ابن عربی ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں! - حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ کیا ابن عربی ختم نبوت کے عقیدے کے قائل ہیں؟

جواب: ابن عربی کہ جنہیں صوفیاء شیخ ابن عربی کہتے ہیں، ختم نبوت کے عقیدے کے قائل ہیں بھی اور نہیں بھی۔ ابن عربی یہ کہتے ہیں کہ تشریعی نبوت ختم ہوگئی ہے، یعنی ان کے بقول اب اس امت میں کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو نئی شریعت لے کر آئے، لیکن ”مطلق نبوت“ یا ”نبوت ولایت“ یا ”نبوت عامہ“ ان کے ہاں جاری وساری ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ واضح رہے کہ یہ تینوں اصطلاحات ابن عربی ہی کی ہیں۔

ختم نبوت کے بارے میں غلام احمد قادیانی کا نقطہ نظر بھی اس سے ملتا جلتا ہے، اگرچہ اس میں کچھ فرق بھی ہے کہ غلام احمد قادیانی نبی کے لفظ کے اطلاق کو بھی درست سمجھتا ہے جبکہ ابن عربی یہ کہتے ہیں کہ نبوت قیامت تک جاری ہے اور اولیاء میں نبی ہوتے بھی ہیں لیکن ان پر لفظ نبی کا اطلاق درست نہیں ہے یعنی ہم انہیں نبی نہیں کہیں گے۔ ابن عربی کے ختم نبوت کے بارے تصورات ان کی کتاب ”فتوحات مکیہ“ کے باب 73 میں تقریبا دو سو صفحات پر پھیلے ہیں۔ ہم نے اس کا مطالعہ کیا ہے لہٰذا اس کے کچھ اسکرین شاٹ پیش کررہے ہیں۔

پہلے اسکرین شاٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ابن عربی یہ لکھ رہے ہیں کہ ”نبوت عامہ“ جاری ہے اور کبھی ختم نہ ہوگی۔ واضح رہے کہ ابن عربی تشریعی نبوت کو خاص نبوت کہتے ہیں اور نبوت عامہ سے ان کے نزدیک مراد وہ نبوت ہے کہ جس میں تشریع نہیں ہے یعنی ایسی نبوت کہ جس میں نبی کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آتا ہے۔ تو ایسی نبوت ان کے ہاں جاری وساری ہے اور کبھی ختم نہ ہوگی۔ ابن عربی کہتے ہیں کہ اس مسئلے سے ہمارے اہل طریقت بھی غافل ہیں، یا تو اس وجہ سے کہ انہیں اس مسئلے کا علم ہی نہیں یا اس وجہ سے کہ انہوں نے اس مسئلے میں کلام کیا لیکن ہمیں نہیں پہنچا۔

ابن عربی لکھتے ہیں کہ ہم صوفیاء میں نبوت عامہ جاری ہے لیکن ہم پر لفظ نبی کا اطلاق کرنا درست نہیں ہے۔ اور ہم صوفیاء کو اس نبوت عامہ کی وجہ سے وہ علم دیا گیا ہے جو رسولوں کو بھی نہیں دیا گیا جیسا کہ حضرت خضر کو وہ علم دیا گیا تھا جو موسیٰ کے پاس نہیں تھا، علیہما السلام۔ تو ہم صوفیاء کی جماعت ایک اعتبار سے انبیاء سے افضل ہیں اور دوسرے اعتبار سے انبیاء ہم سے افضل ہیں۔ انبیاء ہم سے اس لیے افضل ہیں کہ ہم شرعی احکام میں ان کے پابند اور تابع ہیں۔ اور ہم انبیاء سے اس لیے افضل ہیں کہ ہمیں پروردگار کی معرفت کا وہ علم دیا گیا ہے جو رسولوں کو نہیں دیا گیا۔

دوسرے اسکرین شاٹ کو غور سے دیکھیں تو اس میں بھی ابن عربی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نبوت جاری ہے اور صرف تشریعی نبوت ختم ہوئی ہے لیکن تشریعی نبوت، نبوت کا جزء ہے نہ کہ کل نبوت۔ اور نبوت ختم بھی کیسے ہوسکتی ہے جبکہ وہ اس دنیا کے لیے بمنزلہ غذا کے ہے اور غذا کے بغیر کوئی کیسے زندہ رہ سکتا ہے!

تیسرے اسکرین شاٹ میں ابن عربی حدیث ”لا نبی بعدی“ والی حدیث کی وضاحت کر رہے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جب قیصر اور کسری ہلاک ہوجائیں گے تو ان کے بعد کوئی قیصر اور کسری نہیں ہوگا۔ تو ابن عربی کہتے ہیں کہ روم اور فارس کے بادشاہ تو اس کے بعد بھی ہو گزرے ہیں لیکن انہیں قیصر اور کسریٰ کا لقب نہیں دیا گیا۔ تو نبی کا لقب نہیں دیا جائے گا، باقی انبیاء تو ہوں گے۔ ابن عربی ان انبیاء کو اپنی کتاب ”فتوحات مکیہ“ میں بہت سے مقامات پر ”انبیاء الاولیاء“ کا نام دیتے ہیں۔

چوتھے اسکرین شاٹ میں ابن عربی یہ کہہ رہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نبی مطلق کے طور قیامت سے پہلے آئیں گے۔ اور ان کی یہ مطلق نبوت، وہی نبوت ہے کہ جس میں اولیاء بھی شریک ہیں۔ مزید ابن عربی نے لکھا ہے کہ میں نے شہر فاس میں 595ھ میں ”خاتم نبوت مطلق“ کو دیکھا ہے جو ”خاتم ولایت“ بھی ہے اور اکثر لوگ اس کے اس مقام سے نا واقف ہیں۔ ایک اور مقام سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے ابن عربی کی مراد وہ خود ہی ہیں۔

اب یہ کہنا کہ ابن عربی نے کون سا اپنی نبوت کی دعوت دی ہے یا کون سا جتھا بنایا ہے کہ ہم پر یا ہمارے عقائد پر ایمان لے کر آؤ جیسا کہ غلام احمد قادیانی نے کیا ہے، تو یہ بہت ہی سادگی ہے۔ فیس بک پر آپ کو ایک جتھا نظر آ جائے گا، جو کمنٹس کریں گے، پوسٹیں لگائیں گے، یو ٹیوب پر ویڈیوز چڑھائیں گے، طعنے دیں گے، فتوے لگائیں گے۔ یہ ابن عربی کی صریح عبارتوں کی ویسی ہی کلامی تاویلیں کریں گے جیسا کہ لاہوری گروہ، غلام احمد قادیانی کی عبارتوں کی تاویلیں کر کے کہتا ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ تو جب احمدیوں کی تاویلیں قابل قبول نہیں تو ان کی کیوں قبول ہیں؟

ابن عربی کا تصور ختم نبوت؛ ایک اشکال کا جائزہ
دوست کا سوال ہے کہ ابن عربی نے تو نبوت کو حیوانات میں بھی جاری مانا ہے تو آپ ان کے تصور نبوت کو صحیح سمجھ نہیں پائے لہٰذا یہ لکھ دیا کہ ابن عربی ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں؟

جواب: دیکھیں، ابن عربی ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں، یہ بات درست ہے یعنی ان کے نزدیک غیر تشریعی نبوت جاری ہے۔ اور مذکورہ بالا اعتراض سے ہمارا یہ دعویٰ رد نہیں ہوتا کہ ”ابن عربی ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں۔“ مذکورہ بالا اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ ابن عربی ختم نبوت کے منکر ہیں یعنی نبوت کو جاری اور ساری مانتے ہیں لیکن آپ ان کے تصور نبوت کو نہیں سمجھ پائے۔ تو معترض نے ہمارا بنیادی مقدمہ مان لیا ہے کہ ابن عربی کے نزدیک نبوت جاری وساری ہے۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ ابن عربی کے نزدیک ”نبوت“ ہے کیا جو آج بھی جاری وساری ہے، قیامت میں بھی جاری رہے گی، حیوانات میں بھی جاری ہے۔ تو پہلے اسکرین شاٹ میں ابن عربی یہ کہہ رہے ہیں کہ نبوت دو قسم پر ہے؛ ایک تشریعی اور دوسری غیر تشریعی۔ جو تو تشریعی نبوت ہے، وہ ختم ہوجائے گی لیکن جو غیر تشریعی نبوت ہے تو وہ قیامت تک بلکہ قیامت کے بعد بھی جاری رہے گی۔ غیر تشریعی نبوت افضل ہے کیونکہ یہ ختم نہیں ہوگی اور اس کا ختم نہ ہونا اس کی افضلیت کی دلیل ہے جبکہ تشریعی یعنی شرع والی نبوت تو دنیا کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی۔ غیر تشریعی نبوت، ولی کامل کو الہام کی صورت حاصل ہوتی ہے۔ تو فرق یہ ہوا کہ تشریعی نبوت میں وحی ہے جبکہ غیر تشریعی نبوت میں الہام ہے۔

دوسرے اسکرین شاٹ میں جو کہ پہلے کا ہی نیکسٹ پیج ہے، ابن عربی یہ کہہ رہے ہیں کہ نبوت دو قسم پر ہے؛ ایک ”مہموزہ“ اور دوسری ”غیر مہموزہ“۔ ”مہموزہ“ ادنیٰ درجے کی نبوت ہے جبکہ ”غیر مہموزہ“ اعلیٰ درجے کی نبوت ہے اور پہلی دوسری سے پیدا ہوئی ہے۔ پہلی قسم کی نبوت وہ ہے جو واسطے سے حاصل ہوتی ہے جبکہ دوسری بغیر واسطے کے حاصل ہوتی ہے۔ اور اس دوسری قسم کی نبوت میں اولیاء کا بڑا حصہ ہے یعنی انہیں یہ دوسری قسم کی نبوت حاصل ہے یعنی "غیر مہموزہ" نبوت۔ اس نبوت میں ولی، رسول سے نہیں بلکہ اللہ عزوجل سے براہ راست علم حاصل کرتا ہے بذریعہ الہام۔

ابن عربی کہتے ہیں کہ اولیاء کی ایک جماعت مثلاً صحابہ اور فقہاء کی نبوت پہلی قسم کی ہے یعنی "مہموزہ" کیونکہ وہ علم الٰہی، رسول کے واسطے سے حاصل کرتے ہیں۔ پھر اپنی اس بات کی دلیل کے طور وہ ابو یزید کا ایک قول نقل کرتے ہیں کہ جس میں وہ فقہاء سے کہتے تھے؛ "أخذتم علمكم ميتاً عن ميت وأخذنا علمنا عن الحي الذي لا يموت"۔ تمہارا علم ایسا ہے کہ ایک میت نے دوسری میت سے حاصل کیا ہے جبکہ ہم نے اپنا یہ علم اس زندہ ذات سے حاصل کیا ہے کہ جس پر کبھی موت طاری نہ ہوگی۔ پھر وہ اولیاء کی نبوت سے حاصل ہونے والے علم کو حضرت خضر علیہ السلام کے علم سے تشبیہ دیتے ہیں جو براہ راست رب سے حاصل کیا گیا تھا۔ پھر آخر میں وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ نبوت یعنی غیر مہموزہ حیوانات میں بھی جاری ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی ہے۔

تو یہ اصل میں سمجھنے کا نکتہ ہے کہ ابن عربی کہنا کیا چاہتے ہیں؟ ابن عربی اپنے مخاطب کو یہ کہہ رہے ہیں کہ جیسا کہ شہد کی مکھی کی طرف رب نے ہی وحی کی ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ شہد کی مکھی کو جو علم حاصل ہوا ہے، وہ اس کے رب کی طرف سے قطعی طور حاصل ہونے والا علم ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ تو یہی حال ہمارے اولیاء کی نبوت کا بھی ہے۔ تو یہاں ابن عربی نبوت کو "قطعی الہام" کے معنی میں لے رہے ہیں۔ یعنی تشریعی نبوت والی وحی ختم ہو گئی ہے البتہ "قطعی الہام" باقی رہ گیا ہے جو رب ہی کی طرف سے قطعی خبر ہے جو اولیائے کاملین پر نازل کی جاتی ہے۔

اب آگے چلیں، تیسرے اسکرین شاٹ کی طرف آئیں۔ اس میں ابن عربی کہہ رہے ہیں کہ نبوت اصل میں خبر ہے۔ اور کبھی اس خبر میں تشریع ہوتی ہے یعنی حلال و حرام اور کبھی تشریع نہیں ہوتی۔ جب نبوت میں تشریع نہیں ہوتی تو یہ اللہ عزوجل کی طرف سے ولی کامل کی طرف ایسی خبر ہوتی ہے کہ جس کا تعلق اللہ کی ذات کے بارے علم اور معرفت سے ہوتا ہے۔ ایک تو یہ بات ہو گئی اور دوسرا اس غیر تشریعی نبوت [خبر اور الہام] میں جو کہ ولی کامل کی طرف نازل ہوتا ہے، کسی ایسی نقل کے ضعف کا علم بھی ہو سکتا ہے کہ جسے علمائے ظاہر صحیح سمجھتے ہوں، یا کسی ایسی نقل کے صحیح ہونے کا علم بھی ہو سکتا ہے کہ جسے علمائے ظاہر ضعیف سمجھتے ہوں۔ اور ولی کا یہ علم صریح دلیل کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ جس کا ایک شاہد [تصدیق کرنے والا] بھی اس کے نفس کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ تو ولی کا یہ الہام گویا کہ دو طرح سے سند تصدیق حاصل کر رہا ہوتا ہے۔

چوتھے اسکرین شاٹ میں ابن عربی یہ کہہ رہے ہیں کہ دوسری قسم کی نبوت وہ ہے کہ جس کا تعلق علم الہی سے نہیں بلکہ تحلیل و تحریم سے ہے یعنی تشریعی نبوت مراد ہے۔ تو پچھلی قوموں میں انبیاء کے علاوہ محدَثون یعنی جنہیں الہام ہوتا ہے، کو بھی تحلیل و تحریم کا اختیار حاصل تھا لیکن اس امت میں وہ ختم ہو گیا ہے۔ تو گویا ابن عربی نے "اگر میری امت میں کوئی محدَث ہوتا تو وہ عمر ہوتا"، کا یہ معنی کیا ہے۔ اور یہ معنی گہرا ہے لیکن درست نہیں ہے جیسا کہ ہم اس پر پہلے لکھ چکے ہیں۔ مزید ابن عربی کہہ رہے ہیں کہ اب اس امت میں محض مجتہدین ہیں جو دلیل کی بنیاد پر حلال اور حرام کہہ سکتے ہیں، انہیں سابقہ امتوں کے محدَثون کی طرح حق تشریع حاصل نہیں ہے۔

لیکن ایک بہت ہی خطرناک بات ابن عربی کر گئے ہیں کہ پہلی قسم والی نبوت رکھنے والوں کو یعنی اولیاء کو جب بذریعہ کشف کسی صحیح یا غلط کا علم ہوتا ہے، اس علم کو اس پر افضلیت حاصل ہوتی ہے جو کسی دوسری قسم کی نبوت رکھنے والوں کو یعنی مجتہدین کو بذریعہ اجتہاد حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ وہ یہ لکھ رہے ہیں کہ اگر مجتہد، ولی بھی ہو اور اس کو بذریعہ کشف ایک مسئلے کا علم ہو جائے تو اس کا اجتہاد باطل ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کشف کے ذریعے حاصل ہونے والا علم قطعی ہے کیونکہ براہ راست رب سے حاصل ہو رہا ہے جبکہ اجتہاد کے ذریعے حاصل ہونے والا علم ظنی ہے کہ واسطوں سے حاصل ہو رہا ہے۔

آخر میں ابن عربی نے البتہ ایک بات درست کی ہے کہ تقلید کی بنیاد پر فتوی دینا حرام ہے کیونکہ مجتہد کا فتوی، حالات کے ساتھ بدل جاتا ہے لہذا اسے ہر قسم کے حالات میں جاری کرنا درست نہیں کیونکہ دوسرے حالات میں مجتہد اپنے اس فتوے کو اس طرح سے جاری نہ کرتا۔ تو امام کے قول پر فتوی دینا جائز نہیں ہے، البتہ وہ عالم دین فتوی دے سکتا ہے جو براہ راست کتاب وسنت سے فتوی دینے کی اجتہادی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ بات اگرچہ ابن عربی نے ضمنا کی ہے اور درست ہے لیکن اس بات سے بھی ان کا مقصود یہ ہے کہ مقلد فقہاء تو کجا مجتہدین فقہاء کا علم بھی ویسا قطعی نہیں ہے جیسا کہ اولیاء کا ہے۔

تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ابن عربی نے وحی کی بجائے الہام کے نام پر نبوت کا جو رستہ کھول دیا ہے، اس سے یقینی طور بہت سے شر کے دروازے کھلتے ہیں جبکہ وہ اس الہام کو قطعی ذریعہ علم سمجھتے ہیں، بلکہ معرفت الہی کا سب سے بڑا مصدر ان کے نزدیک یہی ہے، بلکہ شرعی احکام کی تصحیح وتضعیف میں یہ الہام ان کے ہاں ایک ماخذ اور مصدر کی حیثیت رکھتا ہے۔ تو ابن عربی نے دراصل اپنا نظریہ وجود (ontology) ہی پیش نہیں کیا بلکہ اس کا علم استدلال (epistemology) بھی کھڑا کیا ہے۔

اگر آپ یہ کہیں کہ وہ ایک ذہین آدمی تھے تو میں ان کی ذہانت کو داد دیتا ہوں، اس میں شک نہیں۔ لیکن جہاں تک ان کے نقطہ نظر کے کفر اور ضلالت ہونے کی بات ہے تو وہ ہم کرتے رہیں گے۔ ارسطو اور افلاطون بھی بہت ذہین تھے، نطشے اور کانٹ بھی بہت گہرے تھے۔ ذہانت یا گہرے ہونے کا تعلق حق وباطل سے کیا ہے!

اور توحید الوہیت اور مروجہ تصوف کے بارے غامدی صاحب کی جو رائے ہے، میں اسے علی وجہ البصیرۃ صحیح سمجھتا ہوں، اور اس کو سپورٹ کرتا ہوں، اگرچہ میں نے ان کے رد میں 420 صفحات کی کتاب لکھی ہے۔ تو ہمیں غامدی صاحب سے اختلاف ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم ان کی صحیح بات کی بھی تائید نہ کریں۔ یہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو کسی قسم کے مسلکی یا گروہی تعصب میں مبتلا ہو۔

جو شخص بھی مسلکی اور گروہی تعصب سے بالاتر ہو جاتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ میرے گروہ اور مسلک کے لوگ اس شخص کی حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت، یا اس کی حمایت اور مخالفت سے کس گروہ کو فائدہ ہو گا اور کس کو نقصان، وہ صرف اور صرف حق اور باطل کی حمایت اور مخالفت میں کوشاں رہتا ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے انسانوں تو کجا عرش الہی کے گرد اختلاف کرنے والے فرشتوں کے مابین بھی قیامت کے دن فیصلہ کرنا ہے کہ ان میں سے کون حق پر تھا۔ اللہ عزوجل کو حق کی وضاحت اتنی محبوب ہے کہ جہاں جزا و سزا نہیں، وہاں بھی یہ واضح کرتے ہیں کہ کون درست تھا اور کون غلط تھا۔
اس موضوع ڈاکٹر زاہد صدیق مغل کی رائے آپ پڑھ سکتے ہیں

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */