گھر کی تعمیر کیسے کریں؟ بشارت حمید

یہ موضوع بہت ہی اہم ہے کیونکہ آپ کے گھر کی صحیح تعمیر کا سارا دارومدار اس فیصلے پر ہے کہ آپ اپنا پیسہ جس بندے کے حوالے کرنے جا رہے ہیں، مارکیٹ میں اس کی شہرت کیسی ہے؟ وہ کس معیار کا کام کرتا ہے اور کس حد تک قابل اعتماد ہے؟

ہمارے پاس کئی ایسے کلائنٹس آتے ہیں جو سستے ٹھیکیدار کے چکر میں پڑکر سارا کام برباد کرواچکے ہوتے ہیں اور اپنے پہلے فیصلے پر پچھتاوے کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے ٹھیکیدار کے بارے میں اچھی طرح چھان پھٹک کرکے ہی کام دینا چاہیے ورنہ جب معاملات ہاتھ سے نکل جائیں تو پھر پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

لیبر ریٹ کنٹریکٹر:

گھر کی تعمیر کا پلان کرتے وقت پہلے یہ طے کرلینا چاہیے کہ کام لیبر ریٹ پر کروانا ہے یا ود میٹیریل۔۔ پہلے ہم لیبر ریٹ کو ڈسکس کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں دو اقسام کے لیبر ریٹ چل رہے ہیں۔ ایک قسم وہ ہےکہ کوئی ایک بندہ جو اس کام کو تھوڑا بہت جانتا ہے وہ ادھر اُدھر سے لیبر اکٹھی کرکے کام کرنا شروع کردیتا ہے اور کوئی نہ کوئی شکار اس کے پاس سستے ریٹ کے چکر میں پھنس ہی جاتا ہے۔ جس مالک کو کام کے بارے علم نہیں ہوتا، وہ اس قسم کے ٹھیکیدار سے سستا کام کرواکے وقتی طور پر پیسے بچالیتا ہے، لیکن اسے بعد میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

عام طور پر ٹھیکیدار کے ساتھ سینیٹری اور بجلی کا کام بھی اسی ریٹ میں طے کیا جاتا ہے۔ تو جو سستا ٹھیکیدار ہے وہ مارکیٹ سے سستا پلمبر اور الیکٹریشن ڈھونڈ کر اس سے کام کرواتا ہے، چاہے وہ پلمبر یا الیکٹریشن مالک کے میٹیریل کا خرچہ زیادہ ہی کروا دے ٹھیکیدار کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ ایسے ٹھیکیداروں کے پراجیکٹس پر چھت کی شٹرنگ کھولتے وقت کسی حصے کا گر جانا، یا چھت کا بیٹھ جانا اور اس طرح کے مسائل عام نظر آتے ہیں اور اکثر میڈیا پر بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ٹھیکیدار اڈے پر بیٹھے سستے اورعام مستری، مزدور پکڑ کر کام چلا لیتے ہیں۔یہ خود ورکنگ ڈرائینگ سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی ایک خوبی سب خوبیوں پر بھاری ہوتی ہے جو مالک مکان کو اٹریکٹ کرتی ہے وہ ہے ان کا سستا ریٹ۔

ایسے کئی ٹھیکیدار اپنے سستے ریٹ کی وجہ سے کام کے دوران خود کو نقصان ہوتا دیکھ کر کام چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں یا کام کو بہت زیادہ لٹکا دیتے ہیں تاکہ مالک خود ہی جان چھڑوالے اور بعد میں ایسے لوگوں کا چھوڑا ہوا کام کوئی اچھا ٹھیکیدار پکڑنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اگر کوئی کام پکڑ بھی لے تو پھر اس کا زیادہ ریٹ چارج کرتا ہے۔

دوسری قسم کے کنٹریکٹرز وہ ہیں جو سستا کام نہیں کرتے، ان کا ریٹ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے اور ان کے پاس کام کو سمجھنے والی ٹیم ہوتی ہے۔ وہ اچھے لیکن قدرے مہنگے الیکٹریشن اور پلمبر سے کام کرواتے ہیں تاکہ بعد میں مسائل نہ آئیں۔ تو اگر آپ نے لیبر ریٹ پر ہی کروانا ہے تو دوسری قسم بہتر رہے گی۔۔ لیکن ٹھہریئے۔۔۔

آپ لیبر ریٹ پر کام تب کروائیں جب آپ کو اس کام کے بارے خاطر خواہ علم اور معلومات حاصل ہوں یا آپ کوئی ایک آدھ تعمیراتی تجربہ اس سے قبل خود کرواچکے ہوں۔۔۔ اور آپ کے پاس سائٹ پر چکر لگانے اورروزانہ وہاں بیٹھنے کے لیے وقت بھی ہو۔۔۔ مارکیٹ میں میٹیریل کی پرچیز کہاں سے کرنی ہے۔۔ کس کوالٹی کی کرنی ہے۔۔ کب اور کتنی کرنی ہے ۔۔ اس کے بارے بھی جان پہچان ہو۔ اگر سارا کام ٹھیکیدار پر چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے کہ اسے پتا ہی ہے، وہ خود کروا لے گا تو پھر آپ اپنا نقصان خود ہی کروا بیٹھیں گے۔

سپرویژن/وِد میٹیریل کنٹریکٹرز:

اگر آپ کو کنسٹرکشن کے بارے خاطر خواہ علم نہیں اور نہ ہی آپ اپنی جاب یا بزنس سے وقت فارغ کرسکتے ہیں تو سپرویژن پر یا ود میٹیریل کسی اچھے کنٹریکٹر سے کام کروانا بہترین آپشن ہے۔ اگر کام سپرویژن پر دیں گے تو اس کا ریٹ 12 سے 15 فیصد تک چلتا ہے۔ یعنی سپروائز کرنے والا ایکسپرٹ، لیبر اور میٹیریل کو خود مینیج کرے گا اور جتنے اصل اخراجات آئیں گے ان کا 12 سے 15 فیصد وہ اپنی سروسز کے چارجز لے گا۔ لیکن اس کام کے لئے بھی اس بندے کا ایماندار اور ذمہ دار ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اخراجات کے جعلی بل بناکر آپ کو نقصان نہ پہنچائےاور آپ کا پراجیکٹ بھی بروقت مکمل کروا دے۔

اگر آپ سپروائزر والے درد سرسے بھی بچنا چاہتے ہوں تو پھر ود میٹیریل کنٹریکٹ کرلیں۔ اس میں ساری ذمہ داری کنٹریکٹر کی ہوگی اور آپ نے اپنے ایگریمنٹ کے مطابق رقم ادا کرنی ہے اور ساتھ ساتھ کام کی رفتار اور معیار کو مانیٹر کرنا ہے۔ ان کا مارجن بھی تقریباً اتنا ہی ہوتا ہے جتنا سپروائزر کا۔۔ عام طور پر مالک مکان یہ سوچتے ہیں کہ میں کسی کو یہ اضافی پیسے بھی کیوں دوں اور یہ پیسے خود کیوں نہ بچالوں۔۔ یہ پیسے تب بچ سکتے ہیں اگر مالک کام کو جانتا اور سمجھتا ہے ورنہ نہیں بچتے۔۔ بلکہ لاعلمی کی وجہ سےگھر کا نقصان بھی ہوتا ہے اور پیسے بھی زیادہ خرچ ہو جاتے ہیں۔تب اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے بھی شرم آتی ہے اور اصل اخراجات لوگوں سے چھپاتے ہیں کہ شرمندگی نہ ہو۔ عام لوگوں کو تو کام کروانے کی درست ترتیب کا بھی علم نہیں ہوتا کہ کونسا کام پہلے کروانا چاہیے اور کون سا بعد میں۔ وہ کام جلدی ختم کروانے کے لئے ساری ٹیمیں اکٹھی ایک ہی وقت میں لگا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو جاتا ہے۔

اگر آپ کے پاس گھر کی مکمل تیاری کا بجٹ نہیں ہے تو پھر اسے دو سٹیپس میں تقسیم کر لینا بہتر ہے۔ پہلے گرے سٹرکچر بنوالیں اس کے بعد جب رقم کا بندوبست ہو جائے تو فنشنگ کروالیں۔ ود میٹیریل ریٹس فی مربع فٹ کے حساب سے بھی طے کیا جاتا ہے اور اپنی سہولت کے مطابق لم سم بھی طے کیا جاسکتا ہے لیکن کنٹریکٹ فائنل کرنے سے قبل مارکیٹ سے ریٹ اور سکوپ آف ورک کی تفاصیل ضرور چیک کر لینی چاہئیں۔ بعض لوگ کچھ چیزیں خفیہ رکھتے ہیں اور جب کام شروع ہو جاتا ہے تو بل میں شامل کردیتے ہیں جس سے مالک کو پریشانی ہو سکتی ہے۔ جو بھی معاہدہ ہو وہ بالکل کلیئر اور واضح ہونا چاہیے۔ اگر آپ کو انگلش سمجھنے میں مشکل ہو تو معاہدے کی تحریر اردو میں لکھوالیں تاکہ بات درست طریقے سے سمجھ آ جائے۔

ود میٹیریل کام کرنے والے کئی لوگ ایسے ہیں جو صرف اپنے نفع کو ہی ٹارگٹ رکھتے ہیں اور ہلکی کوالٹی کا میٹیریل استعمال کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ہی اپنی جیب بھرنا ہوتا ہے ایسے لوگوں سے بچنا بہت ضروری ہے۔

کسی بھی کنٹریکٹر کی سلیکشن کے لیے ان کے پراجیکٹس وزٹ کرنا اور ان کے کلائنٹس سے فیڈ بیک لینا بہت ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دعائے استخارہ پڑھ کر اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ کسی اچھے بندے سے ملوا دے۔ پھر جس کنٹریکٹر پر دل کا اطمینان محسوس ہو، اس سے معاہدہ کرلیں۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ہم جو بھی پلاننگ کر لیں وہ تب ہی کامیاب اور موثر ثابت ہو گی جب اللہ اس میں خیروبرکت ڈالے گا۔ تو اپنی کوشش کے ساتھ اللہ پر توکل اور بھروسہ بھی رکھنا چاہیے۔

ٹیگز

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */