عظیم ترک مجاہد اتالیق غازیؒ ، عزم وہمت کی داستان - عبدالخالق بٹ

عربی کے مشہورمقولے: ”اطلبو العلم ولا کان بالصین“ (علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے) میں جہاں اشہب جستجو کو مہمیز دی گئی ہے، وہیں اس میں اہل چین کے علم وفن کا اعتراف اور سرزمین عرب سے اس کی طویل مسافت کا ذکربھی موجود ہے۔

یوں تو عرب چین تعلقات زمانہ قبل از اسلام قائم ہوچکے تھے، مگر اس تعلق کی نوعیت تجارتی تھی، ابھی عرب و چین کے مابین مثبت یا منفی کسی بھی طرح کے سیاسی اورعسکری معاملات کا آغاز نہیں ہوا تھا۔

ہجرت مدینہ کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی تواُس وقت تک کم وبیش دس لاکھ مربع کلومیٹر کا علاقہ اسلام کے زیر نگیں آچکا تھا۔ بعد ازاں عہد خلافت راشدہ میں ان حدود میں غیر معمولی توسیع ہوئی اور ایک جانب ایران کی ساسانی حکومت حرف غلط کی طرح مٹ گئی تو دوسری طرف قیصر روم کو اپنے ایشیائی مقبوضات سے دستبردار ہونا پڑا۔ مملکت اسلامیہ کی توسیع کا سلسلہ اموی دور میں بھی جاری رہا۔چنانچہ موصل (عراق) کی چھاؤنی سے دنیا کے مختلف سمتوں میں روانہ ہونے والے عظیم سپہ سالاروں موسیٰ بن نُصیر، محمد بن قاسم ؒ اور قتیبہ بن مسلم باہلی ؒ نے ان سرحدوں کو بالترتیب شمالی افریقہ و مشرقی یورپ، بلاد سند وہند اور چین کے حدود تک دراز کردیا۔

قتیبہ بن مسلم باہلی نے ماؤراالنہر (وسط ایشیا) میں سمر قند و بخارا کی فتح کے بعد چین کی جانب پیش قدمی کی تو چین نے پیش بندی کے طور اسلامی افواج کووسط ایشیاء میں ہی روکنے کا فیصلہ کیااور کئی معرکوں میں غیر مسلم ترکوں کی مدد کی۔اس ضمن میں جب ایک موقع پر اہل”صغد“ نے مغلوب ہونے کے بعد سرکشی کی تو چین کے بادشاہ نے اس سرکشی کو تقویت پہنچانے کے لیے اپنے نامور جرنیلوں اور شہزادوں کی سرکردگی میں فوج روانہ کی۔ سمرقند کے قلعے پر دونوں افواج کی مڈبھیڑ ہوئی۔ چینی امداد اہل”صغد“ کا ساتھ نہ دے سکی اور اس معرکے میں ناصرف”صغد“ کا علاقہ مکرر اسلامی عملداری میں شامل ہوا بلکہ نامور ترک اور چینی جرنیلوں کے ساتھ شاہئ چین کا بیٹا بھی مارا گیا۔

قتیبہ بن مسلم باہلی ؒ نے سرحد چین کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے”خوقند“فتح کیا اور درہئ تیرک سے ہوتے ہوئے مشرقی ترکستان کے مرکز ”کاشغر“جا پہنچے۔ جلدہی ”خُتن“ اور ”یار قند“بھی مسلمانوں کے زیر نگیں آگئے۔ بعدازاں مسلم سپاہ نے ”ترفان“کی جانب پیش قدمی کی اور قتیبہ بن مسلم باہلیؒ نے شاہئ چین ”یون چونگ“(۳۱۷ء۔۵۵۷ء) کے پاس دعوت اسلا م بھیجی اور دعوت رد کیے جانے کی صورت میں عہد کیا کہ:”جب تک میں سرزمین چین کو نہ روند لوں اور اس کے شہزادوں کو سزا نہ دے لوں یہاں سے واپس نہیں جاؤں گا۔“

مشرقی ترکستان
۰۰۱،۱۶۶۰مربع کلومیٹر(۹۳۰،۶۴۰مربع میل)رقبے پر محیط ’’سنکیانگ‘‘ عوامی جمہوریہ چین کا ایک خود مختار علاقہ ہے ۔ سنکیانگ کا مطلب ’’نیا صوبہ‘‘ہے، یہ نام اسے مانچودور میں دیا گیا۔تاہم اس کی آبادی بہت کم ہے سنکیانگ کی سرحدیں جنوب میں تبت اور جنوب مشرق میں چنگھائی اور گانسو کے صوبوں، مشرق میں منگولیا، شمال میں روس اور مغرب میں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، افغانستان اور پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ملتی ہیں۔ اکسائی چن کا علاقہ بھی سنکیانگ میں شامل ہے جسے بھارت جموں و کشمیر کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہاں ترکی النسل باشندوں کی اکثریت ہے جو اویغور کہلاتے ہیں۔ جو تقریباً تمام مسلمان ہیں۔ یہ علاقہ چینی ترکستان یا مشرقی ترکستان بھی کہلاتا ہے۔صوبے کا دارالحکومت ارومچی ہے جبکہ کاشغر سب سے بڑا شہر ہے۔

اس اثناء میں جبکہ مملکت چین کی شمال مغربی سرحدیں پامال ہونے کوتھیں، اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک(۸۶۶ء۔۵۱۷ء) کا انتقال ہوگیا اور اس کی جگہ سریر آراء خلافت ہونے والے خلیفہ سلمان بن عبدالملک (۴۷۶ء۔۷۱۷ء) نے تمام جر نیلوں (موسیٰ بن نُصیر، محمد بن قاسم اور قتیبہ بن مسلم باہلی) کومحاذ جنگ سے واپسی کا حکم دیا۔اس صورت حال میں جبکہ قتیبہ بن مسلم اور اس کی سپاہ مخمصے کا شکار تھیں، شاہئ چین کی جانب سے ایک وفد چند شہزادوں اور مٹی کے ٹوکروں کے ساتھ حاضر ہوا اور بادشاہ کا پیغام دیا کہ:”آپ شہزادوں کو سزا دے کر اور چین کی مٹی کو اپنے قدموں تلے روند کر اپنی قسم پوری کرلیں۔“ چنانچہ قتیبہ ؒ نے ایسا ہی کیا اور وہاں سے پلٹ آئے۔

ترکستان کے مذکورہ مفتوح علاقوں میں آباد (تاتاریوں کی ایک شاخ) اویغور ترک اور چینی نسلی گروہ ”ہوی“ (جنہیں ڈُنگن بھی کہا جاتا ہے) سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد جلد ہی حلقہ بگوش اسلام ہوگئی اور یوں عربوں کے بعد چین کے سیاسی تعلقات انہیں اویغور مسلمانوں سے قائم ہوئے۔ منگ خاندان (۸۶۳۱ء۔۴۴۶۱ء) کے عہد میں اویغورمسلمانوں کا اثر نفوس کافی بڑھ گیا اور انہیں کلیدی عہدے حاصل ہوئے۔ یہ لوگ منگ خاندان کے وفادار سمجھے جاتے تھے۔اس عہد میں چین نے اسلام کا گہرا اثر قبول کیا۔

مانچو حکومت کی مسلم کش پالیسی:

منگ خاندان کا زوال اورچنگ / مانچو خاندان (۵۵۶۱ء۔۱۱۹۱ء) کا عروج ”ہوئی“ اور”اویغور“ مسلمانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔انہیں سرکاری عہدوں سے الگ کردیاگیا اوران کے شہری حقوق سلب کرلیے گئے۔مانچو عہد میں منچوریا، منگولیا اور تبت سمیت مشرقی ترکستان پر بزور قوت قبضہ کرلیا گیا۔ ۱۰۰،۰۶۶۱مربع کلومیٹر (۰۳۹،۰۴۶مربع میل) پر پھیلے ہوئے مشرقی ترکستان کے اس مقبوضہ علاقے کو پہلے چینی ترکستان اور بعدازاں سنگیانگ (نیا صوبہ/نئی سرزمین) کا نام دیا گیا۔

۱۳۷۱ء میں بادشاہ ینگ چنگ (۳۲۷۱ء۔۵۳۷۱ء) نے گانسو کے علاقے میں مسلمانوں کی تحریک آزادی کو بدترین مظالم کے ذریعے دبادیا اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کے سفر حج، مسلم علاقوں میں مساجد کی تعمیراور گائے کے ذبیحہ پر بھی روک لگا دی گئی مزید یہ کہ چین میں علماء کا داخلہ ممنوع قرار پایا۔معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ چینی حکومت نے صوبہ شنسی /شان سی، صوبہ گانسو کے شہر ہوچاؤ اور صوبہ یوننان میں تمام مسلم آبادی کو تہ تیغ کردیا۔

چین کا مسلم دشمن ’’مانچو خاندان‘‘
چنگ خاندان جسے ’’مانچو خاندان‘‘ بھی کہا جاتا ہے،یہ چین پر حکومت کرنے والا آخری شاہی خاندان تھا، جس کی حکومت 1644ء سے 1912ء تک قائم رہی (1917ء میں مختصر سے دور میں بحالی کی ناکام کوشش بھی کی گئی)۔ اس کے بعد چین میں جمہوری دور کا آغاز ہوا۔
اپنے دور اقتدار میں چنگ خاندان نے چینی ثقافت کو بھرپور انداز میں فروغ دیا۔ لیکن 1800ء میں اس کی عسکری قوت کمزور ہو گئی اور اسے بین الاقوامی دباؤ، بغاوتوں اور جنگوں میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور یوں 19 ویں صدی کے وسط کے بعد اسے زوال نے گھیر لیا۔ 12 فروری 1912ء کو’’ شنھائی انقلاب ‘‘کے بعد ملکہ’’ دواگر لونگیو ‘‘آخری بادشاہ پوئی کے حق میں دستبردار ہو گئیںاور اس کے ساتھ ہی چنگ خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ۔

۸۱۸۱ء میں مسجد کی بے حرمتی نے مسلمانوں کو ایک بار پھر مشتعل کردیا تاہم اس احتجاج کو بھی بزور قوت ختم کردیا گیا۔ بعدازاں ۴۳۸۱ء میں ”من مائن تنگ“ کے علاقے میں ۰۰۶۱ء مسلمان شہید کردیے گئے۔اس صورتحال میں مسلمانوں نے مانچو حکومت کے خلاف مختلف علاقوں میں جداگانہ مزاحمت کے بجائے منظم مزاحمت کا فیصلہ کیا اور ۳۶۸۱ء میں مانچو افواج کو مقبوضہ علاقوں سے پرے دھکیل دیا۔ مگر ۰۷۸۱ء میں چینی افواج نے ایک بڑے حملے کے بعد اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کرلیا اور آبادی کے دوتھائی حصے کو فنا کے گھاٹ اتار دیا۔

برطانوی ایڈووکیٹ برائے فارن مشن، بینجمن بروم ہال(۹۲۸۱ء۔۱۱۹۱ء)کے مطابق۲۶۸۱ء سے ۸۷۸۱ء کے دوران چین کے شمال مغرب اور مغرب میں دس ملین مسلمان مارے گئے۔سڑک کے کنارے درختوں پر ان مارے جانے والوں کی سربریدہ نعشوں کو لٹکایا گیا۔

مانچو حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک کی قیادت کرنے والوں میں محمد امین (۲۸۷۱ء)،سوشی شان (۵۸۷۱ء)، جہانگیر خان (۱۲۸۱ء۔۹۸۸۱ء) اورتووین شوی(۵۵۸۱ء۔۰۸۸۱ء)کے نام نمایاں ہیں۔تاہم انیسویں صدی کے نصف دوم میں یعقوب بیگ(۵۵۸۱ء۔۹۸۸۱ء) کی شخصیت ابھرکر سامنے آئی،”اتالیق غازی“ کے نام سے شہرت پانے والے اس مرد مجاہد نے دیکھتے ہی دیکھتے مشرقی ترکستان کے بڑے علاقے کو مانچوافواج سے واگزار کروالیا۔

اتالیق غازی …… ابتدائی حالات:

یعقوب بیگ ۰۲۹۱ء میں ریاست ”خانات خوقند“ کے قصبے (موجودہ ازبکستا ن کے صوبے تاشقند کے علاقے) پسقند میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ریاست میں فوجی ملازمت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور تیزی سے ترقی کے منازل طے کیے۔ ۷۴۸۱ء میں قلعہ آق مسجد کے کمانڈر بنادیے گئے۔ ۳۵۸۱ء میں روسی جنرل ”واسیلی الیکسی ویچ پرووسکی“ کی قیادت میں حملہ آورروسی افواج کی جانب سے قلعے کی تسخیر کے بعدیعقوب بیگ بخارا مہاجرت کرگئے۔جہاں ۵۶۸۱ء میں انہیں کو خوقند کا میر سپاہ بنادیا گیا۔

’’تاچی ‘‘سے’’ تازی‘‘ تک
اہل چین عربوں کو’’ تاچی ‘‘پکارتے ہیں ۔یہی ’’تاچی ‘‘فارسی جا کر ’’تازی‘‘بن گیا اور اس کا اطلاق عربوں اور ان کے متعلقات پر کیا جانے لگا ۔مثلاً جنگ و جدل،حملے اور دوڑ ڈھوپ کے لیے ’’ترک تازی‘‘۔عربی گھوڑوں اور شکاری کتوں کے لیے ’’تازی گھوڑااور تازی کتا‘‘۔ اس کے علاوہ اردو کے بہت سے محاورے اسی ’’تازی ‘‘کے گرد گھومتے ہیں جیسے’’تازی پر بس نہ چلا ،ترکی کے کان اینٹھے‘‘۔ایک کی سزا سے دوسرے کے عبرت پکڑنے پر ’’تازی مارا،ترکی کانپا‘‘کا محاورہ جبکہ اہل افراد کی تباہی اور نالائقوں کی اقبال مندی پر ’’تازی مار کھائے،ترکی آش کھائے‘‘بولا جاتاہے۔علامہ اقبال نے بھی ’’تازی ‘‘کو خوبصورتی سے برتا ہے:
یہ زباں کوئی غزل کی، نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دل کشا صدا ہو، عجمی ہو یا کہ تازی

سلطنت کاشغریہ کا قیام:

یعقوب بیگ نے مشرقی ترکستان (موجودہ سنکیانگ) میں ”ہوئی بغاوت“ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کاشغر اور یار قند کے علاقے چینیوں سے واگزار کروالیے اور ۷۶۸۱ء میں ”جہانگیر خوجہ“ کے واحد بچ رہنے والے بیٹے اورکوہ سفید کے سابق حکمران نقشبندی شیخ”بزرگ خان“ کو معزول کر دیا اورابتدائی چند سال ”خان آف خوقند“ کے باجگزار کے طورپرگزارنے کے بعد آزادی کا اعلان کردیا اور اپنی فتوحات کا دائرہ بتدریج بڑھاتے ہوئے ۷۶۸۱ء تک ”آ ق سو“ (آب سفید) اور کو چہ (ایغوری:کوچار) سمیت متعد د شہروں پر قبضہ کرلیا۔اسی کے ساتھ ہی انہوں نے نوآزاد علاقے پر مشتمل”سلطنت کاشغریہ“ کا اعلان کیا جس کا دارالحکومت کاشغر قرار پایا۔ یہ وہ وقت تھا جب یعقوب بیگ کے قائدانہ جوہر کھل کر سامنے آئے۔ یعقوب بیگ کی ان شاندار فتوحات پر انہیں ”اتالیق غازی“کا لقب دیا گیا، بعد کے دور میں وہ اسی نام سے جانے گئے۔

۲۷۹۱ء میں روسی اور برطانوی حکومتوں نے ”سلطنت کاشغریہ“کو تسلیم کرلیاجبکہ خلافت عثمانیہ کی جانب سے انہیں ”امیر المومنین“کا خطاب دیا گیا۔ یوں انہیں عالمی سیاست میں بڑی اہمیت حاصل ہوگئی، اور یہ آثار نظر آنے لگے کہ شمال مغربی چین میں ایک ایسی اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آجائے گا جس میں یونان، مشرقی ترکستان،گانسو اور شنسی کے علاقے شامل ہوں گے۔

اتالیق غازی نے گریٹ گیم کے دوران میں ایک ایسے وقت میں حکمرانی کی جب کہ برطانیہ، روس اور چین کی حکومتیں وسط ایشیا کے حصے بکھیرے کرنے کی منصوبہ بندی کررہی تھیں۔

گریٹ گیم(عظیم چالبازیاں ) ایک اصطلاح ہے جس کو برطانیہ اور روس کی باہمی چپقلش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو وہ وسط ایشیاء بالخصوص افغانستان پر اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرناچاہتے تھے۔ ان چالبازیوں کا پہلا دور ۱۸۱۳ء سے ۱۹۰۷ء اور دوسرا دور۱۹۱۷ء کے بعد سمجھا جاتا ہے۔ کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ اس کا تیسرا دور آج کل کے افغانستان میں جاری ہے جس میں برطانیہ کے ساتھ ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہو چکا ہے۔
’’گریٹ گیم ‘‘اصطلاح سب سے پہلے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی چھٹی بنگال لائٹ کیولری کے انٹیلی جنس آفیسرآرتھر کونلے (۱۸۰۷ء۔۱۸۴۲ء) نے استعمال کی۔’’گریٹ گیم‘‘کی اصطلاح نوبیل انعام یافتہ برٹش ناول نگار ’’روڈیارڈ کیپلینگ‘‘(۱۸۶۵ ء۔۱۹۳۶ء)کے ناول ’’ Kim‘‘ سے مستعار ہے۔

اتالیق غازی نے حکومت چین کے وفادار چینی مسلمانوں سے لڑائی کے لیے Hsu Hsuehkungکی ماتحتی میں غیرمسلم ہان چینیوں پرمشتمل ملیشیا ترتیب دی۔انہوں نے چینی حکومت کے وفادارسپاہ سالار تاؤمنگ (داؤد خلیفہ) کی سپاہ کو شکست دینے کے بعد جُنگاریہ کی فتح کا منصوبہ بنایا، وہ درحقیقت ڈُنگن (مسلم چینیوں) کا تمام علاقہ آزاد کرانا چاہتے تھے۔اس سلسلے میں اتالیق غازی کی افواج کے حوصلے بڑھانے کے لیے چینی اور ڈُنگن(مسلم چینی) افواج کے خلاف رزمیہ نظمیں تخلیق کی گئیں۔

اتالیق غازی نے ڈُنگن (چینی مسلم) فورسز سے”آق سو“ چھین لیا اور انہیں ”سلسلہ کوہ تیان شان“ کے شمالی جانب پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ اتالیق غازی کے ہاتھوں چینی افواج کی مسلسل شکست کے باعث چینی انہیں ”چینیوں کو کچلنے والا“ پکارنے لگے۔

اتالیق غازی نے اپنا اقتدار مستحکم ہوتے ہی روسی اور برطانوی حکومتوں سے کئی ایک معاہدات کئے تاہم جب انہوں نے ان حکومتوں سے چین کے خلاف تعاون چاہا تو انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اتالیق غازی کی پیش قدمی چینی حکومت کے لیے چیلنج بن چکی تھی، چنانچہ مانچو فورسز نے جنرل Cui اور جنرلHuaکی قیادت میں اتالیق غازی کی فورسز پر بھرپور حملہ کر کے اسے تباہ کردیا۔

ہوی بغاوت
ہوی یا ڈنگن بغاوت:یہ بنیادی طور پر ایک نسلی اور طبقاتی جنگ تھی جو چین میں برسراقتدار مانچو خاندان کے مسلم کش اقدامات کے خلاف انیسویں صدی میں برپا ہوئی ۔اسی ’’ہوی اقلیتوں کی جنگ ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔کبھی کبھی اس اصطلاح کا اطلاق یوننان کی Panthay بغاوت پر بھی کیا جاتا ہے جو ٹھیک اسی مدت میں ہوئی تھی ،جو درست نہیں ،اس کا درست اطلاق ہوی اور دیگر مسلم گروہوں کی اس بغاوت پر ہوتا ہے جو۱۸۶۲ء سے ۱۸۷۷ء کے دوران چین کے صوبے ’’شنسی،گانسواور ننگزیا‘‘ میں برپا ہوئی۔

اتالیق غازی کی شہادت اور اس کے اسباب:

اتالیق غازی کی شہادت کے اسباب کیا رہے،اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم ”ٹائمز آف لندن“اور ”دی رشین ترکستان گزٹ“ کے مطابق انہوں نے مختصر علالت کے بعد انتقال کیا۔ جب کہ ایک ہم عصر مؤرخ موسیٰ سیرامی (۶۳۸۱ء۔۷۱۹۱ء)کے مطابق اتالیق غازی کو یار قند کے سابق حکمران نیاز حاکم بیگ نے ۰۳ مئی ۷۷۸۱ء کو”کورلا“ میں زہر دے کر ہلاک کردیا تھا۔ ”اتالیق غازی“ کی شہادت درحقیقت مانچو فورسز اور نیازحاکم بیگ کے درمیان جنگاریہ میں ہونے والے ایک سازشی معاہدے کا نتیجہ تھی۔تاہم نیاز بیگ نے مانچو حکام کو لکھے جانے والے ایک خط میں اس الزام کی تردید کی ہے کہ یعقوب بیگ (اتالیق غازی)کے قتل میں اس کا ہاتھ ہے بلکہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ کاشغریہ کے حکمران نے خود کشی ہے۔جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ(جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں) یعقوب بیگ چینی افواج سے مقابلہ کے دوران شہید ہوئے۔

تاہم متعدد ہم عصر مسلم مؤرخین اور مغربی ذرائع”موسیٰ سیرامی“ کی تائیدکرتے ہیں کہ اتالیق غازی کو زہردیا گیا یا کسی دوسرے ہتھکنڈے سے قتل کیا گیا۔ اتالیق غازی کی خود کشی کا نظریہ اس وقت کے مانچو جنرلز کی جانب سے پیش کیا گیا تھا جسے سراہا گیا۔

دوسری طرف کورین مؤرخ ”کِم ہوڈونگ“(پیدائش:۴۵۹۱ء) نے یہ خوشنما وضاحت کی ہے کہ وہ اختلاج قلب کے عارضے کا شکار ہوئے۔

اتالیق غازی کب شہید ہوئے؟ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم معاصر شواہد کی روشنی میں جو بات کہی جاسکتی ہے، وہ یہ ہے کہ اُن کی شہادت مئی ۷۷۸۱ء کے آخری ہفتے میں کسی وقت ہوئی۔

چینی مفادات کا محافظ
کِم ہوڈونگ: کِم ہوڈونگ(Kim Ho-dong)سیؤل نیشنل یونیورسٹی سے بحیثیت پروفیسر وابستہ ہیں۔ان کی تحقیق کا موضوع ’’وسط ایشیائی کے خانہ بودش معاشروں کا چینی ریاست سے تعامل‘‘ہے۔۲۰۰۴ء میں اسٹینڈفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی کتاب’’چین میں مقدس جنگ:مسلم بغاوت اور چینی وسط ایشیاء میں ریاست۔ ۱۸۷۷ء ۔ ۱۸۶۴ء‘‘کوان کی تحقیقی کاوشوں کا مظہرتسلیم کیا گیا ہے۔اس کتاب میں انہوں سنکیانگ میں مسلمانوں(ہوئی،ایغوراور دیگر گروہوں)کی بغاوت کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔اس کتاب میں ’’اتالیق غازی‘‘ اور مانچوسلطنت کے مابین جنگ بھی زیر بحث آئی ہے۔ ’’چین میں مقدس جنگ‘‘میںبنیادی طور پر چینی ذرائع پر انحصار کیا گیا ہے ، نتیجتاً مسلم باغیوں کو روس،برطانیہ اور خلافت عثمانیہ سے ساز باز کرتے دکھایا ہے۔ ان کی دوسری کتاب ’’مغل سلطنت اور کوریا:قبلائی خان کا عروج اور کوریئو سلطنت کا سیاسی مقام ‘ ‘ہے۔جو ۲۰۰۷ء میں سیؤل یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔

چینیوں کا انتقام:

اتالیق غازی اور ان کے بیٹے ایشانہ بیگ کی نعشوں کو کاشغر میں برسرعام جلاکرخاک کردیاگیا۔ چینی فوج کے اس اقدام نے اہل کاشغر کو مشتعل کردیا، اور ایک بار پھر بغاوت پھوٹ پڑی تاہم چینی افواج نے اس تحریک مزاحمت کو زور پکڑنے سے پہلے ہی حاکم خان کی مدد سے کچل دیا۔چینیوں نے اتالیق غازی کے چار بیٹوں اور دوپوتوں کوگرفتار کرلیا۔ایک بیٹے کا سر قلم کردیا گیا جبکہ ایک پوتا بدترین تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہوا۔ان افراد کے علاوہ اتالیق غازی کے دیگر چار بیٹوں، دوپوتوں، دوپوتیوں اور چار بیواؤں کے بارے میں خیال ہے کہ یاتو یہ افرادشمال مغربی چین کے”صوبے گانسو“کے مرکز”لانژو“ میں دورانِ اسیری انتقال کر گئے یا پھر انہیں بھی چینی فوجیوں نے کسی وقت شہید کردیا۔

۹۷۸۱ء میں اتالیق غازی کے زندہ بچ جانے والے اہل خانہ میں اُن کے بیٹے یما قلی،قاتی قلی،مایتی قلی اور پوتا آئسن اہنگ شامل تھے۔ یہ تمام افراد نابالغ تھے،تاہم انہیں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور طے کیا گیا کہ اگر یہ لوگ اپنے والد اتالیق غازی کے ساتھ بغاوت میں شریک پائے گئے تو انہیں درد ناک موت کا سامنا کرنا پڑے گا اوردوسری صورت میں انہیں آختہ (نامرد) کر کے غلام بنالیا جائے گا۔ ۹۷۸۱ء کے عدالتی فیصلے میں اتالیق غازی کے بیٹوں اور پوتے کو بے قصورقراردیا گیااور یوں انہیں آختہ کرکے شاہی محل کے خدمتگاروں میں شامل کرلیا گیا۔

اتالیق غازی کی شہادت کے ساتھ ہی سلطنت ِ کاشغریہ کا بھی خاتمہ ہوگیا اور اس پر مانچو سلطنت نے دوبارہ قبضہ کرلیا،بعد ازاں یہ علاقہ جمہوریہ چین کاحصہ قرارپایا۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اتالیق غازی کی سوختہ نعش کاشغر میں دفن کی گئی تھی تاہم ۸۷۹۱ء میں چینی افواج نے ان کی قبرکواس خوف سے مسمار کردیاکہ کہیں یہ قبر مرجع خلائق بن کر مزید ”بغاوتوں“ کا سبب نہ بنے۔


چین کے ڈُنگن/ہوی مسلمان:

سابقہ سویت یونین کے چینی نژاد ترکی زبان بولنے والے مسلمان اصطلاح میں ’’ڈُنگن‘‘(Dungan) کہلاتے ہیں۔ چین کے صوبے سنکیانگ میں ترکی بولنے والے غیرترک افراد بھی اسی نسلی گروہ کا حصہ ہیں۔ تاہم سابقہ سویت یونین اور موجودہ سنکیانگ میں آباد یہ نسلی گروہ خود کوڈُنگن کے بجائے ’’ہوی‘‘ (Hui) کہلواتا ہے۔ ہوی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد ۱۹۹۹ء کی مردم شماری کے مطابق قازقستان میں چھتیس ہزار نوسو (۹۰۰،۳۶)، قرغستان میں (۲۰۰۹ء کی مردم شماری کے مطابق) اٹھاون ہزار چار اور روس میں ۲۰۰۲ء کی مردم شماری کے مطابق آٹھ سو ایک(۸۰۱ کی تعداد میں آباد ہیں۔

ابتداء میں ڈُنگن افرادبردہ فروشوں کے ہاتھوں وسط ایشیا پہنچے، بعد میں ’’ہوی بغاوت‘‘ کی ناکامی کے بعدان کی قابل ذکر تعداد وسط ایشیا مہاجرت کرگئی۔ ہوی لوگ نسلی اعتبار سے ’’ہان چینیوں‘‘ سے مماثل ہیں، تاہم یہ ایرانی اور وسط ایشیائی افراد کی سی خصوصیات رکھتے ہیں ۔

’’ہوی‘‘ نسل کے افراد زیادہ تر اسلام سے وابستہ ہیں ،جو تقریباً سارے چین میں آباد ہیں۔ ۲۰۰۰ء میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد۸۔۹ ملین ہے۔ ان کی بڑی تعداد چین کے صوبے ننگزیا، چنگھائی اور گانسومیں آباد ہے۔ ’’ہوی‘‘ چین کی سرکاری طور پر تسلیم شدہ ۶۵ نسلی گروہوں میں سے ایک ہیں۔ یہ لوگ ڈنگن ،عربی ،مندرین کے علاوہ دیگر چینی زبانیں بولتے ہیں۔
ڈنگن زبان قرغستان، قازقستان،ازبکستان،تاجکستان اور ترکمانستان میں بولی جاتی ہے۔ ڈُنگن اصلاً چینی زبان کی ہی کی ایک شاخ ہے مگر یہ چینی (علامتی/تصویری) رسم الخط کے برخلاف سیریلک(Cyrillic)رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ تاہم چین سے الگ تھلگ رہنے اور سینٹرل ایشیا اورروس کی قربت کی وجہ سے اس زبان پر ترکی و روسی ہر دو زبان کا اثر موجود ہے۔جبکہ اسلامی اصطلاحات بھی اس میں راہ پاچکی ہیں۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */