اے نگارِ وطن تو سلامت رہے - کرن وسیم

میں نے اور میرے شوہر نے سعودی عرب سے واپس اپنے ملک جانے کا فیصلہ کر تو لیا تھا مگر میرا تو دل ہی بیٹھ جاتا تھا مکہ اور مدینہ سے دوری کا سوچ سوچ کر..بچے بھی اپنے بابا سے دور پاکستان جا کر مستقل رہنے کا سوچ کر انتہائ مضطرب...ظاہر سی بات تھی کہ وسیم تو اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر ہمارے ساتھ واپس آنے سے گریزاں تھے کہ روزگار تو اولین ضرورت ہے خاندانی زندگی کی..بعض فیصلے دل پر جبر کے ساتھ اختیار کرنے ہی پڑتے ہیں.

اللہ کےگھر اور نبی ص کے در سے کوسوں دور ہوجانا ہم سب کے لیئے سوہان روح بنا ہوا تھا . سونے پر سہاگہ رشتے داروں کی باتیں کہ کیوں آرہے ہو واپس پاکستان??? یہاں پر کیا رکھا ہے??? سکون کی زندگی اور آسائشات چھوڑ کر یہاں آنا بیوقوفی ہے..لیکن فیملی اقامہ ٹیکس کی بھاری رقم جمع کرواکر وہاں کے دیگر اخراجات پورے کرنا میرے شوہر کیلیئے مشکل تھا... یہ بات عزیز و اقارب کو کیسے بتائ جائے.. ہم اور بچے پاکستان واپسی کیلیئے بالکل بھی تیار نہ تھے.. بحر الحال پاکستان میں ایک مشکل اور مصروفیات سے بھرپور طرز زندگی ہمارا منتظر تھا.
وسیم سے میری ایک ہی فرمائش تھی کہ جب تک میں یہاں ہوں مجھے لگاتار مکہ لے کر چلیں.

جدہ سے مکہ کا سفر پون گھنٹے میں طے ہوتا تھا . انہوں نے میری اس فرمائش کو بہر طور پورا کیا...مسجد الحرام میں دعا مانگتے , طواف کرتے ہوئےدل اتنا اداس ہوتا کہ مسلسل آنسو بہتے رہتے اور جدہ واپسی کا پورا سفر آنسوؤں کے ساتھ ہی کٹ جاتا...ایسے ہی ایک دن صحن حرم میں کچھ شام اور فلسطین کی خواتین سے اشارتاََ اور ٹوٹی پھوٹی عربی زبان میں بات چیت ہورہی تھی کیونکہ عربی مجھے نہیں آتی تھی اور انگریزی اور اردو سے وہ بیچاریاں نابلد.. فیملی ٹیکس کی وجہ سے اپنے ملک واپسی کا ذکر نکلا تو ان خواتین کی ایک بات میرا دل چیر گئ... کہنے لگیں کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ اس دیارغیر کی سختیوں سے بچ کر واپس جانے کیلیئے آپ کا ملک سلامت تو ہے. ہم شامی و فلسطینی مسلمان تو اتنے مجبور کردیئے گئے ہیں کہ چاہیں بھی تو اپنے ملک نہیں جاسکتے... ایسے ہی اور بھی کئ خطوں کے مظلوم مسلمان جن کے پاس وطن واپسی کیلیئےکوئ در کھلا ہوا نہیں.

میرے اردگرد سناٹا چھاگیا انکی اس بات سے.. دل شکر اور شرمندگی کے ملے جلے جذبات سے بھر گیا... یارب العالمین تیرا کروڑوں بار شکر ہے... میرے پاس ایک وطن تو ہے.. ایک سائبان موجود ہے... میری پہچان , میرا حوالہ , میرا گھر , میرا ٹھکانہ .... میرا ملک ... اللہ سلامت رکھے اس پاک سرزمین کو... میرے ملک , میرے گھر کو اللہ رب العزت اپنے حفظ وامان میں رکھے.. آج سے پہلے تو اپنے آذاد ملک کی ایسی شکر گزاری میرے دل میں نہ تھی. سارے شکوے , شبہات دور بھاگ چکے تھے.صرف آنکھوں میں آنسو تھے شکر گزاری کے.

ہم نے پاکستان کی قدر جانی ہی نہیں.. اس آذاد مملکت کی قدر مظلوم و مغلوب لوگوں سے پوچھو تو دل کٹ کے رہ جاتا ہے. آج اپنے وطن میں زندگی کی ان گنت مشکلات کے ساتھ بھی دل شکر گزار ہے...دعاگو ہے اس پاک مٹی کیلیئے... پاکستان کیلیئے دی گئ قربانیوں کی قدر ہی اب پتہ چلی ہے.. ایک ہی آواز نکلتی ہے دل سے.میرا وطن سلامت رہے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */