حکران خواب نہ دکھائیں قوم کو مایوسیوں سے نکالیں - حبیب الرحمن

اب سے پہلے بڑے بڑے سیاسی لیڈر آکر گزر گئے۔ پاکستان میں سیکڑوں ہزاروں انتخابی ریلیاں، جلوس اور جلسے سجے اور انھوں نے حسب توفیق جتنا جھوٹ بولا جا سکتا تھا، بول بول کر عوام کی آنکھوں میں نہ جانے کتنے خواب سجائے لیکن ان سب کے سارے جھوٹ، مکر بھرے خواب، بلند و بانگ دعوں اور وعدوں کو جمع کرکے 100 سے ضرب دینے کے بعد جو حاصل ضرب آئے ان سے بھی کہیں زیادہ موجودہ حکمران پارٹی اور اس کے سر براہ کے جھوٹ سامنے آئیں گے۔

ایک جانب تو جھوٹ در جھوٹ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو آج سے پہلے کسی جانب سے بھی نہیں دیکھا گیا، اس پر تھوک کر چاٹے جانے کا مکروہ فعل ہے جو جو طبعیت میں متلاہٹ پیدا کر کے رکھ دیتا ہے۔ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر امیر جماعت اسلامی کا یہ فرمانا کہ "پی ٹی آئی حکومت سابق وعدوں کو بھول کرعوام کو نئے سبزباغ دکھا رہی ہے، تعلیم اور صحت کے لیے پیسہ نہیں اور چلی ہے نئے شہر بسانے" بالکل بھی غلط نہیں۔ عوام میں بری طرح بگڑتی ہوئی ساکھ کو بر قرار رکھنے کیلئے ہر دو چار دن کے بعد کوئی ایسی اسکیم عوام کے سامنے رکھ دی جاتی ہے جس سے پہلے سے دکھائے گئے خواب جو مایوسیوں کے دھندلکوں میں معدم سے معدوم تر ہونے لگتے ہیں، ان میں امید کی نئی کرن پھیلا دی جاتی ہے اور یوں عوام کے مایوس ہوتے چہروں پر امید کی نئی روشنیاں جھلملانے لگتی ہیں۔

ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ، لگی لگائی ملازمتوں سے معزولیوں میں بدل دیا گیا، پچاس ہزار گھروں کا دعویٰ ہواؤں کی نظر ہو گیا اور اسی طرح نجانے کتنے وعدے اور دعوے اس طرح فراموش کر دیئے جیسے پی ٹی آئی کے سر براہ نے عوام سے کبھی کئے ہی نہیں تھے لیکن ان کو دامِ فریب میں مسلسل گرفتار رکھنے کیلئے ہر چند دنوں بعد کوئی نہ کوئی اسکیم عوام کے سامنے پیش کر کے ان کی ٹوٹی ہوئی امیدوں کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔امیر جماعتِ اسلامی نے سچ ہی فرمایا ہے کہ "حکومتی پالیسیوں سے عوام کا جینا محال، صنعت کار بدحال، تاجر کنگال، کسان اورمزدور نڈھال جبکہ قوم کا بری طرح استیصال ہو چکا، اب حکمران اپنی خیر منائیں کیوں کہ ان کا زوال شروع ہو گیا ہے"۔ایک جانب حکومت ملک کی معیشت کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے تو دوسری جانب عالم یہ ہے کہ گزشتہ2سال کے دورانیے میں گندم کم پیدا ہوئی ہے لیکن صوبے ہیں کہ زراعت میں خود کفیل ہونے کے اشتہارات پر اشتہارات چھپوا رہے ہیں۔ عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر نہیں۔ عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ملک کا 85فیصد پانی مضر صحت ہے۔ ملک پر مجموعی قرضوں کا حجم بڑھ گیا ہے اور آئندہ بیرونی ادائیگیوں کے لیے بھی سودی قرضے لینا پڑیں گے۔ یہ تو داخلی صورت حال ہے، خارجہ پالیسی کا بھی یہ عالم ہو گیا ہے کہ پاکستان تنہا ہوتا چلا جا رہا ہے یہاں تک کہ سعودی عرب سے بھی تعلقات سرد مہری کا شکار ہوچکے ہیں۔

ان حالات کے پیش نظر امیر جماعت کا فرمانا ہے کہ "کہ حکومت نے آج تک اپنے کسی وعدے کی پابندی نہیں کی۔ عوام ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے وعدے کو بھولے نہیں۔ حکمرانوں کا خیال ہے کہ عوام ان کے سابق وعدوں کو بھول جائیں گے مگر یہ ان کی خام خیالی ہے۔ لوگوں کو حکمرانوں کا ایک ایک دعویٰ اور وعدہ یاد ہے اور وہ ان پر عمل درآمد دیکھنا چاہتے ہیں"۔امیر جماعت کا ملک کے حالات اور موجودہ حکمرانوں کی سرد مہری دیکھتے ہوئے پر تفکر ہونا اپنی جگہ لیکن اب ان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ عوام کی آنکھول میں دھول پر دھول جھونکتے رہنے کی یہ عادت موجودہ حکمرانوں کی بہت زیادہ پختہ ہو چکی ہے اور جب تک موجودہ حکومت کا طوق عوام کی گردنوں میں پڑا رہے گا اس وقت تک اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ عوام ان سارے دعوں، وعدوں اور خوابوں کو حقیقت کے روپ میں دیکھ سکیں جو موجودہ حکمران انھیں دکھاتے چلے آ رہے ہیں۔

امیرجماعت کا یہ بھی فرمانا ہے کہ وزیر اعظم آئے دن مافیاز کا ذکر کرتے رہتے ہیں لیکن آج تک وہ قوم کو یہ نہیں سمجھا سکے کہ ان مافیاز کو ان کے آخری انجام تک پہنچانے کا کام کون انجام دیگا۔ ایک جانب تو وہ مافیاز کی نشادہی کرتے نہیں تھکتے تو دوسری جانب انھوں نے ان مافیاز سے بھر پور انداز میں نمٹنے سے متعلق کوئی منصوبہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا۔ ایک ایسی حکومت جس کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہر مضبوط سے مضبوط ادارے کی بھر پور مدد اور حمایت حاصل ہے، اگر وہ بھی مقتدر قوتوں کے تمام ترتعاون کے باوجود کرپشن اور مافیاؤں کو ختم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہو تو پھر عوام دیکھیں بھی تو کس کی جانب دیکھیں۔ اس لئے موجودہ حکومت پر فرض ہے کہ وہ عوام کو مایوسیوں کی دلدل سے نکال کر امید کی منزل پر لا کھڑا کرے ورنہ عوام اب شاید ہی کسی بھی سیاسی پارٹی اور سیاسی لیڈر پر بھروسہ کر سکیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */