آؤ اک عہد کریں - ام محمد سلمان

یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب میں دوسری جماعت میں پڑھا کرتی تھی۔ اردو کی درسی کتاب میں حمد کے بعد سب سے پہلا سبق تھا "میرا پیارا پاکستان"لکھنے والے نے قلم کو پور پور محبت میں بھگو کر لکھا اور استانی جی نے بھی وطن کی محبت میں ڈوب کے خوب محنت اور چاہت سے سبق پڑھایا۔ اب اتنے پرخلوص جذبوں کا اثر تو ہونا ہی تھا اور ہم اسی دن گھر جا کر اماں کے سامنے مچل گئے کہ ہمیں اپنے وطن پاکستان جانا ہے۔

اماں نے پہلے تو ہونقوں کی طرح ہماری شکل دیکھی اور پھر بولیں..."یہ پاکستان ہی ہے میری لاڈو! ہم پاکستان میں ہی رہتے ہیں۔" "نہیں اماں! یہ پاکستان نہیں ہے۔ ہماری کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان ایک بہت خوب صورت اور ہرا بھرا ملک ہے۔ پاکستان ایک باغ ہے اور اس میں رنگ رنگ کے پھول کھلتے ہیں۔ اماں! بس مجھے پاکستان جانا ہے۔" ہم کسی ضدی بچے کی طرح اٹھلائے۔اماں پھر چمکار کے بولیں."ارے میری لاڈو ! یہی پاکستان ہے!"

"لیکن یہاں نہ ہرے بھرے درخت ہیں اور نہ رنگ رنگ کے پھول ہیں نہ باغ میں کوئل کوکتی ہے، نہ پرندے اڑتے ہیں نہ چشمے بہتے ہیں..." ہم نے ایک بار پھر گلی میں نکل کے اردگرد کا جائزہ لیا اور اماں کو یقین دلانے کی بھرپور کوشش کی کہ یہ وہ پاکستان نہیں ہے، جو ہماری درسی کتاب میں لکھا ہے۔ اماں نے ایک نگاہِ غلط انداز ہم پر ڈالی اور پھر سے ہاتھ والی سوئی سے تکیے کا غلاف سینے میں مشغول ہو گئیں اور ہم منہ لٹکائے چوکھٹ پہ جا کر بیٹھ گئے کہ جانے ہمارا پیارا پاکستان کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ کبھی ہمیں دیکھنا بھی نصیب ہوگا یا نہیں.دراصل ہوا یوں تھا کہ کتاب میں پاکستان کی خوب صورتی کا ذکر پڑھ کے ہماری ننھی منی سمجھ دانی کو یہ لگا کہ پاکستان ایک بہت بڑا باغ ہے اور ابا حضور مکان تبدیل کرنے کے چکر میں شاید غلطی سے اس باغ یعنی پاکستان سے باہر نکل آئے ہیں اور ہمیں اس غلطی کو سدھارتے ہوئے اپنے ہرے بھرے وطن میں واپس لوٹ جانا چاہیے۔ مگر وہی بات کہ نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے، سو ہماری بات بھی کسی نے توجہ سے نہ سنی۔

اب کیا بتائیں ہم اس غم کو دل میں لیے کتنے دن اداس پھرتے رہے کہ جانے کب اپنے پیارے پاکستان جانا نصیب ہوگا۔ یہ سب مل کر ہمیں بہلا رہے ہیں کہ یہی پاکستان ہے۔ حالاں کہ ایسا کچھ نہیں! ہم نے پھر اپنے اردگرد کے نظاروں کو دیکھا... کچی پکی لال اینٹوں کے بنے مکانات تھے... لمبی لمبی گلیاں تھیں... اور بس!! جو سبزہ، نہریں اور کھیت کھلیان تھے وہ تو آبادی سے دور تھے پر ہمارے ننھے منے دماغ میں یہ بات بیٹھ ہی کہاں رہی تھی۔ہمیں تو بس ایک سچ مچ کا باغ چاہیے تھا جس میں ہرے بھرے پودے رنگ برنگے پھول اور نت نئے پرندے اڑ رہے ہوں... اور اس باغ کا نام ہو پاکستان!کتنے ہی دن خیالوں کی بستی میں بلبل بن کے ہم اس باغ میں اڑتے پھرے۔ کبھی کبھی دل میں بڑی درد بھری سی ٹیس اٹھتی... ہائے میرا پاکستان....! جانے کہاں ہے؟

پھر کئی دن گزر گئے اور بچپن کی وہ عادت جو سارے بچوں میں ضرور ہوتی ہے کہ تھوڑی دیر بعد ہر غم بھول کر کسی نئی سرگرمی میں مگن ہو جاتے ہیں سو ہم بھی اپنے مٹی کے برتن بنانے میں مشغول ہو گئے۔ پھر ایک دن اماں نے ہمیں ایک بڑا خوب صورت سا جوڑا سی کر دیا اور کہنے لگیں.. "نہا دھو کے پہن لو، آج چودہ اگست ہے!" اور ہم خوشی خوشی جوڑا پہن کر ٹی وی کے سامنے جا کر بیٹھ گئے، جہاں بڑے خوب صورت ملی نغمے چل رہے تھے۔ پاک افواج کی پریڈ دکھائی جا رہی تھی. چاروں صوبوں کی ثقافت دکھائی جا رہی تھی۔سبز ہلالی پرچم لہرائے جا رہے تھے۔ ملک سے وفاداری کے عہد کیے جارہے تھے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دل عجیب سے جذبوں اور تمناؤں سے بھر جاتا تھا۔پاک فضائیہ کے اڑتے جہازوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں ارمان کروٹیں لیتے کہ بڑے ہو جائیں ذرا... پھر دیکھنا کیسے جہاز اڑا کر دشمن کے دانت کھٹے کریں گے ان شاء اللہ ۔انہی جذبوں کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ بچپن رخصت ہو گیا اور ہم پاک فضائیہ کے خواب ہی دیکھتے رہ گئے!

خواب تو کئی تھے جن میں ایک کشمیر کی آزادی کا بھی تھا جو بچپن سے دیکھا اور آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ کتنے ہی جشنِ آزادی گزر گئے مگر ہم کشمیر کے گلے سے غلامی کا طوق نہ نکال سکے!لیکن آج بھی امید ہے ایک نہ ایک دن کوئی مردِ مجاہد ضرور اٹھے گا اور میرے کشمیر کو آزاد کروائے گا۔بچپن میں جب ہم یومِ آزادی منایا کرتے تھے تو ہمارے دل اپنے وطن کی محبت سے معمور ہوتے تھے. اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کر کے اشک بار ہو جایا کرتے تھے۔ اپنے بڑوں سے تقسیمِ ہند اور ہجرت کے واقعات سن کر دل گداز ہو جایا کرتا تھا۔ مقصد کو جلا ملتی تھی۔ رب العزت کا شکر ادا کرتے تھے کہ ہم کسی غلام ملک میں نہیں بلکہ اپنی آزاد سرزمین میں سانس لیتے ہیں آزادی سے جیتے ہیں۔یومِ آزادی پر ہماری واحد عیاشی پاکستانی پرچم کا بیج ہوا کرتا تھا، جسے بڑے فخر کے ساتھ اپنے سینے پر آویزاں کر لیا کرتے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا گویا بارِ آزادی اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے اور ایک دن اس وطنِ عزیز کا قرض چکانا ہے چاہے اس کے لیے خون کی آخری بوند بھی قربان کرنی پڑ جائے۔

یہ وطن جو لا الہ الا اللہ کے نام پر بنا.یہ وطن جو اسلام کا قلعہ بننے کے لیے وجود میں آیا.یہ وطن جو مسلمانوں کی عظیم پناہ گاہ ہے جہاں شریعت کا نفاذ کرنا ہمارا اولین مقصد تھا.یہ وطن جو ہر طرح سے قدرت کے حسین نظاروں اور وسائل سے مالا مال ہے۔ ایک وقت تھا جب اس قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی اور آج وقت ہے جب اس ملک کو ایک قوم کی ضرورت ہے! ہم نے اپنے آپس کے جھگڑوں اور اختلافات میں پڑ کے اس ملک و ملت کو بہت نقصان پہنچایا ہے ہماری ترقی کا راز تو اتحاد و اتفاق میں مضمر تھا مگر ہم سب اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھ گئے۔ ہم نے اس ملک کو صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا، کبھی اس کے مفاد کا نہیں سوچا، کبھی اس کے مقصد پر غور نہیں کیا.

اس زمیں کی مٹی میں، خون ہے شہیدوں کا

ارضِ پاک مرکز ہے، قوم کی امیدوں کا

دیکھنا گنوانا مت، دولت یقیں لوگو!

یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو!

اب ضرورت ہے کہ ہر فرد اس ملک کی ترقی و کامیابی میں اپنا حصہ ڈالے، چاہے وہ صرف اور صرف اپنے گلی کوچوں کی صفائی کی حد تک ہی محدود ہو،چاہے وہ اپنے اخلاق کی درستی ہو اپنے گھر والوں اور ماتحتوں سے نرمی اور شفقت کا سلوک ہو، چاہے وہ اپنی چھوٹی سی کریانے کی دکان کو ایمان داری سے چلانے تک ہی محدود ہو۔چاہے وہ مدرسہ و اسکول میں اساتذہ کا اپنے طلبہ کو شفقت اور دیانت داری سے پڑھانے تک محدود ہو۔چاہے وہ ڈاکٹر حضرات کا اپنے مریضوں کو گاہک نہیں بلکہ مریض سمجھ کر صحیح اور بر وقت علاج کرنے تک محدود ہو۔
چاہے وہ ایک ماں کا اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے تک محدود ہو.اور ماں باپ کا بچے کو اچھی تربیت دینا یقیناً ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی تربیت ہے۔ آج بازاروں میں رنگ برنگے بیج، ٹوپیاں، شرٹ، چوڑیاں اور نہ جانے کیا کیا الم غلم جشن آزادی کے نام پر بک رہا ہے مگر بھرے اسٹالوں کے ساتھ ہی کچرے کے ڈھیر پڑے ہیں اور کسی کو پروا نہیں... یومِ آزادی کی روح ختم ہوگئی، بس ایک رسم رہ گئی جسے ہم ہرے سفید کپڑے پہن کے نت نئے رنگوں کی جھنڈیاں لگا کے پورا کر لیتے ہیں ۔ ہماری موجودہ نسل جانتی ہی نہیں اس آزادی کے پیچھے کتنی قربانیاں دی گئی ہیں۔ ہماری یہ نسل وطن سے محبت تو کرتی ہے مگر محبت کے تقاضوں سے نا آشنا ہے ۔

کیا ہی اچھا ہو اس بار چودہ اگست ہم اس طرح منائیں کہ اپنے گلی کوچوں محلوں کو صاف ستھرا کریں اور اپنے آپ سے ایک عہد کریں کہ آج کے دن وطنِ عزیز کو اس کی منزل تک پہنچانے کے لیے اپنے اندر سے ایک بری عادت کا خاتمہ کریں گے اور پورے سال اس پر قائم رہ کر اگلے سال پھر ایک بری عادت کو چھوڑنے کا عزم مصمم کریں گے، چاہے وہ بری عادت سگریٹ پینے کی ہو، گٹکا اور ماوی جیسی مضر صحت چیزیں کھانے کی ہو، گالم گلوچ کرنے کی ہو، لوگوں پر منفی تبصرے کرنے کی ہو، بد دیانتی کی ہو، بد تہذیبی کی ہو یا بد دینی کی ہو فحاشی اور بے حیائی کی ہو.عہد کیجیے اپنے وطن عزیز کی سلامتی اور بقا اور اپنے رب کی دی اس عظیم نعمت کی شکر گزاری کے طور پر کوئی ایک وعدہ آج اپنے آپ سے ضرور کریں گے!!
اور اپنے جسم و جاں سے اس عہد کو نبھانے کی بھرپور کوشش کریں گے ۔ ان شاء اللہ العزیز

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */