منقسم اپوزیشن- عا رف نظا می

میڈیا کے ایک حصے کے مطابق اپوزیشن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے یعنی حسرت ان غنچوں پہ ہے جوبن کھلے مرجھا گئے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن کے درمیان اصل پھڈا اس وقت پڑا جب ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ قانون سازی کے لیے حکومت کے پیش کردہ بلوں پر اپوزیشن جماعتیں صاد کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ مولانا نے اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پر کڑی نکتہ چینی کی۔ ان کے خیال میں ان دو حلیف اپوزیشن جماعتوں نے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ میری رائے میں ان وقتی اختلافات کے باوجود اے پی سی ہو گی جیسا کہ پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چودھری منظور نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو اے پی سی کی تاریخ دے دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میاں شہبازشریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نہ خود کچھ کرتے ہیں نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔ انہوں نے درست طور پر نشاندہی کی کہ اگر جلد اے پی سی کا انعقاد نہ کیا گیا تو محرم الحرام شروع ہو جائے گا اور معاملہ مزید التوا میں پڑ جائے گا۔ ان کی بات اصولی پر درست ہے لیکن ایسے بیچ چوراہے ہنڈیا پھوڑنے کا مجموعی طور پر اپوزیشن کو ہی نقصان ہو گا۔ ظاہر ہے کہ ایسے معاملات آپس میں صلاح مشورے سے طے ہوتے ہیں میڈیا کے ذریعے نہیں۔ نیشنل پارٹی نے بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت پر برہمی کا اظہارکیا ہے۔ ان کو بھی گلہ یہی ہے، ان کے سینیٹر میر کبیر کا کہنا ہے کہ پہلے حکومتیں دوپارٹی سسٹم پر بنتی تھیں لیکن اب اپوزیشن بھی دو پارٹی سسٹم پر مشتمل ہے جو بغیر مشاورت کے فیصلے کرتی ہیں۔ یقینا فیصلے باہمی مشاورت سے ہی ہوتے ہیں لیکن ایف اے ٹی ایف ایسا حساس مسئلہ تھا جس پر اگر بروقت قانون سازی نہ ہوتی تو پاکستان کے گرے لسٹ میںرہنے بلکہ بلیک لسٹ کئے جانے کا بھی قوی امکان تھا۔

ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز جو حال ہی ریٹائر ہوئی ہیں دو مرتبہ پاکستان صرف اس لئے آئیں کہ اگر پاکستان نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور منی لانڈرنگ، غیر ملکی فنڈنگ روکنے اور دہشت گردوں کو کڑی سزائیں دینے جیسے معاملات جلداز جلد نہ نبٹائے تو پاکستان بلیک لسٹ میں جا سکتا ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے تین ماہ کی مہلت مانگی لیکن عین یہ مدت مکمل ہونے سے پہلے حکومت کو ہوش آئی کہ قانون سازی ضروری ہے اسی بنا پر ہنگامی طور پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلا کر اور بعدازاں دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلا کر متعلقہ قوانین کو بروقت منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن )اور پیپلزپارٹی کا فیصلہ اس لئے درست تھا کیونکہ اگر پاکستان بلیک لسٹ میں چلا جاتا تو ساری ذمہ داری اپوزیشن پر تھونپی جاتی۔ ویسے بھی شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یہ بل منظور ہو جائیں گے، اس سے بڑھ کردونوں کو اس بات کا بھی اچھی طرح علم تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی مخالفت سے فوجی قیادت ناراض ہو جائے گی گویا کہ یہ دونوں پارٹیوں کا درست فیصلہ تھا۔ مولانا فضل الرحمن کسی صورت نہیں چاہتے تھے کہ اس قسم کی قانون سازی کی جائے جوان کے ’روزگار‘ پر لات مارنے کے مترادف ہو۔ مولانا اور دو بڑی اپوزیشن جماعتوں میں بنیادی فرق موجود ہے کہ یہ جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ ن بھی اب مذہبی بنیاد پرستی پر مبنی پالیسیوں سے آگے نکل چکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی روز اول سے ہی لبرل سیاست کرتی رہی ہے۔ اس کے باوصف یہ کہنے میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے بجائے آپس میں سہ مکھی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما شہباز شریف پر نکتہ چینی کرنے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ بھی اپنے ایجنڈے کی آبیاری کر رہے ہیں لہٰذا یہ کہنا غلط نہیںہو گا کہ اپوزیشن کے تین بڑے ’’ملاؤں میں مرغی حرام‘‘ ہو رہی ہے۔

بلاول بھٹو اور ان کی جماعت اے پی سی بلانے کیلئے سب سے زیادہ سرگرم ہیں لیکن پیپلزپارٹی کے چیئرمین کے علم میں یہ بھی ہے کہ پنجاب میں ان کی پارٹی اپنا اثرونفوذ بہت پہلے کھو چکی ہے لہٰذا مسلم لیگ (ن) جو پنجاب میں مضبوط ترین پارٹی ہے کی عملی تائید اور حمایت کے بغیر اپوزیشن کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکے گی۔ یہ الگ مسئلہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے کارکن سڑکوں پر نکلنے اور ماریں کھانے سے تاریخی طورپر کبھی پیچھے نہیں ہٹے لیکن مسلم لیگ (ن) کا معاملہ یکسر مختلف ہے، اس پارٹی کی لیڈر شپ نے ہمیشہ ڈرائنگ روم کی سیاست کی ہے۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں میاں نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز نے عملی تحریک چلانے کی کوشش کی تو پرویز مشرف نے اس احتجاج کو سختی سے کچل دیا تھا۔جب میاں نوازشریف اور شہبازشریف نے زبردستی وطن واپس آنے کی کوشش کی تب بھی لاہور جو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ مانا جاتا ہے سے تمام ارکان قومی اسمبلی بلوں میں گھس گئے۔ اسی بنا پر اے پی سی کا ارا دہ سڑکوں پر احتجاج کرنے کا ہے تو ان کے لیے واحد آپشن مولانا فضل الرحمن کے مدرسوں کے طلبا ہیں۔ اس سے قبل جب گزشتہ برس 27اکتو بر 2019ء کو مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے اس میں شرکت نہیں کی اور محض علامتی طور پر اپنی دوسرے درجے کی لیڈ رشپ کو وقتی طور پر آگے کردیا تھا ۔ مولانا بھی کچھ روز پرجوش تقاریر کرنے کے بعد واپس پدھار گئے۔

مولانا کا سسٹم میں وہ سٹیک نہیں ہے جو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا ہے ۔ ان کے برخوردار مولانا اسعد قومی اسمبلی میں، بھائی مولانا عطا الرحمان سینٹ میں ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اپوزیشن کی سیاسی جماعتوںکو ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہے۔ حال ہی میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت خوش قسمت ہے کہ اسے اس طرح کی اپوزیشن ملی ہے جو کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ ایک طرف تو حکومت پر اپوزیشن کا جائز طور پر غصہ ہے لیکن دوسری طرف عملی طور پر منقسم ہے اور کوئی تحریک چلانے کے قابل ہے اور نہ ہی چلانا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سینئر لیڈر شپ ٹاک شوز میں کئی مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ اگر تحریک چلی تو معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے اور برا بھلا پارلیمانی نظام بھی لپیٹ دیا جائے گا۔ اسی بنا پر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے آپشن پر غور ہو رہا ہے لیکن عملی طور پر ایسا کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ لگتا ہے کہ اے پی سی تو ضرور ہو گی لیکن اپوزیشن کے اپنے تضادات کی بناپر معاملات نشستند و گفتند و برخاستند سے آگے بڑھے تو یہ بہت بڑا کرشمہ ہو گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */