تحریک انصاف کو ’’ تحریک انصاف‘ کی ضرورت ہے - آصف محمود

تحریک انصاف کی حکومت کی اصل طاقت ’’ تحریک انصاف‘‘ ہے اور تحریک انصاف بھان متی کے اس کنبے کا نام نہیں ہے جسے وفاقی کابینہ کہتے ہیں۔ تحریک انصاف اس امید کا نام ہے جو دیرینہ کارکنان کی آنکھوں میں دیے کی صورت جگمگاتی ہے۔

الیاس مہربان کو دیکھتا ہوں تو صدیق الفاروق یاد آتے ہیں یا یوں کہہ لیجیے صدیق الفاروق کو دیکھتا ہوں تو الیاس مہربان یاد آتے ہیں۔مشرف دور میں نیب نے صدیق الفاروق کو اٹھالیا۔ معاملہ عدالت میں پہنچا تو عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر سے سوال کیا صدیق الفاروق کہاں ہیں؟ پراسیکیوٹر غالبا فاروق آدم تھے، انہوں نے کہا : مائی لارڈ ہم نے صدیق الفاروق کو ڈمپ کیا اور ہم اسے بھول گئے۔ عدالت میں موجود لوگوں پر سکتہ طاری ہو گیا کہ نیب کے پراسیکیوٹر ایک زندہ انسان کے بارے اس شان بے نیازی سے بات کر رہے تھے۔اقتدار کی چکا چوند تھوڑی مدھم ہو گی تو بعید نہیں تحریک انصاف اسلام آباد بھی آہ بھر کر رہے ہم نے الیاس مہربان کو ڈمپ کیا اور ہم اسے بھول گئے۔

اسلام آباد کا جو حال اب ہے، پہلے کبھی نہ تھا۔ کہنے کو یہاں تحریک انصاف کے تین ایم این اے ہیں لیکن ان کے سوتیلے پن اور غفلت سے یہ شہر دہک رہا ہو۔ اسد عمر تو اسلام آباد کے وائسرائے ہیں ، کراچی سے لا کر ایم این اے بنا دیے گئے ۔قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر ان کا ایڈریس آج بھی کراچی ہی کا ہے۔ اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے ، ان کی جانے بلا۔ علی اعوان عرصہ ہوا منظر سے غائب ہیں ، کچھ خبر نہیں کہاں ہیں، راجہ خرم نواز کی وجہ شہرت کوڑے کے وہ ڈھیر ہیں جو کامسیٹ یونیورسٹی کے پہلو سے شروع تک بلامبالغہ دو کلومیٹر کے علاقے میں پھیلے پڑے ہیں اور ان سے اٹھتا تعفن بتاتا ہے کہ آپ عالی جاہ راجہ خرم صاحب کے علاقے میں داخل ہو چکے ہیں، عمران کی مقبولیت نے جنہیں ایم این اے بنا ڈالا۔

میئر ، اس حکومت کو اچھا نہیں لگتا۔کبھی معطل کر دیا جاتا ہے پھر عدالت سے بحال ہو جاتا ہے۔مقامی حکومت موجود ہے مگر اس کے پاس بجٹ تک نہیں۔ میئر موجود ہے لیکن سی ڈی اے میں میئر کی چلتی ہی نہیں۔ کام سی ڈی اے نے ہی کرنے ہیں تو میئر اور مقامی حکومت کیوں موجود ہے اور مقامی حکومت اور میئر موجود ہے تو اسلام آباد کا ترقیاتی ادارہ اس کے ماتحت کیوں نہیں۔ پارکوں میں گھاس کے جنگل اگ آئے ہیں، صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔سٹریٹ کرائم دن بدن بڑھ رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر ٹوئٹر سے اترتے ہی نہیں کہ کچھ معلوم ہو شہر کا حال کیا ہے۔

کابینہ میں غیر منتخب اور دیگر جماعتوں سے لائے گئے رجال کار کے لشکر اترے پڑے ہیں ۔جنہیں اپنے محلے میں کوئی نہیں جانتا وہ نئے پاکستان میں چودھری بنے پھرتے ہیں لیکن تحریک انصاف اسلام آباد کے اکلوتے عوامی اور متحرک سیاسی کارکن الیاس میربان کی کہیں کوئی خبر نہیں۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں پنپتی سازشوں نے دارالحکومت کے اس اکلوتے کارکن کو ڈمپ کر دیا ہے جسے عوامی تائید حاصل ہے۔ عمران خان کے بعد اسلام آباد میں الیاس مہربان سے زیادہ کوئی مقبول مقامی رہنما ہے تو بتائیے؟ الیاس مہربان نے ان دنوں ہزاروں کے جلوس نکالے جب عمران خان کا عظیم الشان استقبال مبلغ تین درجن لوگ کیا کرتے تھے۔ حزب اختلاف کے ناسازگار موسموں میں دارالحکومت میں پارٹی کو سنبھالنے والا الیاس مہربان تھا اور اقتدار ملا تو چوری کھانے والے مجنوں رستم بن بیٹھے۔ عوامی سطح پر اس کی پزیرائی دیکھیے کہ صرف اپنے ایک حلقے کا اجتماع اس نے کنونشن سنٹر میں کیا اور اسے بھر دیا۔ قصور کیا ہے؟ عامر کیانی کو نوازنے کے لیے جب قیادت نے ٹکٹ عامر کیانی کو دے دیا تو اس نے کہا: پارٹی کا حکم سر آنکھوں پر لیکن پارٹی وضاحت کرے میرے حلقے کا ٹکٹ میری بجائے پنڈی کے عامر کیانی کو کس استحقاق کی بنیاد پر دیا گیا ہے؟ اس سوال کا کوئی جواب کسی کے پاس نہ تھا، کیانی صاحب سے ٹکٹ واپس لینا پڑا، ان کو پنڈی سے ٹکٹ کا خراج پیش کر دیا گیا اور یہاں غالبا طے کر لیا گیا کہ اس گستاخی پر الیاس مہربان کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔

دروغ بر گردن راوی ، عمران خان اقتدار میں آ گئے ہیں، تحریک انصاف کے دیرینہ کارکنان کا البتہ ہر جگہ یہی حال ہے جو الیاس مہربان کا ہے۔ پنجاب کے آدھے اضلاع میں ق لیگ کا راج ہے اور آدھے اضلاع میں ق لیگ بذات خود تحریک انصاف بنی بیٹھی ہے۔ تحریک انصاف کے حقیقی کارکنان پھٹی آنکھوں سے تماشا دیکھ رہے ہیں اور کونے میں بیٹھے دہی کے ساتھ کلچہ کھا رہے ہیں۔ ان کی سیاسی قربانیوں کا سب سے بڑا اعتراف یہ ہے کہ وہ ٹائیگر فورس کے بیج لگا کر سڑکوں کی خاک چھانیں۔ اقتدار کے چشموں پر نئے پاکستان میں بھی انہی کا قبضہ ہے جو پرانے پاکستان میں پانیوں پر قابض تھے۔ پارٹی کا مقدمہ سوشل میڈیا پر محسن حدید جیسوں نے لڑا اور نگاہ ناز میں تنخواہ دار کارندے معتبر ٹھہرے۔

دو سال بیت گئے اور کسی نے مڑ کر نہیں دیکھا پارٹی کے خیر خواہ نوجوان جو آج بھی سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کا مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں کیا سوچ رہے ہیں۔ بس کارپوریٹ پہلوان ہی رستم ٹھہرے جن کی فکری استعداد یہ ہے چودھری پوچھے : اج کی پکائیے تو وہ پکار اٹھیں: بجھ لیا چودھری جی چھولیاں دی دال اے۔ کرائے کے کارندے حکم کے غلام ہوتے ہیں۔ اثاثہ آپ کا کارکن ہی ہوتا ہے رومان جسے بگولوں کی صورت لیے پھرتا ہے۔ تحریک انصاف کی اصل قوت ’’ تحریک انصاف ‘‘ ہی ہے، بھان متی کا یہ کنبہ تحریک انصاف نہیں جسے تفنن طبع میں وفاقی کابینہ کہتے ہیں۔ تحریک انصاف محسن حدید ، الیاس مہربان اور ان جیسے خواب دیکھنے والوں کا نام ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ’’ تحریک انصاف‘‘ کے جتنا قریب ہوگی اس کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی بڑھ جائیں گے۔ جتنا یہ بھان متی کے کنبے یعنی وفاقی کابینہ کے شکنجے میں جکڑی جائے گی اتنا ہی اس کی ناکامی یقینی ہوتی جائے گی۔ بھان بتی کے اس کنبے کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کل کسی اور کی شاخ پر تھے اور کل کسی اور ٹہنی پر ہوں گے۔ ان کا مسئلہ صرف دانا دنکا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */