کیا مصباح الحق پر ہونے والی تنقید جائز ہے؟ محمد عامر خاکوانی

مصباح الحق پاکستانی ٹیم کے ان کھلاڑیوں میں سے ہیں جنہیں وہ ”قرض “ چکانے پڑے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے۔ ان پر ایسے حوالوں سے بھی تنقید ہوتی رہی، جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ مثال کے طور پر وہ ٹیسٹ میچز میں وکٹ پر ٹھیرنے کی کوشش کرتے اور بیٹنگ کو سہارا دیتے۔ فطری طور پر ایسا کرتے ہوئے سست کھیلنا پڑتا۔ دنیا کے کئی بڑے ٹیسٹ بلے باز ایسا کرتے رہے ہیں، ٹیسٹ میچز میں بہت زیادہ وقت ہوتا ہے اور اصل اہمیت رنز کی ہے۔ مصباح کا اصل ٹیسٹ کیرئر ان کے کپتان بننے کے بعدآگے بڑھا۔ اس میں ان کی اپنی پرفارمنس اتنی عمدہ تھی کہ طویل عرصہ تک پچاس سے زائد ایوریج رہی جو غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔اتنا اچھا کھیلنے کے باوجود مصباح پر ایک خاص لابی شدید تنقید کرتی رہی، زہریلے حملے ہوتے رہے، انہیں کبھی مسٹر ٹک ٹک تو کبھی کچھ اور کہا گیا۔ ون ڈے میں بھی ان کے سٹرائیک ریٹ پر تنقید ہوئی، یہ تو جب اعداد وشمار پیش کیے گئے کہ مصباح کا سٹرائیک ریٹ انضمام اور یوسف جیسے بلے بازوں سے بھی بہتر ہے، تب جا کر خاموشی ہوئی۔ یہ درست ہے کہ مصباح الحق سٹرائیک روٹیٹ کرنے میں زیادہ ماہر نہیں تھے، مگر بہرحال انھوں نے دباؤ میں بہت سی اچھی اننگز کھیلیں اور وہ ہمیشہ ٹیم مین رہے، اپنی ٹیم کے لئے کھیلتے رہے، ایسا کرتے ہوئے کبھی اپنی سنچری اور ریکارڈزکی پروا نہیں کی۔

مصباح الحق عمر رسیدہ کھلاڑی تھے، مگر ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں سے زیادہ فٹ اور بہتر پرفارم کر رہے تھے۔ انہیں ریٹائر ہونے کے لیے بھی بلاجواز دباؤ ڈالا گیا۔ یہ کام شہریار خان چیئرمین کرکٹ بورڈ نے کیا۔ ویسٹ انڈیز کا دورہ ان کی آخری سیریز تھی، اس میں دو بار وہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے، مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ٹھیک ٹھاک رنز کئے۔ اپنے کیرئیر کی آخری اننگ میں بھی ننانوے رنز کیے۔ ویسٹ انڈیز میں پاکستان نے پہلی بار ویسٹ انڈیز کو ہرایا۔ ایک ایسا بلے باز جوسپر فٹ ہو، جس کا بلا رنز اگل رہا ہو، جس نے ایک اچھی سیریز جیتی ہو، اسے ریٹائر ہونے پر کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے؟ خاص کر جب اس کا متبادل دور دور تک موجود نہیں۔ مصباح کو ریٹائر ہوئے چار سال ہوگئے، آج تک ٹیسٹ ٹیم میں نمبر پانچ پر ان کا اچھا متبادل موجود نہیں۔

مصباح الحق نے بطور کپتان بہت سے میچز ایسے کھیلے کہ وہ ان کا آخری میچ یا ٹورنامنٹ دکھائی دیتا تھا، ہار کی صورت میں یقینی طور پر کپتانی چھن جاتی بلکہ وہ ٹیم سے باہر ہوجاتے۔ مصباح نے ایسے بیشتر میچز میں انتہائی دباؤ کے باوجود پرفارم کیا اور ہر بار خونی محاصرے سے نکل گئے۔ بدقسمتی سے کھیلوں کی رپورٹنگ کرنے والے بعض صحافیوں، اینکرز اور سکندر بخت جیسے سابق کرکٹرز کو ان سے شدید قسم کی کد تھی، اسی وجہ سے مصباح کی غلطیوں پر تو گرفت کی جاتی، مگر جہاں کہیں ان کا طرزعمل درست ہوتا، وہاں بھی بے رحمی سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز تین صفر سے جیتی۔ تاریخ میں پہلی بار انگلینڈ کو ایسی بری شکست دی گئی۔ مصباح الحق کپتان تھے، انہوں نے اس سیریز میں خاصے رنز بھی کئے۔ ٹیسٹ کے بعد ون ڈے سیریز تھی، پاکستان انگلینڈ سیریز میں برابر جا رہے تھے، آخری میچ میں فیصلہ ہونا تھا، پاکستان نے ٹارگٹ کا تعاقب کرنا تھا، حسب معمول ہماری بیٹنگ ہانپنے لگی، مصباح الحق آخر تک وکٹ پر ٹھیرے اور جدوجہد کرتے رہے، آخری اوور کی آخری گیند تک میچ گیا۔ آخری گیند پرمصباح الحق چوکا لگا دیتے تو پاکستان میچ جیت جاتا۔ بدقسمتی سے انگلش باؤلر نے بڑی اچھی سلو بال کرائی اور مصباح بڑی شاٹ نہ لگا سکے۔ پاکستان وہ میچ اور ون ڈے سیریز ہار گیا۔ اس کے بعد گویا تنقید کا سیلاب امنڈ آیا، مصباح مخالفوں نے ایسے ایسے زہریلے تیر چلائے کہ دیکھنے والے دم بخود رہ گئے۔ اتنی تنقید تو کلین سویپ سے ہارنے والے انگلش کپتان پر نہیں ہوئی۔ ان مخالفین کو یہ بھول گیا کہ یہی کپتان صرف دوہفتے قبل پاکستان کو برطانیہ کے خلاف تاریخی ٹیسٹ سیریز جتوا چکا ہے اور ون ڈے سیریز بھی اتناکلوز جا کر ہاری گئی ہے، جس میں اس کی اپنی کارکردگی بری نہیں رہی۔

اب مصباح الحق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر ہیں۔ ان پر تنقید کا سلسلہ ایک بار پھر جاری ہے۔ اس کا ہر ایک کو حق حاصل ہے، جب کوئی سیٹج کے سینٹر میں آ کر پرفارم کرے گا تو تعریف، تنقید دونوں ہوں گی۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں میں انصاف سے کام لینا چاہیے۔ مصباح پر تنقید اکثر شدید، یک طرفہ اور بلاجواز ہوتی ہے جو درست نہیں۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ کپتان کے طور پر مصباح پر یہ تنقید ہوتی تھی کہ انہوں نے نئے کھلاڑیوں کو موقع نہیں دیا۔اس پر کبھی الگ سے بات کریں گے کہ یہ الزام درست ہے یا غلط۔ سردست تو یہ دیکھیں کہ چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کا مشترکہ کردار نبھاتے ہوئے مصباح نے نئے کھلاڑیوں کو موقعہ دینے کے حوالے سے ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جن کھلاڑیوں کو ماضی میں چانس نہیں دیا گیا یا نظرانداز ہوئے، انہیں بھی دوبارہ واپس لایا گیا۔ ایسا ماضی کے کسی چیف سلیکٹر یا ہیڈ کوچ نے نہیں کیا۔ اس کے باوجود مصباح کے اس پہلو کو بہت کم لوگوں نے سراہایا میڈیا پر اس کی تعریف ہوئی۔ اس کی چند مثالیں دیکھ لیجیے۔ احمد شہزاد اور عمر اکمل دو ایسے کھلاڑی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس بہت ٹیلنٹ ہے، مگر وہ انصاف نہیں کر سکے۔ یہ کھلاڑی ٹیم سے ڈراپ تھے اور پی ایس ایل اور ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود انہیں موقع نہیں دیا جارہا تھا۔ مصبا ح الحق نے بطور چیف سلیکٹر، ہیڈ کوچ اپنی پہلی اسائنمنٹ میں انھیں موقع دیا۔ سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں انھیں دو دو میچز دیے گئے، بدقسمتی سے وہ پرفارم نہ کر پائے اور پاکستان میچز بھی ہار گیا۔ آسٹریلیا کے دورے میں نسیم شاہ اور موسیٰ خان کو موقع دیا گیا۔ نسیم شاہ اور موسیٰ کی کارکردگی کیمپ کے دوران ملاحظہ کی گئی اور انہیں کئی سال تک ڈومیسٹک میں خجل خوار ہونے کے بجائے چانس مل گیا۔ نسیم شاہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکے، مگر کرکٹ ماہرین نے انہیں سراہا۔ مصباح نے نسیم شاہ کو تواتر سے کھلانے کا سلسلہ جاری رکھا، بنگلہ دیش اور اب انگلینڈ کے خلاف سیریز میں بھی کھلایا گیا۔ موسیٰ خان نسبتاًخام نکلے، انھیں دوبارہ چانس تو نہیں ملا، مگر گروم کرنے کی نیت سے ٹیم کے ساتھ رکھا گیا اور انگلینڈ کے دورے میں بھی لے جایا گیا۔

آسٹریلیا کے دورے میں تجربہ کار فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو بھی واپس لا کر موقع دیا گیا۔ عرفان انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی لیگز میں مسلسل پرفارم کر رہے تھے، مگرسلیکٹرز موقع ہی نہیں دے رہے تھے۔ مصباح نے وہ چانس دیا، اگرچہ عرفان پرفارم نہ کر پائے۔ محمد رضوان کو ٹیسٹ کرکٹ میں لا کر تواتر سے کھلانے کا کریڈٹ مصباح الحق کو جاتا ہے۔ آج کہا جارہا ہے کہ پاکستان کو نمبر چھ پر رضوان کی صورت میں قابل اعتماد بلے باز مل گیا ہے، یہ صرف مصباح کی سپورٹ سے ممکن ہوسکا۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں طویل عرصہ سے اچھا کھیلنے والے کاشف بھٹی کو بھی سلیکٹ کیا گیا، اگرچہ ابھی تک انہیں کھلایا نہیں گیا، مگر وہ ٹیم کے ساتھ ضرور ہیں، کسی ٹرننگ ٹریک پر جہاں دو سپنر کھلانے ہوں، وہاں انہیں موقع مل جائے۔ عابد علی کو ٹیسٹ ڈیبیو کرانا بھی مصباح کے سر جاتا ہے، انہوں نے پاکستان کا ٹیسٹ میچز میں اوپننگ کا مسئلہ خاصی حد تک حل کر دیا ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا کھیلنے والے خوشدل شاہ کو بھی مصباح ہی نے موقع دیا، وہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں ایک آپشن کے طور پر ساتھ ہیں۔ بدقسمتی سے کورونا کی وجہ سے کرکٹ زیادہ ہو نہیں رہی، ورنہ خوشدل کو زیادہ مواقع مل جاتے۔ فواد عالم جو دس گیارہ برس انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل سکے، انھیں دوبارہ ٹیسٹ کھلانے کا کریڈٹ بھی مصباح کو جاتا ہے۔ مصباح نے فواد کی پہلی اننگ میں ناکامی کے باوجود انھیں اگلے ٹیسٹ میں بھی کھلایا۔ فواد کو ممکن ہے ایک آدھ چانس اور بھی مل جائے۔ تجربہ کار فاسٹ باؤلر سہیل خان کو سابق کوچ مکی آرتھر نے کرکٹ سے باہر کر دیا تھا۔ انہیں اچھی کارکردگی کے باوجود زیرغور نہیں لایا جاتا تھا۔ مصباح نے سہیل خان کو دورہ انگلینڈ کے لیے سلیکٹ کیا، وہاں انہیں سائیڈ میچز میں کھلایا۔ اگر محمد عباس کی صورت میں نمبر ون ترجیح موجود نہ ہوتی یا عباس ان فٹ ہوتے تو یقینا سہیل خان کو کسی ٹیسٹ میں موقع مل جاتا۔ محمد حفیظ جنہیں رمیز راجہ جیسے سابق کرکٹر ریٹائرمنٹ کا مشورہ دے چکے تھے، انھیں بھی دورہ انگلینڈ کے لئے مصباح نے سلیکٹ کیا، ٹی ٹوئنٹی سیریز میں موقع دیا اور حفیظ نے اپنی شاندار کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ ان میں ابھی کرکٹ باقی ہے۔ انگلینڈ میں مین آف سیریز بن جانا کوئی معمولی بات نہیں۔

مصباح کا تازہ ترین اچھا فیصلہ نوجوان حیدر علی کا ڈیبیو کرانا ہے۔ حیدرعلی نے آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں شاندار نصف سنچری بنائی۔ یوں لگ رہا ہے کہ حیدر علی تینوں فارمیٹ میں پاکستان کے لئے کھیلے گا۔ مصباح کو بطور چیف سلیکٹر اور کوچ یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے نوجوان حیدر کے کیرئر کے کئی سال ضائع نہیں ہونے دئیے اور مناسب وقت پر موقعہ دیا ہے۔ مصباح الحق نے عبدالقادر کے برسوں سے نظرا نداز ہونے والے لیگ سپنربیٹے عثمان قادر کو بھی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے لئے منتخب کیا، ایک میچ بھی کھلایا، مگر بدقسمتی سے وہ میچ بارش کے باعث ہو ہی نہ سکا۔لیگ سپنر شاداب خان کی کارکردگی کے باعث عثمان کے لئے سردست جگہ نہیں مل رہی، مگر مصباح نے بہرحال عثمان کے لئے راستے کھول دئیے ہیں، وہ ڈومیسٹک میں پرفارم کر کے ٹیم میں آ سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مصباح کو ابھی چند ماہ ہوئے ہیں، ان میں سے بھی چار پانچ ماہ کورونا نگل گیا۔ میرا نہیں خیال کہ ماضی کے کسی چیف سلیکٹر یا ہیڈ کوچ نے اتنے زیادہ کھلاڑیوں کو مواقع دیے اور نئے ٹیلنٹ کو گروم کرنے کی کوشش کی۔ نسیم شاہ، حیدر علی، خوش دل شاہ، محمد رضوان ،موسیٰ خان.... یہ سب ایسے کھلاڑی ہیں جو قومی ٹیم کا مستقبل ہیں۔ انہیں درست وقت پر اچھے انداز میں ٹیم میں شامل کیا گیا۔ یہ سب مصباح کا کریڈٹ ہے۔ مصباح کی غلطیوں، کمزوریوں اور غلط فیصلوں پر تنقید کرنی چاہیے، اس کے اچھے فیصلوں اور خوبیوں کو سراہنا بھی حق بنتا ہے۔ انصاف اسے ہی کہتے ہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */