورت صادر ہوچکا ...بعد میں آنے والوں کو شریعت عقائد اور اخلاقیات کی رو سے کوئی حق نہیں کہ وہ صدیوں بعد عدالتیں لگا کر ایسے فیصلے حکم یا توجیہات صادر کریں جیسے کہ وہ خود وہاں موجود رہے ہوں... ہر صحابی نے انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنے علم واجتہاد کی روشنی میں جو بہتر سمجھا اس پر عمل کیا اور صحیح یا غلط ہونے کی صورت میں وہ اس پر عنداللہ مأجور ومغفور ہیں غلطیوں سے پاک اور معصوم تو صرف انبیاء ہیں..مگر ان کے بعد کمال انسانیت کی ارتقاء کو پانے والے بلاشبہ صحابہ ہی ہیں ۔آج مختصر ذکر اس جلیل القدر صحابی کا جن کو ان کے ماقبل اسلام کے حالات کی وجہ سے ہمیشہ سے ہی ایک افسوسناک بے توجہی کا سامنا کرنا پڑا . ...ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ اور کاتب وحی امیرالمؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے والد محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر مکرم حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو تاریخ کا مظلوم ترین صحابی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا جن کا ایسے ذکر کیا جاتا ہے گویا وہ مسلمان ہی نہ ہوئے ہو... استغفر اللہ..ابھی سلیبس کی جن 100 کتب پر پابندی کی سفارش کی گئی تھی ان میں سے ایک کتاب میں واضح لکھا تھا ۔ ابوسفیان نے لالچ اور دکھاوا میں اسلام قبول کیا۔ (معاذاللہ)

فتح مکہ کے موقع پر اعلان نبوی ہوا"" جس نے ابوسفیان کے گھر میں پناہ لی اسےبھی امان حاصل ہے"""مگر آج اس ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی عظمت کو اسلام کے نام پر قائم سرزمین میں امان حاصل نہیں..قبول اسلام کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سفر وحضر رہے غزوات میں بھی شرکت کی غزوہ حنین میں ان کی آنکھ شہید ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا کہ چاہو تو بارگاہ خداوندی میں تمھاری بینائی کی واپسی کی دعا کروں ۔..عرض کیا .۔... یہ بینائی جنت میں درکار یے...بصارت سے محرومی بڑھتی عمر کیا حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے عزم واستقلال کو روک پائی؟؟؟ تاریخ کی ورق گردانی کرکے ذرا آگے جھانکتے ہیں.. غزوہ یرموک کا منظر ہے..مسلمانوں کے مقابلہ میں بازنطینی رومی سلطنت کے جنگجو اعلی سامان حرب سے لیس سیسہ پھیلائی دیوار ثابت ہورہے ہیں... سپہ سالار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو احساس ہوتا ہے کہ لشکر کا ایک حصہ دشمن کے رعب میں آیا چاہتا ہے.. عقابی نگاہ انتخاب ابوسفیان رضی اللہ عنہ پر پڑتی ہے اس بوڑھے شیر کو لشکر کی ہمت بندھانے کی ذمہ داری تفویض کرکے سپہ سالار گویا پرسکون ہوجاتے ہیں.

اپنی اہلیہ حضرت ہند رضی اللہ عنہا کے ساتھ لشکر کے چاروں طرف گھوم کر نوجوانوں کو پرجوش ولولہ انگیز خطابت سے حوصلہ دلاتے رومی لشکر کے لئے اب چیلنج کی حیثیت اختیار کرگئے تھے.. تیر اندازوں کے ایک جتھہ کو ان کو خاموش کرانے پر مامور کیا گیا.. جنہون نے ان کی دوسری آنکھ کا نشانہ لیا.. اور یوں وہ مکمل نابینا ہوگئے..ہمت مجتمع کرکے اپنی آنکھ کو باندھ کر وہ اپنا فریضہ ادا کرتے رہے... اچانک وادی یرموک بصارت سے محروم ابو سفیان کی آواز سے لرز اٹھتی ہے..."". اےاللہ کی مددقریب ہوجا" اے اللہ کی مدد قریب ہوجا""اسی دوران ایک مجاہد رومی وزیر باہان کا سر قلم کرنے میں کامیاب ہوکراسلامی لشکر میں نئی روح پھونک دیتا ہے... اور بالاخر بازنطینی سلطنت سرنگوں ہوجاتی ہے.. یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حقیقت میں بدل جاتی ہے کہ روم بھی عنقریب مسلمانوں کے قبضہ میں ہوگا... اور اس موقع پر ابوسفیان رضی اللہ عنہ فرط جذبات سےآنسو اور خون سے رونے لگے کہ آنکھ کے بدلےاسلام کی سر بلندی کوئی مہنگا سودا تو نہ تھا.

جلیل القدر صحابی رسول مجاہد اسلام حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام کی خدمت اور دین الہی کے غلبہ کے لئے قربانیوں سے رقم زندگی گزار کر 32ہجری میں جب ان کی عمر 80سے کچھ زیادہ تھی داعی اجل کولبیک کہا... ان کی نماز جنازہ امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے.. اللہ کی کروڑوں رحمتیں صاحب رسول پر نازل ہو(سیرت اصحاب عام کرکےگستاخان صحابہ کو شکست دیجئے)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */