جنرل محمد ضیاء الحق کا دور حکومت - محمد حنیف عبدالعزی

جنرل محمد ضیاء الحق پانچ جولائی کو فوجی مارشلا ء کے تحت حکومت میں آئے اور تین ماہ میں انتخاب کا وعدہ کر کے دس سال تک حکومت میں رہے ۔ بے شک ہرحکمران کی کچھ خامیاں ہو تیں ہیں اور کچھ فائدے بھی ہوتی ہیں آج بندہ ان کے دورے حکومت میں خوبیوں اور خامیوں پر نظر ڈالنے کی کوشش کرے گا ۔ جنرل محمد ضیاء الحق ایک عامر تھے جو ان کے جی میں آتا تھا وہی قانون ہوتا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اسمبلی کسی عدالت کو جواب دہ نہ تھے اس نے عوام سے ووٹ نہیں لینے تھے وہ عامر جو تھے ۔

اس نے حکومت میں آتے ہی سب سے پہلے جتنے شیطان، چور، ڈاکو، وڈیرے ،عوام پر ظلم کر نے والے بڑے بڑے ظالم اور ضرورت سے زیادہ منافع خور تھے ان سب کو جیلوں میں بند کر دیا ان سب کے لئے اسلامی سزائیں مقر ر کی ۔ اسلامی شریعہ قانون بنا اور اسمبلی سے پاس بھی ہوا ۔ اسمبلی میں آنے کے لئے قانون میں۶۲،۶۳ کا اضافہ کیا تاکہ کوئی بے ایمان حکومت میں نہ آسکے ۔ملک میں ظلم اور نا انصافی کا خاتمہ ہوا ملک میں بلکل امن اور امان ہو گیا۔ سودی نظام کو ختم کیا اسلامی تجارتی نظام قائم کیا ۔ عورت کے لئے چادر اور چار دیواری کو تحفظ دیا ۔ فیصل آباد میں ایک شخص نے کسی بچے کے ساتھ زیادتی کر کے اسے قتل کر دیا چنددنوں میں ہی قاتل پکڑا گیا اور اوراسے عدالت نے سزائے موت سنا دی ۔ مقررہ تاریخ کو مجرم کو فیصل آباد کے مشہور دھوبی گھاٹ گرونڈ میں پھانسی دے دی گئی اور لاش کو کئی دنوں تک لٹکائے رکھا تاکہ عبرت حاصل ہو ۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دس سال تک اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہ آیا ۔ جنرل محمد ضیاء الحق صاحب ذاتی طور پر نیک نماز کے پابند سچے انسان تھے ان کے دور حکومت میں ان کے بچوں اور خاندان کو کوئی نہیں جانتا تھا افغان جنگ کے سلسلے میں باہر سے جو ڈالر آئے وہ سب ملک اور قوم پر خرچ کئے اپنی ذات یاخاندان کو کچھ نہیں دیا خو داپنے لئے کوئی گھر تک نہیں بنوایا۔جب ۱۹۸۸ میں شہید ہوئے بیوی اور بچے کرائے کے گھر میں شفٹ ہوئے ۔ تو کسی نے ترس کھا کرراولپنڈی میں چیرنگ کرس چوک میں اپنا ذاتی مکان ان کے بیوی بچوں کو گفٹ کیا ۔
اس وقت ایک پی ٹی وی چینل ہو تا تھا اس پر جو نیوز کاسٹر نیوز کے لئے آتی تھی وہ دوپٹہ اوڑ ھ کر آتی تھی اور خبر نامہ پڑھتی تھی ۔ جو ڈرامے اور پرو گرام چلتے تھے وہ لوگوں کی تربیت کا ذریعہ بنتے تھے جسطرح آج کل انڈین طرز چل رہی ہے یہ نہ تھا ۔

انڈین چینل پاکستان میں بند تھے ۔ اندرون اور بیرون ملک آیئر فلائٹس میں شراب کی سروس بند تھی۔ملکی مصنوعات کو فروغ دیا گیا میڈ ان پاکستان کو ترجیح دی گئی۔ ذولفقاعلی بھٹو صاحب نے جو صنعتی ادارے قومی ملکیت میں لئے تھے وہ واپس کئے گئے ۔ افغان جنگ کی اوڑھ میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کومکمل کرنے کا موقعہ ملا اور اس کی حکومت میں ہی پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا تھا صرف اعلان کر نا باقی تھا ۔ جسے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف صاحب نے دس سال بعدکیا ۔ ایران اور سعودیہ سے تعلقات بہتر کیے ۔ کشمیر کاز کو بہتر کرنے کے لئے خالستان تحریک کو ہوا دی گئی ۔

جس کے لئے راجیو گاندی صاحب نے جنگ کے لئے فوج کو باڈر پر لگایا اس کو انڈیا میں خود جاکر آیٹمی جنگ کی دھمکی دے کر خاموش کرایا گیا ۔ افغانستان میں روسی فوج کشی کی وجہ سے پاکستان کو افغانستان کی فوجی اور اخلاقی مدد کرنی پڑی اس سلسے میں پنتیس لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی گئی جس کی وجہ سے پاکستان میں کلاشنکوف اور نارکوٹک کلچر کو فروغ ملا ۔ پاکستان میں وڈیروں کو کچھ نہیں ملا نہ ہی کوئی مراعات ملیںوہ دس سال تک بیچارے ترستے رہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */