شیخ ابن عربی کا تصور کائنات و نبوت اور ان پر انکار ختم نبوت کے الزام کی تحقیق -ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

1۔ تعارف
شیخ ابن عربی کی بعض عبارات کو لے کر ایک اودھم مچا دیا گیا ہے، کوئی انہیں توحید کا منکر تو کوئی ختم نبوت کا منکر سمجھ رہا ہے۔ مناظرہ بازی کی فضا میں ان کی عبارات پر مناظروں تک کی للکاریں اٹھ رہی ہیں۔ میں شیخ ابن عربی کا کوئی ماہر تو نہیں ہوں البتہ مختلف کتب سے پڑھ کر اور "قرآت علی الاستاد" (یعنی فن کے ماھر اور استاد کے سامنے خیالات پیش کرکے انکی تصدیق کروالینے) کے طریقے پر ان کے بارے میں جو کچھ سمجھ آیا ہے، ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اسے سامنے لے آیا جائے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جائے۔ چونکہ اس معاملے میں شیخ کے نظریہ نبوت کو لے کر بحث ہورہی ہے لہذا ہم کوشش کریں گے کہ تحریر کو اسی موضوع تک محدود رکھیں تاکہ بات بہت زیادہ پھیل نہ جائے۔ یہ تحریر ان اہل علم کے لئے ہے جو علمی موضوعات کا شغف رکھتے ہیں اور اہل سنت والجماعت کے شرعی مفہومات کو درست سمجھتے ہیں۔ وما توفیقی الا باللہ

۔ 2۔ چند مقدمات کی وضاحت
شیخ کے نظریات پر گفتگو سے قبل البتہ ھم ضروری سمجھتے ہیں کہ تین مقدمات سمجھا دئیے جائیں جنہیں اس پوری گفتگو میں مفروضے کے طور پر لے کر چلنے کی ضرورت ہے اور جنہیں پیش نظر نہ رکھنے کے سبب فضول کی بحث و تکرار جنم لیتی ہے۔
• پہلا مقدمہ یہ ہے کہ دین کے تمام بنیادی تصورات (مثلا رب، نبی ، فرشتہ، آخرت، کتاب وغیرہ) جنہیں کتاب و سنت کے درست مفاہیم کہا جاتا ہے وہ صرف الفاظ نہیں بلکہ معانی و مفہوم سے عبارت ہیں۔

• دوسرا یہ کہ اہل سنت کے یہاں ان تصورات کے جن مفہومات شرعیہ (نہ کہ محض الفاظ) کو قرآن و سنت کے معیاری مفاہیم قرار دیا جاتا ہے وہ کسی ایک آیت یا حدیث سے ماخوذ نہیں ہیں بلکہ تمام نصوص کو سامنے رکھ کر انہیں تھیورائز یا سسٹماٹائز کیا گیا ہے، یا یوں کہیں یہ مفاہیم نصوص کی ایک خاص تعبیر کے نتیجے میں مقرر ہوئے ہیں۔ اس تعبیر دین کو ایک لمحے کے لئے الگ رکھ کر صرف قرآن و حدیث پیش کرکے گفتگو شروع کردی جائے تو بلا کی دھماچوکڑی مچ جائے۔

• تیسرا یہ کہ ان معیاری مفاہیم تک پہنچنے کی ایک ایسی تعبیر یا زاویہ نگاہ ہے جو اہل سنت کے متکلمین و اصولیین کے یہاں رواج پاگئی ہے۔ چنانچہ جب بھی ان الفاظ کو استعمال کیا جاتا ہے تو ذھن سب سے پہلے ان کے انہی معانی کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ایک خاص تعبیر سے پھوٹا ہے۔ البتہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ ان مفاہیم تک پہنچنے کا وہی ایک زاویہ نگاہ لازما درست ہے جو عام طور پر متکلمین کے یہاں مشہور ہے، اگر اس کے سواء کسی دوسری تعبیر سے بھی وہی مفاہیم پیدا ہوں جنہیں پہلی تعبیر کی رو سے قرآن و سنت کی درست تعبیر قرار دیا جارہا ہے تو پھر اس میں کفر و شرک اور بدعت کی کوئی بات نہیں رہ جاتی، سوائے اس سے کہ آپ "الف" نتیجے تک اپنے زاویہ نگاہ سے جبکہ دوسرا شخص اپنے طریقے سے پہنچنا چاھتا ہے اور ہر کسی کے پاس اپنے طریقہ تعبیر کو بہتر کہنے کے دلائل موجود ہوتے ہیں۔ یہ کم و بیش اصول فقہ کے مختلف مناھج کے قبیل کی چیز ہے جیسا کہ تفصیل سے واضح ہوگا، ان شاء اللہ۔ ہمارے یہاں اصول فقہ کی روایت پر شغف زیادہ ہونے کے باعث ان کے باھمی اختلافات پر تحمل کا رویہ پایا جاتا ہے جبکہ علم کلام سے اغماض کے باعث ان جہات سے توجہ ھٹ گئی ہے اور نتیجتا فتوی بازی کا بازار گرم ہوتا ہے۔ تو شیخ پر گفتگو سے پہلے ان مقدمات کو سیدھا کرنا ضروری ہے تاکہ ہوا میں اڑان بھرنے والے متکلمین کے قدم کچھ زمین پر آجائیں۔

آئیے ان مقدمات کی کچھ وضاحت کرلیتے ہیں۔ دیکھئے رب ہو یا نبی، یہ شرعی اصطلاحات ہیں۔ فرض کریں کوئی شخص کسی کے ساتھ مضاربہ کنٹریکٹ کرتا ہے جس میں لکھا ہے کہ "الف" رب المال جبکہ ب "مضارب" ہے۔ جب "ب" اس معاھدے پر دستخط کرچکے تو الف فرد ب سے تقاضا کرنے لگے کہ تم نے مجھے سجدہ بھی کرنا ہے کیونکہ رب کو سجدہ کیا جاتا ہے اور تم یہ مان چکے ہو کہ میں رب ہوں۔ ظاہر ہے یہ غلط استدلال ہے، کیونکہ کسی کو "رب" کہہ لینے سے وہ ان معنی میں رب نہیں ہوجاتا جو شرعا مقدر معنی ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ب کو مشرک کہنے لگے کہ تم نے الف کو "رب" کہہ لیا ہے تو یہ پرلے درجے کی ظاہریت پسندی ہوگی۔ اسی طرح نبی کے شرعی معنی یہ ہیں کہ ایک شخص کو خدا کی طرف سے قطعی امور کا علم دیا گیا ہے، نیز وہ واجب الاتباع ہے نیز اس کی اتباع نجات کا ذریعہ ہے۔ تو اگر لفظ نبی سے یہ تمام تصورات منہا کر کے کسی کو نبی کہا جانے لگے تو ایسا کہنے سے وہ شرعا نبی نہیں ہوجاتا۔ اگر کوئی اس کے علاوہ خود کو نبی کہے تو ہم زیادہ سے زیادہ یہی کہیں گے کہ یہ ایک غیر دلچسپ بات ہے۔ الغرض عقیدے میں استعمال ہونے والے الفاظ لغوی نہیں شرعی اصطلاحات ہیں۔

اب دوسری بات یہ سمجھئے کہ اہل سنت کے یہاں ان شرعی اصطلاحات کی جو مراد سمجھی جاتی ہے وہ بہت محنت شاقہ کے بعد نپے تلے الفاظ میں ڈھلی ہے اور اس محنت کے بعد اسے عقیدے کی متعدد کتب میں بیان کردیا گیا ہے (جیسے عقیدہ طحاویہ، عقائد نسفی یا عقیدہ واسطیہ وغیرہ)۔ مدارس میں عقیدہ سکھانے کے لئے انہی کتب کو پڑھایا جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ قرآن و سنت کے بجائے اپنے اسلاف سے عقیدہ لیا جارہا ہے تو یہ بچکانہ بات ہوگی کیونکہ اہل علم جانتے ہیں کہ ان کتب میں درج ایک ایک لفظ سینکڑوں ذھنوں کی قرآن و سنت پر محنت کا عکاس ہے۔ اب اگر کوئی اہل سنت کے اس تعبیری تناظر سے ھٹ کر قرآن و سنت پیش کرنے لگے تو کیا ہوسکتا ہے اس کے لئے مثال لیتے ہیں۔ عقیدے کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایمان اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب کا نام ہے۔ اب یہ مفہوم بڑی محنت سے وضع ہوا ہے جس کے پیچھے خوارج، معتزلہ اور مرجئہ جیسے گروہوں کے ساتھ اہل سنت کی طویل بحثیں ہیں۔ فرض کریں ایک شخص قرآن کی بعض آیات (من کفر فان اللہ غنی ۔۔الخ) اور احادیث (مثلا وہ مومن نہیں جو فلاں کام کرے وغیرہ) پیش کرکے کہنا شروع کردے کہ اہل سنت قرآن و حدیث کی واضح باتوں کو نہیں مانتے، دیکھو یہ اللہ کی کتاب اور اس کا رسول تو کہہ رہے ہیں ایسا شخص مومن نہیں لیکن یہ کہتے ہیں وہ بھی مومن ہوتا ہے۔ اب اسے سمجھانے کے لئے آپ کو جو پاپڑ بیلنے پڑیں گے وہ کسی آن لائن "یک منٹی" مناظرے کی چیز نہیں ہوگی کہ وہ شخص آدھے منٹ میں سوال کرے اور آپ ایک منٹ میں اسے پوری اسلامی تاریخ کا نچوڑ "سمجھا" دیں۔ تو یہ دوسری بات ہوئی کہ ان شرعی اصطلاحات کے معانی ایک بڑی عظیم الشان جدوجہد پر مبنی تعبیر نصوص کے مرہون منت ہیں۔

تیسری بات یہ کہ اس محنت شاقہ سے جو مفہوم مقرر ہوئے ہیں، کسی نئے خیال کی شرعی صحت کو جانچنے کے لئے ہم اسے انہی مفہومات پر پیش کریں گے نہ کہ پہیہ پھر سے ایجاد کرنے کے شوق میں قرآن و سنت کی بات لے کر بیٹھ جائیں گے۔ اگر وہ مفہوم اہل سنت کے ان مفاہیم پر پورا اترے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ قرآن و سنت کے اس لٹمس ٹیسٹ کو پاس کرچکا جو اصلا مطلوب تھا، اس کے بعد اگر کوئی لغوی جھگڑا ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ نوٹ کیجئے کہ قرآن مجید میں آتا ہے کہ اللہ نے حضرت موسی کی والدہ کی طرف "وحی" کی، یہاں تک کہ اللہ شہد کی مکھی کی طرف بھی "وحی" بھیجتا ہے، کہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ نے ہر شے کو "ھدایت دی" (خلق کل شیء ثم ھدی) اور کہیں کہا جاتا ہے کہ انسان پر تقوی اور فجور الہام کیا جاتا ہے۔ الغرض اس قبیل کی بہت سی آیات ہے۔ اب اہل سنت کی تعبیر کی رو سے اگرچہ ان آیات میں "وحی" اور "ھدایت" جیسے الفاظ موجود ہیں لیکن یہ وہ وحی اور ھدایت نہیں ہے جسے شرعی معنی میں "وحی" اور "ھدایت" کہا جاتا ہے۔ ان خاص مفہومات تک پہنچنے کے لئے نصوص کی تعبیر کا ایک خاص زاویہ نگاہ اپنانا پڑتا ہے۔ مضمون میں آنے والی تفصیلات سے معلوم ہوگا کہ ان مفہومات تک پہنچنے کا لازمی طور پر ایک ہی زاویہ نگاہ ہونا لازم نہیں ہے، ہر وہ تعبیر جو ان مفاھیم کی رعایت کرے باوجود اس سے کہ وہ ان مفاھیم تک پہنچنے کے لئے کوئی دوسرا طرز استدلال اختیار کرے، اسے کفر و شرک یا بدعت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جس طرح اصول فقہ میں حکم شرعی تک پہنچنے کے مختلف طرق اہل سنت کے یہاں مروج رہے ہیں اور انہیں برداشت کیا جاتا ہے، علم کلام میں انہیں ناممکن و ناجائز کہنے کی کوئی دلیل نہیں سوائے اس سے کہ وہ ہمارے ذوق کے خلاف ہیں۔

۔ 3۔ شیخ کی گفتگو کا علمی تناظر

اب ہم اس پوزیشن میں آگئے ہیں کہ شیخ کے نظریات پر گفتگو کی جا سکے۔ ممکن ہے بعض دوستوں کو حیرانی ہو کہ آخر شیخ کے مباحث نبوت میں ان کے نظریہ کائنات کی بحث کیوں کر شامل کی جارہی ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا تصور نبوت ان کے تصور کائنات کے ساتھ جڑا ہوا بلکہ اس سے ماخوذ ہے، لہذا پہلے اس پر کچھ روشنی ڈالنا ضروری ہے۔

شیخ ابن عربی کا نظریہ نبوت اس سوال کے جواب کی تفصیل ہے کہ خدا اور کائنات میں تعلق کی نوعیت کیا اور کیسی ہے؟ اسلامی علم کلام میں یہ چوٹی کا سوال رہا ہے اور اس میں مختلف زاویہ نگاہ موجود ہیں۔ ایک نظریہ وہ ہے جسے "نظریہ فیض" (emanationism) کہتے ہیں جس کے نمائندگان فارابی اور ابن سینا جیسے مسلم فلاسفہ ہیں۔ دوسرا نظریہ جوہری (atomist) تصور کائنات پر مبنی ہے جسے نظریہ تخلیق (creationism) بھی کہتے ہیں اور اسکی نمائندگی اشاعرہ کرتے ہیں (میرے حساب سے ماتریدیہ بھی، کیونکہ اس نکتہ نظر کے نتائج کے بارے میں یہ حضرات وہی نکتہ نظر رکھتے ہیں جو اشاعرہ کا ہے، البتہ کائناتی امور سے متعلق عقیدے کی نصوص کو اھل سنت کے نظام فکر سے جوڑے رکھنے کی اس تعبیر کو ڈویلپ کرنے کا سہرا اشاعرہ کو جاتا ہے)۔ تیسرا نکتہ نظر علامہ ابن رشد اور اور علامہ ابن تیمیہ کا ہے، علامہ ابن تیمیہ نے اشاعرہ کے خلاف اپنا کلامی نظام کھڑا کرنے کے لئے علامہ ابن رشد کے نظریات کو استعمال کیا اور اسے تھیورائز کرنے کے لئے نظریہ جوھر (atomist) کے بجائے اصحاب الھیولی کے نظریات سے استفادہ کیا ہے۔ علامہ ابن رشد اور علامہ ابن تیمیہ کے اس نظرئیے کو "قدم نوعی" (eternal creation) کا نظریہ کہتے ہیں۔ خیر یہ ایک طویل کہانی ہے جس کی تفصیل یہاں ممکن نہیں، تو اصل بات کی طرف آتے ہیں۔

خدا اور کائنات کے تعلق کو بیان کرنے کے لئے شیخ ابن عربی اشاعرہ کے نکتہ نگاہ سے نہایت قریب اور اس سے متاثر ہیں۔ اس لئے اختصار کے ساتھ اشاعرہ کا تصور کائنات واضح کرنا ضروری ہے لیکن اس نظرئیے کی ضرورت اور افادیت اس وقت تک سمجھ نہیں آئے گی جب تک مسلم فلاسفہ کا نظریہ فیض نظروں کے سامنے نہ ہو۔ کیا کروں بات پھیلتی جارہی ہے، لیکن یہ ضروری ہے، صبر سے کام لینا پڑے گا۔

۔ نظریہ فیض اور نظریہ تخلیق
مسلم فلاسفہ کے مطابق خدا اور کائنات کے مابین آگ اور روشنی کا تعلق ہے، جیسے آگ علت اور روشنی اس کا اثر ہے، یہی مناسبت خدا کو کائنات کے ساتھ ہے۔ جس طرح آگ اور روشنی بیک وقت پائے جاتے ہیں، اسی طرح خدا اور کائنات بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ ان کے خیال میں خدا اور کائنات دونوں ازل سے موجود ہیں اور خدا نے کائنات کو پیدا نہیں کیا بلکہ اس کا خدا سے ظہور ہوا (emanation) ہے۔ جیسے آگ روشنی کو پیدا نہیں کرتی بلکہ روشنی لازمی طور پر اس سے ظاہر ہوتی ہے، اسی طرح کائنات خدا کی طبع کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس کائنات میں موجود ہر شے کی اثر پزیری (potential) ان معنی میں مستقل ہے کہ جب بھی علت پائی جائے گی لازما اس کا اثر بھی پایا جائے گا۔ خدا اور کائنات کے مابین اس تعلق کے نتیجے میں خدا حقیقی ارادے سے محروم ہوجاتا ہے، وہ اپنی طبع کا پابند خدا ہوتا ہے جس سے چند آفاقی اصولوں پر مبنی کائنات وجود میں آتی ہے اور خدا ان اصولوں کا پابند ٹھرتا ہے اور اس کائنات سے باہر اور ماوراء کہیں ہوتا ہے جسے اس کائنات کے ہر ہر جزو کا علم نہیں ہوتا، وہ کائنات سے صرف آفاقی اصولوں کی سطح پر واقف ہوتا ہے۔ ظاہر ہے خدا اور کائنات کا یہ نظریاتی ربط اس باارادہ، طاقتور اور سب کچھ جاننے والی ھستی کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا جو نصوص میں بیان ہوا ہے جن کے مطابق خدا کی مرضی کے بغیر کائنات میں ایک پتا بھی حرکت نہیں کرسکتا نیز جو ہمہ وقت کائنات کا نظام چلا رہا ہے اور بندوں کی دعائیں سن رہا ہے۔

اشاعرہ اس نظریہ فیض کا پوری قوت کے ساتھ رد کرکے نظریہ تخلیق پیش کرتے ہیں امام غزالی کی "تہافت الفلاسفہ" کا موضوع مسلم فلاسفہ کے انہی الہیاتی مباحث کے ساتھ دو دو ھاتھ کرنا ہے۔ اشاعرہ کا کہنا ہے کہ کائنات جواہر کا مجموعہ ہے اور خود جوھر کے اندر ایسی کوئی صلاحیت (potential) نہیں کہ وہ خود برقرار رہ سکے یا کسی دوسرے جوھر پر اثر انداز ہوسکے (یعنی اس کی علت بن سکے)۔ جوھر کا وقت کے کسی ایک لمحے سے دوسرے لمحے میں منتقل ہونا، یہ بھی جوھر کے بس سے باہر ہے۔ یعنی جوھر نہ تو وقت کے کسی ایک لمحے میں موجود ہوسکنے اور نہ ہی ایک لمحے سے دوسرے میں منتقل ہوکر بقا حاصل کرسکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایجاد و بقا کا یہ راز دراصل خدا کی مسلسل تخلیق کا نتیجہ ہے، یعنی اللہ تعالی ہر لمحہ و لحظہ اس کائنات کو پیدا فرماتے ہیں۔ اگر خدا کا اپنے فضل سے جاری عمل خلق کو بند کردے تو کائنات ایک لمحے میں تباہ ہوجائے۔ اس تناظر میں کسی شے میں ایسی کوئی صلاحیت و خصوصیت نہیں جو اسے کسی دوسرے وجود کے ساتھ متعلق کردے، ہر شے اپنے وجود اور صلاحیت کی ظہور پزیری کےلئے خدا کے اذن اور تخلیق کی محتاج ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ خدا نے کائنات کو عدم سے وجود بخشا، یعنی ایک ایسی سٹیج (stage) بھی تھی جب یہ کائنات و مافیہا موجود نہیں تھے، پھر اللہ نے اپنے ارادے سے اسے پیدا کیا۔ یہ تصورکائنات خدا کی اس طاقتور ذات کی بھرپور نمائندگی کرتا تھا جس کی صفات قرآن و سنت میں مذکور ہیں، لہذا اہل سنت کے متکلمین کی عظیم اکثریت (اشاعرہ و ماتریدیہ) نے اسے قبول کیا۔

تو یہ ہے وہ تناظر جسے شیخ ابن عربی کا نظریہ کائنات مفروضے کے طور پر لیتا ہے اور وہ اس میں اپنے ذوق کے مطابق چند اہم اضافے فرماتے ہیں۔ بات کو جو کچھ طول دیا گیا یہ بلاوجہ نہیں تھا، اس کا مقصد ایک طرف یہ واضح کرنا تھا کہ شیخ کی گفتگو کی شرعی حیثیت کو ماپنے کا پیمانہ کونسے مفہومات نیز کونسی میتھاڈولوجی ہے اور دوسری طرف یہ واضح کرنا تھا کہ شیخ اسلامی علم کی تاریخ میں کوئی اچھوتے بندے نہیں تھے جنہوں نے گویا اچانک سے کفار کی صفوں سے اٹھ کر اس لئے اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا کہ اسلام کے تصور توحید اور ختم نبوت کو تار تار کرڈالیں اور ایسی باتیں کرنا شروع کردیں جن سے مسلمان کبھی واقف ہی نہیں تھے۔ تو دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ شیخ اسلام کی علمی تاریخ میں اہل سنت کے مجموعی نظام فکر کے اندر رہ کر ہی گفتگو کرنے والے ایک آدمی تھے، اسلامی علمیت سے واقف کاروں کے لیے ان کی گفتگو کوئی بالکل انوکھی چیز نہیں تھی (اگرچہ کوئی شیخ کے بعض نتائج سے اختلاف رکھے)۔ شیخ کی بعض عبارات کو لے کر جو شور شرابا برپا کردیا گیا ہے اور اس سے شیخ کے بارے میں جو منفی تاثر پیدا ہوچکا تھا اسے زائل کرنے کے لئے یہ تمہید بہت ضروری تھی۔ اب جبکہ اسلامی تاریخ کے اندر شیخ کی مناسبت کا پہلو سامنے آچکا، تو اب ھم ان کی گفتگو پر خود ان کی اپنی شرائط و اصطلاحات میں غور کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے اشاعرہ کے نظام فکر کے اندر صوفی ذوق کی تسکین کے ایسے اضافے فرمائے ہیں کہ بندہ اس شخص کی ذھانت کا معتقد ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا۔

۔ 4۔ شیخ کا تصور کائنات و نبوت
شیخ ابن عربی کے نظریہ کائنات کی موضوع سے متعلق ضروری تفصیلات کو ھم چند نکات کی صورت پیش کرتے ہیں:

1) ان کے مطابق کائنات خدا کی مختلف صفات کی تجلیات کا مظہر ہے۔ سب سے بنیادی سطح پر ہر موجود خدا کی صفت خلق کی تجلی ہے، اگر خدا اپنی صفت خلق کی تجلی اس کائنات پر ڈالنا بند کردے تو ہر موجود معدوم ہوجائے (چونکہ مجھے ان کے نظریہ توحید پر گفتگو نہیں کرنا لہذا ہم ان کی اس بات کی تفصیلات سے سہو نظر کرتے ہیں)۔ ہر موجود شے میں خدا کی مختلف صفات کی تجلی قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اس کی یہی صلاحیت اس کے موجود ہونے کا راز ہے۔ پتھر، درخت، جانور، انسان، جن و فرشتہ الغرض ہر ہر مخلوق خدا کی مختلف صفات کی تجلیات قبول کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں اور ان کی یہی صلاحیت انہیں ایک دوسرے سے ممیز اور درجات میں کامل تر بناتی ہیں۔ بات سمجھنے کے لیے یہ مثال سمجھیں کہ ایک پتھر خدا کی صفات "محی اور ممیت" کی تجلی کا ویسا مظہر نہیں جیسے کہ درخت، جانور یا انسان ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اس معاملے میں دوسرے سے فروتر ہے۔ نوٹ کیجئے کہ یہ بعینہہ اشاعرہ کی مسلسل تخلیق والی گفتگو ہے، البتہ شیخ اس کی تعبیر کے لئے "صفات الہی" اور اس کی "تجلیات" کے اضافے فرماتے ہیں۔ شیخ کے نظام فکر میں اشعری نظام کو بیان کیا جائے تو یوں کہا جائے گا کہ اشعری نظام فکر میں پوری کائنات خدا کی صفات علم، ارادہ و قدرت کی تجلیات سے عبارت تھی مگر شیخ اس عمل میں خدا کی سب صفات کو شامل کرلیتے ہیں جیسا کہ آگے واضح ہوگا (یہ ایک لفظی اور تعبیری نوعیت کا اختلاف ہے، ایک اشعری کے لئے یہ ماننے میں کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ وہ کائنات میں جاری خدا کی کارفرمائی سے متعلق سب صفات کو "صفات فعلیہ" کہتے ہیں)۔

2) کائنات میں موجود ہر شے کے اندر اللہ کی صفات سے کسب فیض کی صلاحیت ازل سے علم الہی میں مقدر تھی۔ علم الہی میں ازل سے مقدر شدہ ان موجودات کو وہ "اعیان ثابتہ" کہتے ہیں، اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہر شے نے صفت الہی کا مظہر بن کر جس حال میں موجود ہونا تھا، وہ ازل سے اللہ کے علم میں مقدر شدہ تھی (یعنی اللہ کے علم میں ہر ہر موجود شے اپنی اکتسابی صلاحیت کے ساتھ ازل سے ثابت شدہ تھی)۔ لیکن اس حالت ازلی میں ان اعیان ثابتہ نے وجود کی بو تک نہیں سونگھی تھی (یعنی ہر شے اس سٹیج پر "موجود" نہیں تھی) بلکہ اس کا موجود ہونا خدا کی صفات کی تجلیات کے بعد کا معاملہ ہے۔ یہ اشاعرہ کے نظام فکر کے ساتھ ان کی دوسری مناسبت ہے (یہاں تفصیل کا وقت نہیں ورنہ اس بحث میں جاتے کہ "ثبوت اور وجود" کی تقدیم و تاخیر کی بحث کا شیخ کے اس نظرئیے پر کیا فرق پڑتا ہے ، خیر یہاں یہ غیر ضروری بحث ہے۔

3) شیخ کہتے ہیں کہ اس کائنات میں ماسوائے انسان ایسی کوئی مخلوق نہیں جو اللہ کی تمام صفات کا مظہر بننے کی استعداد رکھتی ہو۔ مثلا اللہ عادل ہے، رحیم ہے، سمیع ہے، بصیر ہے، قہار ہے، جبار ہے وغیرہ وغیرہ۔ صرف انسان ہی میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اللہ کی تمام صفات کا اہنی شان کے مطابق مظہر بن سکے، بلکہ ان کے نظام فکر کی رو سے یوں کہنا بہتر ہوگا کہ انسان اللہ کی وہ خاص مخلوق ہے جس پر اللہ نے اپنی شان کے مطابق اپنی تمام صفات کی تجلی منعکس کی ہے۔ اسی لئے وہ کائنات کو عالم اصغر اور انسان کو عالم اکبر کہتے ہیں، ان معنی میں کہ انسان خدا کی تمام صفات کا مظہر ہے (یعنی اللہ کی تمام صفات سے اکتساب کی صلاحیت رکھتا ہے)۔ خود انسانوں میں بھی صفات الہیہ سے اکتساب کرنے کی یہ صلاحیت متفاوات ہوتی ہے۔ اس معاملے میں انبیاء کرام سب سے اونچے درجے پر فائز ہیں اور سب انبیاء میں نبی آخر الزمانﷺ سب سے اونچے مقام پر فائز ہیں۔ اپنی کتاب "فصوص الحکم" میں وہ یہ بحث کرتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے لے کر عیسی علیہ السلام تک ہر نبی اللہ کی کسی خاص صفت کے مظہر اتم تھے اور جناب نبی کریمﷺ وہ واحد ھستی ہیں جو اللہ کی تمام صفات کے مظہر اتم اور ان کے جامع ہیں۔ یوں سمجھئے کہ اگر موجودات کی تمام انواع کو ایک اھرام (pyramid) کی صورت رکھا جائے تو شیخ کے نظام فکر کے اندر اس اھرام میں رسول اکرمﷺ سب سے اوپر موجود ہیں۔ خوب اچھی طرح نوٹ کرلیجئے کہ موجودات کی یہ بعینہہ وہی ترتیب ہے جو اہل سنت کے مفہومات میں معیاری مانی چلی آئی ہے، اگرچہ شیخ اسے بیان کرنے کے لئے اپنا الگ زاویہ نگاہ رکھتے ہیں۔
تو یہ ہے شیخ کے نظریہ کائنات کی وہ ضروری تفصیلات جو ان کے نظریہ نبوت کو سمجھنے میں کام آنے والی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ کیا شیخ کے اس نظرئیے کی کوئی منصوص بنیادیں موجود ہیں۔ ضرورت محسوس ہوئی تو ان شاء اللہ اس پر بھی کچھ گفتگو کردی جائے گی۔

تو اب ہم شیخ کے نظریہ نبوت کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہر موجود کے اندر فیض الہی سے اکتساب کی جو صلاحیت ہے، اپنے نظام فکر میں شیخ اسے "نبوت" یا "نبوت عامہ" کہتے ہیں۔ یعنی ہر ہر شے پر اس کی استعداد کے مطابق اللہ کی مختلف صفات کی تجلیات مسلسل برس رہی ہیں اور اسی کے سبب اس کا موجود ہونا ممکن ہو پاتا ہے۔ ان کی یہ بات سمجھنے کے لئے یوں سمجھئے جیسے ہر شے میں ایک انٹینا (antena) یا ریسیور (receiver) لگا ہوا ہے جس کے ذریعے وہ خدا کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس سے سگنل وصول کررہا ہے۔ کیونکہ خدا اور کائنات کا تعلق مسلسل ہے (یعنی ایسا نہیں ہے کہ خدا کائنات پیدا کرکے کہیں الگ تھلگ ہوکر بیٹھ گیا ہے اور اب یہ کائنات ایک مشین کی طرح معین اصولوں پر از خود چل رہی ہے)، لہذا صفات الہی کی تجلیات مسلسل جاری رہتی ہیں۔ شہد کی مکھی پر وحی کا نزول ہو یا ہر ہر موجود پر صفت خلق کی تجلی منعکس کرکے اس کی استعداد کے مطابق ھدایت دینے کا عمل ہو (خلق کل شیء ثم ھدی)، یہ اس کائنات میں ہر موجود کی استعداد کے مطابق جاری رہتا ہے اور کبھی بند نہیں ہوتا۔ اس کا جاری رہنا ہی بقا کا راز ہے۔

تو دراصل شیخ یہ کہتے ہیں کہ اس کائنات کا ہر ہر ذرہ ان معنی میں نبوت عامہ سے متصف ہے کہ اس پر خدا کی کسی نہ کسی صفت کی تجلی پڑنے کا عمل جاری ہے۔ زیادہ کھلے الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ ان کے نظام فکر کی رو سے درج بالا معنی میں ایک ذرے سے لے کر کیا پتھر اور کیا درخت، کیا انسان اور کیا جن و فرشتہ، الغرض ہر ہر موجود ہر ہر لمحہ و لحظہ نبی ہے۔ تو جسے وہ "نبوت عامہ" کہتے ہیں، یہ ان کے نظام میں کوئی "شرعی اصطلاح" نہیں ہے بلکہ یہ ان کے نظام کی ایک وجودیاتی (ontological) حقیقت ہے۔ عام متکلمین کی اصطلاح میں جنہیں "مخلوق" کی عمومی کیٹیگری کہا جاتا ہے، شیخ اسے ہی "نبوت عامہ" کہتے ہیں۔

نبوت عامہ کے اس مفہوم کو وہ عربی کے لفظ "نباء" کی مناسبت سے اخذ کرتے ہیں جس کا مطلب "خبر" ہوتا ہے۔ تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کائنات میں ہر شے اللہ تعالی سے مسلسل "نباء" وصول کرنے کے عمل میں مصروف ہے، اگرچہ اسے اس کا شعور ہو یا نہ ہو (قرآن کی آیت کا مفہوم ہے کہ اللہ نے ہر چرند پرند کو اس کی تسبیح سکھائی اور وہ اس میں مصروف ہے، اسی طرح آتا ہے کہ پتھر بھی اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں وغیرہ)۔ "نباء" وصول کرنے کا یہی عمل اسے "نبوت عامہ" کے مقام پر فائز کررہا ہے۔ تو نبوت عامہ درحقیقت موجودات کا خدا سے "نباء" وصول کرنے کا تعلق ہے۔ یہ تعلق ان کے یہاں "ولایت" بھی کہلاتا ہے۔ چونکہ تمام انسانوں میں انبیاء اور سب انبیاء میں رسول اکرمﷺ اس معاملے میں سب سے بڑھ کر ہیں، لہذا انبیاء کے درجہ ولایت تک بالعموم اور رسول اکرمﷺ کے درجہ ولایت تک بالخصوص کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ یہ نتیجہ ان کی پیچھے بیان شدہ کونیات (cosmology)، یعنی موجودات کی ترتیب، سے بالکل نکھر کر سامنے آجاتا ہے۔
شیخ کی فکر میں تشریعی نبوت، ولایت اور رسالت کے مقامات کی بحث ۔

جب اللہ تعالی انسانوں میں سے کسی خاص انسان کو اس منصب پر فائز کرتے ہیں کہ وہ بندوں کی ھدایت پر مامور ہوں اور ان کی اتباع واجب ہو نیز وہ مدار نجات ٹھریں، تو یہ ان کے نظام فکر میں دراصل "تشریعی نبوت" یا "نبوت خاصہ" ہوتی ہے۔ گویا یہ جو "تشریعی نبی" ہوتا ہے یہ نباء وصول کرنے کے کسی ایسے خاص درجے پر فائز ہوتا ہے جو دیگر "غیر تشریعی نبیوں" (مراد صرف انسان نہیں بلکہ تمام مخلوقات ہیں) کو حاصل نہیں ہوتا۔ وہ صاف اور واشگاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ آپﷺ کے بعد "تشریعی نبوت" ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکی۔

یہاں رک کر ذرا اچھی طرح نوٹ کیجئے کہ:
• جسے اہل سنت کے شرعی مفاہیم میں "نبوت" کہتے ہیں بعینہہ شیخ اسے "تشریعی نبوت" کہتے ہیں۔
• جسے اہلسنت "ختم نبوت" کہتے ہیں وہ اسے ہی "غیر تشریعی نبوت کا ختم ہوجانا" کہتے ہیں۔
• نبی کے علاوہ سب انسانوں اور دیگر موجودات کے لئے اہل سنت جو مخلوق کی عمومی اصطلاح استعمال کرتے ہیں شیخ بعینہہ اسے ہی "نبوت عامہ" (عام یا غیر تشریعی نبی) کہتے ہیں۔ گویا جس طرح اہل سنت کے نظام مفاہیم میں ایک مچھر بھی غیر نبی مخلوق ہے شیخ کے نظام فکر میں ایک مچھر بھی "عام یا غیر تشریعی نبی" ہے۔ اہل سنت اگر غیر نبی صالح انسانوں کے لئے ولی وغیرہ کا لفظ استعمال کریں گے تو شیخ کے نظام میں اس کے لئے بھی "غیر تشریعی نبی" کا لفظ صادق آتا ہے۔

• جب شیخ کہتے ہیں کہ غیر تشریعی نبوت یا نبوت عامہ اب بھی جاری تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی اب بھی موجود ہے نیز اس کی صفات کی تجلیات اب بھی موجودات پر پڑ رہی ہیں، یہ سلسلہ بند نہیں ہوگیا۔ جس طرح اہل سنت کے مفاہیم میں نبی کا مبعوث ہونا یا رحلت فرما جانا خدا کے عمل خلق کے جاری رہنے یا بند ہوجانے سے تعلق نہیں رکھتا، شیخ کے نظام فکر میں تشریعی نبی (وہی جسے اہل سنت مطلقا "نبی" کہتے ہیں) کا مبعوث ہونا یا نہ ہونا نبوت عامہ سے متعلق امر نہیں ہے۔ اہل سنت کے مفاہیم میں جس طرح ختم نبوت کے بعد بھی "مخلوقات" موجود ہیں (کہ وہ ان کے لئے ایک وجودی یعنی ontological حقیقت ہے) شیخ کہیں گے کہ "تشریعی نبوت یا نبوت خاصہ" ختم ہوجانے کے بعد بھی نبوت عامہ جاری ہے (کہ وہ شیخ کے نظام میں اسی طرح کی ایک وجودی یعنی ontological حقیقت ہے جیسے اہل سنت کے لئے عمل تخلیق)۔ تو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ شیخ کے نظام میں غیر تشریعی نبی آتا یا مبعوث نہیں ہوتا، وہ تو ہمہ وقت اتنی ہی تعداد میں موجود ہوتے ہیں جتنی خدا کی مخلوقات ہیں کہ یہ ان کے لئے ایک وجودیاتی حقیقت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ان کے نظام میں "غیر تشریعی نبی کا آنا" جیسی گفتگو ایک بے جوڑ بات ہے، جو ہمہ وقت موجود ہو اس کے آنے جانے کا کیا مطلب؟

تو یہ دو مختلف تعبیری نظاموں سے جنم لینے والی اصطلاحات کی mapping کا مسئلہ ہے۔ اہل سنت کا کہنا ہے کہ نبیوں کا سلسلہ ختم ہوچکا، شیخ اپنے نظام میں اسے یوں کہتے ہیں کہ "تشریعی نبوت" کا سلسلہ ختم ہوچکا۔ ان دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں ہے، فرق ہے تو انداز بیان کا۔ اب شیخ کے اس نظام فکر پر ان کی تمام عبارات کو پیش کرکے دیکھ لیجئے کہ کیا ان میں کوئی ایسی بات ہے جو شرع اور ختم نبوت کے ان "مفاہیم" کے خلاف ہے جو اہل سنت کے یہاں مراد لئے جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو شیخ سے ضرور جھگڑا کیجئے اور اگر ایسا کچھ نہ مل سکے تو خدارا ایک مسلمان پر ختم نبوت کے فتوے لگانا بند کیجئے۔ شیخ کی ساری گفتگو میں الجھاؤ تب پیدا ہوتا ہے جب آپ اصطلاح تو شیخ کی پکڑیں مگر مفہوم دوسری تعبیری روایت سے پہنانا شروع کردیں۔ یہ تو کوئی علمی طریقہ نہیں کہ الفاظ و عبارات تو شیخ کی ہوں مگر تعبیری نظام آپ کا اور میرا۔ یہ تو ایسے ہی جیسے نیوکلاسیکل اکنامکس کا کوئی پروردہ مارکس کی کتاب میں exploitation ,price, value, utility وغیرہ جیسے لفظ دیکھ کر انہیں وہ مفاہیم پہنانا شروع کردے جو neoclassical اکنامکس کے نظام فکر میں مراد لئے جاتے ہیں اور پھر مارکس کی گفتگو سمجھنے کی کوشش کرے اور پھر اسے یہ سمجھ نہ آئے کہ "آخر مارکس ان نتیجوں کو کیوں نہیں مان رہا جو نیوکلاسیکل نظام فکر وضع کرتا ہے"، یوں آخر میں وہ مارکس کو ایک بدعتی یا کافر قسم کا نیوکلاسیکل معاشیات دان ثابت کردے۔ مارکس کے یہاں ان سب الفاظ کے معانی جب تک مارکس کے نظام فکر سے متعین نہیں کئے جائیں گے، مارکس ایک بدعتی و کافر نیوکلاسیکل ہی دکھائی دے گا۔ اب جنہیں مفاہیم کے بجائے صرف لفظوں سے بحث کرنا تھی انہوں نے لفظوں کو اچک لیا جس کی کچھ تفصیل ان شاء اللہ آگے بیان کی جائے گی۔ ذھنوں میں ایک سوال یہ بھی مچلتا ہے کہ آخر شیخ نے ایسی صطلاحات میں گفتگو کیوں کی جو کسی کے لئے الجھاؤ کا باعث بنتی۔ اس پر بھی کچھ روشنی ڈالیں گے۔

پچھلی گفتگو میں بات کو سمجھانے کے لئے شیخ ابن عربی کے تصور نبوت عامہ کو متکلمین کے تصور مخلوق سے متشابہ قرار دیا گیا لیکن یہ اس سے ذرا مختلف چیز ہے۔ شیخ کے فکری نظام میں نبوت عامہ دراصل خدا اور کائنات کے تعلق (God-World Relationship) سے عبارت ہے، جس تعلق کو اشاعرہ، ماتریدیہ و شیخ ابن تیمیہ سمیت عام متکلمین اللہ تعالی کے افعال کہتے ہیں شیخ اسے "نبوت عامہ" کہتے ہیں جو خدا اور اس کی مخلوقات کے مابین ایک تعلق کا نام ہے، ایک ایسا تعلق جو خدا کو ہمہ وقت کائنات سے متعلق رکھتا ہے، ایک ایسا تعلق جس میں کائنات کا ہر ذرہ خدا کی صفات سے فیض یاب ہو کر بقا کے درجے پر فائز ہے۔اس نبوت عامہ میں نہ کسی انسان کے خدا کی طرف سے مامور من اللہ ہونے کا تصور شامل ہے اور نہ ہی واجب الاتباع ہونے کا اور نہ ہی مدار نجات ہونے کا۔ تو یہ اہل سنت کے مفہوم نبوت کے اجزائے ترکیبی ہیں، شیخ ان ہی کے لئے تشریعی نبوت کی اصطلاح لاتے ہیں جو ان کے یہاں بھی اسی طرح ختم ہوچکی جیسے اہل سنت کے یہاں۔ جس طرح اہل سنت کے نظام میں کسی بھی مسلمان کا درج بالا تین تصورات کے ساتھ خود کو نبی کہنا اسے کافر و مرتد بنا دیتا ہے، شیخ کے نظام کی رو سے بھی اس پر یہی فتوی جاری لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان مفاہیم کے بغیر خود کو نبی کہے تو کیا اہل سنت اس کے مرتد اور واجب القتل تو کجا بدعتی ہونے کے بھی قائل ہیں؟ کسی سنی عالم و مفتی سے پوچھ دیکھئے۔ اپنی اصل میں یہ ایک غیر دلچسپ بات ہے، لیکن چونکہ ہمارے یہاں ایک خاص اور جائز وجہ سے لفظ "نبی" حساسیت کے دائرے میں آچکا ہے لہذا اب جونہی ہم کسی عبارت میں لفظ "نبی" یا "نبوت" کے جاری ہونے کی بات دیکھ لیں، تو ہمارے ذھن میں پہلا ہی نہیں بلکہ آخری خیال بھی یہی آتا ہے کہ یہ گویا انہی معنی میں نبوت جاری ہونے کی بات ہورہی ہے جس معنی میں اہل سنت لفظ نبوت (یعنی تشریع) مراد لیتے ہیں، اس کے سواء اس کا کوئی مطلب ہو ہی نہیں سکتا۔

شیخ نے جن معنی میں "نبوت کے جاری ہونے" کی بات کی ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کچھ صفحات پر مختلف رنگوں اور تصاویر چسپاں کر کے انہیں " نوٹ" کہتا ہو اور انہیں دیکھ کر دل ہی دل میں خوش بھی ہوتا ہو لیکن وہ انہیں چلانے کے لئے بازار میں نہ لائے کہ دوسرے بھی اسے قبول کریں۔ یہ جسے سرکاری معنی میں "نوٹ" کہتے ہیں یہ تو سرکاری ٹکسال سے جاری ہونے والا ایک خاص وضع کا صفحہ ہوتا ہے جسے جاری ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ یہ بازار میں چلے، لوگ اسے قبول کریں اور ہر کوئی اس سے فائدہ اٹھائے، جو اس کی اس حیثیت کا انکار کرے اسے حوالہ جیل کیا جائے۔ تو اگر کوئی شخص ذوق کی وجہ سے اپنے انفرادی نوٹ بنا کر انہیں دیکھتا رہے، چومتا رہے اور آپ کو معلوم ہو کہ وہ انہیں بھی نوٹ کہتا ہے، جبکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ وہ نوٹ نہیں جسے "سرکار نوٹ" قرار دیتی ہے، تب تک آپ اس کے اس نوٹ کو اپنے لئے غیر دلچسپ چیز سمجھ کر اگنور کردیتے ہیں (جیسے بچوں کے ھاتھ میں پکڑے ہوئے جعلی نوٹ) اور اگر اس جعلی نوٹ کے ذریعے کوئی لوگوں کو دھوکہ دینے لگا ہو تو آپ اسے اس جعلی نوٹ کا ذکر کسی کے سامنے کرنے سے منع کریں گے کہ کہیں غلط فہمی نہ لگ جائے۔ لیکن کیا اسے پکڑ کر حوالہ پولیس بھی کریں گے اور اس پر بغاوت کا مقدمہ بھی کریں گے؟ تو یہ بات ان لوگوں کے لئے جنہیں "غیر دلچسپ" کا مفہوم سمجھنے میں دشواری ہو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہر روز اسلامی بینکوں میں ھزاروں لوگوں کو مضاربہ معاھدات میں "رب" مانا جارہا ہوتا ہے، ہر کوئی اپنی تحریر کو "کتاب" لکھ رہا ہوتا ہے، کوئی اپنی دکان پر "فرشتہ پراپرٹی ڈیلر" کا بورڈ لگا لیتا ہے لیکن ہمارے ذھن میں اس سے "حقیقی رب" ، "خدا کی کتاب" یا فرشتے کے شرعی معنی سے الجھاؤ کا کوئی شائبہ پیدا نہیں ہوتا۔ تو شیخ جن معنی میں نبوت کے جاری رہنے کی بات کرتے ہیں، وہ خود شیخ کے علاوہ ہر شخص کے لئے ان معنی میں ایک غیر دلچسپی کی چیز ہے کہ اسے ماننا تو کجا پڑھنا و سننا بھی کسی کے لئے لازم نہیں۔ شیخ نے کب کہا تھا کہ جس نے میرے ان نظریات کو نہ پڑھا یا نہ سمجھا وہ گنہگار یا جہنمی ہوجائےگا؟ وہ تو ایک خاص علمی وجہ سے کچھ خاص لوگوں کے لئے ایک خاص اپچ کی نظریاتی گفتگو کررہے تھے، جو اسے سمجھنے کا اہل نہیں وہ اپنے کام میں مصروف رہے اور انجوائے کرے۔

چونکہ "نبوت عامہ" ان کے نظام میں ایک تعلق سے عبارت ہے اور تعلق دو اطراف کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، تو وہ انسان جسے اہل سنت نبی (اور شیخ تشریعی نبی) کہتے ہیں اس کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں، ایک طرف وہ نبوت عامہ سے متصف ہوتاہے جس حیثیت میں اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالی کے عرفان کے درجات طے کرتا ہے۔ اس تعلق کا وہ سرا جو خدا کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اسے وہ ولایت کہتے ہیں۔ ان کے نظام فکر میں یہ وہ مقام ہے جو نبوت عامہ سے متصف ایک ذرے سے لے کر ہر شے کو اپنی استعداد کے مطابق میسر ہے، ہر اک کا مقام دوسرے سے فروتر ہے اور نبی آخر الزمانﷺ کا مقام سب سے بلند تر ہے۔ اس انسان (جسے اہل سنت نبی کہتے ہیں) کی ایک حیثیت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بندوں کی دعوت و تشریع کے لئے مامور ہوتا اور نجات کے لئے معیار حق ہوتا ہے، اسے وہ نبوت خاصہ، تشریعی نبوت یا رسالت کہتے ہیں۔ اس شخص (جسے نبی کہتے ہیں) کے تعلق کا وہ سرا جو نبوت عامہ کے تحت خدا کے ساتھ جڑتا ہے (یعنی مقام ولایت) اس حیثیت میں وہ گویا مبدء (یعنی اللہ تعالی) کی طرف متوجہ ہے، اور وہ سرا جہاں وہ مخلوق کے ساتھ جڑا ہے (یعنی مقام رسالت)، اس حیثیت میں وہ مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تو اس تناظر میں شیخ اپنے نظام فکر میں کہتے ہیں کہ اول الذکر مقام (یعنی ولایت) موخر الذکر مقام (یعنی رسالت) سے افضل ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں ہے کہ اہل سنت جسے ولی کہتے ہیں وہ اس سے افضل ہوسکتا ہے جسے اہل سنت رسول کہتے ہیں۔ ان کے نظام فکر میں نبی کا اپنا مقام ولایت نبی کے اپنے مقام رسالت سے افضل ہوتا ہے اور جسے اہل سنت نبی کہتے ہیں اس کا مقام ولایت ٖہر اس ہر مخلوق سے افضل ہوتا ہے جسے اہل سنت غیر نبی کہتے ہیں۔ تو یہ مختلف انداز کی mapping ہے۔
الغرض شیخ کے نظام فکر میں انسان بطور مجرد (abstract) انسان زیر بحث نہیں آتے بلکہ بطور "مقامات" زیر بحث آتے ہیں۔ تو یہ مجرد ابحاث ہیں جس میں چیزوں کو جزیات سے نکال کر ایسی کلیات اور کیٹیگریز کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے کہ ان مفہومات کی رعایت بھی برقرار رہے جو اہل سنت کے یہاں معیاری مانے جاتے ہیں اور خصوصی ذوق کی تسکین کا سامان بھی میسر آتا رہے (اس کی تفصیل کا یہاں وقت نہیں کہ شیخ کے نظام میں کس طرح بہت سی آیات کی زیادہ بہتر تفسیر سمجھ میں آتی ہے)۔

۔غلط فہمیوں کی بنیاد
آگے کی بات سمجھانے کے لئے ہم اپنے دوستوں کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ شیخ ابن عربی پر شیخ ابن تیمیہ نے ان کے توحیدی تصورات کی وجہ سے تو فتوی جاری فرمایا اور جس کی ایک طویل روایت ملتی ہے، لیکن سوال یہ ہےکہ کیا شیخ ابن تیمیہ نے شیخ پر ختم نبوت کے منکر ہونے کا فتوی بھی جاری فرمایا تھا؟ ہماری ناقص معلومات کی حد تک اس کا جواب نفی میں ہے، جی ہاں شیخ ابن تیمیہ شیخ ابن عربی کو منکر ختم نبوت نہیں کہتے اس لئے کہ وہ شیخ کی گفتگو کو ان کی اصطلاحات میں سمجھتے تھے۔ تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی گفتگو جو اصلا شیخ ابن تیمیہ جیسے عبقری نقاد کے لئے بھی غیر دلچسپ رہی وہ یکدم اتنی دلچسپ کیسے ہوگئی؟ آخر ایسا کیا ہوا ؟ اس کا جواب قادیان میں ایک جھوٹے نبی کا واقعہ ہوجانا اور پھر شیخ کی بات کا بتنگڑا بنادینے والوں کا ظاہر ہوجانا ہے۔

قادیان کا یہ جھوٹا شخص دعوی کرتا ہے کہ میں انہی مفاہیم میں نبی ہوں جن معنی میں اہل سنت کسی کو نبی کہتے ہیں، یعنی مامور من اللہ، واجب الاتباع اور مدار نجات۔ اب اس مفہوم کے لئے لفظ کوئی (مثلا ظلی وغیرہ)اختیار کرلیا جائے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ علماء جانتے ہیں کہ اصل اعتبار لفظ کا نہیں مفہوم کا ہوتا ہے۔ لہذا امت جھٹ سے اس کے جھوٹ کو پہچان جاتی ہے لیکن یہ شخص اپنی جھوٹی نبوت کے لئے قرآن کی آیتوں سے استدلال کرتا رہا، اس نے خیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیخ ابن عربی کی ان عبارات، جن میں نبوت عامہ بطور ایک وجودی کیٹیگری کے جاری رہنے کی گفتگو ہے ، اسے نبی بطور تشریعی کیٹیگری کے جواز کے لئے پیش کرنا شروع کردیا۔ پیر مہر علی شاہ گولڑوی (برصغیر میں شیخ ابن عربی کے ایک بڑے شارح) نے اس جھوٹے شخص کی زندگی میں ہی اپنی کتب میں اسے کا جواب لکھ دیا تھا کہ تم نے شیخ کی عبارات کے ساتھ ظلم کیا ہے لیکن پیر مہر علی شاہ کی کتابوں کے ایک ایک صفحے کو پڑھنے کے لئے دماغ کو قوت فراہم کرنے کے معجون کھانے پڑتے ہیں، ان کے انداز بیان سے خود کو مانوس کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر بات پلے پڑتی ہے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ یہ جھوٹا نبی امت کی کمر میں خنجر گھونپ کر ایک متوازی امت کھڑی کرکے چلا گیا، اے کاش کوئی وقت پر اس کا بھی بندوبست کردیتا، خیر۔ اگر شیخ کے سامنے یہ جھوٹا شخص کہتا کہ میں مامور من اللہ، واجب الاتباع اور مدار نجات نبی ہوں اور تم نے لکھا ہے کہ نبوت جاری ہے، تو شیخ ایک لمحہ صرف کئے بغیر اسے مرتد قرار دیتے کیونکہ یہ اسی نبوت کے اجراء کا دعوی تھا جو شیخ کے نظام فکر میں ختم ہوچکی۔

ایک جھوٹے نے اگر شیخ کے کلام کے ساتھ خیانت کی تو کمی انہوں نے بھی نہیں کی جنہوں نے شیخ کی انہی عبارات کو اس جھوٹے کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کے واسطے اس کی طرف سے کھڑے ہوکر علماء اور عام مسلمانوں کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا کہ "دیکھو تمہارا اتنا بڑا بندہ جسے تم شیخ اکبر کہتے ہو، وہ بھی تو نبوت جاری رہنے کا قائل ہے ، تو اگر تم اس کے کلام کی تاویل کرتے ہو تو مرزے کو بھی یہ ڈسکاؤنٹ دے دو"۔ یہ ایک جھوٹ تھا جو ان لوگوں نے اپنے قلت تدبر اور سوئے فہم کے سبب شیخ ابن عربی پر گھڑا، پھر اس پر اصرار کرتے چلے گئے اور یہ اصرار آج بھی جاری ہے اور آئے روز ٹی وی پروگراموں میں بڑے طمطراق سے اسے علمی بات اور اعتراض سمجھ کر دھرایا جاتا ہے۔ "ختم نبوت" پر ڈاکہ زنی کرنے والے ایک گروہ کی موجودگی کی وجہ سے لفظ "نبی" کے ارد گرد جو حساسیت پیدا ہوچکی تھی عام ذھن تو کجا اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس سے متاثر ہونے لگے اور انہیں بھی شیخ کی گفتگو میں وہی معنی دکھائی دینے لگے جو ایک جھوٹے نے اور اس جھوٹے کی بات کو بڑھاوا دینے والوں نے پھیلا دئیے۔ یوں پوری فضا مکدر ہوگئی۔ کوئی علم کی بات سننے کو تیار نہیں، بس ایک ہی سوال دھرائے چلے جارہے ہیں: شیخ کی کتاب میں ایسا "لفظ" بھی کیوں ہے جس سے یہ ابہام ہو۔ شاید شیخ کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کے کلام پر بونوں نے بھی منصف بن کر بیٹھنا ہے۔

۔5۔ خاتمہ: ایک غلط فہمی کی ازالہ
تو اب جبکہ شیخ ابن عربی کے تصور نبوت پر گفتگو ہوچکی اور فضا کچھ صاف ہوگئی، تو آخر میں شیخ ابن عربی اور شیخ ابن تیمیہ کے قضیے پر بھی چند الفاظ لکھ دینا ضروری محسوس ہوتا ہے، کہیں کوئی شیخ ابن تیمیہ کو بھی بونا سمجھنے کی غلطی نہ کربیٹھے۔ یاد رہے کہ شیخ ابن تیمیہ نے شیخ ابن عربی کے ساتھ مباحث نبوت کی ان بحثوں میں سینگ پھنسائے ہی نہیں ہیں جنہیں مابعد مرزا قادیان دور میں مسائل بتا کر پیش کیا جارہا ہے۔ وہ تو بحث ہی کچھ اور ہے۔ جو لوگ نہ صرف اسلامی علمی روایت، بالخصوص کلام و عقیدے، کی تاریخی ارتقاء بلکہ فلسفے کے مباحث سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ شیخ ابن عربی نے "خدا اور کائنات کے تعلق" کے چوٹی کے سوال کا جواب دینے کے لئے جو فکری اپچ اختیار کی وہ کسی عبقری خیال سے کم نہیں، وہ ھسٹری آف آئیڈیاز میں بلا شبہ ایک چوٹی کی سطح کا ایسا جینون اضافہ تھا جو نصوص کے ساتھ منسلک رہتے ہوئے فکری پیاس بجھانے والوں کی تسکین کا سامان فراہم کرنے کی کاوش تھی۔ شیخ کی بلند خیالی جس سطح کی abstraction پر پہنچ کر چیزوں کو تھیورائز کرتی ہے اسے صرف فتوے سے نہیں گرایا جاسکتا تھا، اس کے لئے لازم تھا کہ ناقد بھی اپنی فکری پتنگ اڑا کر پہلے اس سطح تک بلند کرے جہاں شیخ ابن عربی کی پتنگ اڑ رہی تھی اور پھر اس کے ساتھ برابری کا پیچ لڑائے۔ امام غزالی مسلم فلاسفہ کے ساتھ اس طرح کے فکری پیچوں کے منہج کی داغ بیل ڈال چکے تھے۔ تو خوب جان لیجئے کہ شیخ ابن تیمیہ نے شیخ ابن عربی پر صرف فتوی نہیں لگایا بلکہ اپنی کلامی فکر کی اڑان کو انہی کی سطح پر بلند کیا، پھر یہ دکھایا کہ ان لوگوں کی فکر میں چند غیر ثابت شدہ اور غیر صحت مند مفروضات ہیں، یوں انہوں نے شیخ ابن عربی کے فکری نظام کی پتنگ کو کاٹ سکنے والی تیز دھار ڈور فراہم کی۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کچی ڈور سے شیخ ابن عربی کی پتنگ کاٹ سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے، اس کے لئے وہ تیز دھار کی ہی ڈور درکار ہے جو شیخ ابن تیمیہ نے ڈویلپ کی۔ لیکن اسے سمجھنا کون چاہتا ہے، یہاں کتنے ہیں جنہیں "الرد علی المنطقیین "پڑھنے کا ذوق ہو؟ جو شخص شیخ ابن تیمیہ کی اس کتاب اور اس کتاب کے تاریخی تناظر کو نہیں سمجھتا وہ کبھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ شیخ ابن تیمیہ کے پاس وہ کونسی ڈور تھی جس سے انہوں نے شیخ ابن عربی کی بلند پرواز پتنگ کو کاٹ ڈالنے کا دعوی کیا۔ ان دونوں شیوخ کا یہ باہمی قضیہ اس قدر دلچسپ اور فکر کی اس بلندی کا غماز ہے کہ اگر کوئی علم کا ذوق رکھنے والا شیخ ابن تیمیہ کی طرف سے شیخ ابن عربی کی تکفیر کو ایک طرف رکھ کر ان کی پوزیشنز کو سمجھ کر ان کی بحث کو پڑھنا شروع کردے تو آخر میں وہ یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا:

واللہ شیخ ابن عربی جیسا عبقری دماغ اسی کا مستحق تھا کہ اسے شیخ ابن تیمیہ جیسا عبقری دماغ ٹکراتا: a soldier deserves a soldier ۔
جب ھاتھیوں کا مقابلہ ہورہا ہو تو مجھ جیسے چوہوں کو ان کی لڑائی سے باھر ہی رھنا چاہئے۔ اللہ ان دونوں شیوخ پر اپنی رحمت فرمائے۔
اس موضوع پر آپ حافظ محمد زبیر کی رائے بھی پڑھ سکتے ہیں

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشمن۔
    اہل سنت کے آفیشل عقیدے کی نئی پرسنٹیشن؛
    اہل سنت کے عقائد قرآن و سنت پر مبنی نہیں ہیں بلکہ قرآن و سنت کے مجموعے کی نظری تشکیل theorization of sum total of Kitab o Sunnat ہیں۔ اب اہل سنت کے عقائد کو آپ قرآن مجید کی کسی آیت سے بلاواسطہ متصادم دیکھ کر رد کر سکتے اور نہ ہی قرآن مجید سے بلاواسطہ ان کی تائید ضروری ھے۔
    انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    انا للہ و انا الیہ راجعون۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */