خلفاء راشدین اوراہل بیت کی باہمی محبت و خلوص - محمد احمد رضا

اہل بیت اطہار کی محبت اور تعلق کو پیارے آقا ﷺ نے ایمان کی اساس قرار دیا اور اسی بنا پر صحابہ کرام ؓ کا اہل بیت اطہار کے ساتھ خاص تعلق اور محبت تھی۔اہل بیت اطہار کی شان پر صحابہ کرام سے مروی احادیث بکثرت موجود ہیں لیکن میں فقط خلفاء راشدین اور امہات المومنین سے مروی احادیث پیش کر رہا ہوں تاکہ خلفاء راشدین اور امہات المومنین کے اہل بیت اطہار کے ساتھ محبت، خلوص اور تعلق واضح ہو۔

حضرت ابو بکر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حسنین کریمین ؓ کے بارے میں سنا؛ ھذان سیدا شباب اہل الجنۃ۔ یہ دونوں شہزادے جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ یہ حدیث مبارکہ صحاح ستہ میں دیگر صحابہ کرام سے بھی مروی ہے۔ سیدنا صدیق اکبر ؓ کا قلیل الروایۃ ہونے کے باوجود اس بات کا اعلان کرنا خاص حسنین کریمین ؓ سے محبت کا ثبوت ہی تو ہے۔حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب پیارے آقا ﷺ کسی بھی سفر پر تشریف لے جاتے تو تمام کاموں سے فراغت کے بعد سب سے آخر میں سیدۃ کائنات ، سیدۃ النساء ، حضرت فاطمہ علیہا السلام کے پاس تشریف لے جاتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے سیدہ کائنات کے پاس تشریف لے جاتے۔

ام المومنین سیدتنا عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ ینادی منادا یوم القیامۃ غضوا ابصارکم حتی تمر فاطمۃ بنت محمد ۔ منادی ندا دے گا کہ اے اہل محشر اپنی نگاہیں جھکا لو {سیدہ کائنات تشریف لا رہی ہوں گی} حتی کہ تمام اہل محشر نظریں جھکا لیں گے اور سیدہ کائنات تشریف لے جائیں گی۔محترم قارئین اندازہ کریں کہ سیدہ کائنات کی یہ خاص شان اور عظمت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ بیان فرما رہی ہیں، افسوس ہے ان لوگوں کی کم علمی اور کج فہمی پر جنہوںنے اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام، امہات المومنین کے درمیان {معاذ اللہ} اپنی من گھڑت تشریحات کی بنا پر بغض ڈھونڈنے کو اپنا مشن بنا رکھا ہے۔

حضرت سیدنا عمر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ ان فاطمۃ و علیا و الحسن و الحسین فی حذیرۃ القدس فی قبۃ بیضاء سطفھا عرش الرحمان؛ بے شک حضرت فاطمۃ ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین حذیرۃ القدس میں ایک سفید گنبد میں تشریف فرما ہوں گے اور اس قبہ کی چھت اللہ کریم کے عرش کی چھت ہو گی۔ گویا کہ عرش پر اللہ کریم اپنی شان کے مطابق تشریف فرما ہوں گے، دائیں جانب رسول اللہ ﷺ کی مسند ہو گی اوروہ عرش چھت ہو گا پنجتن پاک کے خاص قبہ کا۔ عجب منظر ہو گا قیامت کا، ہر شخص نفسا نفسی کے عالم میں ہو گا، ہر ایک کو حساب کتاب کی فکر ہو گی، دنیا ماری ماری پھرے گی،لیکن خاص خانوادہء رسول ﷺ اللہ کے عرش کے نیچے خاص سفید قبہ میں مہمان خصوصی ہوں گے۔

اب مولا علی کی روایت دیکھیں کہ آپ کس طرح دیگر خلفاء ثلاثہ کی شان بیان فرما رہے ہیں ، حضرت علی ؓ روایت کرتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ اللہ تعالی ابو بکر پر رحم فرمائے اس نے اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی، مجھے دار الہجرۃ لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے آزاد کروایا، اللہ تعالی عمر پر رحم کرے کہ یہ ہمیشہ حق بات کرتا ہے اگرچہ وہ کڑوی ہو اسی لئے اس حال میں ہیں کہ ان کا کوئی دوست نہیں، اللہ تعالی عثمان پر رحم کرے، اس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں، اللہ تعالی علی پر رحم کرے، اے اللہ جہاں کہیں بھی ہو حق اس کے ساتھ رہے۔ الترمذی
بہت مشہور روایت ہے کہ پیارے آقا ﷺ کے وصال ظاہری کے قریب کے دنوں کا واقعہ ہے، حضرت ام المومنین صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ پیارے آقا ﷺ کی شہزادی سیدہ کائنات حضور ﷺ کے پاس تشریف لائیں {یاد رکھیں کہ اس وقت حضور ﷺ حجرہ عائشہ میں تشریف فرما تھے} ان کا چلنا ہو بہو رسول اللہ ﷺ کے مشابہ تھا، جب رسول اللہ ﷺ نے سیدہ کائنات کو دیکھا تو فرمایا اے میری بیٹی مرحبا، پھر ان کو بٹھایا، پھر انہیں سرگوشی سے کچھ فرمایا جس کو سن کر شہزادی بہت روئیں۔

جب رسول اللہ ﷺ نے شہزادی کی بیقراری دیکھی تو دوبارہ سرگوشی میں کچھ فرمایا جس سے آپ ہنس پڑیں پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے تو میں نے سیدہ کائنات سے پوچھا کہ آپ سے رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؛ خاتون جنت فرمانے لگیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز افشاء نہیں کروں گی، سیدۃ ام المومنین فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ظاہری ہو گیا تو میں نے پھر شہزادی رسول سے کہا کہ میرا آپ پر جو حق ہے میں آپ کو اس حق کی قسم دے کر سوال کرتی ہوں ، مجھے بتائیے رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟ تو سیدہ کائنات نے فرمایا ہاں اب میں بتاتی ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہر سال جبرائیل مجھ سے ایک بار قرآن پاک کا دور کیا کرتے تھے اس مرتبہ انہوں نے دو بار دور کیا، میرا گمان ہے کہ میرا وقت آگیا ہے ، تم اللہ سے ڈرنا اور صبر کرنا، بے شک میں تمہارا اچھا پیشوا ہوں۔ خاتون جنت فرماتی ہیں کہ یہ سن کر مجھ پر گریہ طاری ہوا پھر میرے پیارے آقا ﷺ نے مجھے فرمایا اے فاطمہ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتیوں کی بیویوں کی سردار ہو، خاتون جنت فرماتی ہیں کہ پھر میرے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔

آپ حضرت عمرؓ کے دور مبارک کا واقعہ یاد کریں جب مال غنیمت آیا اور آپ نے سب سے پہلے حسنین کریمین کو ہزار ہزار درہم دئیے اور پھر اپنے بیٹے عبد اللہ کو پانچ سو درہم دئیے، جس پر آپ کے بیٹے نے عرض کی ابا جان میں شہزادوں سے بڑا ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات کئے جب کہ اس وقت شہزادے چھوٹے تھے، تو آپ نے شہزادوں کو مجھ سے دوگنا مال کیوں دیا؟ حضرت عمر جلال میں آ گئے اور فرمایا؛ اذھب فاتنی بابیک ابیھما، و ام کامھما و جد کجدھما و جدۃ کجدتھما و عم کعمھما و عمۃ کعمتھما و خال کخالھما و خالۃ کخالتھما فانک لا تاتینی بہ۔ جائو اور ان کے باپ جیسا اپنا باپ لے کر آئو، ان کی ماں جیسی ماں لے آئو، ان کے نانا جیسا نانا لے آئو، ان کی نانی جیسی نانی لے آئو، ان کے چچا جیسا چچا لے آئو، ان کی پھوپی جیسی کوئی پھوپی لے آئو، ان کے ماموں جیسا ماموں لے آئو، ان کی خالہ جیسی خالہ لے آئو، بے شک تم یہ سب نہیں لا سکتے کہ ان کا باپ علی ہے، ماں فاطمہ ہے، نانا رسول اللہ ﷺ ہیں، نانی خدیجۃ الکبری ہیں، ان کے چچا جعفر بن ابی طالب ہیں، ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب ہیں، ان کے ماموں ابرہیم بن رسول اللہ ﷺ ہیں، ان کی خالہ رقیہ اور ام کلثوم ہیں۔

جب خلیفہ راشد سیدنا عمر فاروق کا یہ بیان حضرت علی تک پہنچا تو حضرت علی نے فرمایا؛ سمعت رسول اللہ ﷺ یقول عمر بن الخطاب سراج اہل الجنۃ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ عمر اہل جنت کا چراغ ہے۔ پھر جب یہ بات حضرت عمر ؓ تک پہنچی کہ مولا علی نے میرے بارے میں یہ فرمایا ہے تو آپ مولا علی کے پاس آئے اور پوچھا کہ علی آپ نے ایسا کہا ہے، مولا علی نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، جب خود سنا تو کاغذ قلم لے کر مولا علی سے کہنے لگے کہ علی مجھے لکھ کر دے دو، حضرت علی نے لکھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، رسول اللہ نے جبرائیل سے سنا اور جبرائیل نے اللہ سے سنا کہ عمر اہل جنت کا چراغ ہے، جب مولا علی نے یہ لکھ دیا تو حضرت عمر نے وہ کاغذ اپنی اولاد کو دیا اور فرمایا کہ: فاذا انا مت و غسلتمونی و کفنتمونی فادرجھا ھذہ معی فی کفنی ۔ پس جب میں فوت ہو جائوں اور مجھے غسل اور کفن دو تو مولا علی کا لکھا ہوا یہ کاغذ میرے کفن میں رکھ دینا۔

قارئین اندازہ فرمائیں کہ اہل بیت اطہار اور خلفاء راشدین کی آپس میں کس قدر محبت اور اخلاص ہے، اہل بیت اطہار کی خاص شان کی روایات ، واقعات جو خاص خلفاء راشدین کے سامنے ہوئے، جو خاص حجرہ عائشہ کی باتیں ہیں، جن کا دنیا میں کوئی اور گواہ ہی نہیں ہے، وہ روایات امہات المومنین اور خلفاء راشدین شوق اور خلوص سے بیان فرما رہے ہیں اور دوسری طرف اہل بیت اطہار کس قدر محبت اور خلوص سے خلفاء راشدین اور امہات المومنین کا ذکر فرماتے ہیں۔ یہ اہل بیت اطہار کی محبت ہی تو تھی کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ اپنے حجرہ کی بات جو سیدہ کائنات سے متعلق ہے لوگوں کو بتا رہی ہیں ، حجرہ عائشہ میں سیدہ کائنات تشریف لاتی ہیں ، ام المومنین خود فرما رہی ہیں کہ سیدہ کا چلنا ایسے ہے جیسے میرے آقا ﷺ چل رہے ہوں، پھر پیارے آقا ﷺ کی وفات ظاہری کے بعد بھی ام المومنین سیدہ کائنات سے ملتی ہیں ان سے حضور ﷺ کی باتیں دریافت کرتی ہیں۔

حضرت عمر منبر پر بیٹھ کر اپنے بیٹے کو کہتے ہیں کہ تمہارا باپ حسنین کریمین کے باپ کی طرح نہیں، تمہاری ماں ان کی ماں کی طرح نہیں، حضرت مولا علی حضرت عمر کی شان میں حدیث روایت کررہے ہیں، حضرت عمر حضرت علی سے مروی اور ان کی لکھی روایت اپنے کفن میں رکھنے کی وصیت کرتے ہیں، یہ سب محبت اور تعلق ہی تو تھا، یہ صحابہ کرام ، امہات المومنین اور اہل بیت اطہار کی آپس میں محبت اور خلوص ہی تو تھا۔ جہالت اور بدبختی کی انتہاء ہے ان لوگوں میں جنہیں اہل بیت اطہار اور خلفاء راشدین و امہات المومنین میں محبت اور تعلق نظر نہیں آتا اور وہ بدبخت اور کج فہم تقریروں ، تصنیفوں میں اپنی من گھڑت سوچ سے بغض تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں مقام اہل بیت اور مقام صحابہ کی معرفت نصیب فرمائے۔ آمین۔

علامہ اقبال ؒ کے اس شعر پر اجازت ؛

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */