طوطا کہانی - عظمٰی ظفر

جانے کہاں سے شامت کا مارا ایک آسٹریلین طوطا میرے گھر میں دروازے پر آکر بیٹھ گیا میری نظر اس پر پڑی تو اسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ پکڑنے کے لیے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا وہ پُھررر،،، دوسری جانب کھڑکی پر بیٹھ گیا میں نے وہاں سے پکڑنا چاہا، ابھی اسے ہاتھ لگا ہی تھا کہ اس کی دم کا ایک بڑا پر میرے ہاتھ میں آگیا۔آئیں،،،!!! یہ قربانی کا جانور ہے کیا؟ جس کا پَر سینگ اور کھال کی طرح چپکا دیا گیا ہو؟

لو جی،،، یہ تو اڑنے سے گیا، اب طوطا بے چارا باآسانی ہمارے چنگل میں آگیا۔ بچے تو طوطے کو دیکھ کر بہت خوش اور طوطا پورے گھر میں ٹہلتا پھرے۔ بچے اس کے پیچھے پیچھے طوطے میاں نوشے بنے آگے آگے،میں دانہ دنکا کیا دیتی؟ گھر میں سب ہی انسان کے بچے تھے،،، پرندے کے نہیں،خیر جناب ساس محترمہ نے حل نکالا کہ پڑوس والی آنٹی کے گھر میں بھی طوطے ہیں جو ان اکلوتے بیٹے نے پالے تھے۔ویسے طوطا چشم تو سنا ہوگا آپ نے،، وہ بھی طوطا چشم نکلے، پلے پوسے،،، جوان ہوئے، بیوی اور بچے والے ہوئے تو ماں باپ برے لگنے لگے تو دونوں کو خالی گھر میں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ ماں نری محبت کی ماری یہ نا ہوا کہ بیٹے بہو کے ہاتھ میں وہ پنجرہ بھی تھماتی کہ لو بیٹا اسے بھی لیتے جاؤ،میں کہاں دیکھ بھال کروں گی۔مگر نہیں! بیٹے کی نشانی سمجھ کر کلیجے سے لگا لیا۔

اب گھر کے سناٹے میں طوطی کی آواز سنتی رہتی ہیں نقار خانہ نا سہی۔ خیر جناب! ان سے دانہ مانگے گئے، گھر کے ایک کونے دانہ پانی ڈال دیا گیا مگر طوطا بھی چالاک نکلا سب کے سامنے نہ کھائے، سیاسی قبیلے کا لگتا تھا۔ (چپکے چپکے ملک کھا جانے والا)پکڑو تو چونچ ایسی مارتا کہ خون نکال دے۔ رات ہوئی تو اس کی رہائش کا مسئلہ ہوا۔تلاش گمشدہ کا اعلان بھی نہیں ہوا، بلی کے حملے کا ڈر الگ تھا، حل یہ نکالا گیا کہ پڑوس والی آنٹی کو دے دیتے ہیں۔ چونکہ طوطا ان کی نمک حلالی بھی کرچکا ہے اس لیے وہیں رہے گا سکون سے بچوں کا جب دل چاہے گا دیکھ آئیں گے اس اجنبی کو۔

یوں وہ طوطا اس رات پڑوس سدھار گیا مگر یہ کیا؟اگلی صبح آنٹی شرمندہ شرمندہ اسے کاغذ میں لپیٹ کر لے آئیں کہ ان کے طوطوں نے تو اس بے چارے کو بالکل بھی قبول نہیں کیا۔ ساری رات لڑائی کرتے رہے اور میں اٹھ اٹھ کر ان میں صلح کرواتی رہی یہ کچھ دن اور ان کے ساتھ رہا تو مر مرا جائے گا۔میں تو سوچ میں ہی پڑ گئی جیسے، کیا طوطے برادری بھی جلن حسد رکھتے؟کیا انھیں بھی کرایہ چاہیے تھا؟کیا پتہ آنٹی کی طوطی کو پردے کا مسئلہ ہو؟اب ایک غیرت مند طوطا غیر طوطے کو اہنے گھر میں گھسنے کیوں دے؟اے کاش ہمارے گھروں کے سوئے مردوں کی غیرت بھی جاگ جائے،،، وغیرہ وغیرہ۔طوطا تو واقعی پٹ کر آیا تھا، ایک تو دُم کا پر ٹوٹ گیا، اوپر سے پڑوسی طوطوں نے مار مار کر گنجا سا کردیا تھا۔ اجڑا کراچی لگ رہا تھا بیچارہ۔پھر اس کے لیے ایک عدد پنجرہ لایا گیا، چھوٹی سی دو مٹکیاں سیٹ کی گئیں۔ میں نے لاکھ چاہا کہ اسے اڑا دیا جائے مظلوم پرندے کی بے بسی کی دہائیاں دیں مگر میاں صاحب کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہنے لگے۔

"بلی کے پیٹ میں چلا جائے گا تب خوشی ہوگی تمہیں،،، اڑنا آتا نہیں اسے زندگی کی جتنی سانسیں ہیں جی لینے دو،،،" البتہ بیٹا مان گیا کہ امی ہمیں قید نہیں کرنا چاہیے تھا۔بات بس یہیں تک رکی نہیں آدم کو بھی تو ضرورت حوا کی تھی لہذا اکلوتے طوطے کی دوسراہٹ کا خیال کرتے ہوئے میاں صاحب ایک دوسرا ہرے رنگ کا آسٹریلین طوطا خرید لائے۔خوب گزری گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو، دیوانے ہی تھے جلد دونوں میں دوستی ہوگئی، کبھی کبھی لڑائی بھی ہوجاتی مگر یہ ساتھ کچھ ہی دن رہا اور ایک دن پرانا طوطا داغ مفارقت دے گیا۔ نیا طوطا اداس چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا بچوں کو بھی دکھ پہنچا، اگلے دن میاں صاحب بیٹے کو لے کر طوطا خریدنے چلے گئے۔ میں نے پھر احتجاج کیا مت قید میں رکھیں اڑا دیں اسے مگر احتجاج پر کان دھرا نہیں گیا۔

"ارے بھئی! یہ پنجرے کے ہی پرندے ہیں اسی میں پیدا ہوتے ہیں اسی میں رہتے ہیں تم سمجھتی کیوں نہیں؟؟"میں نے سوچا واقعی ہم سمجھتے کیوں نہیں؟ہم بھی تو نسل در نسل غلامی میں پلے آرہے ہیں ذہنیت بھی غلامانہ ہوگئی ہے۔آذادی کا سوچتے ہی نہیں،،مظلومیت کی تصویر بنے ہمدردی سمیٹتے ہیں۔امت مسلمہ کی طرح حزب شیطان کے پنجرے میں بند ہیں۔اب جو نیا پنچھی آیا وہ سفید رنگ کی طوطی تھی جس کی لال آنکھیں تھیں۔سفید اور ہرے طوطے کو دیکھ کے پاکستانی جھنڈا ہر وقت نظروں کے سامنے رہتا ہے۔پہلے پہل تو طوطی خاموش رہی مگر جب اپنا راج پاٹ ملا تو خوش خوش چہکنے لگی طوطے میاں کی چہکیں مزید بڑھ گئیں اب خوب شور مچتا ہے چونچیں لڑائی جاتی ہیں ایک دوسرے کے پروں کی سارا دن صفائی ہوتی رہتی ہے۔

دانہ دینے میں ذرا جو دیر ہوجائے تو طوطا چیخ چیخ کر گھرسر پر اٹھا لیتا ہے طوطی فطرتاً خاموش ہے ورنہ بیگمات اتنی چپ رہتی نہیں ہیں یا شاید مجھ پر چلی گئی ہے،،،۔طوطے میاں کا شور صبح بھوک کی وجہ سے زیادہ ہوتا ہے رات بھر کا باسی کھانا نہیں چاہیے، صبح نیا دانہ پانی ملے گا تب ہی پیٹ بھرے گا خود بھی کھائے گا اور طوطی کے منہ بھی ڈالتا جائے گا۔

"اچھی زبردستی ہے طوطے کی خود ہی اس کے منہ میں ڈالے گا طوطی کی اپنی مرضی بھی تو ہوگی، اپنی پسند کا باجرہ کھائے بیج چھیلے اس کا گودا کھائے، یہ کیا،،،!! طوطا لا لا کر منہ میں ڈالے،،، خود سے تو بہت کم کھاتی ہے، بے چاری،،،،"عورت مارچ کا اثر تھا میں نے بھی احتجاج کیا۔"تم عورتوں کو سکون اچھا نہیں لگتا جب طوطا اتنی محنت سے محبت سے اس کا پیٹ بھر رہا ہے تو کیا ضرورت ہے اسے گھر سے باہر نکلنے کی،، انڈوں پر بیٹھی رہے اوراس کا کام کیا ہے؟"میاں صاحب نے اعتراض کیا۔اس کا کام؟؟طوطی کا کام،یعنی وہ ایک ماں ہے گھر کی چار دیواری (مٹکی ہی سہی) میں رہ کر انڈے کو گرمانا سرد گرم اور جھٹکوں سے بچانا۔"لیکن کتنی گرمی لگتی ہوگی اسے اندر، باہر بھی کتنا کم آتی ہے" ۔ میں نے ازراہ ہمدردی کہا۔"اے سی لگا دیتا ہوں بیگم پنجرے میں بجلی کا بل آئے گا تو تم دینا۔"میاں صاحب بھنا گئے۔

ایک دو نہیں چار انڈے دئیے ہیں طوطی نے بچے یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئے۔"انڈے مت دیکھنا ورنہ طوطی کو غصہ آجائے گا، پھینک دے گی۔" تنبیہہ بھی کردی گئی۔ لیکن بچوں کو دیکھنے کا اشتیاق بھی امڈ امڈ کر آرہا تھا۔" کیوں پھینک دے گی؟بچے کب نکلیں گے؟ طوطی انڈوں پر بیٹھے گی تو کیا انڈے ٹوٹیں گے نہیں؟" اففف اتنے سوالات۔جواب دے دے کر تھک گئے۔
اب تو طوطی مٹکی کے اندر سے نکلے ہی نہ اور باہر طوطے کا پہرا وہ دروازے پر ہی کھڑا رہے کسی کو جھانکنے بھی نہ دے۔سب نے بمشکل انڈوں کو چھپ چھپ کر دیکھا وڈیو بھی بنا کر وائرل کی گئی۔اب جان لیوا انتظار کا کٹھن مرحلہ شروع ہوگیا اگلی ہی صبح بچوں کا پہلا سوال کہ کیا بچے نکل آئے طوطے کے؟

اتنی جلدی،اتنی جلدی تو صرف مہنگائی کا جن نکلتا ہے بچوں، دس پندرہ دن تو لگیں گے ابھی انتظار کرو۔اب روزانہ معائنہ کیا جانے لگا بچے نکلے کہ نہیں۔انتظار تو مجھے بھی بہت تھا،"اتنے چھوٹے سے پنجرے میں چار بچے اور دو طوطے کیسے رہیں گے؟"ہاں واقعی! میں بڑا پنجرہ لے آوں گا"میاں صاحب بھی فکر مند تھے۔مجھےفکر لگ گئی۔بے صبرے انسان کو ہر بات کی جلدی ہوتی ہے، جیسے مجھے بھی فکر تھی اپنے نومولود کی جو دنیا میں صرف ڈیڑھ دن کے لیے آیا تھا۔مجھے اس کی بیماری کی فکر تھی۔تکلیف کا درد تھا،یہ کب ٹھیک ہوگا،میں اسے کیسے سنبھالوں گی،میری فکریں لمبی زندگی کی تھیں اللہ نے اسے جنت کا مہمان بنا لیا میری فکریں،، سوچیں،، پریشانیاں،، سب وہ اپنے ساتھ لے گیا۔ادھر طوطی بھی اقبالیات میں پی ایچ ڈی کرکے آئی تھی۔یا پھر طوطے نےکہا ہوگا،

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی سے

نئی تہذیب کے انڈے گندے ہیں

یوں دو تین ہفتے گزرنے کے بعد جب انڈے بار آور نہیں ہوئے تو طوطی نے انڈے مٹکی سے نکال باہر کیے اٹھا اٹھا کے پھینک دئیے۔میرا اور طوطی کا دکھ مشترکہ ہوگیا تھا گہرا دکھ،لیکن گزرتے وقت کے ساتھ صبر آجاتا ہے بس کسک رہ جاتی ہے۔چند دنوں بعد طوطی نے مزید چار انڈے دیے اور پھر وہ اسی جانفشانی سے ان انڈوں کو سینچنے میں لگی رہی باہر بہت کم نکلتی اپنی مرضی سے دانہ بہت کم ہی کھاتے دیکھا، اسے البتہ طوطے کا کام ویسے ہی جاری تھا روزی روٹی کمانے کا،
لاک ڈاون میں چار بچوں کا پالنا طوطے کے لیے مشکل ہوتا جبکہ پنجرہ بھی اس کا ذاتی نہیں تھا
شاید اس لیے بھی انڈے بےکار چلے جاتے۔

بچوں کی امید پھر سے بندھی مگر اس مرتبہ بھی مایوسی کا سامنا ہوا جب کچھ دن گزر گئے اور انڈوں سے بچے نہیں نکلے تو انڈے باہر نکال دئیے گئے۔
پتہ نہیں طوطی کے پاس کون سی الڑاساونڈ مشین ہے جو اسے پتہ چل جاتا ہے کہ اب انڈے خراب ہوگئے ہیں۔

یقیناً اسی کا نام قدرت ہے جو چرند پرند سب کو اس کی حیثیت کے مطابق عقل و شعور دیتی ہے، اس لیے وہ رب سے شکوہ نہیں کرتے بس کام کرتے ہیں اور انسان کام کم کرتا ہے شکوہ زیادہ کرتا ہے۔

طوطی کی محنت پر مجھے بڑا ترس آنے لگا تھا۔

"طوطی جب سے انڈے دے رہی ہے مجھے کمزور، کمزور سی دکھنے لگی ہے،، آپ کو نہیں لگتا؟ "
ایک دن میاں صاحب سے کہا۔

"یہ بھی تم نے خوب کہی،،،
اپنی کمزوری میں طوطی کمزور دکھ رہی ہے۔
پھر تو تمہیں اب ہاتھی کا بچہ بھی کمزور لگے گا طوطوں کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کرنا چھوڑ دو۔"
(کیا بنی آدم کے لیے ایسا ممکن ہے؟)۔
میاں صاحب شاید برا مان گئے تھے۔

خیر جناب تیسری مرتبہ پھر چار انڈے کی قطار موجود تھی طوطی محترمہ حسب عادت انڈوں کی نگرانی میں معمور تھیں ایک صبح ہلکی سی چیں،، چیں،،، کی آوازوں نے خوشی کی نوید سنائی اور بلاآخر ایک انڈے میں سے چھوٹو طوطے میاں نکل آئے اور طوطی کی مامتا کو قرار آگیا۔

ہم سب کی خوشی دیدنی تھی ساس محترمہ نے بچے کی مبارک بادی اور درازی عمر کی دعائیں بھی دئیں۔
ایک نحیف سے بچے کو پالنا بھی ماں کا جگرا ہے۔
طوطے صاحب کی پہرے داری بہت سخت تھی اول تو طوطی باہر نکلے ہی نہیں اور اگر کبھی نکل آئے تو لوگوں کی آہٹ پاتے ہی طوطے صاحب اندر جانے کا آڈر کردیتے ہیں آجکل طوطے کی ڈیوٹی ڈبل ہے کھانا پہچانے کی۔مرد کو بھی اللہ نے کیاخوب قوام بنایا ہے۔

بقول بچوں کہ یہ طوطا تو پولیس والا ہے، ہر وقت مٹکی کے آگے کھڑا رہتا ہے اپنے بچے کو دیکھنے بھی نہیں دیتا رات کو بھی جاگتا رہتا ہے۔
پہلے دو شور مچاتے تھے اب تین طوطوں کا شور ہے چھوٹو میاں نے بھی منہ نکالنا شروع کردیا ہے مٹکی سے ابھی پورے باہر آئے نہیں۔ ماں منہ میں دانہ پانی ڈالتی جاتی اور وہ مزے سے کھاتا رہتا ہے۔

دیکھتے ہیں ہمارا اور طوطوں کا ساتھ کب تک چلتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */