حصول کشمیر۔۔۔پاکستان کے لیے ناگزیر-ڈاکٹر خولہ علوی

5 اگست 2019ء کو انڈیا نے آئین میں ترمیم کرکے جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی۔ اور 80 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل یہ خطہ مزید متنازع بنادیا، نتیجے میں یہاں کرفیو لگادیا۔ تب سے وہاں تعلیمی ادارے بند ہیں، کھانے پینے کی اشیاء کی کمی ہے، ادویات کی قلت ہے، بجلی و پانی کے مسائل درپیش ہیں۔ انٹرنیٹ اور کیبل کی سروس بند ہے۔ موبائل فون کی سروس بھی عدم دستیاب ہے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں بلکہ ہسپتال صرف برائے نام ہسپتال ہیں اور ہسپتال نام کی لاج رکھنے سے قاصر ہیں۔ زندگی نہیں بلکہ موت قابض اور غالب نظر آتی ہے۔ خوف و ہراس کی کیفیت کا دلوں پر غلبہ ہے۔ وادی میں ہر طرف بھارتی فوج ڈیرے ڈالے نظر آتی ہے اور اسلحہ کی فراوانی دکھائی دیتی ہے جسے نہتے اور مجبور کشمیریوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ ان مسائل کی صرف ایک جھلک ہے جو وادی میں کرفیو کے نام پر قید مجبور و مظلوم کشمیری مسلمانوں کو مسلسل ایک سال سے پیش آرہے ہیں۔ وگرنہ کشمیریوں کی قربانیوں کی یہ داستان بہت عظیم اور طویل عرصے پر محیط ہے۔ پاکستان سمیت پوری دنیا کو یہ معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نام پر ظلم و جبر کا نیا سلسلہ ایک سال سے جاری و ساری ہے۔

5 اگست سے تاحال کشمیری مسلمان انتہائی تکلیف اور مصائب کا سامنا کررہے ہیں اور اس جنت نظیر خطے میں ہر طرف ظلم و بربریت کی گھنگور گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔ کیا ہم مسلسل کرفیو اور اس ظالمانہ ماحول میں زندگی گزارنے کا تصور کرسکتے ہیں، جس کا سامنا ہمارے یہ مظلوم کشمیری مسلمان بہن بھائی کر رہے ہیں؟ امت مسلمہ کے غیور مسلمانو! اپنے دلوں کے اندر احساس پیدا کرو اور اس ظالمانہ اور معاشرتی بائیکاٹ پر مبنی اور کرفیو کے نام پر گھروں میں مقید کشمیریوں کو نجات دلانے کے لئے بھرپور کوششیں کرو۔

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور مظلوم مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں مسلمان ہونے اور دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری کرنے کی پاداش میں ظالم مشرکین مکہ کی طرف سے تین سالہ معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں انہوں نے بھوک و افلاس، بیماری، قطع رحمی اور ہر قسم کے مسائل کا سامنا کیا تھا لیکن دین پر استقامت کا رویہ اختیار کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کی تھی۔ بالآخر انہی مشرکین مکہ میں سے چند لوگوں نے ان مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرکے انہیں اس ظالمانہ طرز زندگی سے نجات دلائی تھی۔

آج ایک سال سے گھروں میں کرفیو کے نام پر قید اور معاشرتی بائیکاٹ میں مبتلا کشمیری مسلمانوں کو پوری دنیا کے مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانی مسلمانوں کی مدد اور تعاون کی بھرپور ضرورت ہے۔ تحریری، تقریری، جانی و مالی، عملی ہر قسم کا تعاون درکار ہے۔ سفارت اور صحافت کے میدان میں پوری دنیا تک کشمیر کی صورتحال پہنچانے اور پھر عملی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ترکی کے غیرت مند مسلمان حکمران طیب اردگان کا تمام مظلوم مسلمانوں کی حمایت کے لیے آواز اٹھانا اور حتی الامکان عملی اقدامات کرنا نہایت خوش آئند ہے۔ پاکستان اس سے بڑھ کر ان شاء اللہ اپنا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، ایٹمی ملک ہے اور یہ ان شاءاللہ امت مسلمہ کے نشاۃ ثانیہ کا علمبردار ثابت ہوگا۔

کشمیر پاکستان کا حصہ ہے جس کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ اس کا نقشہ بھی کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔ قائد اعظم محمدعلی جناح  کے بقول "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔" اور اس شہ رگ کے بغیر پاکستان کے وجود کی بقا ممکن نہیں۔ اگر شہ رگ کو علیحدہ کر دیا جائے تو باقی دھڑ بے حس و حرکت رہ جاتا ہے۔ اس وجود کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

کشمیر پاکستان کے لیے جغرافیائی لحاظ سے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کے تمام دریا کشمیر کے پہاڑوں سے نکلتے ہیں۔ یعنی یہ پاکستان کے پانیوں کا منبع ہیں۔ خدا نخواستہ اگر انڈیا کا کشمیر پہ قبضہ ہو جائے تو وہ پاکستان کا پانی روک کر پاکستان میں قحط سالی کی صورت پیدا کر سکتا ہے یا وہ جب چاہے، پاکستان میں سیلاب بھیج سکتا ہے۔

کشمیر کے بری راستے بھی فطری طور پر پاکستان سے متصل ہیں۔ جبکہ انڈیا کا ان کشمیری راستوں کو نئی اور طویل شاہراہیں بنا کر اپنے ملک سے ملانا غیر فطری ہے۔ جس کا نتیجہ طویل، پیچیدہ اور بسا اوقات خطرناک راستے ہیں۔ کشمیر کے لیے ناگزیر ہے کہ ہندوستان جیسے مستقل اور نہایت کمینہ دشمن کی موجودگی میں اس کا الحاق پاکستان سے ہو اور یہی اس کی سلامتی کا ضامن ہے۔ اور پاکستان کو بھی اپنی بقا کے لیے کشمیر کی نہایت ضرورت ہے۔

مذہبی اعتبار سے بھی کشمیر پاکستان کے لیے بہت اہم ہے۔ کشمیریوں اور پاکستانیوں دونوں کی غالب اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ جبکہ ہندوستان میں غالب اکثریت ہندومت کے پیروکاروں کی ہے اور اسلام اور ہندومت کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ جبکہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور مشکل میں اس کے لیے اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرنا فرض ہے۔

کشمیری مسلمان مدد کے لیے پاکستانی حکمرانوں اور پاکستانی عوام کی طرف دیکھ رہےہیں لیکن فی الحال ہمارے حکمران غفلت کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔
یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

عمران خان کی طرف سے جاری کردہ نئے نقشے کی خبر نہایت خوش آیند اور بہار کے جھونکے کی مانند روح افزا ثابت ہوئی ہے۔ جس میں نہ صرف جموں و کشمیر کا مقبوضہ علاقہ شامل ہے بلکہ سر کریک کا متنازع علاقہ بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ کاش یہ خواب جلد از جلد حقیقت بن جائے۔

گرچہ کاشمیر میں ستم کی گھور رات ہے
نہ غم کرو مجاہدو، خدا تمہارے ساتھ ہے

اللہ رب العزت بہت جلد وہ وقت دکھائے جب ہم یہ خوشخبری سنیں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن گیا ہے۔ نہ صرف نقشے میں بلکہ عملی طور پر بھی اور مقبوضہ و آزاد کشمیر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اور بنگلہ دیش بھی دوبارہ پاکستان کے ساتھ شامل ہوگیا ہے اور پاکستان کا وجود مکمل ہو گیا ہے۔
کشمیر بنے گا پاکستان،
پاکستان کا مطلب کیا "لا الہ الا اللہ"،
پاکستان زندہ باد، کشمیر پائندہ باد

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */