بچپن کی کہانی اور آج کا سبق - ام محمد عبداللہ

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی ایک تھی شہزادی وہ جب باتیں کرتی تو اس کے منہ سے پھول جھڑتے جن کی خوشبو سے ماحول مہک اٹھتا اور لوگ ان پھولوں سے خوش خوش اپنا دامن بھر لیتے۔آج اس کہانی کی حقیقت معلوم ہوٸی۔دوران تلاوتسورہ النسآء آیت نمبر 86 میں اللہ پاک نے ایسی باکمال شہزادی بننے کا نسخہ ہمیں بھی تھما دیا۔

فرمایا:*وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا ﴿۸۶﴾*

اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا اس جیسی ہی کہو، بے شک اللہ ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے۔

یعنی کسی مسلمان کو سلام کرنا یا دعا دینا درحقیقت اللہ سے اس کی سفارش کرنا ہے تو اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نیک سفارش کی ایک خاص صورت بیان فرماتا ہے کہ جب کوئی اے مسلمانو تم کو دعا دے یا سلام کرے تو تم کو بھی اس کا جواب ضرور دینا چاہیے یا تو اسی طرح تم بھی اس کو کہو یا اس سے بہتر مثلاً اگر کسی نے کہا السلام علیکم تو واجب ہے تم پر کہ اس کے جواب میں وعلیکم السلام کہو اور زیادہ ثواب چاہو تو ورحمتہ اللہ بھی بڑھا دو اور اگر اس نے یہ لفظ بڑھایا ہو تو تم وبرکاتہ زیادہ کر دو۔اللہ کے یہاں ہر ہر چیز کا حساب ہوگا اور اس کی جزا ملے گی سلام اور اس کا جواب بھی اس میں آگیا۔ اس سے درحقیقت ہمیں دعاٸیہ کلمات کی ترغیب مل گٸی جن پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجر و ثواب کی امید ہے۔ اب ان دعاٸیہ کلمات کا اگر جاٸزہ لیا جاٸے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جیسے ہی مخاطب کے لیے ہمارے منہ سے دعا نکلتی ہے۔ گویا ہمارے منہ سے پھول جھڑ جاتے ہیں۔ ماحول پرسکون گویا معطر ہو جاتا ہے اور مخاطب کا دامن دل بھی خوشی سے بھر جاتا ہے۔

پھر دعا ایک عبادت بھی ہے۔ بیٹھے بٹھاٸے ہم عبادت بھی کر لیتے ہیں اور ہمارے لیے اجر و ثواب بھی ثبت ہو جاتا ہے۔ بس آج سے یہ کوشش ہونی چاہیے جسے دیکھیں اسے مسکراتے ہوٸے ہنستا رہنے کی دعا دیں۔دنیا و آخرت کی کامیابی کی دعا دیں۔بچے قریب آٸیں تو شفقت سے ان کے سر پر ہاتھ پھیریں انہیں صحت مند کامیاب مومن بننے کی دعا دیں۔ کسی بھی حال میں
کسی بھی صورتحال میں اپنے لیےاپنے بچوں کےلیے کسی کے لیے بھی برے الفاظ منہ سے نہ نکالیں بلکہ چھوٹی چھوٹی دعاٸیں مانگنے اور دینے کی عادت بنا لیں۔ یہاں ایک واقعہ پیش خدمت ہے جو ایک شیخ صاحب اپنے حاضرین کو سنا رہے تھے۔ ایک لڑکا اپنے ہم عمر لڑکوں کی طرح بہت زیادہ شرارتی تھا. مگر ایک دن اس نے حد کر دی۔ شرارت سے گھر آٸے مہمانوں کے تیار کردہ سالن میں مٹی ڈال دی۔ اب ماں کو غصہ آگیا، غصے سے بھری ماں نے لڑکے کو کہا چل بھاگ اِدھر سے، اور جا اللہ تجھے کعبہ کا اِمام بنائے۔

یہ واقعہ سناتے شیخ صاحب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے، ذرا ڈھارس بندھی تو رُندھی ہوئی آواز میں بولے؛ اے اُمت اِسلام، جانتے ہو وہ شرارتی لڑکا کون تھا؟ دیکھو وہ شرارتی لڑکا میں کھڑا ہوں تمہارے سامنے اِمام کعبہ عبدالرحمٰن السدیس.اللہ اَکبر، وہ شرارتی لڑکا شیخ عبدالرحمٰن السدیس حفظہ اللہ صاحب بذاتِ خود تھے۔جو ماں کی دعا کی بدولت حرم شریف کے ہر دلعزیز اِمام بن کر عالم اِسلام میں دھڑکنے والے ہر دِل پر راج کر رہے ہیں ۔شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ اے ماؤں، اپنی اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہو. چاہے کتنا ہی غصہ کیوں نہ ہو اُن کیلئے منہ سے خیر کے کلمے ہی نکالا کرو. دیکھا آپ نے منہ سے نکلنے والے الفاظ کیسے پھول بن سکتے ہیں۔ کیسے ہماری اور ہماری نسلوں کی زندگیوں کو باغ و بہار کر سکتے ہیں۔بس آج سے طے پایا کہ ہم دعاٸیہ کلمات کو اپنی گفتگو کا حصہ بناٸیں گے۔ ان شا۶اللہ العزیز

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */