شادی شدہ خاتون کا حقِ ملکیت: سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

شریعت نے خاتون کےلیے حقِ مہر اس کے شوہر پر عائد کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے بہت سختی سے اس حق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نکاح کے وقت نکاح نامے میں مہر کے طور پر تو بہت کچھ لکھا جاتا ہے لیکن ادائیگی کے معاملے میں ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ایک غلط دستور یہ رائج ہوگیا ہے کہ حقِ مہر کے طور پر ایسی جائیداد لکھ لی جاتی ہے جو شوہر کے بجاے کسی اور، بالعموم والدین میں کسی، کی ملکیت ہوتی ہے۔ گویا اولاد نے فرض کیا ہوتا ہے کہ والدین پر ہی یہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ اولاد کی جانب سے حقِ مہر کی ادائیگی کا بھی بندوبست کریں! اکثر اوقات اس رواج کی بنا پر مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سنگین مسئلہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں ایک مقدمے میں سامنے آیا ۔ اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے کی جس کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کررہے تھے اور انھوں نے ہی فیصلہ لکھا جس سے بنچ کے دوسرے رکن جسٹس سردار طارق مسعود صاحب نے اتفاق کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حسبِ سابق اپنے فیصلے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی اور یوں وہ ایک بہت بڑے ظلم کا راستہ روکنے میں کامیاب ہوئے۔ اس فیصلے کے اہم نکات پر یہاں تبصرہ پیش کیا جاتا ہے کیونکہ میرے نزدیک یہ فیصلہ کئی پہلوؤں سے بہت اہم ہے۔

کیس کے حقائق:

پہلے اس کیس کے حقائق مختصراً پیش کیے جاتے ہیں:

مہرین اور منصور نے 15 مئی 1995ء کو شادی کی اور نکاح نامے میں پانچ لاکھ روپے ، 75 تولے طلائی زیورات اور ایک کنال مکان کو مہر کے طور پر لکھا گیا۔ زیورات کے متعلق تو تصریح کی گئی کہ "حاضر ہیں" لیکن مکان کے متعلق لکھا گیا کہ 28 آبدرہ ٹاؤن، پشاور، میں بنا کر دیا جائے گا۔ (رقم کے متعلق تصریح نہیں کی گئی کہ وہ ادا کی گئی یا نہیں لیکن عام طور پر رواج یہ ہے کہ زیورات کو تو مہر معجل مانا جاتا ہے اور رقم کو مہر مؤجل قرار دیا جاتا ہے اور فرض یہ کیا جاتا ہے، بلکہ بعض اوقات کابین نامہ میں لکھا بھی جاتا ہے، کہ یہ رقم بصورت ناچاقی یا علیحدگی ادا کی جائے گی۔) منصور شادی کے وقت ملک سے باہر زیر تعلیم تھا اور شادی کے بعد بیوی سمیت باہر ہی سیٹل ہوگیا۔ سپریم کورٹ میں منصور کے وکیل نے بتایا کہ دونوں میاں بیوی کینیڈا میں ہنسی خوشی زندگی بسر کررہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جب دونوں آپس میں خوش ہیں تو پھر مقدمہ کیوں قائم ہوا اور پھر یہ مقدمہ سپریم کورٹ تک کیسے پہنچا؟

مقدمہ یوں شروع ہوا کہ شادی کے سولہ سال بعد 30 جون 2011ء کو مہرین نے پشاور میں فیملی کورٹ میں اپنے سسر ، حاجی محمد اسحاق جان ، اور ساس، مسماۃ خورشید اسحاق، کے خلاف مقدمہ دائر کیا جس میں اس نے پلاٹ نمبر 28، آبدرہ ٹاؤن، پشاور پر تعمیر شدہ مکان ، یا اس کی مالیت مبلغ 3 کروڑ 30 لاکھ کے حصول کےلیے دعوی کیا۔

فیملی جج نے 3 مئی 2014ء کو اس کے حق میں ڈگری جاری کردی۔ اسحاق جان اور خورشید اسحاق نے ڈسٹرکٹ جج کو اس ڈگری کے خلاف الگ الگ اپیل کی۔ ڈسٹرکٹ جج نے 15 فروری 2017ء کو یہ دونوں اپیلیں خارج کردیں۔ اس دوران میں چونکہ اسحاق جان کا انتقال ہوچکا تھا تو اس کے ورثا کے طور پر اس کے دو بیٹوں اور بیٹی نے اس کی جانب سے اور خورشید اسحاق نے الگ سے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشنز دائر کردیں جس نے 17 دسمبر 2018ء کو یہ پٹیشنز بھی خارج کردیں۔ دوسری اپیل کے بعد بظاہر قانونی راستہ ختم ہوجاتا ہے لیکن آخری امکان یہ رہتا ہے کہ سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے کہ وہ اسے اپیل کی اجازت دے۔ اگر سپریم کورٹ یہ سمجھتی ہے کہ مقدمے میں کوئی اہم قانونی سوال ہے جس کا فیصلہ ضروری ہے تو وہ اپیل کی اجازت دے دیتی ہے۔ چنانچہ دو الگ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں ۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے 7 فروری 2020ء کو ان درخواستوں کی سماعت کی اور پھر ان پر فیصلہ سنایا ۔

مقدمے کا اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ مہرین کےلیے مہر کے طو رپر جو مکان لکھا گیا اور جس کے حصول کےلیے اس نے دعوی دائر کیا تھا، وہ 1964ء سے اس کی ساس مسماۃ خورشید اسحاق کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

دلائل کا خلاصہ

محمد اسحاق جان کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے وکیل کی جانب سے ایک اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ مہرین نے مقدمے میں اپنے سسر اور ساس کو فریق بنایا جبکہ اپنے شوہر کو فریق نہیں بنایا جس کو فریق بنایا جانا ضروری تھا کیونکہ مہر تو اس نے شوہر سے ہی طلب کرنا تھا ۔ (اسے تکنیکی طور پر Non-joinder کہا جاتا ہے۔) مزید یہ کہ شوہر کو فریق نہ بنانے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ میاں بیوی آپس میں ملے ہوئے ہیں اور بیوی اپنے شوہر کو ذمہ دار ٹھہرائے بغیر اپنے ساس اور سسر سے مکان ہتھیانا چاہتی ہے۔ دوسرا اعتراض یہ پیش کیا گیا کہ اسلامی قانون کی رو سے مہر کی ادائیگی کےلیے شوہر کے والد کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور یہ بات انگریزوں کے دور میں بھی عدالت تسلیم کرچکی ہے۔ (اس ضمن میں الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے: محمد صدیق بنام شہاب الدین AIR 1923 Allahabad 364)۔

مہرین کی ساس مسماۃ خورشید اسحاق کے وکیل نے اعتراض کیا کہ مذکورہ جائیداد یکم جون 1964ء کو مسماۃ خورشید اسحاق کے نام رجسٹر کی گئی ہے اور یہ کہ مسماۃ خورشید اسحاق تو اس نکاح نامے میں سرے سے فریق ہی نہیں ہے، نہ ہی اس نے اپنے شوہر اسحاق جان کو اس جائیداد کے متعلق کوئی مختار نامہ دیا تھا۔

ان اعتراضات کے جواب میں مہرین کی وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ اس نے شوہر کو اس لیے فریق نہیں بنایا کہ اس کے سسر نے الگ دستاویز پر تصدیق کی تھی کہ نکاح نامے میں مہر کے طور پر جو کچھ لکھا گیا ہے وہ درست ہے اور اس میں مذکورہ جائیداد بھی شامل ہے۔ نیز اسحاق جان اس جائیداد پر مسماۃ خورشید اسحاق کی صریح یا ضمنی اجازت کی رو سے مالکانہ تصرف کرتا تھا اور قانون ایسے ostensible owner کی جانب سے انتقال کو ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ کی دفعہ 41 کے تحت نافذ تصور کرتا ہے۔ مزید یہ کہ لاہور ہائی کورٹ 2010ء میں محمد انور خان بنام صبیحہ خانم (PLD 2010 Lahore 119) میں قرار دے چکی ہے کہ شوہر کی جانب سے اگر یہ وعدہ کیا گیا کہ وہ اپنے باپ کی ملکیتی جائیداد اپنی بیوی کو منتقل کرے گا تو یہ ایسا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس کے باپ پر لازم ہے۔

منصور کے وکیل کی جانب سے بھی اس بات کے حق میں دلیل دی گئی کہ مہرین نے اسے کیوں فریق نہیں بنایا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مہرین کا دعوی مکان کے حصول کےلیے تھا اور یہ دعوی مسماۃ خورشید اور اس کے شوہر کے خلاف تھا۔ چنانچہ مہرین کا اپنے شوہر کو فریق بنانا ضروری نہیں تھا۔ مزید اس نے یہ کہا کہ منصور کے والدین کو وہ وعدہ پورا کرنا چاہیے جو انھوں نے منصور کی شادی کے وقت کیا تھا۔ منصور کی جانب سے ایک ڈیکلیریشن بھی دی گئی جس میں قرار دیا گیا تھا کہ اس کے والد نے نکاح نامے پر لکھا تھا کہ مذکورہ پلاٹ پر بہو کےلیے مکان تعمیر کیا جائے گا۔

مہرین اور منصور کے دلائل کا تجزیہ

جسٹس فائز عیسیٰ نے فیصلے کی بنیاد اس اہم حقیقت پر رکھی ہے کہ مذکورہ جائیداد کی ملکیت مسماۃ خورشید اسحاق کی ہے اور وہ 1964ء سے اس کی مالکہ ہے۔ یہ حقیقت فریقین کے نزدیک تسلیم شدہ تھی ۔ اس حقیقت پر بنا کرتے ہوئے جسٹس صاحب نے واضح کیا کہ نہ ہی مسماۃ خورشید اسحاق نے نکاح نامے پر دستخط کیے ہیں، نہ کسی اور ایسی دستاویز پر جس میں مکان بنانے سے قبل یا بعد مذکورہ جائیداد مہرین کو دینے کا اقرار کیا گیا ہو۔ مزید یہ کہ مسماۃ خورشید کی جانب سے اس ضمن میں اسحاق جان کو کوئی مختار نامہ بھی نہیں دیا گیا جس کی رو سے اسحاق جان کو اختیار ہوتا کہ وہ یہ جائیداد کسی اور کو منتقل کرتا۔

منصور کی جانب سے اپنے والد کے جس اقرار کا ذکر کیا گیا ، جسٹس صاحب نے اسے بھی بے فائدہ قرار دیا کیونکہ وہ اقرار جس کی جانب سے تھا، وہ مذکورہ جائیداد کا مالک نہیں تھا، اور جو اس جائیداد کی مالکہ ہے اس کی جانب سے ایسا کوئی اقرار کیا نہیں گیا۔

جس مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ سسر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بہو کو جائیداد کا وہ حصہ منتقل کردے جو اس کے نام مہر میں لکھا گیا ہے، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس صاحب نے قرار دیا کہ مذکورہ مقدمے کے حقائق میں سسر کی جانب سے اقرار موجود تھا کہ وہ یہ حصہ منتقل کرے گا اور وہ خود اس حصے کا مالک تھا، جبکہ موجودہ مقدمے میں جائیداد کی ملکیت سسر کے پاس نہیں ہے اور اس لیے اس کے اقرار کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

اسی طرح جسٹس صاحب نے واضح کیا کہ ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ کی دفعہ 41 سے بھی استدلال غلط ہے کیونکہ مذکور دفعہ میں موجود شرائط موجودہ مقدمے میں پوری نہیں ہوتیں اور اس وجہ سے یہ نہیں مانا جاسکتا کہ اسحاق جان کو ostensible owner ، بظاہر مالک، کی حیثیت حاصل تھی، نہ ہی اس کی جانب سے منتقلی کو نافذ مانا جاسکتا ہے ۔

پشاور ہائی کورٹ کے دلائل کا تجزیہ

اس کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فاضل جج کےلیے یہ بات واضح تھی کہ مذکورہ جائیداد کی ملکیت مسماۃ خورشید اسحاق کے پاس تھی، نہ کہ اسحاق جان کے پاس، لیکن اس کے باوجود اس نے قرار دیا کہ قانوناً مسماۃ خورشید اسحاق اس جائیداد سے محروم ہوچکی۔ اس پوزیشن کے حق میں فاضل جج نے تین دلائل دیے ہیں:

ایک یہ کہ مسماۃ خورشید کے دیگر دو بیٹوں کی بیویوں میں سے ہر ایک کو دو کنال جائیداد دی گئی؛

دوسری یہ کہ مسماۃ خورشید نے نکاح نامے پر اعتراض نہیں کیا؛ اور

تیسری یہ کہ مسماۃ خورشید کا شوہر اس جائیداد کےلیے ضامن تھا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے واضح کیا کہ ان تینوں دلائل میں کوئی بھی دلیل ایسی نہیں ہے جو قانون کی نظر میں وزن رکھتی ہو۔

پہلی دلیل کے متعلق انھوں نے قرار دیا کہ ہر شادی الگ عقد کی حیثیت رکھتی ہے اور ہر عقد کی اپنی الگ شرائط ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ دلیل کوئی وزن نہیں رکھتی کہ دو بیٹوں کی بیویوں کو یہ کچھ دیا گیا تو تیسرے بیٹے کی بیوی کو بھی یہ کچھ دینا چاہیے۔

دوسری دلیل مسترد کرتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ نے واضح کیا کہ مسماۃ خورشید اسحاق پر یہ لازم نہیں تھا کہ وہ نکاح نامے کے خلاف عدالت میں جاتی کیونکہ نکاح مہرین اور منصور کے درمیان ہوا جو عاقل بالغ افراد تھے اور انھوں نے آپس میں جو بھی شرائط طے کیں وہ یک طرفہ طور پر مسماۃ خورشید اسحاق پر اس کی مرضی کے بغیر نافذ نہیں کی جاسکتی تھیں۔ چنانچہ نکاح نامے سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ مزید یہ کہ مہر ادا کرنا تو منصور کی ذمہ داری تھی اور ہے۔ اگر مہرین کا دعوی یہ ہے کہ مسماۃ خورشید اپنی جائیداد دینے پر راضی تھی تو اس کا بارِ ثبوت مہرین ہی پر تھا لیکن وہ یہ ثابت نہیں کرسکی۔

تیسری دلیل کو بھی جسٹس صاحب نے مسترد کرتے ہوئے تصریح کی کہ شوہر کا بیوی کی جائیداد پر کوئی ملکیتی حق نہیں ہے، نہ ہی وہ اس جائیداد پر کوئی قانونی ذمہ داری عائد کرسکتا ہےجب تک بیوی اس پر راضی نہ ہو ۔ چنانچہ شوہر کا بیوی کی جائیداد کےلیے ضامن ہونا قانون کی نظر میں کوئی معنی نہیں رکھتا۔

یہاں سے جسٹس صاحب نے بحث کو ایک نہایت اہم نکتے کی طرف موڑا ہے جو ہمارے نزدیک سارے مسائل کی جڑ ہے۔

مسئلے کی جڑ انگریزی و امریکی قانون کے مفروضات میں ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے یہاں خصوصی طور پر اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ مسماۃ خورشید اسحاق کی ملکیتی زمین کے متعلق اس کے شوہر اسحاق جان کے اقرار کو ماتحت تینوں عدالتوں نے اس وجہ سے کافی سمجھا کہ ہمارے جج صاحبان کے ذہن میں بھی بعض اوقات انگریزی و امریکی قانون کے تصورات سرایت کرجاتے ہیں۔ میرے نزدیک ہمارے جج صاحبان کو درپیش ایک اہم مسئلے کی تنقیح کےلیے یہ جملہ بہت اہم ہے اور اس وجہ سے میں اصل جملہ یہاں نقل کرنا چاہوں گا:

We however find that the old European and American concepts at times permeate into the thinking even of judges in Pakistan.

انگریزی قانون کا مفروضہ یہ تھا کہ شادی شدہ خاتون اور اس کا شوہر قانون کی نظر میں ایک شخص کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ کہ بیوی اپنے شوہر سے الگ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اسے coverture کہتے تھے۔ اسی مفروضے کے نتیجے میں قانونی طور پر یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ جب تک شادی برقرار ہے، شادی شدہ عورت کا اپنے مال پر کوئی اختیار نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس کے مال اور جائیداد پر سارا اختیار شوہر کا ہی ہوتا تھا۔ جسٹس صاحب نے اس ظلم کے خلاف جدوجہد کی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بعض اہم اقوال اور اقتباسات بھی پیش کیے ہیں۔ جسٹس صاحب نے اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ امریکا میں 1960ء تک اور برطانیہ میں 1975ء تک شادی شدہ خاتون اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر بینک اکاؤنٹ تک نہیں کھول سکتی تھی۔

اسلام نے چودہ سو سال قبل عورت کو حقِ ملکیت دیا ہے۔

اس کے بعد جسٹس صاحب نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اسلام نے چودہ سو سال قبل عورت کو نہ صرف حقِ ملکیت ، بلکہ اسے اپنے مال و جائیداد پر مالکانہ تصرف کا پورا اختیار دیا ہے ۔ مزید یہ کہ اس نے مالک کی مرضی کے بغیر اس کے مال میں تصرف کو ناجائز قرار دیا ۔ اس ضمن میں جسٹس صاحب نے نہ صرف بعض قرآنی آیات کا حوالہ دیا ہے، جیسے: للرجال نصیب مما اکتسبوا، و للنسآء نصیب مما اکتسبن؛ اور و لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل؛ بلکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ کی تجارت اور اسلام کےلیے آپ کی مالی قربانیوں کی مثال بھی دی ہے۔ نیز اسلامی معاشرے میں عورت کے شرف اور مقام کی مثال کے طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مثال دی ہے ۔ اسی طرح انھوں نے توجہ دلائی ہے کہ اسلام نے عورت کو میراث میں حق دیا اور اس حق کے ذریعے اسے حاصل ہونے والا مال اسی کا ہوتا ہے جس پر اس کے شوہر، والد یا بھائی کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اسی طرح عورت کو مال پر ملکیت کے حصول کےلیے کسی کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ نیز شادی کی صورت میں اسے ملنے والے مہر اور تحائف کی ملکیت بھی اسی کے پاس ہوتی ہے، جبکہ پچھلی صدی تک امریکا و برطانیہ میں حالت یہ تھی کہ شادی کے بعد عورت کے مال پر اس کا اختیار ختم ہوجاتا اور اس پر سارا اختیار اس کے شوہر کو حاصل ہوجاتا۔

شریعت کے مقرر کردہ حقوق ناقابلِ تردید ہیں!

اس کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ برصغیر پر برطانیہ کے تسلط نے مسلمانوں کے اپنے ماضی سے ربط کو متاثر تو کیا لیکن شریعت کے ساتھ ان کے تعلق کو ختم نہیں کیا۔ اس دور میں خواتین کو شریعت کی دی گئی حیثیت کی بحالی کےلیے ایک اہم قانون "مسلم تنسیخِ نکاح کا قانون 1939ء" کے عنوان سے نافذ کیا گیا۔ اس قانون میں ان اسباب کا ذکر کیا گیا جن کی بنا پر کوئی خاتون عدالت میں فسخِ نکاح کےلیے آسکتی ہے ۔ فسخِ نکاح کے ان اسباب میں ایک سبب "ظلم" کے عنوان سے ذکر کیا گیا اور اس کی ایک صورت یہ بتائی گئی کہ شوہر بیوی کے مال میں اس کی مرضی کے بغیر تصرف کرے، یا اسے اس مال پر قانونی تصرف سے روکے۔ جسٹس صاحب نے قرار دیا کہ یہ مفروضہ کہ اسحاق جان اپنی بیوی مسماۃ خورشید اسحاق کی جائیدادکو کسی اور کی طرف منتقل کرسکتا تھا، مذکورہ قانون کی رو سے ظلم کی تعریف میں آتا ہے۔ اس کے بعد جسٹس صاحب نے وہ اصول ذکر کیا ہے جو میرے نزدیک اس فیصلے کا اہم ترین اصول ہے اور اس لیے میں یہاں بھی اصل الفاظ نقل کرنا چاہوں گا:

Shariah, including the rights it grants women, was made unassailable by virtue of Article 227 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, which specifically stipulates that all existing laws are to conform to the injunctions of Islam as laid down in the Holy Qur’an and Sunnah.

(دستور کی دفعہ 227 کی رو سے ، جس نے خصوصی طور پر تصریح کی ہے کہ تمام موجودہ قوانین کا قرآن و سنت میں مذکور احکامِ اسلام کے مطابق ہونا لازمی ہے، شریعت، بشمول ان حقوق کے جو اس نے خواتین کو دیے ہیں، ناقابلِ تردید ہے۔ )

اس اصول پر بنا کرتے ہوئے جسٹس صاحب نے آگے مزید کہا ہے کہ دستور کی دفعہ 24 میں مال کی ملکیت اور اس سے متعلق تصرفات کو بنیادی حقوق میں شمار کیا گیا ہے اور اس ضمن میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس لیے شادی شدہ خاتون خود کسی کو اپنا مال ہبہ ، بیع یا کسی اور طریقے سے منتقل کرے تو وہ الگ بات ہے، لیکن اس کی مرضی کے بغیر اس کا شوہر یا کوئی اور رشتہ دار اس پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔

فیصلہ

جسٹس صاحب نے آگے یہ تصریح بھی کی ہے کہ مہرین کا حقِ مہر ثابت شدہ ہے لیکن اسے یہ حق اپنے شوہر کے خلاف دستیاب ہے اور اگر اس نے پہلے اپنے شوہر سے اس کا مطالبہ نہیں کیا، نہ ہی اسے مقدمے میں فریق بنایا، تب بھی اس کا یہ حق قائم ہے اور وہ اب بھی اس کا مطالبہ اپنے شوہر سے کرسکتی ہے۔

اس کے بعد جسٹس صاحب نے بحث سمیٹتے ہوئے اپیل کی درخواستوں کو اپیل میں تبدیل کیا اور درخواست گزاروں (اسحاق جان اور مسماۃ خورشید اسحاق) کے حق میں فیصلہ سنادیا ، نیز ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کی تنسیخ کرتے ہوئے مہرین کا دعوی خارج کردیا۔

اسلامائزیشن آف لاز: دو اہم نکات

آخر میں اس فیصلے کے تناظر میں پاکستان کے قانونی نظام کے متعلق ہم دو اہم نکات ذکر کرنا چاہیں گے۔

اولاً: برطانوی راج میں مسلمانوں کا عائلی قانون

برطانوی راج سے قبل برصغیر میں خاندانی امور سمیت تمام تنازعات کا فیصلہ قاضی اسلامی قانون کی رو سے کرتے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے تسلط جمانا شروع کیا تو ان کے زیرِ تسلط علاقوں میں قانونی نظام کی تبدیلی کئی مراحل میں طے پائی۔

ابتدا میں انگریزوں نے یہ اصول طے کیا تھا کہ مذہبی تنازعات کی طرح خاندانی امور- جیسے نکاح، طلاق و میراث وغیرہ – جیسے امور میں وہ مداخلت نہیں کریں گے۔ تاہم دوسرے مرحلے میں انھوں نے مسلمانوں کے قاضیوں کو ختم کرکے انگریز جج تعینات کردیے اور چونکہ انھیں مسلمانوں کے قانون کا کچھ علم نہیں تھا، اس لیے ان کی معاونت کےلیے مفتیوں کا تقرر کیا گیا۔ تیسرے مرحلے میں انھوں نے ان کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کروایا جہاں سے مسلمان مفتی بالعموم فتوی کےلیے جزئیہ نکالتے تھے، جیسے ہدایہ، فتاوی عالمگیریہ وغیرہ۔ اب انگریز جج ان ترجمہ شدہ کتابوں کی بنیاد پر مسلمانوں کے تنازعات کا فیصلہ کرنے لگے۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں بتدریج جو قانون وجود میں آگیا، اسے اینگلو محمڈن لا، یا محمڈن لا، کہا جانے لگا۔ یہ اسلامی قانون کو "انگریزیانے" کا عمل تھا۔ آج جو لوگ انگریزوں کے چھوڑے ہوئے قوانین کے "اسلامیانے" پر اعتراض کرتے ہیں، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر انگریزوں نے اسلامی قانون کو انگریزیانے کا عمل نہ کیا ہوتا، تو شاید آج ہمیں انگریزوں کے چھوڑے ہوئے قوانین کو اسلامیانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ انگریزوں نے عائلی امور سے متعلق "قانون سازی" بہت کم کی ہے اور عام طور پر عدالتوں کے ذریعے شریعت کو انگریزیانے کا طریقہ ہی اپنائے رکھا۔ جو چند قوانین انھوں نے بنائے، ان میں ایک اہم قانون "مسلم تنسیخِ نکاح کا قانون 1939ء" تھا، جس کا ذکر اس موجودہ فیصلے میں بھی آیا ہے۔ اس قانون پر ہم کسی اور موقع پر تفصیل سے بحث کرکے بتاچکے ہیں کہ اس کے بنانے میں مسلمان علماے کرام ، بالخصوص حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کا بہت اہم کردار رہا ہے جنھوں نے مسلمان خواتین کو شوہروں کے ظلم سے بچانے کےلیے مالکی مذہب پر فتوی دے کر اس قانون کی راہ ہموار کی اور اس کا ابتدائی مسودہ تیار کرنے میں بھی مدد کی۔

ایک اور اہم قانون، جس کا ذکر اس فیصلے میں نہیں کیا گیا، مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ ہے جس کی رو سے یہ قرار پایا کہ نکاح، طلاق، میراث وغیرہ سمیت متعدد موضوعات پر "اگر قانون سازی نہ کی گئی ہو، تو فیصلے کےلیے ضابطے کی حیثیت شریعت کو حاصل ہوگی۔" پاکستان میں اس وقت اس قانون کا وہ ایڈیشن رائج ہے جو بعض جزوی ترامیم کے ساتھ 1962ء میں نافذ کیا گیا۔ اس وقت فیملی کورٹس میں تنازعات کا فیصلہ اسی قانون کی وجہ سے شریعت پر ہوتا ہے، بشرطیکہ متعلقہ موضوع پر قانون سازی نہ کی گئی ہو۔ مثلاً میراث کے متعلق پاکستان میں کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، سواے مسلم فیملی لاز آرڈی نینس کی دفعہ 4 کے، جس کی رو سے یتیم پوتے پوتیوں/نواسے نواسیوں کےلیے حقِ وراثت تخلیق کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس مخصوص مسئلے میں عدالتیں شریعت کے بجاے اس آرڈی نینس کی دفعہ 4 پر عمل کرتی ہیں، لیکن باپ، دادا، ماں، دادی، بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن وغیرہ رشتہ داروں کی میراث کے متعلق بالعموم شریعت پر فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ قانون برطانوی راج کے دور میں یوں مفید ثابت ہوا کہ بڑی حد تک مسلمانوں کا عائلی قانون شریعت کے مطابق ہی رہا۔ پاکستان بن چکنے کے بعد مسلمانوں کا اپنا تفصیلی عائلی قانون وجود میں آنا چاہیے تھا، لیکن بدقسمتی سے ابھی تک نہیں ایسا نہیں ہوا۔ ایسے میں اب بھی یہ قانون غنیمت ہے کیونکہ اس کی رو سے اب بھی عائلی امور میں بیش تر مقدمات میں فیصلہ شریعت پر ہوتا ہے۔ 2015ء میں اسی قانون کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ نے انکارِ نسب کے متعلق شریعت کے احکام کی پابندی لازمی قرار دی تھی اور شوہر کی جانب سے انکارِ نسب کے مطلق حق کو شرعی شرائط کے ساتھ مقید قرار دیا۔ (یہ فیصلہ جناب جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب نے لکھا تھا۔ دیکھیے: غزالہ تحسین زہرا بنام مہر غلام دستگیر خان۔) اس موجودہ مقدمے میں بھی یہ اصول اسی بنا پر تسلیم کیا گیا کہ چونکہ شریعت کی رو سے مہر کی ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے، اس لیے پاکستانی قانون میں بھی یہی پوزیشن ہے۔

ثانیاً: نئے اسلامی قوانین بنانے سے زیادہ اہم کام موجودہ قوانین کی اسلامی تعبیر کا ہے۔

پاکستان میں عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، تو اس کا حل نئی قانون سازی کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے۔ یوں پاکستان میں بعض اوقات ایک ہی موضوع پر بہت سارے قوانین کی بھرمار ہوتی ہے۔ تاہم بعض امور ایسے ہیں جن پر بہت کم قانون سازی کی گئی ہے، جیسا کہ ابھی پیچھے ذکر کیا گیا کہ پاکستان میں عائلی امور پر بہت کم قانون سازی ہوئی ہے اور قانونی نظام کے اس حصے کو بالعموم عدالتی تعبیر پر چھوڑا گیا ہے۔ کئی مسلم ممالک میں مابعد استعمار دور میں عائلی امور پر تفصیلی قانون سازی ہوئی ہے اور پاکستان میں بھی ایک فیملی لاز کے تفصیلی کوڈ کی ضرورت ہے تاکہ جج صاحبان کے تمییزی اختیارات (discretionary powers) کو محدود کیا جاسکے۔ اس پہلو پر ہمارے مذہبی حلقوں کی جانب سے بات بھی ہوتی رہتی ہے۔ تاہم جس پہلو کو نظرانداز کیا گیا ہے، وہ قوانین کی اسلامی تعبیر کا مسئلہ ہے۔

دستور کی دفعہ 227 کی رو سے یہ لازم ہے، جیسا کہ اس موجودہ فیصلے میں بھی کہا گیا، کہ پاکستان میں رائج موجودہ تمام قوانین شریعت سے ہم آہنگ ہوں۔ یہ ہم آہنگی کیسے یقینی بنائی جائے؟ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ ان قوانین سے وہ امور دور کردیے جائیں جو اسلامی احکام سے متصادم ہوں۔ دفعہ 227 میں اس پہلو کو الگ سے خصوصاً ذکر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کےلیے بنیادی کردار پارلیمنٹ کا ہے جو نئے قوانین بھی وضع کرسکتی ہے اور موجودہ قوانین میں حذف و اضافہ اور ترمیم بھی کرسکتی ہے۔ اس مقصد کےلیے دو مزید ادارے بھی دستور کے تحت مختلف دائروں میں کام کرتے ہیں۔ ایک ادارہ اسلامی نظریاتی کونسل ہے جو موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر ان میں اسلامی احکام سے متصادم امور کی نشان دہی کرتی ہے اور پھر ان کے متعلق اپنی سفارشات پارلیمنٹ کو پیش کرتی ہے۔ دوسرا ادارہ وفاقی شرعی عدالت کا ہے جو موجودہ قوانین کو اسلامی احکام سے تصادم کی بنیاد پر تصادم کی حد تک کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ ان دونوں اداروں نے اس ضمن میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم قوانین کو اسلامیانے کے عمل کا یہ محض ایک پہلو ہے۔

اتنا ہی یا شاید اس سے زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ موجودہ قوانین کی تعبیر اسلامی قانون کی روشنی میں یوں کی جائے کہ یہ اسلامی قانون سے ہم آہنگ ہوجائیں۔ یہ کام ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کا ہے ۔ اس پہلو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ روزانہ کی بنیاد پر مسلسل قانون کی تعبیر کرتی رہتی ہیں اور قانون کی جو تعبیر ان عدالتوں نے متعین کی، وہی عملاً نافذ ہوتی ہے۔ چنانچہ تعبیر کے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے یہ عین ممکن ہوتا ہے کہ ایک اسلامی قانون کو سیکولر بنایا جائے، یا کسی سیکولر قانون کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے۔

مثال کے طور پر قتل سے متعلق مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کو 1979ء میں پشاور ہائی کورٹ کی شریعت بنچ نے اور پھر 1980ء میں وفاقی شرعی عدالت نے اسلامی احکام سے متصادم قرار دیا۔ اس کے بعد 1989ء میں سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ نے ان دونوں فیصلوں کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان دفعات کی غیراسلامی حیثیت پر مہر ثبت کردی اور حکومت کو حکم دیا کہ ان کی جگہ اسلامی احکام پر مبنی نیا قانون لائے۔ ٹال مٹول کے بعد پہلے 1990ء میں حکومت قصاص و دیت کا قانون آرڈی نینس کی صورت میں لائی۔ سات سال تک یہ قانون آرڈی نینس کی صورت میں ہی نافذ کیا جاتا رہا کیونکہ پارلیمنٹ اسے ایکٹ کی صورت میں منظور نہیں کررہی تھی۔ بالآخر 1997ء میں پارلیمنٹ نے اسے منظور کیا۔ بعض جزوی ترامیم کے ساتھ یہی قانون اس وقت بھی پاکستان میں رائج ہے۔ تاہم قانون سازی کے بعد جب بات قانون کے نفاذ کی طرف آئی تو اب معاملہ شریعت، بنچ، شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بنچ کے بجاے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آیا کیونکہ قانون کی تعبیر انھی کا کام تھا۔ اس قانون کی تعبیر کے متعلق سپریم کورٹ کے اہم نظائر کے تفصیلی تجزیے کے بعد میری یہ سوچی سمجھی راے ہے کہ اب قانون عملاً اسی صورت میں نافذ ہے جس میں وہ 1979ء میں تھا اور مختلف جج صاحبان نے متعدد فیصلوں میں اس قانون کی دفعات کا ایسا مفہوم متعین کیا ہے کہ یہ اسلامی قانون سیکولر ہوگیا ہے! اس عمومی کلیہ سے بہت کم استثناءات ہیں اور ان استثناءات میں ایک جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب ہیں جو اپنے تقریباً ہر فیصلے میں کوشش کرتے ہیں کہ اس قانون کی تعبیر اسلامی احکام کی روشنی میں کی جائے۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ صرف قصاص و دیت کے قانون کا نہیں ہے بلکہ قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4 کے تحت تمام عدالتوں پر لازم ہے کہ ہر قانون کی ایسی تعبیر اختیار کریں جو اسلامی احکام کے مطابق ہو۔ بدقسمتی سے اس قانون پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وکیل ہوں یا جج، اسلامی احکام اور اصولوں میں ان کی تربیت ہی نہیں ہوتی۔ بہت کم وکیل ایسے ہوتے ہیں جو اسلامی احکام کی روشنی میں اپنے دلائل پیش کریں اور بہت کم جج ایسے ہوتے ہیں جو اسلامی احکام کے مطابق قانون کی تعبیر کا بھاری پتھر اٹھاسکیں۔ ایسے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب یقیناً ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتے ہیں جو یہ ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موجودہ کیس اس کوشش کی ایک بہترین مثال ہے۔

ایک جزوی اختلاف

آخر میں فیصلے میں مذکور ایک obiter dictum، یعنی ایسا ریمارک جو جج نے چلتے چلتے دیا ہو لیکن جس سے فیصلے پر اثر نہ پڑتا ہو، کے متعلق اپنا جزوی اختلاف بھی ذکر کرنا چاہوں گا۔

عزت مآب جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے ضمن میں شرعی احکام ذکر کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ بیوی کے حق میں وصیت کی ترغیب دی گئی ہے، اور اس کےلیے دلیل کے طور پر سورۃ البقرۃ کی آیت 240 کا حوالہ دیا ہے۔

بہ صد احترام عرض ہے کہ میری ناقص رائے میں یہ استدلال درست نہیں ہے۔

وصیت کے احکام ابتدائی دور میں دیے گئے جب ابھی مسلمانوں کا معاشرہ تشکیلی دور میں تھا۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ کی آیت 180 میں والدین اور دیگر رشتہ داروں کےلیے وصیت فرض کی گئی۔ اسی طرح آیت 240 میں کہا گیا کہ بیوہ کےلیے ایک سال کے متاع اور گھر سے نہ نکالنے کی وصیت کریں۔ تاہم غزوۂ احد کے بعد جب وراثت کے احکام سورۃ النسآء میں نازل کیے گئے تو ان میں والدین اور دیگر رشتہ داروں سمیت بیوہ کےلیے بھی وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر کیا گیا (چوتھا حصہ، اگر میت کی اولاد نہ ہو، اور آٹھواں حصہ ، اگر میت کی اولاد ہو)۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے صریح حکم بیان فرمایا کہ اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ، چنانچہ اب وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

البتہ بیوہ کےلیے عدت کا حکم جو سورۃ البقرۃ کی آیت 234میں مذکور تھا، یعنی چار ماہ دس دن، وہ برقرار رہا جس میں جزوی تبدیلی سورۃ الطلاق کے نزول کے بعد ہوئی جب اس کی آیت 4 اور آیت 6 میں قرار دیا گیا کہ حاملہ خواتین کی عدت وضع حمل تک ہے ۔ یہ مدت چار ماہ دس دن سے کم بھی ہوسکتی ہے اور زیادہ بھی ۔

اسی طرح شوہر نے اگر بیوی کو طلاق دے دی، تو اس صورت میں بھی مطلقہ کےلیے عدت کا حکم برقرار رہا جو سورۃ البقرۃ کی آیت 228 کی رو سے تین حیض ہیں، یا اگر وہ حاملہ ہو تو سورۃ الطلاق کی آیات 4 اور 6 کی رو سے وضع حمل تک ہے، اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو، تو پھر سورۃ الطلاق کی آیت 4 کی رو سے یہ مدت تین قمری مہینے ہے۔

اس مدت میں خاتون کو اس گھر میں رہنے کا حق حاصل ہے ، خواہ عدت وفات کی صورت میں ہو یا طلاق کی صورت میں اور خواہ تین طلاقیں دی گئی ہوں، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح عدت کے دوران میں اس خاتون پر اٹھنے والا خرچہ شوہر کے ذمے ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ حنفی فقہ کی رو سےاگر نکاح فاسد بھی ہو لیکن اس کے بعد دخول ہوا ہو، تو عورت پر عدت ہوتی ہے لیکن اس عدت کی مدت کم ہوتی ہے۔ اسی طرح شیعہ اثنا عشری فقہ کی رو سے متعہ کے بعد بھی عدت ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ اپنی زندگی میں شوہر اپنی بیوی کو بہت کچھ ہبہ کرسکتا ہے اور بیوی اس کی مالک ہوگی اگر اسے قبضہ بھی دے دیا گیا ہو۔ نیز بہت سی صورتوں میں یہ ہبہ ناقابلِ واپسی بھی ہوجاتا ہے، یعنی شوہر اس سے رجوع نہیں کرسکے گا ۔ البتہ اگر ہبہ مرض الموت میں کیا جائے تو اس پر وصیت کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے۔

اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ بیوی کےلیے وصیت والا حکم عبوری دور کےلیے تھا جس کے بدل کے طور پر بعد میں تفصیلی نظام دے دیا گیا۔

شاید جسٹس صاحب نسخ قرآن کے مسئلے میں ان اہلِ علم کی راے کو درست مانتے ہوں جن کے نزدیک قرآن کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔ نسخ کا لفظ ویسے بھی بہت بھاری محسوس ہوتا ہے اور یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہر ظاہری تعارض کی صورت میں فوراً ہی نسخ کی طرف لپکنا نہیں چاہیے بلکہ رفع تعارض کےلیے جو مَخَلص اہلِ علم نے ذکر کیے ہیں، ان کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ نیز نسخ اور تخصیص کا فرق بھی ملحوظِ نظر رکھنا چاہیے۔ تاہم فقہاے کرام نے جس طرح نسخ کے تصور کی وضاحت کی ہے، اس کے بعد اس کی قبولیت میں کوئی چیز مانع نہیں رہتی اور اسے قبول کرنے کے بعد مختلف آیات کی تاویل میں آدمی اس طرح کے بے جا تکلف سے بچ جاتا ہے جس میں عدم نسخ کے قائلین مبتلا نظر آتے ہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */