یہ وطن ہمارا ہے- نبیلہ شہزاد

14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آنے والا اور دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والا ایک نیا ملک پاکستان جس کے نام کا مطلب ہی پاک سر زمین ہے۔ ایسی پاک سر زمین جو ہماری رب کے سامنے رکنے کے لیے سجدہ گاہ ہے۔ جس کی مٹی کو ہم ماں کی گود سے بھی زیادہ نرم و لطیف، پُر حصار اور پُر مشفق سمجھتے ہیں جب دنیا کے کسی کونے میں بھی چلے جائیں پل پل اپنا ملک یاد آتا ہے اور جب اپنے ملک سے منسوب کوئ چیز دیکھنے کو ملتی ہے تو رغبت و محبت سے اس کی طرف لپکتے ہیں اور ایسا ہو بھی کیوں نہ؟

کیونکہ میرا ملک پاکستان دنیا کا ایک بہترین خطہ ہے۔ کون سی دنیا کی ایسی نعمت ہے جو پاکستان میں نہیں سوائے مسجد الحرام خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی روضہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے۔
پاکستان جغرافیائی اور موسمی لحاظ سے بہترین، معدنی و زرعی لحاظ سے امیر ترین، قدرتی حسن و سیاحتی لحاظ سے سحر انگیز ملک ہے۔ اس لیے تو پاکستان سے دور جا کر ہم چند دنوں میں پاکستان سے اداس ہو جاتے ہیں۔

ہم میں اکثر لوگ اپنے وطن کے حالات کے بارے میں شکوہ کناں ہیں۔ ہمارے مالک نے تو ہمیں پاکستان کی صورت میں بہترین مسکن دے دیا ہے اور قرآن کی صورت میں لازوال دستور۔۔۔۔۔۔
کیا ہم نے اس مسکن کی قدر کی اور اس کے دستور کو نافذ العمل بنایا۔ کیا ملکی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لیے اختیارات کی کرسیوں پر براجمان لوگ ہمارے ہی منتخب کردہ نہیں۔ کیا ہمارے کئ ذہین اور خوب قابلیت رکھنے والے لوگ بیرون ِ ممالک میں اپنے وطن کے بجائے دوسروں کے لیے خدمات انجام نہیں دے رہے اور مقصد صرف بھاری معاوضہ۔ لیکن اب وقت آگیا ہے اس عہد کا۔ اب ہم اپنے گلشن کو خود سنبھالیں گے۔

اس کی پاسبانی و محافظت سے کبھی غافل نہ ہوں گے۔ اس کی عزت و حرمت پر کبھی آنچ نہ آنے دیں گے۔ اس کی قیادت اللّہ و رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرماں بردار، صادق و امین اور صالح لوگوں کے ہاتھ میں دیں گے کیونکہ یہ وطن ہمارا ہے اور ہم ہیں پاسباں اس کے۔۔۔۔۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */