یوم آزادی اور تین پیغام - عبد اللہ بن مسعود

آج وہ دن ہے جس دن قربانیاں دے کر، خونوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ملک پاکستان حاصل کیا گیا…بچے کیا، بوڑھے کیا، جوان کیا، عورتیں کیا سبھی نے اپنی جانوں کو وطن عزیز کے حصول کے لیے داؤ پر لگا دیا تھا…یہ آزادی کا دن اور ان جانثاروں کی قربانی ہم سے کچھ باتوں کا تقاضہ کرتی ہے:

1۔ہم اپنے ارد گرد کے ممالک کاجائزہ لیں تو کئی ایسے ممالک نظر آئیں گے جہاں عوام پرظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، لوگوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں، مسلمانوں کے لیے اپنے دینی تشخص کو قائم رکھنا ایک جرم سمجھا جاتا ہے، خاندان کے خاندان اجاڑ دیے جاتے ہیں، مردوں کے ساتھ عورتیں بھی اپنے دوپٹے کے دفاع وحفاظت پر مجبور ہوگئی ہیں.. . زیادہ دور نہ جائیں پڑوس میں بسنے والے کشمیر کے حالیہ حالات سے ہی سبق حاصل کرلیا جائے..، فلسطین، شام اور افغانستان میں بھی اسی طرح کے حالات سے مسلم امہ دوچار ہے۔اس کے برعکس سرزمین ِپاکستان میں بحمد اللہ مسلمان سکھ کا سانس لے رہا ہے، نسبتاً امن وامان ہے، یہاں کا بچہ بوڑھا، مرد وعورت آزادی سے اپنے طور طریقوں، اپنی ثقافت وتہذیب کو اختیار کیا ہوا ہے۔

یہ امن وسکون ،آزادی چھننے نہ پائے!

نعمت کی ناقدری نعمت کو چھین لیتی ہے!

نعمت کی قدردانی کے لیے

الف:بھرپور جذبۂشکر کے ساتھ دو رکعت نفل کی ادائیگی کی جائے...کسی بھی فرض نماز کے ساتھ متعین کرلیں تو یاددہانی بھی رہے گی...

ب: ایسے جملوں سے پرہیز کریں جن سے ناشکری، ناقدری ٹپکتی ہو.. جیسے:کیا رکھا ہے اس ملک میں؟ ، اس ملک نے دیا کیا ہے؟، یہاں کی تو ہر چیز ہی دو نمبر ہے.وغیرہ

2۔اپنی ثقافت وتہذیب کو فخر کے ساتھ اپنائیں، اپنی زبان اردو کے بولنے میں ذرا بھی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں، اتنے اطمینان، فخر اور سر کو بلند کرکے اپنی زبان بولیں کہ سامنے والا اگر انگریزی بول کر کچھ جتلانا بھی چاہ رہا ہوں تو وہ خود ہمارے اطمینان کے سامنے شرمندہ ہوجائے اور اس کو احساس ہوجائے کہ میں اپنے ملک کی زبان نہ بول کر خود اس کی قدر گرارہا ہوں بلکہ اپنی قدر گرا رہاہوں..

ہر گز ہرگز ایسا تو کیا ہی نہ جائے کہ اردو اور انگریزی کو خلط ملط کرکے آم کی بجائے Mango ، کیلے کی بجائے Banana، چمچہ کی بجائے Spoon ، اور جزاک اللہ خیراً کی بجائے Thanks وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کیے جائیں.یہ ہماری اپنی نسل و اولاد کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔۔۔آہستہ آہستہ خدانخواستہ ایسا وقت نہ آجائے کہ جو الفاظ انگریزی کے ہمارے بچوں کی زبانوں پر چڑھ گئے ہیں ان کی اردو ہی بھول جائیں اور جیسے ہم بہت سے الفاظ اپنی مادری زبان کے نہیں سمجھ پاتےکہیں یہ کمی اور نقص ہمارے بچوں میں نہ آجائے۔۔۔لہذا اردو بولیں تو پوری اردو بولیں فخر کے ساتھ ملاوٹ کیے بغیر.. اور انگریزی بولنی پڑ جائے تو انگریزی بھی ایسی کہ سامنے والا داد دیے بغیر نہ رہے۔

ایسے حال سے اللہ حفاظت رکھے کہ اردو بھی لنگڑی لولی اور انگریزی کی نوبت آئے تو اس میں بھی کمال حاصل نہ ہو یعنی نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔آخرایک مسلم پاکستانی اغیار کی طرف نظر اٹھائے ہی کیوں؟ ، ان کی تہذیب، طرزِ زندگی، ہیئر اسٹائل، ان کی زبان کو اپنائے ہی کیوں؟ جب سب کچھ اس کے پاس اپنا موجود بھی ہو، اپنی زبان، اپنی معاشرت،اپنے رہن سہن کے طریقے۔17 فروری 1938ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائد اعظمؒ نے بھی اسی پیغام کی دعوت اور اسلامی ثقافت سے اپنی محبت کا اظہارفرمایا، چنانچہ ان کا ارشاد ہے:"مجھے اپنے اسلامی کلچر اور تہذیب سے بہت محبت ہے، میں ہر گز نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسلیں اسلامی تمدن اور فلسفہ سے بالکل بیگانہ ہوجائیں" لہذا آج کے دن ہم اپنے اِس عزم کی تجدید کریں کہ اپنی تہذیب، اپنے طور طریقے اور اپنی زبان کوفخر کے ساتھ اپنائیں گے۔

3۔تیسرا اہم کام یہ کرلیں کہ جن کی قربانیوں کی بدولت ہم یہ سکون کا سانس لے رہے ہیں اور کشمیر و فلسطین جیسی حالت مسلمانان پاکستان کی نہیں ہے ان مرحومین کے لیے کم از کم اسی وقت 3 بار سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب ان کی روحوں تک پہنچا دیں، اوراس کا معمول بنالیں کہ اپنے تمام مرحومین اور ان شہداء کے لیے کچھ نا کچھ ایصال ثواب کیا جائے۔آخر میں ایک درخواست کہ اپنے تمام بھائیوں(ہر مسلمان ایک دوسرے کا بھائی ہے اور یہ رشتہ ہم نے خود نہیں بلکہ ہمارے رب نے قائم فرمایا ہے)وہ کشمیر کے ہوں یا دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والے ان کو اپنی روزانہ کی دعا میں شامل کرلیں اور ان کے لیے ہمدردی کا جذبہ رکھا جائے۔دوسرے کے لیے دعا کی برکت سے وہ دعا ہمارے حق میں بھی قبول کی جاتی ہے اور فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے.اللہ ہمیں سچامسلمان ، مخلص پاکستانی اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کو درد محسوس کرنے والا بنائے۔آمین

پاکستان زندہ باد

پاکستان کا مطلب کیا

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */