بھنگ کی کاشت جائز یا ناجائز - محمد طاہر مرسلین

کسی بھی مذہبی معاملے میں اپنی کوئی رائے دینے سے پہلے اسکے مختلف پہلو پر نظر ڈال لینی چاہئے یا جو دین کے جاننے والے ہیں انکی رائے جان لینی چائیے اور جمہور علماء کی رائے کو اپنانا چائیے۔ بجائے خود سے ہی کوئی فیصلہ صادر فرما دیں جو بعد میں دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بنے کیونکہ حلال اور حرام قرار دینے کا مسئلہ بہت نازک ہے اور اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دینا اور حرام کو حلال قرار دینا ایک سنگین گناہ ہے۔
پاکستان میں بھنگ کی کاشت کی اجازت والا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

آپ کو انٹرنیت پر مختلف فتویٰ مل جائیں گے جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نشہ آور چیزوں یا حرام اشیاء کا استعمال ادویات میں جائز ہے لیکن صرف ان ادویات میں جہاں اسکا کوئی متبادل نہ ہو اور وہ زندگی بچانے کے لئے ناگزیر ہو۔ اس میں کسی قسم کا ابہام اہل سنت کے ہاں نہیں ہے۔جہاں تک صنعتی استعمال کی بات ہے وہاں ابہام موجود ہے۔ جیسے کے شراب سے بنائی جانے والے جراثیم کش ادویات کا استعمال اور پرفیوم میں شراب کا استعمال اس صورت میں جائز قرار دیا گیا ہے جہاں یہ نشہ آور نہ ہو اور ان کو پھلوں سے کشید نہ کیا گیا ہو یا قدرتی عمل سے نہ بنایا گیا ہو۔ تو اس میں دوا اور صنعتی استعمال میں اجازت سے ابہام پیدا ہوتا ہے۔
کیونکہ حکومت کی جانب سے ادویات اور صنعتی استعمال کے لئے بھنگ کی کاشت کی اجازت دی گئی ہے لیکن یہ واضح نہیں بتایا گیا کہ کن ادویات اور کن صنعتی مصنوعات کے لئے یہ اجازت دی گئی ہے۔ ان میں لائف سیونگ ادویات ضرور ہونگی لیکن کیا یہ رخصت کاسمیٹکس اور ہومیو پیتھک یا ہربل ادویات کے لئے بھی ہوگی؟

جو لائف سیونگ ڈرگز کی کیٹیگری میں نہیں آتیں۔ کیونکہ قرآن میں واضح طور پر بیان کیا گیا کہ حرام اشیاء کن صورتوں میں جائز ہیں۔ احادیث میں شراب کو ادویات میں استعمال نہ کرنے کی تاکید بھی ملتی ہے اور ریشم اور سونے کے استعمال کی رخصت بھی ملتی ہے جو عام حا لات میں مرد کے لئے حرام ہیں۔اس لیئے علماء سے گزارش ہے کہ وہ مکمل تحقیق کر لیں کہ کن ادویات اور مصنوعات کے لیئے بھنگ کی کاشت کو لیگل کیا گیا ہے اور اسکے بعد ہی اپنی کوئی رائے دیں کیونکہ کینسر میں شائد ہی کوئی اور دوا تکلیف کو رفع کر سکتی ہے جیسے بھنگ سے تیار ادویات کرتی ہیں اور اسی طرح ٹیکسٹائل کی صنعت میں بھی بھنگ کے تنے کو کپاس کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بھنگ کے تنے سے تیار کردہ کپڑا لینن سے مماثلت رکھتا ہے۔ جس سے بھنگ کی نشہ آور ہیت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹیکسٹائل پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ہے اور بیرونے ملک سی بھیجی جانے والی رقوم کے بعد زر مبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اسی طرح بھنگ کو تعمیرات میں بورادے کے بورڈ کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

پلاسٹک کی بہت سے اقسام کی تیاری میں اسکا استعمال کیا جاتا ہے، کاغذ کی صنعت میں بھی بھنگ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رسیاں بنانے میں، جڑی بوٹیاں تلف کرنے کی ادویات میں ، پانی اور زمین کی صفائی کے لئے اور بائیو ڈیزل (ہیمپولین) کی تیاری میں بھی بھنگ کا استعمال ہوتا ہے۔اس لئے گزارش ہے کہ اگر ممکن ہو تو علماء کرام مطلقاََ جائز اور ناجائز کا فتویٰ دینے کے بجائے ان انفرادی ادویات اور مصنوعات کی حرمت بیان کردیں تاکہ ان کے استعمال سے اور پیداوار سے روکا جا سکے یا اسکے خلاف آواز اٹھائی جا سکے۔ اسی طرح جو جائز صورتیں ہیں وہ بھی بیان کر دی جائیں تا کہ ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

اپنے دوستوں سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی ذرا دینی معاملات میں علماء کی رائے کا انتظار کریں وہ ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ شریعت محمدیﷺ میں کن نشہ آور یا حرام اشیاء کو کن صورتوں میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہمیں علماء کا اس کام میں معاون ہونا چاہئے تاکہ وہ درست اور مستند معلومات کی روشنی میں صحیح رائے پر پہنچ سکیں اور تب تک ہمیں صبر کرنا چائیے اور اپنی حتمی رائے قائم کرنے میں جلد بازی سے پرہیز کرنا چاہئیے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */