کربلا اور آلِ رسولؐ کا مہکتا پھول - محمد اویس حیدر

کسی بھی انسان کی قابلیت کو پرکھنے کے لیے اسے امتحان سے گزارا جاتا ہے۔ اور ہر بندے کا امتحان اس کی صلاحیت اور درجے کے مطابق ہی لیا جاتا ہے جس کا نتیجہ اس کے مرتبے کو مزید بڑھا دیتا ہے یا گرا دیتا ہے۔ یعنی اپنے موجودہ درجے سے بلندی پر جانے کے لیے کسی نہ کسی طرح آزمائش سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ اس طرح ہماری زندگی میں ہر شعبے اور ہر درجے پر امتحانات موجود ہیں خواہ معاملہ پڑھائی کا ہو یا نوکری کا۔

امتحان تیار کرنے والا استاد ہوتا ہے۔ استاد کے پاس اپنے ہر سوال کے جواب کی صورت میں امتحان کا نتیجہ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ کامیاب ممتحن وہ ہوتا ہے جس کا جواب استاد کے پاس موجود جواب کے قریب ترین ہو۔

استاد اپنی تربیت گاہ کا مہتمم بھی ہوتا ہے اور اس کے اچھے برے کا ذمہ دار بھی۔ اس کی نظر اپنے ہر شاگرد پر ہوتی ہے اور وہ اپنے ہر شاگرد کی قابلیت سے بھی واقف ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے کسی خاص تلمیذ کو کسی مرتبے سے نوازنے کے لیے اس کی قابلیت اور صلاحیت کو اپنی باقی جماعت پر عیاں کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے مقابلے کا خاص امتحان تیار کیا جاتا ہے جس سے گزر کر شاگرد خود کو صف اول کا تلمیذ ثابت کر دیتا ہے۔ استاد اپنے شاگرد کی قابلیت، صلاحیت سب پہلے سے جانتا تھا مگر امتحان سے گزارنے کا مقصد صرف باقی جماعت پر اس کا مرتبہ عیاں کرنا تھا۔

ہماری زندگی میں اسی طرح بہت سارے شعبے ہیں جبکہ ہماری زندگی خود بھی ایک کائناتی شعبہ ہے۔ کائنات میں اس دنیا کو ہمارے لیے تیار کیا گیا ہے جہاں ہم سب کو زندگی دے کر بھیجا گیا۔۔۔۔۔۔۔اور بھیجا جا رہا ہے۔ خدا تعالیٰ جو اس کائنات کا خالق، مالک، رب، مہتمم، نگران اور حسیب ہے۔ اسی نے اس دنیا کو ہمارے لیے امتحان گاہ بنایا ہے اور ہم سب کو زندگی عطا کر کے ہم پر آزمائشیں اتاری جا رہی ہیں ہمیں امتحان سے گزارا جا رہا ہے۔ اس امتحان میں کچھ پاس ہوں گے کچھ فیل۔ سوالات جوابات اور نتیجہ امتحان تیار کرنے والے پاس موجود ہے۔ زندگی کے مضمون کا نام اسلام ہے جس کے صحیح اور غلط کی نشاندہی انبیاء کرامؑ کے زریعے کی جا چکی ہے اور ہم تک پہنچائی جا چکی ہے۔

نبی کریم حضرت محمد ﷺ سے روایت ہے کہ

”حسنؓ اور حُسینؓ جوانانِ جنت کے سردار ہیں“
(ترمذی)

ہمارے لیے جنت عالم غیب میں ہے۔ وہاں کیا ہوگا، کیسا نظام ہوگا، کیا چیز کیسے ہوگی ان سب سوالات کا تعلق بھی غیب سے ہے چونکہ ابھی ہم اس دنیا میں ہیں اس لیے ہمارے پاس صرف اُن اخبار کی تسلیم ہے جو غیب سے متعلق قرآن الحکیم یا احادیث کی رو سے ہم تک پہنچی ہیں۔

مگر انہیں غیب سے متعلق انہی خبروں میں ہمیں مصدقہ حقیقت بتلا دی گئی کہ انبیا، صدیقین، شہدا اور مومنین کو ملنے والی جنت میں جنابِ حسنؓ اور حسینؓ سردار ہیں۔ یہ سرداری انہیں منجانب اللہ عطا ہوئی اور اللہ علیم الخبیر اپنے ہر ہر بندے کی قابلیت کو خوب جانتا ہے۔

قرآن الحکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں۔ اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ (ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی طرف پلٹ کر جانا ہے) انہیں خوشخبری دے دو۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔
(سورت البقرہ۔ آیات 155-156-157)

یعنی ہر انسان پر آزمائش کا آنا لازم و ملزوم ٹھہرا اور اسی آزمائش میں ثابت قدم رہنے والا اللہ رب العزت کی خصوصی عنایات کا حقدار۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان پر اس کی استعداد کے مطابق ہی بوجھ ڈالتا ہے۔ اور اسی پر صبر کرنا یا اس سے بھی بڑھ کر شکر ادا کرنا اللہ والوں کا خاصا ہے۔ جو ہر آزمائش پر کہتے ہیں ”انا للہ وانا الیہ راجعون“

مگر واقعہ کربلا کی داستان کیا ہے؟ رسالت کے آنگن کا پھول۔۔۔۔۔۔۔ساقی کوثرؐ کا جگر گوشہ۔۔۔۔۔۔۔خاتونِ جنتؓ کا لاڈلا۔۔۔۔۔۔۔ابو تراب حیدر کرارؓ کی آنکھ کا تارہ۔۔۔۔۔۔۔حسین ؓبن علی بن ابو طالب۔ کرب و بلا کی تپتی ریت، پیاسا، اپنی اولاد، اپنے پیاسے کنبے کو قربان ہوتے دیکھتا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے نانا ﷺ کے دین کی بقا کے لیے لہو بہاتا۔۔۔۔۔۔۔اپنی جان کو قربان کرتا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔جنت کا سردار۔۔۔۔۔۔۔اللہ اللہ۔

ہمارے آقا رسول اللہ ﷺ کی آل۔۔۔۔۔۔اور اتنی آزمائشیں ایک ساتھ۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ ہے تسلیم رضا کی انتہا۔ ہر آزمائش پر سر خمِ تسلیم۔۔۔۔۔۔سراپائے رضائے الٰہی۔۔۔۔۔۔اللہ اکبر!!!

قیامت تک کے لیے مثال قائم کر دی گئی۔ امت کو شہزادےؓ کا مرتبہ دکھلا دیا گیا۔ جن پر ہر امتی اپنی نماز میں درود پڑھتا ہے۔

اللھم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد۔۔۔۔۔۔۔انک حمید مجید

ایک سوال یہ بھی ہے کہ یہ آزمائش حقیقت میں کن کی تھی ؟ کربلا والوں کی یا ان کے مخالفین کی ؟ مقتولین کی یا قاتلین کی ؟ فلاح کا راستہ۔۔۔۔۔۔۔خدا کا تقرب کس گروہ کے ساتھ تھا۔۔۔۔۔۔۔نیزے برسانے والوں کے یا کھانے والوں کے ؟ کیا ممکن ہے کہ جنت کا سردار ہو اور منشائے ایزدی نہ سمجھتا ہو ؟ رسالتؐ کی گود میں کھیلا ہو، باب العلمؓ کے گھر میں پرورش پایا ہو اور احکاماتِ دین سمجھنے میں کمزور ہو؟

اسلام جس گھرانے سے شروع ہوا اس گھرانے کے چراغ، نبیؐ کی آل، جنت کے سردار خوب جانتے ہیں کہ کون سا راستہ جنت کو جاتا ہے۔ امام وقت، اولی الامر کا ہر فیصلہ، ہر عمل اپنے مقتدی کو جنت میں پہنچانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رسولؐ و آلِ رسولؐ کی سچی محبت، عقیدت اور پیروی نصیب فرمائے۔ آمین

صل اللّٰهُ علیٰ سیدنا محمّدٍ وَّآلهٖ وسلَّم

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */