نصاب میں کتنا اسلام ہونا چاہیے- آصف محمود

سوال یہ ہے کہ نصاب میں کتنا اسلام ہونا چاہیے؟ اس سوال کا جواب کسی ٹاک شو میں مرضی کے مہمان بلا کر اودھم مچانے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے نفرت کے ہیجان سے نکل کر معقول انداز سے بات کرنا ہو گی۔ایک مکتب فکر نصاب میں اسلام کے تذکرے سے بد مزہ ہو جاتا ہے اور اعتراضات اٹھاتا ہے۔ ان اعتراضات کے دو مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے یہ اعتراض کیا جاتا رہا کہ مذہبی تعلیم صرف اسلامیات کے مضمون میں دی جانی چاہیے اور اردو اور مطالعہ پاکستان میں اسلام سے متعلقہ کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔

معترضین کا دعوی تھا کہ انہیں اسلام کی تعلیم سے کوئی اختلاف نہیں وہ تو بس اتنا چاہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم اسلامیات میں دی جائے اور اردو میں صرف اردو پڑھائی جائے اور مطالعہ پاکستان میں صرف مطالعہ پاکستان ہو۔ایسا نہ ہو کہ تینوں مضامین کو اسلامیات کا مضمون بنا دیا جائے۔اب دوسرا مرحلہ درپیش ہے۔ اب ناقدین کسی دلیل اور لبادے کے تکلف سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔ اب وہ اس بات پر معترض ہیں کہ اسلامیات میں بہت زیادہ اسلام شامل کر دیا گیا ہے۔ بڑے ہی درد بھرے لہجے میں وہ شکایت کرتے ہیں کہ اب طلباء کو قرآنی آیات بھی یاد کرنا پڑیں گی اور سیڑھی پر چڑھنے اور اترنے کی دعائیں بھی۔ان کے خیال میں اتنا اسلام پڑھنے کے بعد طلباء کے ننھے ذہن پر اتنا بوجھ پڑ جائے گا کہ وہ اور کچھ پڑھ ہی نہیں پائیں گے۔ساتھ ہی بڑے مدبرانہ انداز میں سوال کیا جاتا ہے کہ کیا مذہب کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔

علم اور دلیل کی دنیا میں ان دنوں اعتراضات کا کوئی اعتبار نہیں۔ یہ اعتراضات صرف یہ بتا رہے ہیں کہ انتہا پسندی کا وضع قطع سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ضروری نہیں کہ انتہا پسند کوئی مولوی صاحب ہی ہوں۔پینٹ کوٹ اور ٹائی میں ملبوس آدمی بھی آخری درجے میں انتہا پسند اور نا معقول ہو سکتا ہے۔سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس باب میں دستور پاکستان کیا کہتا ہے۔یہ مطالعہ اس سوال کا جواب بھی ہو گا کہ کیا مذہب کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔اس کے بعد اعتراضات کے دونوں مراحل کا جائزہ لینا بھی آسان ہو جائے گا۔آئین کے آرٹیکل 31 میں ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف شہریوں کو اس قابل بنائے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزار سکیں بلکہ انہیں ایسی سہولیات فراہم کرنا بھی لازم ہے جس سے وہ قرآن و سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔اسی آرٹیکل کی ذیلی دفعہ میں قرار دیا گیا ہے کہ ریاست قرآن اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دے گی۔
اس بنیادی آئینی تفہیم کے بعد اب آئیے اعتراضات کی طرف۔

پہلا اعتراض یہ ہے کہ اردو میں اسلامیات کیوں ہے، ناقدین کا کہنا ہے اردو میں مذہب نہیں صرف اردو ہونی چاہیے۔ یہ اعتراض نرم سے نرم الفاظ میں جہالت کا اعلان ہے۔سوال یہ ہے کہ اردو کیا ہے؟ اردو کو تہذیبی طور پر مسلمانوں کی زبان سمجھا گیا ہے۔جدید قومی ریاستوں میں اردو ایک ایسی ریاست کی قومی زبان ہے جس ریاست کا مملکتی مذہب اسلام ہے۔اس زبان کے بولنے والے مسلمان ہیں۔ زبان اگر کسی قوم کی تہذیبی قدروں کی عکاس ہوتی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان میں اردو پڑھائی جائے اور اس میں مذہب کا کوئی عنصر شامل نہ ہو۔ درست کہ اردو کے مضمون کی بنیادی چیز اردو ہی ہو گی لیکن یہاں غزل ہو گی تو حمد اور نعت بھی ہوں گی کہ وہ بھی اردو ہی کی صنف ہیں۔یہاں قومی مشاہیر کا تذکرہ ہو گا تو مذہبی اکابرین کا تذکرہ بھی ہو گا۔ یہاں اخلاقیات کی بات ہو گی تو مذہبی حوالہ آئے گا۔ یہاں تہذیب نفس کی بات ہو گی تب بھی مذہبی حوالہ آئے گا۔اس پر اتنا بد مزہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟

یہی معاملہ مطالعہ پاکستان کا ہے۔اس میں کہیں مذہبی حوالہ ہے تو اس پر مانند شعلہ دہکنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ اس پاکستان کا مطالعہ ہے جس کا مملکتی مذہب اسلام ہے۔ احباب کی تکلیف تو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے کیا خبر کل کواحباب یہ مطالبہ کر دیں مسلم لیگ کو بھی ہیومن لیگ لکھا جائے کیونکہ ان کا مذہب انسانیت ہے اور مسلم کے لفظ سے انہیں بنیاد پرستی امڈتی محسوس ہوتی ہے۔ان کی روشن شاموں میں اقبال کے ذکر سے بھی تیرگی پھیل جانے کا خدشہ ہو گا۔ریاست کیا ان طفلان خود معاملہ کو کھیلنے کے لیے روز”چندا ماموں“ لا کر دیتی رہے گی؟
تازہ اعتراض کی نوعیت زیادہ مجہول ہے۔ اب اردو یا مطالعہ پاکستان میں اسلام کے تذکرے پر اعتراض نہیں۔اب انہیں اعتراض یہ ہے کہ اسلامیات میں اتنا اسلامیات شامل کر دیا گیا ہے کہ بے چارہ طالب علم ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل سٹار، بابا بلیک شیپ اور اور ایا ایا او یاد کرنے کے قابل ہی نہیں رہے گا۔ ناقدین اب دہائی دے رہے ہیں کہ بے چارے طالب علم قرآنی آیات یاد کرنا ہو ں گی اور سیڑھی پر چڑھنے اور اترنے کی طویل دعائیں یاد کرنا ہوں گی اور وہ دوسرے مضامین پر توجہ نہیں دے پائے گا۔

جن طویل دعاوں کے بوجھ سے ناقدین کرام کانازک سا بدن کانپ رہا ہے وہ دعائیں ہیں ہی کتنی؟ سیڑھیاں چڑھنے کی دعا ”اللہ اکبر“ اور اترنے کی دعا ”سبحان اللہ“۔ نصاب میں مذہب کی شمولیت پر کسی کو کیسا ہی اختلاف کیسا ہی کیوں نہ ہو اس میں چھٹانک بھر دلیل تو ہونی ہی چاہیے۔ اس تکلف سے بھی آدمی بے نیاز ہو جائے تو اختلاف صرف جہالت کا اعلان عام بن کر رہ جاتا ہے۔یہ اعتراض بتا رہا ہے کہ جہالت پر کسی کا اجارہ نہیں ہے۔ بظاہر اچھا بھلا معقول انسان بھی جہالت کی دولت سے فیض یاب ہو سکتا ہے۔اسلامیات کے نصاب میں تو چند آیات ہی ہوں گی یہاں تو لاکھوں بچے پورا قرآن حفظ کر جاتے ہیں اور ان ذہنی صلاحیتیں پہلے سے بھی بڑھ جاتی ہیں۔یہ مشاہدے کی بات ہے کہ حفاظ قرآن جب دنیاوی علوم کا بھی رخ کرتے ہیں تو ان کی قابلیت اور لیاقت دوسرے طالب علموں سے بہت بہتر ہوتی ہے۔دین کے ناقدین کی فکری استطاعت البتہ روز بروز سکڑتی جا رہی ہے۔یہ بڑا نازک مقام ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */