کہتا ہوں سچ - احمد شفیق

عذاب کیسے نہ آے ہم پر۔ ہم نے بھی تو مظلوموں کا درد محسوس کرنا چھوڑ دیا ان مظلوموں کے زخم دیکھ کر دل کو خون کے آنسو رو دینا چاہیے تھا مگر نہیں۔ ہم لوگوں اپنے ضمیر پتہ نہیں کہاں دفن کر بیٹھے ہیں۔ضروری نہیں کہ گھر سے نکل کے وہاں چلے جائیں جنگ کے لئے۔ جو بس میں ہے وہ تو کر سکتے ہیں۔ یاد رکھنا بروز محشر تمام مظلوم لوگ آپ کا بھی گریبان پکڑیں گے ۔ہر انسان اپنا کردار بخوبی ادا کرلے تو معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔

مگر نہیں ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ میرے ایک کرنے سے کیا ہوگا۔میں کوئی دودھ کا دھلا نہیں میں خود بھی کبھی کبھی یہی سوچتا ہوں کہ میرے ایک اکیلے کرنے سے کیا ہوگا دنیا کون سی بدل جائے گی۔مگر پھر مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ⁦ کا وہ قول میرا ضمیر جنجھوڑ دیتا ہے کہ ہم دہاڑی کہ مزدور ہیں۔ ہمیں یہ غرض نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بلڈنگ آج سے پچاس سال بعد بنے گی یا دس سال بعد ۔ہمیں اس بلڈنگ کے لئے ایک دن کی محنت کرنی ہے اور اپنے اللہ سے اس کا اجر لینا ہے۔اس بلڈنگ سے مراد(( دنیا ))ہے ۔آج مسلمان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اللہ پر اپنا ایمان کھو بیٹھا ہے۔آج وہ جو کرتا ہے سمجھتا ہے کہ میں اپنے بل بوتے پر خود کر رہا ہو!مگر وہ یہ بھول بیٹھا ہے کہ پتھر کے اندر بسنے والے کیڑے کو بھی میرا اللہ رزق پہنچاتا ہے ۔فلسطینی اس بچے کا ایک جملہ میرا دل آج بھی ہلا دیتا ہے کہ میں اپنے رب سے شکایت کروں گا!جس طرح کی ہماری حرکتیں ہیں اور جس طریقے کا ہمارا رویہ ہےاس سے آگے تو کرونا جیسے عذاب کچھ نہیں ہم پر تو اس سے بڑے بڑے عذاب آنے چاہیں.

ہم وہ لوگ ہیں جو نہ خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ان لوگوں کو کچھ کرنے دیتے ہیں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں.کم سے کم اگر آپ خود کچھ نہیں کر سکتے تو ان لوگوں کا ساتھ دیجیے جو بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں.بلکہ ہمیں چاہیے کہ ان کا بازو بنا جائیں جس طریقے سے ہم مدد کر سکتے ہیں ہمیں کرنی چاہیے اپنا فرض بخوبی ادا کرنا چاہیے.ہم تو بہت خوش نصیب ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں جن کی امت میں آنے کے لیے انبیاء کرام نے خود دعائیں مانگی.نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے رو رو کے دعا کی تھی کہ میری امت پر رحم کرنا.کیوں کہ پہلے کی قوموں پر چھوٹے موٹے عذاب نہیں پوری قوم تباہ و برباد ہو جاتی تھی. اور ہاں نہ ہی ہمارے اتنے اچھے اعمال ، نہ ہی اتنی اچھی دعائیں اور نہ ہی اتنی اچھی عبادت ہیں.آج بھی وقت ہے کچھ نہیں بگڑا میرا رب ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے. وہ ایک سچے دل کے آنسو سے پوری زندگی کے گناہ مٹا دے گا۔سچے دل سے توبہ کرے اور اپنے رب کی رضا حاصل کرلیں اور دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔

جس نے آپ کو دیکھنے کے لئے آنکھیں سننے کے لیے کان ۔اور سب سے بڑھ کے پیار ، محبت کرنے کے لئے دل دیا۔اور آپ کو اشرف المخلوقات بنایا۔ورنہ جانور بھی کھانے کی تلاش میں روز نکلتے ہیں اور خالی پیٹ وہ بھی نہیں سوتے۔لکھنے کی صلاحیت ہے تو مظلوموں کے لئے قلم بن جائیں بولنے کی صلاحیت ہے تو مظلوموں کی آواز بن جائےاللہ نے جس صلاحیت سے آپ کو بخشا ہے اس کا صرف اپنی ذات کے لیے استعمال نہیں کریں بلکہ اللہ اور اس کے بندوں کے لئے بھی استعمال کریں۔

اور اس بات پر غور و فکر کریں کہ اللہ نے آپ کو صلاحیت صرف اس لیے نہیں بخشی کہ دنیاوی ، دولت ، شہرت حاصل کریں۔عمر چھوٹی ہے ارادے بڑے ہیں ۔ جو ٹھیک سمجھا وہ لکھ دیاامید کرتا ہوں کہ میری اتنی باتوں میں سے ایک بات سے تو آپ کی زندگی میں کچھ فرق پڑے گا...کیوں کہ جمعہ کے خطبے میں مولوی بہت سی چیزیں بتاتے ہیں.مگر ہم یاد ایک سے دو رکھتے ہیں.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */