بچوں کی تربیت میں ماں کی سختی کا کردار- ڈاکٹر فاروق عبداللہ

دو سال پہلے میں نے سڑک پر ایک چھوٹےلڑکے کو اسکول بیگ پہنے دیکھا کہ ماں اس کو پیار سے لبھانےاور کسی بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی اچانک اس لڑکے نے اپنی ماں پر ہاتھ اٹھایا اور تھپڑ دے مارا اور ماں شرمندہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی،اورمیں اس منظر کو دیکھ کر اسی وقت آگے بڑھ گیا۔اسی طرح حال ہی میں راولپنڈی کے میں والدہ پر تشدد کرنے والے بیٹے اور بہو کی ویڈیو والا واقعہ بھی منظر عام پر آچکا ہے جس کی ویڈیومیں دیکھا جا سکتا ہے ایک بیٹا اپنی والدہ کےساتھ بد کلامی کرتے ہوئے ظالمانہ تشددکررہا ہے۔

دیکھنے والوں کو یقین نہیں آرہا کہ کہ آخر کوئی بیٹا ایسا کیسےکرسکتا ہے۔ میرے خیال میں اس مرحلے تک پہنچنے میں ابتدائی طور پر ماؤں کا بچوں سے بے جا لاڈ پیارPampering ہےجو حقیقت میں محبت نہیں ہے۔جس میں ماںہمیشہ بچوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالتی ہے اور بسا اوقات بچے کے والدکوبھی حقیقت حال سے واقف نہیں ہونے دیتی،جس کا نتیجہ ایسے واقعات کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ والدین کو بچوں کا دوست ہونا چاہیئے، اور ان پر زیادہ سختی نہیں کرنی چاہیئے۔ تاہم حال ہی میں ایک نئی تحقیق سے علم ہوا کہ سخت گیر والدین خصوصاً مائیں بچوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہوسکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی مائیں جو اپنے بچوں کی غلطیوں پر سختی سے پیش آتی ہیں، ان کی کڑی روٹین رکھتی ہیں اور ان پر مختلف ذمہ داریاں ڈال دیتی ہیں، درحقیقت وہ مستقبل میں اپنے بچوں کے لیے کامیابی کی راہ ہموارکر رہی ہوتی ہیں۔موجودہ زمانے میں اکثروالدین اپنے بچوں کی تربیت میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

آج کل کے والدین بڑی محنت سے کمائی کرتے ہیں،اور محبت کے نام پر اپنی کمائی کا بڑا حصہ اولاد پر خرچ کرتے ہیں۔لیکن یہ بچوں کے بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔کیونکہ بغیر کوشش کےجب ہر طرح کی آسائشوں کا حصول جب ممکن ہو تو کسی بچے میں محنتی فرد بننے کی جستجوو عادت کیسے پیدا ہوگی۔میرے خیال میں بچے کو کوئی بھی چیز یا انعام بھی تب دینا چاہئے جب وہ تعلیم یا کسی مثبت عمل میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرے اس طرح بچوں کو معلوم ہوگا کہ بغیر محنت کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔اسی طرح غلطیوں پر فوری سزا کا خوف بھی بچوں میں پیدا ہونا چاہئے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ایک شرارت کے بعد میں بھاگ کر گھر کے عقبی کمرے میں داخل ہوا، اور دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا،میرے خیال میں یہ چھپنے کے لئے معقول جگہ تھی،کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے اپنی دانست میں خود کو کیمو فلاج کر چکا تھا۔

لیکن امی جیسے ہی کمرےمیں داخل ہوئیں اور سیدھا ان کا ایک ہاتھ مجھ پر اور دوسرا جوتے سمیت ہلکی بارش کی رم جھم کی طرح برس رہا تھا،اور ہم معافیاں طلب کر رہے تھے،لیکن تعزیر کا نفاذ کامل طریقے پر ہوا۔ہو ا یوں تھا کہ ہمارے گھر کے پاس ایک بابا جی ریڑھی پر پھل فروخت کرتے تھے،اورنماز کے وقت اپنی ریڑھی پر ایک چادر ڈال کر اندر مسجد میں چلے جاتے تھے۔ایک دن ہمارے ذہن میں نجانے کیا خیال آیا کہ نماز کے دوران اس چادر کو ہٹایا اور چھری سے خربوزے چھیل کر کاٹ کاٹ کرتسلی سے کھانے لگ گئے،راہگیریہ منظر دیکھ کر ہنس رہے تھے لیکن کسی نے ہمیں کچھ نہیں کہا،نماز کے بعد کسی فرشتے نے بابا جی کو ہمارے بارے میں مطلع کر دیا اور انہوں نے گھر آکر شکایت کر دی،اپنے ہوش کی یہ پہلی مار جو مجھے آج تک یاد ہے وہ اسباق تھے جو ہم نے ناغہ کئے بغیر باقاعدہ طور پر حاصل کئے،امی جی کی اس ٹریننگ نے بچپن میں ہی ہمیں بہت سی بری عادتوں میں مبتلاء ہونے سے باز رکھا، مثلاًً ایک دفعہ ایک دوست نے مینتھول سگریٹ کی اتنی خوبیاں بیان کیں کہ ہم نے اس سگریٹ کو خرید کر پی ہی لیا۔

اور جب گھر داخل ہوئے تو سگریٹ کی بو امی کو محسوس ہوگئی اب امی نے بازپرس کی اور پوچھنے لگیں پیا کہ نہیں ہم انکاری ہوگئے،لیکن پھوپھو کے ایک بیٹے کا اللہ بھلا کرےجو گھر آئے ہوئے تھے، اپنے تجربے کی بنیاد پر گواہی ہمارے خلاف دے دی، یوں ایک بھرپور لتر پریڈ کا پوری بزدلی سے سامنا کیا،کیونکہ راہ فرار ہی نہ تھا۔،نتیجتاً دوبارہ کبھِی سگریٹ کا نام بھی نہ لیا۔ایسے کئی واقعات ہیں جو ذہن پر نقش ہیں۔اس وقت میں نا سمجھی میں ہمیں یہ سب بہت مشکل لگتا تھاکہ امی جی کسی غلطی پر کوئی معافی نہ دیتی تھیں،اور ادھارسزا کی قائل بھی تب ہوتی تھیں جب حکام بالا یعنی ابو جی سے مزید سزا کا ارادہ ہوتا تھا۔اور سچ پوچھیں تو وہ خوف جو ابو جی کو محض مطلع کرنے میں تھا وہ امی جی کی سزا سے ہمیشہ کم محسوس ہوتا تھا۔حالانکہ ابو جی کی طرف سےسزا کم کم ہی نصیب ہوتی تھی، امی کی طرف سے رسی کھینچی جاتی رہی ۔

اور ابو جی کی طرف سے ڈانٹ ڈپٹ پر کام چل جاتا تھا،غلطیوں کی کثرت کے باجود سزا کا فوری نافذ العمل یا باز پرس ہونا ہماری تربیت میں بہت اہم کردار ادا کر رہاتھا،امی جی(اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے) فرمایا کرتی تھیں پودوں کی تراش خراش ضروری ہے وگرنہ جنگل کی خود روجھاڑیاں بن جاتی ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب بچپن اورلڑکپن میں کتنا اہم کردار ادا کرتا ہے اس کا اندازہ ہوش سنبھالنے کے بعد ہی ہواہے۔یہ سب بیان کرنے کا مقصد یہی ہے انسان نفسیاتی طور پر اپنی غلطیوں کے دوران سب سے اچھا دوست اسے سمجھتا ہے جو ہمارے ساتھ غلطیوں میں تعاون کرے۔( وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ)کا مفہوم یہی ہے کہ برائی کے کاموں میں تعاون نہ کرو،آج کی جدید نسل کے تربیت میں والدین کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ لاڈ پیار کو انہوں نے پیار محبت سمجھا ہوا ہے۔انسان کی نفسیات میں خوف اور لالچ دو عنصر ہیں جو کسی بھی عمل میں بنیادی محرک کا کردار ادا کرتے ہیں۔بچپن میں خوف کا عنصر لالچ کی نسبت زیادہ حاوی ہوتا ہے اور لڑکپن و جوانی میں اس کا برعکس ہوتا ہے یعنی لالچ خوف پر حاوی ہوتا ہے۔

کھلاؤ سونے کا نوالہ ، دیکھو شیر کی آنکھ سے ۔یہ ہمارے معاشرے میں استعمال ہونے والا ایک عام اور قدیم مقولہ ہے جوکہ بچوں کی تربیت سے جڑا ہوا ہے۔اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ محبت کے نام پر بچے کوبے جا لاڈ پیار مستقبل میں اس کے لئے شدید نقصان دہ ہے۔کیونکہ ایک وقت آنا ہے کہ اسے تعلیم اور روزگارکے لئے باہر کی مشقت جھیلنا ہوگیا اور وہاں کوئی ان کے لاڈ پیار دیکھنے کے لئے نہیں ہوگا۔نتیجے کے طور پر ایسے بچوں کو سماج یا معاشرہ یااستاد ہمیشہ ظالم نظر آئے گا،اس لئے بچوں کو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرنا چاہئے۔ بچوں کوبھی سمجھنا چاہئے کہ ان کی غلطیوں پر سختی کرنے والے حقیقت میں ان کے دشمن نہیں بلکہ خیر خواہ ہیں۔کیا آپ اس بارے میں اپنی رائے دینا چاہتے ہیں، یا کیا آپ کو بچپن میں کسی غلطی پر سزا یاد ہے تو کمنٹ میں تفصیل بیان کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */