آئیے، باندر کو سدھاتے ہیں!-عارف انیس ملک

چلیں، باندر سے ملاقات تو ہوگئی اور سینکڑوں پڑھنے والوں نے اپنے اپنے باندر کا احوال بیان کیا. بلکہ طرح طرح کے باندر سامنے آئے. کوئی طیش سے بھرا بیٹھا تو کوئی شہر جلانے کے لیے ماچس جیب میں لیے پھر رہا تھا تو کوئی اپنے ساتھ ناانصافیوں پر آگ بگولہ تھا. ہر ایک کے پاس اپنی اپنی وجوہات موجود تھیں. چند ایک کے باندر تو بارود کے تھیلے اٹھائے پھر رہے تھے اور پھٹنے کے لیے جگہ ڈھونڈ رہے تھے. باندر کی پہچان بھی بڑی چیز ہے. جب اندر غصے، نفرت، بے چینی، بے بسی، فرسٹریشن کا طوفان اٹھے تو یہ جاننا کہ میرا چمپ برین ایکٹو ہو چکا ہے، آدھا حل ہے، کیونکہ اب آپ کا رحمانی دماغ، جو عقل اور دلائل کی بنیاد پر کام کرتا ہے، باندر کو سلجھانے کے لیے حرکت میں آجاتا ہے.

یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ کا باندر دماغ اور انسانی /رحمانی دماغ ہیں تو ایک ہی دنیا میں، اور ان کے بارڈر ملتے جلتے ہیں مگر وہ دونوں الگ ملک ہیں. دونوں میں الگ کلچر ہے، زبان ہے اور قوانین یکسر الگ ہیں. یوں سمجھ لیں کہ افغانستان اور ناروے ایک ہی خطے میں واقع ہیں.

جو لوگ دماغ کی ساخت سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ دماغ کے لمبک سسٹم میں ٹمپورل لوب کی گہرائیوں میں بادام کی شکل کا امیگڈالا واقع ہے جو کہ فتنہ دو عالم ہے. اسی کی اندر جذبات کے سوتے پھوٹتے ہیں جو ہمارے الفاظ اور اعمال سے آگ لگاتے جاتے ہیں. یہیں سے جسم میں سیروٹینن اور کارٹی سول جیسے جوسز انڈیلے جاتے ہیں جن سے کام سہ آتشہ ہوجاتا ہے.

سوال اٹھتا ہے کہ امیگڈالا اگر ایسا ہی آفت کا پرکالا ہے تو آخر وہاں ہے کیوں؟ جواب واضح ہے. جذبات ہماری زندگی کا ایندھن ہیں. جہاں ان کی طغیانی میں بہنے سے پناہ مانگنی چاہیے وہاں ان کا نہ ہونا زندگی کو بے رنگ اور بے رس بنا دے گا. بلکہ اگر باندر دماغ کا جذباتی گڑھ امیگڈالا اگر کسی چوٹ کی وجہ سے متاثر ہوجائے تو اس شخص کے ارد گرد کوئی چیخ وپکار بھی شروع کر دے یا تڑپ تڑپ کر مدد مانگتا رہے یا اسی طرح کا کوئی روح فرسا منظر وجود میں آجائے، تو اس ہر کوئی اثر نہیں ہوگا. سو اصل مسئلہ امیگڈالا میں چڑھتی ہوئی طغیانیوں کا نہیں، بلکہ ان ہر بند باندھنے کا ہے.

ایک بہت ضروری بات سے خبردار کرتا چلوں، آپ کا باندر دماغ، کسی خطرے یا خطرے کے امکان، یعنی پرسیپشن کو ایک جتنی توجہ دیتا ہے. یہی سب سے ظالم بات ہے کہ اگر باندر کے پاس بندوق ہے تو وہ چل جائے گی، چاہے ڈاکو اصلی ہے یا نقلی. آپ میں سے اکثر، زندگی کے وہ واقعات یاد کرسکتے ہیں جب سنی، سنائی یا غلط فہمی کی بنیاد پر آپ نے کسی کی ایسی تیسی پھیر دی. یہی وہ وقت ہے جب گاڑی کی سیٹ مکمل طور ہر باندر کے قبضے میں ہوتی ہے.

یہاں ایک کمال کی بات بتاتا چلوں. جیسے جیسے آپ اپنے باندر کو سدھاتے جاتے ہیں، آپ اپنے دماغ کی جذباتی وائرنگ کو تبدیل کرتے جاتے ہیں. مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان طریقوں کو بار بار آزمائیں گے تو آپ کا باندر اگلی دفعہ بے قابو ہونے سے پہلے ان مشقوں سے بے سدھ ہوچکا ہوگا. نتائج آپ کو دو ہفتوں کے اندر نظر آنے لگیں گے.
یہ ذہن میں رکھیں کہ باندر دماغ آپ کے شعور کے قابو سے باہر ہے. اسی دماغ نے ہزاروں سال انسان کو غاروں کے دور میں زندہ رکھا اور دشمنوں اور درندوں سے اس کی حفاظت کی. آپ شعوری طور پر اسے سیدھا نہیں کرسکتے، بلکہ اس کا سرکٹ توڑ کر اس کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں.

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ آپ کی زندگی کی اکثر لہولہان ہونے والی جنگیں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے گرد لڑی جائیں گی، وہ ٹوتھ پیسٹ ٹیوب پر ڈھکنا لگانا ہوسکتا ہے، ٹوائلٹ سیٹ کو نیچے گرانا ہوسکتا ہے، گھر میں داخل ہوتے وقت جوتے اتارنا یا صاف کرنا ہوسکتا ہے، یا سنک میں چائے کا کپ دھوئے بغیر ڈالنا ہوسکتا ہے. چونکہ ان تمام تر چیزوں کے پیچھے برسوں کی اذیت ناک یادیں جمع ہوتی ہیں، تو یہ چھوٹی چیزیں بس بہانہ بن جاتی ہیں.

باندر دماغ کو سدھانے کے لیے بہت سے تجربات کے بعد مندرجہ ذیل طریقے مفید پائے گئے ہیں :

1. باندر دماغ میں جیسے ہی لہریں بند توڑنے لگیں، اپنے اندر آتے ہوئے غالب خیالات کو فوری طور پر کنفرنٹ کریں. بلکہ اٹھتی ہوئی لہر کے بالکل برعکس سوچ کو تولیں. جو جوار بھاٹا اٹھ رہا ہے اس کو چیلنج کردیں. اگر باندر زیادہ وحشی ہورہا ہے تو نتائج کے حوالے سے سوال کریں، "کیا میں یہ چاہتا /چاہتی ہوں جو میں اس وقت کررہا /رہی ہوں؟ کیا میں ان نتائج کے لیے تیار ہوں جو اس طرح کے رویے سے پیدا ہوسکتے ہیں".

2. باندر دماغ کا سرکٹ توڑ دیں. جب آپ جذبات کے حصار میں ایک سٹیٹ آف مائنڈ میں موجود ہیں تو اس کو سوئچ آف کرنے کی کوشش کریں. مثال کے طور پر بیٹھے ہیں تو کھڑے ہوجائیں، کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، چلنا شروع کردیں، پانی پی لیں. وضو کرنا شروع کردیں. نماز پڑھنے لگیں. سوئمنگ کرلیں. پش آپس لگانا شروع کردیں. ممکن ہے تو سپرنٹ لگالیں. ضرب یا تقسیم کا کوئی سوال حل کرنا شروع کردیں. جو کچھ کررہے ہیں، اسے فوراً روک دیں تو جذبات کا سرکٹ فوری طور پر ٹوٹ جائے گا. تاہم اس پورے وقت میں زبان بند رکھیں تاکہ آپ تیزابی باتیں کہنے سے محفوظ رہ سکیں.

3. باندر دماغ کے تپتے ہی سب سے پہلے آپ کی سانس پر وار ہوتا ہے. میں اس ہر الگ سے بھی تفصیل سے لکھوں گا، لیکن یہ ایک تکنیک آپ کے باندر کو سیدھا کردیتی ہے. جذبات کی وجہ سے فوری طور پر آپ آدھا سانس لینا شروع کرتے ہیں. اس وقت اگر آپ 20 فوراً بھرپور اور لمبے سانس اندر بھر کر 4-7-8 کی تکنیک استعمال کریں. چار سیکنڈ سانس جع بھرپور طریقے سے اندر کھینچیں، 7 سیکنڈ اندر رکھیں اور پھر 8 سیکنڈ میں باہر نکالیں اور ساتھ ساتھ پوری توجہ سے اپنی سانس آبزرو کریں. یہ فوری طور پر آپ کو باندر کی تحویل سے باہر نکال لے گا.

4. مائنڈ فل نس کی تکنیکوں اور مراقبے کی مدد سے آپ باندر دماغ کو کافی سارا سدھا سکتے ہیں. ان کی مزید تفصیلات ایک اور مضمون میں بیان ہوں گی. مائنڈ فل نس کی وجہ سے باندر ہائی جیک سے بچاؤ جاسکتا ہے. مختصراً بتاتا چلتا ہوں کہ باندر دماغ کے جاگتے ہی آپ کی دل کی دھڑکن تیز ہوجائے گی، ہتھیلیوں میں پسینہ اتر آئے گا اور رونگھٹے کھڑے ہوجائیں گے. اب آپ طوفان کی آمد سے پہلے خبردار ہورہے ہیں. اس موقع پر آپ اپنے رحمانی دماغ کو ملوث کرسکتے ہیں. اپنے آپ سے سوال پوچھیں کہ آپ کیا محسوس کررہے ہیں اور جو جسمانی علامات محسوس کریں، ان کا اقرار کریں. پھر اپنے آپ سے پوچھیں کہ یہ علامات کس طرح کے نتائج کے حصول کے لیے ہیں اور مفید ثابت ہوں گی یا نقصان دہ. جیسے ہی آپ ڈائیلاگ شروع کریں گے، آپ باندر کے قابو سے باہر آنے لگ جائیں گے.

5. این ایل پی کی تکنیک بہت مؤثر ثابت ہوسکتی ہے. آپ کو کچھ سن رہے ہیں، یا کانوں میں جو آواز آرہی ہے، اسے تبدیل کر لیں. جو دیکھ رہے ہیں اسے تبدیل کرلیں، چاہے اپنے دماغ کی سکرین پر، یا کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین پر، ساتھ ہی اپنی انرجی اور توجہ کو شفٹ کرلیں. اس طریقے سے بھی آپ کے جذبات کا سرکٹ ٹوٹ جائے گا.

6. ایک اور چیز بہت مؤثر ثابت ہوئی ہے،اور میری اس تجویز سے ہزاروں لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے. یہ ہے "باندر جرنل" لکھنے کی عادت. تین مہینے اگر آپ ہر روز رات کو آپ اپنے آپ کو پکڑنا شروع کردیں کہ آج کتنی مرتبہ باندر نے آپ پر سواری کی اور مختصراً لکھیں جو ہوا. پھر اسی رویے کے نیچے لکھیں کہ کیا ہونا چاہیے تھا اور یہاں متبادل رویہ لکھیں. آہستہ آہستہ آپ اپنے اندر باندر کی انگڑائی لینے سے لے کر اس کے وارم آپ سے آگاہ ہونے لگیں گے اور آپ کے پاس ہر رویے کے لیے پلان بی بھی آجائے گا. آزمائش شرط ہے.

بہت سے قارئین کا فیڈ بیک یہ بھی ہے کہ سوچیں اور تلخ یادیں باندر دماغ کی دم میں تیلی لگانے کا باعث بنتی ہیں. ہم اگلے مرحلے میں ان سے نبٹنے کا طریقہ ڈسکس کریں گے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ یہ بھی کر گزریں گے.

باندر دماغ کے بارے میں یاد رکھیں کہ یہ بہت اتھرا گھوڑا ہے اور آپ نے کئی عشرے اس کے ساتھ گزارنے ہیں. اسے صرف یادداشت اور رویے کے زور پر سیدھا کیا جاسکتا ہے. اگر آج سدھانا شروع کریں تو دو ہفتوں میں آپ اس کا سرکٹ توڑنے لگیں گے اور تقریباً تین مہینوں میں آپ اس پر سواری کے قابل بھی ہوجائیں گے. بارہ مہینے میں آپ مرضی کے میدان میں بھی اسے دوڑا سکیں گے. تین مہینے اور بارہ مہینے اگر بہت لگتے ہیں تو یہ ذہن میں رکھیے، دوسری صورت میں آپ کی زندگی کے ساٹھ، ستر سال تک باندر ہی آپ پر سواری کرتا رہے گا.

پچھتاوے کی زندگی سے باہر نکلیں اور اپنی زندگی کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر خود بیٹھیں. امید ہے آپ ایک باندر سے بہتر ہی ڈرائیونگ کرلیں گی /گے.

( باندر دماغ قسط نمبر 2: زیر تعمیر کتاب "صبح بخیر زندگی" سے اقتباس )

ٹیگز

Comments

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک معروف تھنک ٹینکر، بین الا قوامی سطح پر معروف ماہر نفسیات اور پاکستان سول سروس سے وابستہ ہیں۔ نفسیات، لیڈرشپ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ پران کی تین عدد کتابیں شائع ہو کرقبول عام حاصل کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */