آن لائن سروسز،مارکیٹنگ اور ہمارے روّیے - تابش علائی

یہ بات مشہور ہے کہ اس دنیا میں تقریباً سبھی کچھ بِکتا ہے بہ شرطِ کہ آپ کو بیچنا آتا ہو، پیسا کمانا نہایت آسان کام ہے لیکن کمانا کیسے ہے یہ فیصلہ کرنا شاید دنیا کا مشکل ترین کام ہے، کسی شخص نے ایک بے روزگار نوجوان کو ایک لاکھ روپے کی جاب آفر کی، نوجوان نے خوشی خوشی اپنے کام سے متعلق دریافت کیا کہ ''جناب میرا کام کیا ہوگا'' تو اُسے بتایا گیا کہ بس یہی سوچنا ہے کہ یہ ایک لاکھ روپے آئےگا کہاں سے، خیر یہ تو ازراہ ظرافت بات کردی، سوشل میڈیا کے اس دور میں ہزاروں ایسی ویب سائٹس، ایپلیکیشنز اور دیگر ذرائع موجود ہیں ۔

جن کے ذریعے گھر بیٹھے اپنی خدمات فراہم کرنا اور کاروبار کرنا نہایت آسان ہوگیا ہے، جس میں سب سے زیادہ آسان، سستا اور دیسی ذریعۂ اظہار یا کاروبار واٹس ایپ اور فیس بُک کو سمجھا جاتا ہے کہ بس کسی کا رابطہ نمبر حاصل کریں یا ایک خوشنما پوسٹ لکھیں اور اُسے صبح شام ایک افواہ کی طرح پھیلاتے رہیں۔ کیا آپ کے نزدیک کسی شخص کا ذاتی نمبر یا فرینڈ لسٹ میں ہونا بس یہی اہمیت رکھتا ہے کہ آپ اسے بغیر پوچھے کسی بھی گروپ میں ایڈ کرلیں یا اسکے ذاتی نمبر پر ایک جیسے روایتی کاپی پیسٹ میسج فارورڈ کرکے ہڑبونگ مچائے رکھیں اور مزید مطالبہ کریں کہ بس آپ اندھا دھند آگے شیئر کرتے جائیں اور خود بیٹھے جواب آنے کا انتظار کرتے رہیں یا ایک مبہم سی پوسٹ لکھ کر دعوائے مسیحائی کریں کہ آپ کی ضرورت اور پریشانی کا حل صرف آپ کے پاس ہے اور فیس بُک پر آپ کا ظہور، ظہورِ مہدی کے مترادف ہے، لیکن اگر آپ کے دعوے سے متعلق کوئی بنیادی معلومات بھی لینا چاہے تو اسے کہا جائے پلیز ذرا الگ کمرے ( انباکس) میں آجائیں راز و نیاز کی باقی باتیں وہاں کریں گے۔

ارے بھائی آپ نے خدمات کی فراہمی پر اپنی قابلیت، اہلیت اور مسیحائی کا دعوی سرعام کیا ہے، آپ نے اپنی پروڈکٹ کی خصوصیات اور انفرادیت کا دعوی بھری مجلس میں کر رہے ہیں کہ آپ کے پاس بیچنے کے لیے جو چیز ہے وہ ایک زمانے سے نایاب تھی لیکن ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے حال ہی میں صرف آپ کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے دوبارہ دریافت کیا ہے یا سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اِسے بہ طورِ خاص آپ کے لیے ایجاد کیا ہے، آپ کے پاس جو مہارت، تعلیم فن و فلسفہ اور زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے سر بستہ راز ہیں قدرت نے صرف آپ کو ودیعت فرمائے ہیں آپ ارسطو بھی ہیں، ارشمیدس بھی ہیں، ڈاکٹر بھی ہیں نرس اور حکیم بھی ہیں، امراض نسواں کے ماہر بھی ہیں اور حقوقِ نسواں کے وکیل بھی ہیں، اعضائے رئیسہ میں بنیادی خرابی کے نباض بھی ہیں اور ٹوپی سے کبوتر نکالنے کے شعبدہ باز بھی ہیں غرض ممکنات و ناممکنات میں سے جو کچھ بھی ہے آپ کی ذات مذکورہ تمام خوبیوں کی آماجگاہ اور پناہ گاہ ہے کہ آپ کی ذات کے علاوہ ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔

واللہ ایسے ایسے دل کَش اور دل کُش دعووں کے باوجود بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اعتراض ہے تو آپ کے ایسے دعووں کے بعد اپنائے گئے غیر سنجیدہ روّیوں پر ہے، خدا کے بندو آپ خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں تو ہمیں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے لیکن جب آپ اپنی پراڈکٹ یا خدمات کے گاہک اور خریدار کو بیوقوف اور سادہ سمجھتے ہوئے انہیں بغیر کچھ دکھائے، بغیر یقین دلائے چھوٹی سی کہانی یا تقریر سنا کر بس سیدھے پیسے مانگتے ہیں تو حکومتی دعووں اور آپ کے دعووں میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ کسی کے سوال پر آپ کا رویہ کم ازکم ایسا تو ہو کہ وہ ازخود آپ کی پراڈکٹ یا آفر میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرنے لگے۔

کسی نے سوال پوچھا جناب آپکی پراڈکٹ کا ریٹ کیا ہے، تو اسے الگ کمرے ( انباکس) میں گھسیٹنے کی کوشش کرنا گویا آپ صرف ریٹ نہیں بتائیں گے بلکہ ساتھ کسی اور چیز کا مطالبہ یا مواخذہ بھی کریں گے اور مجموعی روّیے سے ظاہر یہ ہوگا شاید سر عام ایسا مطالبہ کرنا اَخلاقی لحاظ سے مناسب نہ تھا، کسی نے پوچھا جناب آپ کی خدمات کی فیس کیا ہے ؟ بجائے اُسے فیس بتانے کہ یہ کہنا کہ آپ ہمارا فیس بُک پیج لائک کریں یا فلاں واٹس ایپ گروپ جائن کریں انشاءاللہ بڑا فائدہ ہوگا، کسی نے پوچھا جناب آپ کا آفس کہاں ہے؟ بجائے آفس کا وجود ثابت کرنے کے باقی ہر بات ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی، پوچھا جائے گا جناب پراڈکٹ ڈلیوری کا طریقہ کار کیا ہے اور بتایا جائے گا جیسے آپ کو مناسب لگے۔ ایسے ہی پچھلے دنوں ایک نامور آن لائن بُک سٹور کو ایک عدد کتاب کا آرڈر دیا، طریقہ کار سارا درج تھا میں نے کیش آن ڈلیوری کے آپشن پر ڈلیوری کرنے کا دورانیہ دریافت کیا تو بتایا گیا آپ کا آرڈر دو سے چار دن میں ڈلیور ہو جائے گا( لاہور میں دو دن دوسرے شہروں میں چار دن) میں نے بلا تاخیر آرڈر کردیا۔ چھ دن بعد انکا میسج آیا جناب آپ ڈلیوری کیسے پسند کریں گے۔ میں اہلیہ کے ہمراہ کچھ ایسے ہی چکروں میں ہسپتال موجود تھا میں نے کہہ دیا جناب میں تو نارمل ڈلیوری پسند کروں گا لہذا آپ دفعان ہوجائیں میں الحمداللہ اسی پر گزارہ کرلوں گا۔

یعنی آپ حضرات کے لیے اپنی کمٹمنٹ اور وقت بڑا قیمتی ہے لیکن کسی کسٹمر کا وقت اور کمٹمنٹ جائے بھاڑ میں، آپ اس وجہ سے سرعام آن لائن سوالوں کے جواب نہیں دیتے کہ زیادہ تر لوگ سنجیدہ نہیں ہوتے لہذا آپ انہیں کمرے کا راستہ دکھاتے ہیں کہ جسے ضرورت ہوگی وہ کمرے میں آ بھی جائے گا۔ ۔ ۔ یقین کریں میں نے آج تک کبھی آن لائن سٹورز یا خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو غیر سنجیدہ نہیں لیا پھر بھی میں بلاوجہ کمرے میں بلانے اور جانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا کیونکہ اپنا مزاج ہے پہلے مال دکھاؤ اسکے بعد قیمت بھاؤ پھر مرضی ہے کمرے میں آؤ یا جاؤ۔ یہی ہمارا مجموعی معاشرتی روّیہ ہے کہ ایسی بےبقینی کے ہوتے ہوئے آن لائن سروسز اور شاپنگ کو پسند نہیں کیا جاتا۔

اگر کوئی ادارہ یا شخص اس نظریے کے تحت ایسا غیر ذمہ دارانہ رویہ اپناتا کہ ہے چلو شیئر پہ شئیر کرتے چلیں کوئی نہ کوئی تو پھنسے گا تو جناب یہ ایسے ہی ہوگا جیسے سخت گرمی اور دھوپ میں آپ آگ جلا کر بیٹھ جائیں اور خواہش کریں کہ لوگ متوجہ ہوں گے تو لوگ یہ دیکھنے کے لیے تو ضرور آئیں گے کہ بھلا دیکھیں تو کون ہے یہ بیمار اور مبحوط الحواس شخص جو اتنی تپش اور گرمی میں آگ تاپتا ہے یا بانٹتا ہے لیکن وہ ایک جھلک دیکھ کر دوسرے متوجہ لوگوں کو بھی جا بتائیں گے کہ بے فکر ہو رہو کوئی خاص بات نہیں ہے بس تھوڑا ہِلا ہوا لگتا ہے۔ جب آپ کے پاس یہ جملہ مکسور لکھا ہوگا ''سب کچھ بِکتا ہے'' لوگ اسے مفتوح پڑھیں گے ''سب کچھ بَکتا ہے''

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */