پولیو زدہ - عظمٰی ظفر

ناعمہ.. ناعمہ ! اب بس کرو! اتنی چھوٹی سی بات پر تم کب سے رو رہی ہو؟ میں نے اس کے بہتے آنسوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے چہرے پر نظر ڈالی. سانولی رنگت پر نمکین آنسوں کی قطار تھی..امی آپ تو ہمیشہ مجھے چپ کروا دیتی ہیں.. اسکول میں سب میری موٹی ناک کا مذاق اُڑاتے ہیں، کوئی مجھے کالی مائی کہتا ہے..آنسو ٹپ ٹپ پھر سے گرنے لگے.. مجھے نہیں جانا اسکول بس.. اس نے تکیے میں منہ چھپا لیا.. اچھا ابھی تو تم رونا بند کرو.

تمہارا رنگ کم ہے تو کیا ہوا..؟ تمہارا تو پورا ددھیال ہی اس رنگ کا ہے.. ناعمہ میری بیٹی تھی مگر رنگ و روپ، ناک نقشہ سب دادی پھوپھیوں جیسا تھا جبکہ عمار، میرے بیٹے نے ننھیال کا رنگ و روپ لیا اور اپنے ماموؤں کی طرح قد کاٹھ نکالا تھا. ناعمہ میری شکل دیکھنے لگی . مگر میں کیا کرتی؟ اس وقت ناعمہ کو بہلانے سمجھانے کا ٹائم میرے پاس ہرگز نہیں تھا. مجھے فرخندہ خالہ کے گھر جانا تھا جہاں نئی کمیٹی کی پرچی ڈلنی تھی، محلے کی خواتین اور چند دوستوں کو بھی آنا تھا.. ناعمہ کھانا کھالو مجھے دیر ہو رہی ہے. میں نے آئی بروز کے بالوں کو دھاگے کی مدد سے جڑ سے اکھاڑ پھینکا.. جلدی جلدی میں ہلکا سا کٹ بھی لگ گیا.. آہ.. میں نے ہاتھ ہٹالیا، پارلر جانے کا بھی ٹائم نہیں ملا..چھوڑو !! اب بہتر لگ رہا ہے.. میں نے آئینے میں دیکھ کر خود کو تسلی دی اور دھاگے کو دراز میں پھینک دیا گویا مجھے ساری تکلیف اس نے اپنی مرضی سے دی تھی.

ناعمہ ابھی بھی اداسی کی مورت بنی ہوئی تھی.تم کھانا کھا لینا، بھائی آئے گا تو اُسے بھی دے دینا ٹھیک ہے.. بجائے اِس کے کہ میں اُسے سینے سے لگا کر اس کا غم بھلاتی، مجھے اپنے نئے جوڑے کی فٹنگ لوز لگ رہی تھی جو ابھی پہنا تھا. بعد میں ٹھیک کرواؤں گی سمیہ سے.. عین اُسی لمحے سمیہ کمرے میں آئی، ماشاءاللہ بھابھی بہت اچھا لگ رہا ہے سوٹ آپ پر. سمیہ نے کہا. ہاں اچھا تو لگ رہا ہے مگر تم نے فٹنگ لوز کر دی ہے، ایک سوٹ سینے کو دیا تھا تم نے وہ بھی ڈھنگ سے نہیں سیا.ناعمہ نے بغور میری طرف دیکھا. شاید سانس لینے کی ہی جگہ چھوڑی تھی قمیض میں مگر میں احسان مند ہونے والیوں میں کب تھی بھلا !! کوئی تو نقص نکالنا ہی تھا.. اچھا میں جا رہی ہوں.. میں جلدی سے باہر نکل آئی..کیا بات ہے گڑیا رانی!! آج اسکول سے آکر کمرے مں ہی ہے، کھانے کے وقت بھی نہیں آئی. سمیہ نے ناعمہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا..

کچھ نہیں پھپو، بس ویسے ہی بھوک نہیں لگی تھی، اسکول میں سموسے کھا لیے تھے. اس نے آنکھوں میں آتے آنسوؤں کو بمشکل روکا...... اس کا مطلب ہے پھپو کی گڑیا آج سچ نہیں بتا رہی، جبھی نظریں نہیں ملا رہی.سمیہ کے میٹھے بول نے ناعمہ کو پگھلا دیا تھا.ہر کوئی میرا مذاق کیوں اڑاتا ہے پھپو، میری ناک موٹی ہے تو کیا کروں؟؟ میرا رنگ کیوں کالا ہے..؟ بار بار لڑکیاں تنگ کرتی ہیں. آنسوؤں کی لڑی بکھرنے لگی تھی.. اس میں میرا کیا قصور ہے..؟ ارے ارے ناعمہ! بس، ایسے تھوڑی روتے ہیں. یہ لو تم پہلے پانی پیو آرام سے ... پھر بات کرتے ہیں.. سمیہ نے ناعمہ کو بہلا کر اس کی ہمت بڑھائی.اب اس کے علاوہ کوئی اور بات ہو تو بتاؤ، سمیہ نے پیار سے پوچھا ..نہیں بس، یہی بات ہے امی بھی تو بھائی کو زیادہ پسند کرتی ہیں، نانو کے گھر بھی سب مجھے کلّو کلّو کہتے ہیں. وہ روہانسی ہو گئی.

اللہ نے مجھے بد شکل کیوں بنایا پھپھو..؟ بھائی یا امی جیسا خوبصورت کیوں نہیں بنایا؟ شکوہ زبان سے جاری ہونے لگا.. بھابھی کی عادتوں سے تو سمیہ بخوبی واقف تھی، وہ اولاد کے درمیان محض اس لیے تفرقہ ڈال رہی تھیں کہ بیٹا ننھیال پہ اور بیٹی دودھیال پر تھی ..مگر ان کو سمجھانا مشکل تھا.ناعمہ ایسے نہیں کہتے.. اس مں تمارا یا کسی کا بھی کوئی قصور نہیں، مذاق اُڑانے والے بھی ہمارے ہی جیسے ہی لوگ ہیں. اچھا یہ بتاؤ ہمیں بنانے والی واحد ذات کس کی ہے؟ سمیہ نے پوچھا. اللہ کی، ناعمہ نے کہا.اچھا ! تو پھر یہ معلوم ہے کہ.. اللہ نے انسان کو احسنِ تقویم پہ پیدا کیا ہے اور انسان کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے.. اللہ کی تمام تخلیقات میں سب سے شاہکار تخلیق انسان ہے.تم ناشکری کیوں کرتی ہو؟ خوش رہنا سیکھو لڑکی!! سمیہ نے اس کی ناک کو پکڑ کر ہلایا.. پتہ ہے پھپھو امی کہ رہی تھیں کہ جب میں کالج جانے لگوں گی تب وہ پارلر سے میری بیوٹی ٹریٹمنٹ کروائیں گی، آئی بروز شیپڈ دیں گی.. بھائی تو کہتا ہے کہ میری ناک کی پلاسٹک سرجری کروائے گا. پتہ ہے ناعمہ.. *عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ! ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی لعنت فرمائی ہے بھنویں اکھیڑنے والیوں اور اکھڑوانے والیوں پر.. جسم گندھوانے والیوں پر اور شکل میں تبدیلی لانے والیوں پر...* (بخاری و صحیح مسلم)

اور،، ایک دلچسپ بات بتاؤں!! تمہارادل خوش ہو جائے گا.سمیہ نے مسکراتے ہوئے کہا.. وہ کیا بات ہے پھپھو جلدی بتائیں. ناعمہ کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی.. وہ خوبصورت اور دلچسپ بات یہ ہے کہ قیامت میں حساب کتاب کے بعد جنتیوں کی ملاقات اللہ رب العزت سے ہوگی اور وہ جمعے کا دن ہوگا اور اللہ اس دن حسن و جمال اور نور کا ایک بازار سجائیں گے، سارے جنتی اپنی مرضی کے رنگ و روپ، حسن و خوبصورتی، قد کاٹھ جو اختیار کرنا چاہیں گے، کر سکیں گے.خوب تیار شیار ہو کر اپنے پیارے رب سے ملیں گے.. تم بھی اپنی مرضی اور پسند کے چہرے مہرے بدل لینا.. وہ ہنسی، کیسا؟آپ سچ کہہ رہی ہیں پھپھو.. بے یقینی کی کیفیت مں ناعمہ نے پوچھا... ایسا ہی ہوگا... بالکل ایسا ہی ہوگا، روایات میں ذکر ملتا ہے. آج دنیا میں رب چاہی زندگی صبر شکر سے گزار لو کل آخرت میں من چاہی زندگی گزارلینا، ہے نا مزے کی بات!بلکہ تم اپنی ناک بھی وہاں بدل لینا لمبی ستواں ناک گورا رنگ ... سمیہ نے اسے چھیڑا..

ہوں. سوچوں گی.. مگر اب تو مجھے یہی چہرہ پسند ہے کیونکہ مجھے اللہ نے اپنی مرضی سے بنایا ہے میں کیوں تبدیلی کروں.. میں امی کو بھی منع کردوں گی میں ایسے ہی ٹھیک ہوں.. ناعمہ کے چہرے پر چمک آنے لگی تھی.. ویسے پھپھو آپ کیا پسند کریں گی اس بازار سے لینا اپنے لیے..؟ ناعمہ نے سوال کیا.یوں تو اللہ ہمیں مکمل شباب دے دیں گے ناعمہ مگر بس ویسے ہی میرا دل چاہتا ہے کہ میری یہ ٹانگ درست ہوجائے جلد... سمیہ نے سرسری طور پر کہا.. تاکہ میں اللہ کی راہ میں لڑکھڑا کر نا چلوں، دوڑ کر چلوں . سمیہ نے اپنی پولیو زدہ ٹانگ پر دباؤ ڈالا... اچھا میں چلتی ہوں.سمیہ نے کبھی اپنی اس کمی کا رونا نہیں رویا تھا مگر آج اپنی ایک خواہش کا اظہار کیا تھا.. ناعمہ اسے جاتا دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ میرے پاس تو کسی بھی نعمت کی کمی نہیں.. جبکہ پھپھو نے تو اپنی معذوری کا بھی کبھی شکوہ نہیں کیا، نا ہی کبھی اس نقص کی برائی کی، کبھی ناشکری نہیں کی.

جبکہ میں جو موبائل لینا بھول گئی تھی اور موبائل واپس لینے کے لیے دوازے سے ہی پلٹ آئی تھی مگر کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہی سمیہ کی باتوں نے میرے قدم روک لیے تھے. کئی بار تو سمیہ کے اس عیب کو میں نے کتنا نشانہ بنایا، تضحیک کی مگر اس نے کبھی پلٹ کر جواب نہی دیا.. اور اب اپنی بیٹی کو بھی احساس کمتری میں خود دے رہی تھی. خوبصورتی کا زُعم آج احساسِ ندامت بن گیا تھا، جس نے مجھے کمرے سے باہر آتی سمیہ سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں دی.. وہ اپنے پاؤں پر زور دیتے ہوئے آگے جا رہی تھی.پستہ قد کی سمیہ اپنی پیاری سوچ کی بدولت آج اپنے قد سے بہت اونچی لگ رہی تھی اور میں اپنی سطحی اور چھوٹی سوچ کی وجہ سے کھڑے کھڑے ٹانگوں سے گویا معذور ہو رہی تھی، پولیو زدہ بن گئی تھی...

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */