آئیے، باندر سے ملتے ہیں - عارف انیس ملک

فرض کریں کہ آپ بینک کے اندر ایک لمبی قطار میں انتظار کر رہے /رہی ہیں. کافی دیر بعد آپ کی باری آنے والی ہے کہ اچانک ایک خاتون لپک کر سامنے آتی ہیں اور آپ کی قطار کاٹتے ہوئے آپ سے آگے گھس جاتی ہیں. آپ کاؤنٹر سے صرف دو باریوں کے فاصلے پر موجود ہیں. آپ کیا کریں گے/گی؟

"لعنت بھیجو اس پر. اس ملک میں یہی کچھ ہوتا ہے. بے شرم لوگ. یہاں پڑھے لکھے بھی جانگلی ہی رہیں گے اور ہم جیسے بس برداشت کرتے رہیں گے".

اندر ہی اندر بڑبڑاتے ہوئے، خون کے گھونٹ پیتے ہوئے، آپ اسے نظرانداز کردیں گے/گی.

"شکل سے تو خاتون کافی سمجھدار لگتی ہیں. یا تو انہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے قطار توڑی ہے یا پھر کسی ایمرجنسی میں ہیں. دونوں صورتوں میں یہ زیادتی کررہی ہیں ". یہ سوچ کر آپ مناسب انداز میں آواز بلند کرتے/کرتی ہیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیتے /دیتی ہیں.

"شکل دیکھو چڑیل کی، ایسے چھلانگ مار کر آگے بڑھی ہے جیسے باپ کا بینک ہے. میرے منہ پر کیا بڑا سا چ لکھا ہوا ہے ". یہ خیال آتے ہی آپ کا سانس چڑھ جاتا ہے اور تقریباً پھنکارتے ہوئے آپ اس کی ماں بہن ایک کردیتے/دیتی ہیں.

آپ ان تینوں میں سے کون سا رویہ اختیار کریں گے /گی؟
ان میں سے کوئی بھی انتخاب بتلائے گا کہ آپ کا دماغ کیسے کام کرتا ہے اور اس کی غالب سائیڈ کون سی ہے.

سائنس دانوں، ماہرین نفسیات اور دماغی ماہرین نے پچھلے دس برس میں کمال دریافتیں کی ہیں. ان میں سے ایک بڑی دریافت یہ ہے کہ دماغ کا ایک حصہ انسانی اور عقلی احساسات پر مبنی ہوتا ہے. یہ فرنٹل لوب یا دماغ کے سامنے کا حصہ ہے. یہاں چھان پھٹک کر احساسات کی جانچ پرکھ ہوتی ہے اور دلائل کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا ہے.

دماغ کا دوسرا حصہ "باندر دماغ یا چمپ برین" کہلاتا ہے. یہ دماغ کا لمبک حصہ ہے اور اس یہ دماغ کا قدیم ترین حصہ بھی ہے. یہ انسانی احساسات اور جذبات کا گھر ہے. اور یہ فوری عمل اور ردعمل پر یقین رکھتا ہے.

دماغ کا ایک تیسرا حصہ پروگرامڈ برین ہے. یہ برسوں کے مستقل سیکھے ہوئے رویوں، عادتوں اور نمونہ جات ہر مشتمل ہے. یہ سیکھی گئی عادت منفی بھی ہوسکتی ہیں اور مثبت بھی، اور یہ ہر انسان میں اس کے اپنے تجربات کی بنیاد پر مختلف ہوسکتی ہیں.

اوپر دی گئی مثال میں خود ترسی، محرومی کا مارا ہوا شخص پہلی چوائس کا انتخاب کرے گا. سوچ، سمجھ اور دلیل والا شخص دوسری چوائس کا انتخاب کرے گا، جب کہ باندر دماغ والا شخص غراتے ہوئے ٹوٹ پڑے گا.

باندر دماغ غلبے، خود غرضی، اور بنیادی طور پر جذبات اور احساسات کے ایندھن پر چلتا ہے. یہ بندر تقریباً ہر شخص کی پشت پر بندھا رہتا ہے اور موقع پاتے ہی کاندھے پر چڑھ جاتا ہے اور دوسرے شخص کو لہو لہان کردیتا ہے. آپ کی زندگی میں، خوشی، سکون اور مسرت کا بڑا حصہ اسی باندر کو قابو کرنے میں ہے ورنہ آپ کی اور آپ سے محبت کرے والوں کی زندگی لیرولیر ہوجائے گی.

آپ میں سے اکثر سوچیں گے کہ اس باندر کو کیسے پھانسی دی جاسکتی ہے. بدقسمتی سے یہ ناممکن ہے. آپ صرف اس باندر کو سدھا سکتے ہیں. یاد رکھیں یہ باندر اتنا ہی قیمتی ہے کہ احساسات اور جذبات کے بغیر زندگی کھائے ہوئے بھس جیسی ہوجائے گی. تاہم توازن رکھنا ضروری ہے جس کا ایک موزوں طریقہ اسے اپنی گرمی نکالنے کا موقع دینا ہے. یہ مشق آپ روزانہ بھی کرسکتے ہیں، چاہے تو کسی ڈمی پر اپنا پورا غصہ نکالیں، باکسنگ کریں، کک باکسنگ کریں، 100 عدد پش اپس نکال لیں، چیخیں چلائیں، یا اپنی آڈیو ریکارڈ کرلیں یا اپنے آپ کو ای میل کرلیں اور ساری فرسٹریشن نکال دیں، مگر یہ مواقع جتنے پرائیویٹ ہوں اتنے ہی بہتر ہیں.

پروفیسر سٹیو پیٹر کا کہنا ہے کہ باندر دماغ ہر روز اپنی دیہاڑی لگاتا ہے. جب بھی آپ اپنے آپ کو چیختے چلاتے، مٹھیاں بھینچتے، سینہ کوٹتے پائیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا باندر آپ کے دماغ کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا ہے. یاد رکھیں آپ کا باندر جتنا باہر نکلے گا، آپ کے کیے کرائے پر پانی پھیر دے گا.
ضروری ہے کہ آپ تنہائی میں بیٹھ کر تجزیہ کریں کہ آپ کا انسانی دماغ کون سا ہے، آٹو میٹک والا کون سا ہے (عادتیں، ایمان، یقین اور سیکھی ہوئی روایات) اور باندر دماغ کون سا ہے اور باندر آپ سے کیا چاہتا ہے. جب آپ ایک مرتبہ باندر دماغ کو پہچان جائیں گے تو اس سے نمٹنا آپ کے لیے آسان ہوجائے گا. ویسے بھی ہم احساسات اور جذبات کی خوراک ہر لمحہ اسے کھلا رہے ہوتے ہیں اور تھوڑی بہت پرہیز سے کام کافی آسان ہوجاتا ہے.

یاد رکھیں کمیونیکیشن کے حوالے سے یا تو آپ کا انسانی دماغ، لاجک اور دلائل کی روشنی میں انسانی دماغ سے بات کررہا ہوتا ہے. یا پھر انسانی دماغ، باندر دماغ سے گتھم گتھا ہوتا ہے. یا آپ کا باندر دماغ انسانی دماغ کو اپنے جذبات سجھا رہا ہوتا ہے، ہا پھر باندر دماغ، ایک اور باندر دماغ کے لتے لے رہا ہوتا ہے. یہ آخری صورت حال سب سے خطرناک ہوتی ہے اور اس میں کمیونیکیشن کے پرزے اڑ جاتے ہیں اور دونوں پارٹیاں خونم خون ہوجاتی ہیں. جیسے ہی کسی ایسی صورت حال میں پہنچیں، مزید نقصان سے بچنے کے لیے اپنا منہ بند کرلیں.

اگر آپ یہاں تک پہنچ چکے/چکی ہیں اور اپنے باندر پن سے ملاقات ہوچکی ہے تو پہلے بتائیں کہ ملاقات کیسی رہی؟ آپ کا باندر کیسے دکھتا ہے اور کس طرح کے جذبات اور احساسات کا مظاہرہ کرتا ہے.؟

پہلے شیشہ دیکھ لیجیے اور باندر سے مل لیں، پھر اس کو سدھانے کا طریقہ ڈھونڈتے ہیں!!!

Comments

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک معروف تھنک ٹینکر، بین الا قوامی سطح پر معروف ماہر نفسیات اور پاکستان سول سروس سے وابستہ ہیں۔ نفسیات، لیڈرشپ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ پران کی تین عدد کتابیں شائع ہو کرقبول عام حاصل کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */