پیمانے - ردا بشیر

عقل مند ہے وہ انسان جو خود کو وقت کے دھارے کے ساتھ بہادے اور وقت کے بہاؤ کی تیز لہروں کے ساتھ کبھی ترتیب اور کبھی بے ترتیب بہہ جائے۔

اکیسویں صدی میں میں نے تو نہیں سوچا تھا کہ مشینری کے ساتھ ساتھ رشتے بھی جدید ہوجائیں گے اور وقت آنے پر وقت کے دھارے کے ساتھ خود بھی بہیں گے اور رشتوں کو بھی بہا دیں گے۔

کچھ روز پہلے ایک خبر نظروں سے گزری کہ بیٹے نے ماں کو مارا ۔۔۔ خبر میڈیا کی زینت بنی۔ بیٹی نے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر باپ کو زہر دے دیا۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی خبر ہے نہ آخری ہوگی۔سب رشتے اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں۔۔۔

اگر دوسری طرف ماں باپ کو دیکھا جائے تو وہ الٹا اولاد کے خدا بنے بیٹھے ہیں۔ اللہ نے اولاد دی، اس کی اچھی تربیت کریں۔ لیکن اس اولاد کا اپنا بھی ذہن ہے۔ اپنے خیالات اور منصوبے ہیں۔ آج کے اس دور میں اور نفسا نفسی کے عالم میں اولاد کو اپنا دشمن بنانے سے بہتر ہے ایک دوستانہ ماحول کو فروغ دیا جائے۔ بہت سے اور راستے منتظر رہتے ہیں۔۔۔۔ بہت سوچ کر موقع دینا عقلمندی ہے، بجائے اس کے کہ کسی ایک بات پر بیٹھ کر رویا جائے

اللہ نے والدین کو بہت بلند مرتبہ دیا ہے۔ انہیں حقوق بھی زیادہ دئیے ہیں، لیکن اللہ نے ان کے ذمے فرائض بھی بہت عائد کیے ہیں۔ اولاد کی تعلیم و تربیت، ان کی خوشی کا احترام اور چاہ پرواہ.

ہمیشہ کے لیے تکلیف کو اولاد کا مقدر نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ ان کو سنو اگر تو واقعی غلطی پر ہیں تو سمجھاؤ۔ لیکن اپنے خیالات اور مرضیاں ان پر مت تھوپیں۔ اپنی زندگی گزار چکے ہیں، اب انہیں بھی اپنے حصے کی غلطیاں کرنے دیں اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ غلط کریں گے۔ ضروری نہیں ہر بار برے ہی جو فیصلہ کرے وہ صحیح ہو۔

یہ لیبل جو معاشرہ لگا چکا ہے، اسے مٹانے کا وقت ہے۔ اتنی کم زندگی میں یہ طویل القدر مشکلیں چھوٹی سی زندگی کو اور بھی بھاری اور مشکل بنا دیتی ہیں.

دوسری طرف اگر میاں بیوی کے رشتے کو دیکھا جائے وہ اپنی الگ قدر کھو چکے ہیں۔ پاکستان کا 73واں یوم پیدائش مناچکے۔ دو ٹکڑے تو ہندو مسلم علیحدہ ہوگئے لیکن ان کی رسموں کو سینے سے لگائے ہمارے بڑے آج بھی انہی سمتوں پر رواں دواں ہیں۔

ہمارے ہاں بیٹیوں کو جگر گوشہ تو کہا جاتا ہے لیکن تب تک جب تک وہ بیاہی نہیں جاتی۔ اس کی رخصتی پر رونا ایک مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے ۔ جسے بخوبی ادا کیا جاتا ہے اور پھر پلٹ کر اس کا حال احوال تک نہیں پوچھا جاتا۔ چاہےوہ مار کھائے یا کوئی ہڈی پسلی تڑوا لے۔ رونا تھا رخصتی پر، رو کر وہ فرض پورا کرچکے ہیں۔ اب دوبارہ اس کے جنازے پر شریک ہو کر رونے کی رسم بخوبی ادا کی جائے گی۔ یہ نکاح سے بہتر نہیں۔ تعلیم کی دو ڈگریوں کے حوالے کرنا اپنی بیٹی کو، اگر تو واقعی پیار کرتے ہیں تو حق ادا کریں اس پیار کا۔ جہیز نہیں، تعلیم دیں۔ جہیز وہ خود بنالے گی۔ جو انسان ہو وہ انسان "ڈیزرو"کرتا ہے لیکن جانور یقینا جانور ڈیزرو کرتا۔

ہر ذی شعور انسان میری بات سے متفق ہوگا ۔ہم قرآن اور سنت کو بس وہاں استعمال کرتے ہیں جہاں اپنے فائدے یا مقصد کی بات ہو۔ درج ذیل کچھ اہم باتیں ہیں قرآن کے حوالوں کے ساتھ ہیں۔ یہ عورت کے بارے میں وہ پانچ باتیں ہیں جو اکثر مردوں کو یاد ہوتی ہیں۔

1)عورتوں کی چال بہت خطرناک ہے۔
2) دو, تین، چار عورتوں سے نکاح کرو۔
3) عورتیں عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہیں۔
4) مرد عورت پر سربراہ ہیں۔
5) وراثت میں مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔

اب کچھ ایسی باتیں جو عورتوں کے بارے میں مردوں کو یاد نہیں رہتیں۔

1)عورتوں کے ساتھ بھلائی سے زندگی گزارو۔
2)عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا خیال کرو۔
3)عورتیں آبگینے کی طرح ہیں ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔
4)وہ عورتوں کی عزت کرے گا جو خود عزت دار ہوگا.

ڈھونڈ کر مطلب کی بات نکالنا آج کے لوگوں کا شیوہ ہے۔ دین اسلام الجھنوں کو سلجھاتا ہے۔ بندھی گرہیں کھولتا ہے۔ سیدھے، صاف، کھرے اور جائز حقوق مقرر کیے ہیں، لیکن جس کا جہاں دل کرتا ہے ایک الگ ریاست کا خدا بنا بیٹھا ہے۔ اللہ عزوجل رسی کو ڈھیلی چھوڑنے والا ہے۔ وہ رسی اور اس کی گرفت کب تنگ پڑجائے اور رسی گلے کا پھندہ بن کر آنکھیں اور زبان باہر لٹکا دے کوئی نہیں جانتا۔ خود کو اس کی بنائی ہوئی حدوں میں رکھنا ہی بہتر ہے ورنہ کچلا جائے گا یہ حضرت انسان۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */