میں ان تاریک راہوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا - طیبہ احمد

بچپن کا وہ حسین دور اختتام کو پہنچا جب اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہمیں جھنڈوں ،جھنڈیوں،بیجز اور سبز سفید چوڑیوں اور کپڑوں کے خریدنے کی فکر لاحق ہو جایا کرتی تھی اور دل بس اسی طرف ماٸل ہوا رہتا تھا۔ یہ خواہش زور پکڑے رہتی تھی کہ ہمارا پرچم سب سے بڑا ہو اور دیگر لوگوں کے گھروں کی چھتوں سے زیادہ اونچا نظر آۓ۔جب ایسا کرنے میں ہم کامیاب ہو جاتے تو ہمارے کندھے فخر سے چوڑے ہو جاتے صرف اس خوشی سے کہ ہمارا پرچم سب سے بڑا نظر آرہا ہے اور آنکھوں میں عجب سی خوشی پیدا ہو جاتی۔

اسی طرح اگر مزید ماضی کے اوراق کو پلٹایا جاۓ تو جھنڈیوں کی قدرو منزلت بھی کچھ کم دکھاٸی نہیں دیتی، میں ماضی کی یادوں کو سوچوں تو مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب گھروں اور گلی محلوں کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجانے کے مقابلے ہوتے تھے اور ہر گوشے کو جھنڈیوں سے بھر دیا جاتا تھا۔ نغموں کی تیز گونج پر جب گلی محلوں کو سجایا جاتا تھا تو عجب ہی سماں ہوتا تھا جس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے. ایسے احساسات دل میں جاگتے تھے کہ گویا ہم سے بڑھ کر کوٸی محب ِوطن ہے ہی نہیں.”اس پرچم کے ساۓتلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں “ یہ نغمہ آزادی کی تیاریوں میں پوری جان لگا کر پڑھا جاتا تھا۔ اس نغمے کے لفظوں کی سمجھ اب آٸی ہے کہ یہ کتنے خوبصورت کلمات ہیں۔یہ پرچم کتنا مقدس اور معتبر ہے جو کہ ہمیں وحدت کی لڑی میں پروۓ ہوۓ ہے۔ اب ان لفظوں کی تاثیر خون میں جوش مارتی ہے اور پرچم کی طاقت کا اندازاہ ہوتا ہے. بچپن لفظوں کے معنوں سے نا آشنا ہوتا ہے شاید یہ ہی بچپن کے دور کی خوبصورتی ہے لیکن آگاہی کے آتے ہی معنوں کی سمجھ آنا ایک فطری بات ہے۔

اب جب میں اس نغمے کو اپنی زبان پر لاتی ہوں تو میرا دل اور زبان دونوں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتے، میں سوچ کہ اس سمندر میں ڈوب جاتی ہوں کہ پرچم آج بھی تو وہی ہے! اسکا رنگ بھی بلکل ویسا ہی ہے، لیکن کیا ہم اسکے ساۓ میں ایک ہی ہیں؟ کیا ہم نے اپنے پرچم کی طاقت کو برقرار رکھا ہوا ہے؟ یا آپس کی نفرتوں کے سبب ٹکرے ٹکرے ہو کر ہم نے اپنے وطن کے پرچم کی افادیت اسکی قدرومنزلت اور وقار کو کمزور کردیا ہے؟ ایسے بہت سے سوال میرے زہن و دل میں گردش کرتے ہیں بلکہ ہر اس شخص کے زہن میں ان سوالوں کا آنا لازم ہے جو اس پرچم کے ساۓ میں پروان چڑھ رہا ہے جو اس ساۓ میں اپنےشب و روز گزار رہا ہے جو اس پرچم کو اپنی پہچان بناۓ ہوۓ ہے۔ بچپن کا اگست اب ہم سے کوسوں دور ہے جس میں ہم جھنڈے، جھنڈیاں لگا کر آزادی کا جشن منا لیا کرتے تھے۔

آگاہی اور شعور کا یہ اگست کچھ اور تقاضے کرتا ہے ہم سے یہ کچھ اور نٸ سوچوں کی امیدیں وابستہ کرتا ہے۔ ہم جھنڈا لگا کر صرف اس کو مطمٸن نہیں کرسکتے۔
یہ وطن یہ پرچم جو کہ ہماری پہچان ہے اس کے بغیر آزادانہ زندگی کا تصور بھی محال ہے بلکہ اگر یہ کہا جاۓ کہ ہمارا وجود اس کے بغیر نا مکمل ہے تو بے جا نا ہوگا۔ وطن سے پہچان مل چکی ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وطن کے پرچم کے ساۓ میں کھڑے دوسرے لوگوں کی کوتاہیوں، غلطیوں اور خامیوں پر غور کرنے کے بجاۓ اپنی زات پر کام کیا جاۓ۔ اپنی زات کو پرکھا جاۓ کہ اپنی کتنی صلاحیتیں ہم اس وطنِ عزیز کی خاطر لگا رہے ہیں، اپنی زات سے کتنی خیر ہم اس ملک کو دے رہے ہیں۔ خود شریعت اسلامی پر کاربند ہوتے ہوۓ دوسروں کو شریعت اسلامی کا پابند بنانے کے لیے اپنےوجود سے کتنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

الغرض یہ کہ وطن کو درپیش جو مسإٸل ہیں ان کے حل کے لیے کیا کوششیں کر رہے ہیں ہمارے وطن کی وہ تاریک راہیں جو تاریکی میں ڈوبی ہوٸی ہیں ان راہوں کو روشنی دینے کے لیے ہم کتنے چراغ لے کر نکلے ہیں۔اپنے وطن کی طرف بڑھتی ہوٸی نفرتوں کے خلاف ہم نے کتنی محبتوں کی آوازیں بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔ یا ہم ایسی گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں جو ہم سب سے مطلوب ہی نہیں ہے۔کیوں نا اس اگست میں ان باتوں کو تھام لیا جاۓ اور مایوسی اور تاریکی کہ اس دور میں اپنی زات کی روشنی سے چراغ جلاۓ جاٸیں کہ ہمارا قدرتی ماحول ہم سے صفاٸی کا تقاضہ کرتا ہےاور اسکی حفاظت کے زریعے ہی مستقبل خوبصورت ہو سکتا ہے، محنت ہی وہ حل ہے جس سے مسقبل کو مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔ حصول علم کی لگن ہی وہ زریعہ ہے جس سے آنے والے مساٸل کے ادراک اور ان مساٸل کو حل کیے جانے کی کرن مل سکتی ہے۔

ہمارے بچے ہمارا مسقبل ہیں ان کا جو جوش و ولولہ ملک کے لیے ہے اس کو کسی طور کم نا ہونے دیا جاۓ کیوں کہ ان کی یہ ہی لگن ہمارے ملک کے لیے بہت کام آنے والی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کا جذبہ ہمارے مسقبل کی کامیابیوں کے لیے بے حد ضروری ہے اور محنت کے جذبے سے ہی ہمارا معاشی نظام مستحکم ہو سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ وہ زمہ داریاں ہیں جو ہر شخص کو اپنے حصے کی نبھانی ہیں یا یہ وہ چراغ ہیں جو ہر شخص کو اپنے حصے کے جلانے ہیں پھر ہی اس پرچم کے ساۓ میں رہنے کا حق ادا ہوگا۔ ان کوششوں کے سبب ہی راہوں کے اندھیرے ختم ہونگے۔ اس روش پر چل کر ہی وطن امر اور سرخرو ہوگا۔

وطن یاد رکھتا ہے

ان چراغوں کو

جو راہ میں اسکی جلاۓ گۓ ہیں

وطن منتظر ہے

ان چراغوں کا

جو جلانے اب بھی باقی ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */