پاکستان کی خارجہ پالیسی - خالد ایم خان

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی ملک کی تمام طاقتوں سے مشاورت کے بعد طے کی جاتیں ہیں ،تمام عوامی، سیاسی اورعسکری قیادتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی دنیا کے لئے تیار کی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں تو جیسے مشاورت کو انا کی بھٹی میں تولا جاتا ہے ، یہ وہی دور تھاجب خارجہ امور کے اہم افراد سے بھی مشاورت کو شرمندگی تصور کرتے ہوئے ، چھڈو جی کا نعرہ لگا کر سب ٹھیک ہے کی گردان شروع کر دی جاتی تھی اور کہا جاتا تھاکہ ویکھی جائے گی ۔

یاد کریں وہ دن جب ذوالفقار علی بھٹو ، آغا شاہی اور صاحبزادہ یعقوب علی خان جیسے کہنہ مشق خارجہ امور کے ماہرین تھے جنہوںنے ملک کی خارجہ پالیسی ایسی بنیادوں پر استوار کی کہ پاکستان دنیا کے اندر ایک ایسے طاقتور مملکت کے طور پر پیش کیا کہ جو دنیا کے اندر ایشین ٹائیگر کے طور پر مشہور ہوا ، 80کی دھائی میں جس کی ہیبت سے دنیا کے تمام ممالک لرزہ براندام ہو جاتے تھے ،70 سے80 کے عشرے میں اقوام عالم کے فیصلے جس کی منشا کے مطابق ہوتے تھے ، 60سے 70کی دھائی میںجن کے وزراء اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دنیا کو للکارا کرتے تھے ،عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے سرکردہ جن کے پیچھے ہاتھ باندھ کر پھرا کرتے تھے ،آفرین ہے جنرل محمد ضیاء الحق پر کہ جس کی مدبرانہ چالوں کے آگے نہ تو امریکیوں ہی کی کچھ چلتی تھی اور نہ ہی دنیا کے کسی اور ملک کی۔

انڈیا بھی اُس وقت اپنے بل میں دُم دبا کر دُبکا نظر آتا تھا ،صا حب زادہ یعقوب خان جب کسی عالمی فورم پر بیٹھ کر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے تھے تو ساری دنیا کے سفارتکار ہمہ تن گوش نظر آتے تھے،دنیا میں موجود اُس وقت کی ایک سُپر طاقت کو شکست دینا کوئی عام بات نہیں تھی، اور یہ کریڈٹ جاتا ہے اُس وقت کی حکومت کو ،اب یہ الگ بات ہے کہ اس جنگ کو لے کر بہت زیادہ واویلہ امریکی خوشنود پاکستان میں مچاتے ہیں لیکن باوجود ان تمام کنٹروورسیز کے دنیا کیوں فراموش کر چکی ہے کہ روس اُس وقت اپنے پورے جوبن پر تھا اور امریکیوں کی گھگی بندھ جاتی تھی رشینز کے آگے ۔

جنرل ضیاء الحق کے انتقال کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کچھ تبدیلیاں آنی شروع ہو گئی تھیں ،محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں معروف صحافی ظفر حلالی لکھتے ہیں کہ مجھے وزیر اعظم صاحبہ نے ایرانی سفارت خانے میں ایک ٹاسک پر بھیجا جس کے تحت شیہ کمیونٹی کو ایجیٹیشن سے روکنا مقصود تھا میرے بے انتہا استفسارکے باوجود ایرانی سفارتکار نے ہماری بات سننے سے انکار کر دیا اورہمیں دہماکاتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو ایک منٹ سے بھی پہلے پورے پاکستان میں توفان کھڑا کر دیں گے ۔ایران کی خارجہ پالیسی جنرل صاحب کے منظر عام سے ہٹنے کے بعد بدلتی چلی گئی وہی ایران جو پاکستان کا ایک بہترین پڑوسی اور حلیف تھا اندرون خانہ حریف کیسے بن گیا ،افغانی شمالی اتحاد ،ہندوستانی راء نے امریکی خوشنودی کے ساتھ مل کر پاکستانی بہترین حلیف کو حریف بنانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن پھر تبدیلی آگئی اور پاکستان کے وزیرآعظم عمران خان نے پاکستان آرمی کے تھنک ٹھنک اور پاکستان کے سالار اعلی ٰجنرل قمر جاوید باجوا کے ساتھ مل کر پاکستان کے اس حریف کو دوبارہ پاکستان کا حلیف بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

جناب ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کی ا کانمی ہندوستان اور بنگلادیش سے بہت بہتر ہوتی ہے کیا وجہ ہے کہ اگلے گیارہ بارہ سالوں میں ہمارے ملک کی اکانمی شوٹ مارتی ہے اور ہم ہندوستان اور بنگلادیش سے بھی بہت پیچھے رہ جاتے ہیںبہت زیادہ گھرائی میں نہیں جانا چاہتا لیکن اتنا زرور کہوں گا کہ ڈھائی ڈھائی تین تین سالوں کے دورانیہ میں ان دونوں (محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف )کی لوٹ مار کی کہانیاںاُس وقت کے صدر مملکت جناب غلام اسحاق خان اور پھر پی پی پی کے بنائے جانے والے صدر مملکت جناب فاروق لغاری صاحب نے اپنی اپنی رپوٹوں میں تفصیل کے ساتھ پیش کی ہیں ۔

دنیا کے آگے نائن الیون کا کھیل کھیلا گیااور امریکہ اپنے تمام اتحادیوں بشمول اندرون خانہ اسرائیل کو ساتھ لیئے پاکستان کے سامنے افغانستان پر آکر بیٹھ گیا ، پھر وہی کھیل شروع ہو گیا جنرل پرویز مشرف کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرکتے ہوئے امریکہ کو افغانستان کی دلدل میں پھنسا دیا جہاں سے امریکہ آج تک اپنے فوجیوں کی بے گور لاشیں نکالتا دکھائی دے رہا ہے ،امریکہ نے اس دلدل سے باہر نکلنے کی بے انتہا کوششیں کیں لیکن افواج پاکستان ،آئی ایس آئی اور افغانی حقانی نیٹ ورک کے مجاہدین نے اُس کی ایک نہ چلنے دی جس کے بعد مجبور ہو کر امریکہ بہادر نے دوہا (قطر) میں ہونے والے امریکہ ،پاکستان اور حقانی نیٹ ورک میں 80 سے ذائد مندوب کے سامنے پاکستان اور حقانی نیٹ ورک سے معافی مانگتے ہوئے افغانستان سے باہر نکلنے کی درخواست کی ۔

افغانستان میں بُری طرح مار کھانے کے باوجود امریکہ اسرائیل اور ہندوستان اپنی حرکتوں سے باس نہیں آئے ، پاکستان نہ ہی عراق ہیں اور نہ ہی لیبیا یا شام کہ جہاں امریکی سی آئی اے موساد ،افغانی خاد اور انڈین راء کے ساتھ مل کر ملک خدا داد پاکستان کو اپنے دام میں پھنسا لیں گے ، جب بھی پاک آرمی سے آپ لوگوں کو زک پڑتی ہے تو آپ لوگ کھسیانی بلی کھمبہ نوچتے دکھائی دیتے ہیں ۔اور پھرچراغ پاہ ہو کر پاکستان کو قابومیں کرنے کے نئے پلان تیار کرنے لگ جاتے ہیں ، ایران ، ملائشیاء ،ترکی ، چین ،روس اور پاکستان کا بننے والا اتہاد ان تھری ایڈیئٹس کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا ،یہ دن رات کوششوں میں لگے ہیں دنیا میں موجود تمام اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ عرب ممالک کو ورغلا رہے ہیں،لیکن انشاء اللہ کوئی ایک ملک بھی ان کے دام میں نہیں آئے گا جو آئے گا وہ ان کے ڈر او رخوف سے آئے گا ،رہ گئے سعودی عرب اور عرب امارات کی بات تو دونوں بُری طرح اسرئیل اور امریکہ کے چُنگل میںپھنسے ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے تو اگے بڑھ کر اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے،سعودی بن سلیمان بھی اندرون خانہ دجالیوں کے ساتھ مل چکا ہے دیکھنا یہ ہیں کہ مزید دیگر کون کون یہود وہنودونصارہ کی پیروی کریں گے ۔اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ بن سلیمان پاکستان جیسے کریبی دوست سے بگاڑ کر کب تک محفوظ رہ پائے گا ،ہم لوگ بچپن سے سنتے آئے تھے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے جناب عمران خان صاحب نے آج عرب ممالک کے ساتھ ساتھ یہود وہنود ونصارہ کے سامنے بھی صابت کر دیا کہ پاکستان دنیائے اسلام کا حقیقی سربرہ ہے ،پاکستان نے خارجہ پالیسی کو نئے وژن کے تحت ازثر نو مرتب کرلیاہے ،چین ،روس اور پاکستان کا اتحاد قائم ہو گیاہے ،اور جان لو کہ یہ ٹرائی اینگل امریکیوں کی موت ہوگا ان کے ساتھ ساتھ ایران ،ہم امن کے داعی ہیں ہمیں پُر امن رہنے دیا جائے ہماری دوستی کو ہماری بزدلی نہ سمجھا جائے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */