ماضی کی دلہن‎ - سمیرا غزل

میں چلتے چلتے اسے دیکھ کر ٹھٹھک گئ۔ حیرانی سے اسے دیکھتی رہی مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی ہے جو بڑی حسین تھی۔آہ ہ ہ! مگر یہ کیا وقت کی دھوپ نے اسے کملا دیا تھا اس کی رنگت زرد پڑ گئ تھی۔بڑے زخم تھے اس کے چہرے پر، یوں جیسے اسے نوچا گیا ہو کھسوٹا گیا ہو۔ایک بازو کٹا ہوا تھا۔

میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہوا ! تو افسردگی سے کہنے لگی لو بھلا! تمھیں نہیں معلوم کہ میرا یہ بازو سن اکہتر میں کاٹ دیا گیا تھا اب یہ ناسور بن گیا ہے زخم بھرتا ہی نہیں ہے۔اس کٹے ہوئے بازو پر جو حکومت ہے، بڑی ہی ظالم ہے مجھ سے محبت کرنے والوں اور مکمل دیکھنے کی خواہش کرنے والوں کو پھانسی پر چڑھادیتی ہے۔ایک نشان تھا بڑا گہرا سا، جیسے گولی نکال لی گئ ہو مگر زخم بھرا نہ ہو ۔پوچھا ! کہ یہ کیا ہے ؟تو آزردگی سے کہنے لگی کہ یہ مجھے سن اکیاون میں گولی لگی تھی لو بھلا تمھیں یہ بھی نہیں پتا۔میں کچھ اور اداس ہو کر اسے دیکھنے لگی کہ یکدم اس کی شہہ رگ سے خون ٹپکتا دیکھ کر خاموش نہ رہ سکی۔اور سوال کیا کہ یہ زخم کیسے آیا تو کہنے لگی کہ ویسے بھی عموما جس کا جب دل چاہتا ہے زخم لگا جاتا ہے یوں سمجھو میں ظالموں کے نرغے میں ہوں۔ اور اب پچھلے سال سے تو بس خون رستا ہی چلا جارہا ہے۔

میں اس کے زخموں کو دیکھنے کی تاب نہ رکھتی تھی۔پتا نہیں وہ کیسے برداشت کر رہی تھی نہیں معلوم۔میں ایک بار پھر خیالوں میں چلی گئ جب وہ تروتازہ تھی۔غازہ اور کاجل لگائ بڑی بڑی روشن آنکھوں سے دیکھتی تو لگتا کہ اس کی آنکھوں میں ڈھیروں خواب ہیں اور وہ ان کی تعبیر پانے کو بے تاب۔جب ہنستی تو لگتا کہ بام و در کو حظ آگیا ہے۔بولتی تو گھنٹیاں بجنے لگتیں کہ وہ بہت سی قربانیوں کے بعد تازہ اور جوان تھی۔مگر اب تو اس کے نحیف و نزار جسم کو دیکھ کر وحشت ہوتی تھی۔ آنکھوں کی لو ماند پڑ چکی تھی چہرے پر زردی کھنڈ گئ تھی۔وہ اسی لاغری کے عالم میں کھانسی تو میں ہوش میں آئ اور دیکھا کہ اس کا تو سارا بدن ہی زخموں سے بھرا پڑا ہے جو پوچھا تو کہنے لگی! اری کتنی غافل ہو تم کیا تمھیں کچھ بھی نہیں پتا یہ آئے دن کے بم دھماکے اور گولیوں کی بوچھاڑ سے چھلنی ہوں میں۔اور میں دم سادھے اس ماضی کی حسین پری کو دیکھتی رہ گئ۔

پھر وہ خود ہی مجھے تحیر میں ڈوبا دیکھ کر وہ کہنے لگی کہ میرے حال پر تمھارا افسوس بجا ہے کیوں کہ پہلے جب تم ملتی تھیں تو میں بڑی نک سک سے تیار ہو کر آتی ہے مگر اب میں اتنے زخموں سے چور ہوں کہ خود میرے لیے ہی میری شکل دھندلا گئ ہے۔جن زخموں کا تم نے پوچھا وہ اور بہت سے ایسے زخم جو اندرونی سطح پر ہیں نظر بھی نہیں آتے اور بھر بھی نہیں پاتے۔کیا کیا نہیں ہوا میرے باپ کی انتھک محنت کو رائیگاں کردیا گیا،میری ماں کوالیکشن کے نام پر ہرا کر مجھ سے چھین لیا گیا۔اور پھر جب میرے آپریشنز ہوئے تو کوئ مجھے دیکھنے والا تیمارداری کرنے والا بھی نہ تھا تمھیں سوات اور وزیرستان آپریشن تو یاد ہی ہوں گے۔

نہ باپ ہے نہ ماں اور زخم ہی زخم ہیں،دشمن ہی دشمن ایسے میں خود بتاو یہ حال نہ ہوتا تو کیا ہوتا اور ویسے بھی یتیمی زمانے بھر کے دکھ ساتھ لاتی ہے۔تو کیا کوئ بھی نہیں ہے جو تمھارا خیال رکھے۔میں نے پوچھا!کہنے لگی! ہاں ہیں میری اولاد میں سے کچھ جن کی وجہ سے میں آج بھی اپنے قدموں پر کھڑی ہوں ورنہ تو کب کی مر چکی ہوتی۔یہ کوئ دیوانے جیسے لوگ ہیں،جان ہتھیلی پر رکھ لی ہے بس میرا دم بھرتے ہیں۔میری ساری امیدیں انھی سے وابستہ ہیں کہ شاید یہ مجھے اسی دور میں واپس لے جائیں جب میں نئ نویلی دلہن کی طرح اس دیس میں آئ تھی۔یہ کہہ کر وہ پلٹ گئ اور میں ٹھنڈی سانس بھر کر آزادی کی اس دلہن اور پری کو جاتا دیکھتی رہی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */