شیخ‌رشید کی نئی کتاب، 14 سنسنی خیز انکشافات

شیخ رشید ہمارے ان سیاستدانوں میں سے ہیں جو حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، خبر ان تک اڑ کر پہنچتی ہے، وہ ہر دور میں پاور کاریڈورز میں اہم اور موثر سمجھے جاتے رہے ہیں۔ کئی وزرائے اعظم اور حکمرانوں کے ساتھ کام کیا۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی رہے، پھر دور ہوئے، مشرف کا ناک کا بال بنے، پیپلز پارٹی دور میں فاصلہ رہا، مگر عمران خان کو انہوں نے جدوجہد کے دنوں میں جوائن کرلیا اور آج تحریک انصاف حکومت کے اہم وزیر ہیں۔ شیخ رشید کی ایک بڑی خصوصیت بے لاگ اور چٹپٹی گفتگو ہے۔ انہیں خبروں میں رہنے کا ہنر آتا ہے ، باتوں باتوں میں وہ اہم خبریں بھی دے جاتے ہیں اور پھر اکثر اوقات ان سے مکرتے نہیں۔ شیخ رشید نوے کے عشرے میں جیل میں اسیر رہے تو اپنی خود نوشت فرزند پاکستان لکھی، اب پچیس برسوں کے بعد ان کی نئی کتاب ’’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک ۔ شیخ رشید کی سیاست کے پچاس برس‘‘شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں شیخ رشید نے ایوان اقتدار میں ہونے والی بہت سی سازشوں کو بے نقاب کیا اور کئی اہم درون خانہ رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ہم ان کی کتاب سے چند دلچسپ اورہوش ربا انکشافات پر مبنی اقتباسات پیش کر رہے ہیں.

امریکی وزیردفاع سے ون آن ون ملاقات وزیراعظم جمالی کی رخصتی کی وجہ بنی؟:

میرظفراللہ جمالی وزیراعظم کے طور پر امریکہ گئے، وزیرخارجہ خورشید قصوری ہمراہ تھے، میں بھی ساتھ تھا۔ امریکی وزیردفاع رمز فیلڈ سے ملاقات کرنے لگے تو جمالی نے مجھے کہا کہ شیخ رشید میں نے اکیلے بات کرنی ہے، یہی بات جمالی نے خورشید قصوری سے کہی۔ تیس چالیس منٹ جمالی کی رمز فیلڈ سے ون ٹوون ملاقات ہوئی ، ہم باہر بیٹھے رہے، اتنے میں جنرل احسان کا فون آیا کہ شیخ رشید آپ کہاں ہیں؟ میں نے بتایا کہ جمالی صاحب میٹنگ میں ہیں، میں باہر بیٹھا ان کا انتظار کررہا ہوں۔ انہوں نے پوچھا اندر میٹنگ میں کون ہے؟ وزیر خارجہ یا سیکریٹری خارجہ؟ میں نے کہا کہ کوئی نہیں حالانکہ سفیر نے اشارہ کیا تھا کہ اگر وزیرخارجہ بھی ساتھ ہوں تو بہتر ہے، لیکن جمالی صاحب نے ون ٹوون ملاقات کو ترجیح دی۔ جنرل احسان نے کہا بہت اچھے۔

دو تین منٹ بعد جنرل پرویز مشرف کا فون آگیا، انہوں نے پوچھا جمالی صاحب کدھر ہیں؟ میں نے کہا وہ رمزفیلڈ کے ساتھ ملاقات کررہے ہیں، مشرف نے پوچھااورکون ہے؟ میں نے کہا کہ کوئی نہیں، خورشید قصوری اور سفیر دونوں میرے ساتھ باہر کھڑے ہیں۔ جنرل مشرف نے کہا اوکے۔ ایک دم میں کھٹکا اور سمجھ گیا کہ اب حالات خراب ہورہے ہیں۔ میں نیچے اترا، ہوٹل سے باہر آیا، گرم جیکٹوں کی سیل لگی تھی، میں نے جمالی صاحب کے سائز کی جیکٹ خریدی اورواپسی پر انہیں تحفہ میں پیش کی، وہ کہنے لگے شیخ صاحب اتنا بڑا دل کیسے کرلیا؟ میں نے کہا کہ میں حالات اچھے نہیں دیکھ رہا، اس لیے میں نے آپ کو الوداعی تحفہ یہیں سے لے کر دے دیا ہے، وہ ہنسے اور بولے کیا مسئلہ ہے؟ میں نے کہا کہ آپ کو اس ملاقات میں کم از کم وزیر خارجہ کو بٹھانا چاہیے تھا۔ میرے خیال میں وہی ملاقات جمالی صاحب کے اقتدار کا اختتام بنی اور یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ جمالی صاحب کو واپسی پر پر ہٹادیا جائے گا۔

حسین حقانی جعلی دستخطوں کے ماہر؟:

حسین حقانی نے بے نظیر بھٹو کی کردار کشی میں نواز شریف کا ساتھ دیا تھا، جب بے نظیر پر پیٹر گلبرتھ کے الزامات لگائے جارہے تھے تو حسین حقانی نے پیٹر گلبرتھ کے ایسے دستخط کیے کہ کوئی پہچان ہی نہیں سکتا تھا، میرے سامنے جب نواز شریف نے دونوں کاغذ رکھے تو میں یہ پہچان ہی نہیں سکا کہ اصلی پیٹر گلبرتھ کے دستخط ہیں یا یہ حسین حقانی نے دستخط کیے ہیں۔ میں نے ایبٹ آباد کمیشن میں یہ الزام لگایا کہ حسین حقانی نے امریکہ میں پاکستانی سفیر کے طورپر ہزاروں امریکی اہلکاروں کو ویزے جاری کیے۔ میڈیا میں بھی یہ بیان دیا کہ حسین حقانی نے امریکی حکام کو پندرہ ہزار ویزے جاری کیے، جن میں چار ہزار ٹیکنو کریٹس، کنٹریکٹرز اور آفیسرز کو دئیے گئے، جن میں ریمنڈ ڈیوس جیسے افراد بھی شامل تھے۔

صدر مشرف نے روضہ رسول میں ‌کیا دُعا کروائی؟:

صدر مشرف کو اکثر اسامہ بن لادن کی گرفتاری کی فکر لاحق رہتی تھی۔ یہ فکر اتنی بڑھ چکی تھی کہ ہم سعودی عرب گئے تو وہاں بھی اس کا ذکر رہا،ایک دن میں نے روضہ رسولﷺپر صدر مشر ف سے پوچھا کہ آپ بتائیں کہ اسامہ بن لادن کی اصل حقیقت کیا ہے؟ صدر مشرف نے مجھے کہا کہ اس مقدس جگہ پربیٹھے ہوئے یہ دعا کریں کہ اسامہ پاکستان سے نہ پکڑا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں بھی یہاں دعا مانگوں گا اور آپ بھی یہ دعا مانگیں کہ اسامہ بن لادن کہیں سے بھی نکلے، لیکن پاکستان سے نہ نکلے، ورنہ پاکستان کی مستقبل کی سیاست میں اس پر بڑے دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔

جب کلرسیداں کے ایک باورچی نے بڑی خبر مجھے دی:

کلرسیداں کا ایک باورچی تھا جو متحدہ عرب امارات کے( شاہی) محل میں رہتا تھا،اس نے مجھے ایک دن فون کیا کہ شیخ صاحب بڑی مشکل سے آپ کا نمبر لیا ہے، یہاں مذاکرات چل رہے ہیں، بے نظیر سے صدر مشرف کے مذاکرات ہو رہے ہیں، صدر مشرف نے اسی محل میں بے نظیر سے ایک لمبی اور تفصیلی ملاقات کی جس میں مستقبل کے معاملات طے ہوئے، خورشید قصوری مشرف کے ساتھ تھے، مگران کے کان میں یہ خبر نہیں پڑنے دی اور قصوری کو پہلے ہی محل سے واپس بھیج دیا۔

بے نظیر کی وطن واپس میں مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز نے کلیدی کردار ادا کیا، وہ چاہتے تھے کہ بے نظیر وزیراعظم بن جائیں اور مشرف صدر ہوں۔ طارق عزیز نے لندن میں الطاف حسین سے بھی ملاقات کی اوربے نظیر سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں اعتماد میں لیا۔ یہ بات اس سے پہلے بھی میرے کانوں میں پڑی تھی کہ طارق عزیز اور لیفٹیننٹ جنرل حامد مذاکرات کررہے ہیں اور این آر او کی بات ہو رہی ہے، یہ مجھے کنفرم نہیں کہ جنرل کیانی بھی ان کے ساتھ رابطے میں تھے یا نہیں۔ بے نظیر بھٹو جنرل کیانی سے ملاقات کی خواہش مند تھیں، وہ خواہش رکھتی تھیں کہ اس مذاکرات کمیٹی میں جنرل کیانی بھی شامل ہوں۔

این آر او کی بات چودھریوں کو قبول نہیں تھی اور وہ اس کے مخالف تھے۔جو چودھری سوچتے تھے وہ بہتر تھا، اگر مشرف این آر او نہ کرتے تو میرا نہیں خیال کہ آج ان کو یہ دن دیکھنے پڑتے۔ میں نے ایک دن یہ ڈسکلوز کردیا کہ مذاکرات ہورہے ہیں۔ بے نظیر نے ارشاد حقانی مرحوم کو کہا کہ شیخ رشید کو یہ سب کون بتاتا ہے؟ صدر مشرف نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یہ خبریں تمہیں کون دیتا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ خبریں مجھے عام غریب آدمی، پینٹر، مکینک، باورچی، درزی، دھوبی ، نائی جو محلوں میں چھوٹے کام کرنے والے ہیں، وہ بتاتے ہیں۔ جس پر مشرف چپ ہوگئے، کسی نے میری بات کی تردید نہیں کی۔

"تاحیات سینیٹر" مشاہد حسین سید:

جب مسلم لیگ ق بنی تو مشرف چاہتے تھے کہ میں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنوں، ان کا بڑا اصرار تھا، لیکن چودھری ڈٹ گئے۔ انہیں مشاہد حسین چاہیے تھا۔ میں نے ان کے ساتھ دو تین میٹنگز کیں اور راضی کرنے کی کوشش کی ۔پھر میں نے انہیں کہا کہ آپ کو یقین سے کہہ کے جا رہا ہوں کہ مشاہد حسین کل آپ کے ساتھ نہیں چل سکیں گے، کیونکہ اس نے تاحیات سینیٹر رہنا ہے، یہ اس کی زندگی کا مشن ہے، چاہے پارٹی کوئی سی بھی ہو۔

چوہدری شجاعت کیسے وزیراعظم بنے؟

طارق عزیز کا مشرف کی حکومت چلانے میں وہی کردار تھا جو فواد حسن فواد کا نواز شریف کو چلانے میں تھا، بلکہ طارق عزیز کا اس سے بھی زیادہ تھا۔ طارق عزیز نے(جمالی کے بعد وزیراعظم بننے کے لیے) ہمایوں اختر کو لانچ کردیا۔چودھری چاہتے تھے کہ میں طارق عزیز کی مخالفت کروں، ان کا مقصد تھا کہ اگر شیخ رشید ہمایوں اختر کے سامنے کھل کر آجاتا ہے تو پھر ایک مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ اسی مسئلے پر صدر مشرف نے مجھے طلب کیا تو میں نے انہیں کہا کہ دیکھیں ایک آرمی چیف آپ ملک کے صدر ہوں، یونیفارم میں ہوں اور دوسری طرف ڈی جی آئی ایس آئی کا بیٹا ملک کا وزیراعظم تو ایسے ہی میسج جاتا ہے کہ اپنے سارے عہدے فوجیوں نے آپس میں ہی بانٹنے ہیں۔ اس وقت پانچ اور جنرل بیٹھے تھے۔ مشرف نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ ہمایوں اختر بہتر آدمی ہے، میں نے کہا کہ میرے لیے یہ مشکل ہوگا اور شاید میں ووٹ بھی نہ دوں۔ بعد میں مشرف نے کہا شجاعت کو کچھ عرصہ کے لیے لے آئیں کیونکہ شوکت عزیز قومی اسمبلی کے ممبر نہیں تھے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کس نے بیان دینے پر مجبور کیا؟

میری زندگی میں بطور وزیراطلاعات سب سے اہم واقعہ جو پیش آیا،وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر لگائے گئے الزامات تھے ۔عوامی جذبات ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ تھے، عوام انہیں ہیرو سمجھتے تھے، لیکن حکومت کی جو اطلاعات تھیں، وہ کافی تشویشناک تھیں، وہ بذات خود ملوث تو نہیں تھے، لیکن سائنس دانوں کا ایک گروپ ان تحقیقات کی زد میں آگیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر اورپرویز مشرف کی ایک دو گھنٹے کی بات چیت ہوئی جس میں زبردست نتیجے نکلے اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے ہوگئے۔ میں اس وقت پریزیڈنٹ ہاﺅس میں تھا، جو کچھ بھی بیان دیا وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خود دیا ۔ میں تاریخ کو درست کرنا چاہتا ہوں کہ صدر پرویز مشرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی عزت میں کوئی فرق نہیں لائے، وہ ساری باتیں دو تین گھنٹے ان سے ڈسکس کرتے رہے۔ جو بیان اس دن جاری ہوا، وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اپنا تھا اور انہوں نے اپنے روئیے پر معذرت بھی کی۔ڈاکٹر عبدالقدیر کا میں کل بھی فین تھا، آج بھی ہوں اور ان شااللہ تاحیات رہوں گا۔

سید علی گیلانی سے پرویز مشرف کو کیا مسئلہ تھا؟

ایک بات مجھے نہیں اچھی لگتی تھی کہ صدر مشرف سید علی گیلانی کے بارے میں کھچے کھچے رہتے تھے، سید علی گیلانی کے ایک بیان نے مشرف کو بہت مشتعل کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان سرحدوں کو مستقل کرنے جارہا ہے۔مجھے اس بات کا بڑا دکھ ہوتا تھا کہ بعض کشمیری لیڈسید علی گیلانی کے خلاف زہر اگل رہے ہوتے تھے، یاسین ملک ہمیشہ مثبت رہے اور پرویز مشرف کے سامنے علی گیلانی کے بارے میں اچھی رائے دی، کہا کہ علی گیلانی ایک بڑا نام ہیں اور جو ہمارے ساتھی باتیں کر رہے ہیں وہ نامناسب ہیں، لیکن ایک ساتھی جو مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے تھے، وہ ہمیشہ علی گیلانی صاحب کے خلاف پرویز مشرف کے کان بھرتے، میں بٹ صاحب کی بات نہیں کررہا، وہ بڑے کھلے آدمی تھے۔

آصف نواز کا وزیراعظم سے ملاقات سے انکار اور جنرل اسلم بیگ کی مارشل لا کے لیے تیاری:

جنرل اسلم بیگ اور آصف نواز دونوں اقتدار کے قبضہ میں یقین رکھتے تھے، ایک دن میں چونک پڑا جب سرکاری عشائیہ میں بریگیڈئر سعید ملٹری سیکرٹری نے آصف نواز سے کہا کہ کل ملاقات کا آپ کا وقت ساڑھے گیارہ بجے ہے۔ اس پر انہوں نے فوراً کہا کہ وزیراعظم سے کہو میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔ میں نے پرسوں ٹائم مانگا تھا تو ان کے پاس ٹائم نہیں تھا۔ اس ٹیبل پر اور بھی ہائی رینکنگ آفیسر بیٹھے ہوئے تھے۔ اسلم بیگ کے ریٹائر ہونے پر پرائم منسٹر ہاﺅس میں مبارکبادوں کا سلسلہ جاری تھا۔میرے نزدیک آصف نواز بھی اسی راہ پر چلے نکلے تھے اور اتنا سرعام یہ کہنا کہ میرے پاس وقت نہیں، یہ خطرے سے خالی نہیں تھا۔ میں نے اسلم بیگ کا بھی وقت دیکھا تھا اوراسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ پر نواز شریف اور اسحاق خان کی متفقہ رائے تھی، ورنہ میں تو اسلم بیگ کو بھی آخری دنوں میں مارشل لاء لگانے کے لیے تیار دیکھ رہا تھا۔ خلیج کی جنگ جاری تھی، ایک دن ڈیفنس کی ایک میٹنگ میں میں نے اسلم بیگ کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دیکھی اور ان کی گفتگو سن کر سکتے میں آ گیا۔ ان کے نزدیک اگر سعودی عرب میں فوج کو صیحح ہتھیاروں سے منظم کرکے نہ بھیجا گیا اور اگر وہاں کچھ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ حالانکہ فوج سعودی عرب میں ان کے مشورے سے ہی بھیجی جارہی تھی، اب وہ کھلے انکاری اور تنقید سے بھرے تھے۔

شہباز شریف اور چوہدری نثار کی بڑی کمزوری:

نواز شریف کی (پہلی)وزارت عظمیٰ کے دوران چار قسم کی کابینہ تھی، ایک سات رکنی، ایک نورکنی اور ایک گیارہ رکنی کابینہ وہ تھی جو ٹی وی کیمروں کے سامنے پیش کی جاتی تھی، جس کو بعض ممبرمحسوس کرتے۔ سات رکنی کابینہ میں شیخ رشید احمد، چودھری نثار، چودھری شجاعت، مہتاب عباسی، ملک نعیم، جنرل مجید ملک اور نواز شریف ہوتے تھے ، نو رکنی میں اعجاز الحق اور اعظم ہوتی کا اضافہ ہوجاتا اور گیارہ رکنی میں صدیق کانجو اور عبدالستار لالیکا بھی شریک ہوتے، لیکن ان تمام میٹنگز میں شہباز شریف کا ہونا لازمی امر تھا ، میرے نزدیک ہمارے دور اقتدار کی بڑی غلطیوں میں غلام حیدر وائیں کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کرنا تھا، جس کا سہرا شہباز شریف کے سر جاتا ہے۔ نواز شریف نے انہیں مرکز میں کوئی وزارت نہیں دی تھی، جس کی وجہ سے شاید ہی کوئی وزارت ہو جس میں انہو ں نے مداخلت نہ کی ہو، نجانے کیوں شہباز شریف اور چودھری نثار میں یہ کمزوری ہے کہ اہم فائلوں کو اپنی دسترس یا معلومات میں رکھنا چاہتے تھے۔ زاہد انور پرنسپل سیکرٹری تھے تو وہ اپنی فائلوں کو بچاکر رکھتے ، مگر جب قاضی علیم اللہ پرنسپل سیکرٹری بنے تو وہ فائلوں کو بچانے کی ہمت اور اہلیت نہ رکھتے تھے۔

جب میں‌ نے خودکشی کا فیصلہ کرلیا:

ایک بارچودہ اگست کو مری پہنچا تو بے پناہ رش کی وجہ سے رات کو واپسی پر دیر سے بس ملی، گھر رات دو بجے پہنچا تو سارا گھر منتظر تھا، بڑے بھائی نے مجھے تختی سے اتنا مارا کہ تختی ٹوٹ گئی، کوئی چھڑانے نہ آیا بلکہ والدہ ”مارمار ہور مار“کہتی رہیں، مجھے زندگی میں کبھی اتنی مار نہیں پڑی تھی، گھر میں کسی نے مجھے صفائی کا موقع نہ دیا، صبح اٹھا تو منہ سوجا ہوا تھا، رات کو فیصلہ کر لیا تھا کہ خودکشی کر لینی ہے، میں نے مرنے کے لیے نیلا تھوتھا دہی میں ملا کر کھانے کا فیصلہ کیا، دکاندار سے نیلا تھوتھا لینے گیا تو اسے شک پڑ گیا، اس نے وہاں سے گزرتے میرے بڑے بھائی سے پوچھ لیا، جب گھر والوں کو پتہ چلا تو اور مار پڑی۔دوسرے دن میں نے کمرے کو اندر سے کنڈی لگائی ، بستر کی چادر کو گلے میں ڈالا اور کرسی پر کھڑے ہو کر پنکھے کے کنڈے پر اپنے آپ کو باندھ دیا، چند سکینڈ ہی گزرے ہوں گے کہ آنکھوں میں تارے چمکنے لگے، میں نے خود ہی چلانا شروع کر دیا۔ گھروالوں نے دروازہ توڑ کر مجھے نیچے اتارا، تب تک والدہ بال نوچ نوچ کر برا حال کر چکی تھیں اور میں بھی اپنا شوق پورا کر چکا تھا۔اس وقت میں ساتویں یا آٹھویں کا طالب علم تھا، موت کتنی اذئیت ناک ہے، اس کا تجربہ میں کر چکا ہوں۔ اس کے بعد گھر والوں نے مجھے کچھ کہا اور نہ میں نے کبھی مرنے کا سوچا۔

پی ٹی آئی دھرنا اور چینی صدر کا دورہ:

2014ء دھرنے کے دنوں میں کنٹینر سارے پاکستان کے لیے سیاست کا ایک منبع بن چکا تھا، اس دور میں چینی صدر پاکستان تشریف لا رہے تھے، عمران خان کی طرف سے چینی سفیر کو یہ پیغام گیا کہ ہماری طرف سے کوئی مسئلہ نہیں، ہم اس دن راستہ صاف کر دیں گے، چینی صدر آسکتے ہیں۔ چینی سفیر نے شکریہ بھی ادا کیا اور عمران خان کو پیغام پہنچایا کہ ہم آپ کے شکر گزار ہیں لیکن ممکن ہے کہ ہم دورے کا التوا کردیں اور ہم اس کو آگے لے جائیں۔

خیبرپختونخوا اور پنجاب صوبے، وزیراعظم عمران خان چلارہے ہیں:

دو برسوں سے عثمان بزدار اور محمود خان دونوںاپنے صوبوں کو چلا رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں صوبے جو ہیں ان کو بھی عمران خان دیکھ رہے ہیں۔صوبوں کی سیاست پر انکی پوری نظر ہے۔ مرکزکی سیاست پر بھی گہری نگاہ رکھتے ہیں، اس دور میں عمران خان نے بہت محنت کی ۔ میں نے کئی وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا ہے، نہایت ذمہ داری سے کہنا چاہتا ہوں کہ عمران خان نے بہت محنت کی ، وہ حالات کہ جب پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا، اسے سہارا دیا۔ پاکستان کا کوئی ایشو ایسا نہیں تھاکہ دو سال میں عمران خان نے خود ہینڈل نہ کیا ہو۔
مریم نواز کی خاموشی کی وجہ کیا تھی؟

نواز شریف صاحب ملک سے باہر جانا چاہتے تھے ، جس طرح انہوں نے رپورٹیں بنائیں اور دیں، سارا میڈیا اس بات کے تاثر میں تھا کہ نواز شریف کو باہر جانے دیں، میں خود اس بات کا حامی تھا کہ اگر یہ اتنا ہی بیمار ہے تو اس کو باہر جانے دیا جائے ، یہ نہ ہو کہ کل نواز شریف کو کچھ ہوجائے تو یہ بھی حکومت کے متھے لگ جائے، لیکن نواز شریف نے لندن جا کر ثابت کیا کہ یہ سب ”ول پلان“تھا اور اس ول پلان میں شہباز شریف بھی ان کے ساتھ گئے، لیکن اس کے بعد جب مریم صفدر باہر جانا چاہتی تھیں تو ان کو ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ۔ شہباز شریف آخری کورونا فلائیٹ میں پاکستان پہنچے۔ ان کا خیال تھا کہ یہاں لاشوں کے ڈھیر ہوں گے اور یہاں ایک ری ایکشن ہوگا۔ میں ان کو ٹی وی کے ذریعے سمجھاتا رہتا تھا کہ آپ آ کر غلطی کریں گے، اس نیشنل گورنمنٹ کے بارے میں بڑی افواہیں چلائی گئیں، اس نیشنل گورنمنٹ کا کوئی وجود نہیں تھاکیونکہ شہباز شریف سنجیدگی سے اپوزیشن کرنے کے موڈ میں نہیں تھے اور وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے تھے ۔ نواز شریف نے لندن جا کر چپ سادہ لی، مریم صفدر نے بھی کوئی ایسا ٹوئٹ نہیں کیا اور کئی ماہ تک لوگ ان کے ٹوئٹ کے منتظر رہے ۔ ان کی پوری کوشش اور تگ ودو یہ تھی کہ ان کو بھی باہر جانے دیا جائے لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ میرا خیال ہے کامیابی ہوگی بھی نہیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • […] شیخ رشید ہمارے ان سیاستدانوں میں سے ہیں جو حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، خبر ان تک اڑ کر پہنچتی ہے، وہ ہر دور میں پاور کاریڈورز میں اہم اور موثر سمجھے جاتے رہے ہیں۔ کئی وزرائے اعظم اور حکمرانوں کے ساتھ کام کیا۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی رہے، پھر دور ہوئے، مشرف کا ناک کا بال بنے، پیپلز پارٹی دور میں فاصلہ رہا، مگر عمران خان کو انہوں نے جدوجہد کے دنوں میں جوائن کرلیا اور آج تحریک انصاف حکومت کے اہم وزیر ہیں۔ شیخ رشید کی ایک بڑی خصوصیت بے لاگ اور چٹپٹی گفتگو ہے۔ انہیں خبروں میں رہنے کا ہنر آتا ہے ، باتوں باتوں میں وہ اہم خبریں بھی دے جاتے ہیں اور پھر اکثر اوقات ان سے مکرتے نہیں۔ شیخ رشید نوے کے عشرے میں جیل میں اسیر رہے تو اپنی خود نوشت فرزند پاکستان لکھی، اب پچیس برسوں کے بعد ان کی نئی کتاب ’’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک ۔ شیخ رشید کی سیاست کے پچاس برس‘‘شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں شیخ رشید نے ایوان اقتدار میں ہونے والی بہت سی سازشوں کو بے نقاب کیا اور کئی اہم درون خانہ رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ہم ان کی کتاب سے چند دلچسپ اورہوش ربا انکشافات پر مبنی اقتباسات پیش کر رہے ہیں. یہ دوسری قسط ہے، پہلی قسط نیچے دیے گئے لنک پر ملاحظہ کرسکتے ہیں شیخ رشید کی نئی کتاب، 14 سنسنی خیز انکشافات […]

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */