کیاانسان کی منزل اب مریخ ہے-ُ پروفیسر جمیل چودھری

گزشتہ جولائی میں 3۔ممالک نے مریخ کی طرف اپنے اپنے سپیس کرافٹ روانہ کئے ہیں۔مریخ کے مدار میں یہ تینوں خلائی جہاز فروری2021میںپہنچیں گے۔اس شعبہ میں سب سے زیادہ تجربہ تو امریکہ کاہے۔وہ اس سے پہلے 4۔خلائی جہاز روانہ کرچکا ہے۔اسکےRoverبھی مریخ پر کامیابی سے اتر چکے ہیں۔اوروہاں سے کافی معلومات حاصل کرچکے ہیں۔چین بھی کافی تجربہ اس سے پہلے حاصل کرچکا تھا۔

ان مہمات میں متحدہ عرب امارات بالکل نیا کھلاڑی ہے۔اس کاسپیس کرافٹ20۔جولائی کو جاپان کے لانچنگ پیڈ سے روانہ کیاگیا۔اسکی کوششیں2014ء سے جاری تھیں۔اس کاروانہ کیاجانے والا سپیس کرافٹ صرف مریخ کے مدار میں پہنچ کرموسمی حالات کااندازہ لگائے گا۔یہ مسلم دنیاکاپہلا ملک ہے۔جس نے مریخ کی طرف اپنا خلائی جہاز روانہ کیا ہے۔اس کی تیاری میں امریکہ اورجاپان دونوں تعاون کرتے رہے۔امارات کے200سائنسدان اورانجینئیرز نے اس مہم کی روانگی میں حصہ لیا۔امارات نے اس پورے کام پر20۔کروڑ ڈالرخرچ کیا۔اسکے لئے خصوصی وزات کئی سالوں سے کام کررہی تھی۔Nasaنے متحدہ عرب امارات کوکامیاب لانچنگ پرمبارک باد دی ہے۔ابھی بڑے مسلم ملک انڈونیشیاء،پاکستان،ترکی،ایران اورمصر اس طرح کاکوئی پروگرام لانچ نہیں کرسکے۔سائنس اورٹیکنالوجی کاعلم تو ان ممالک کے پاس بھی موجود ہے۔

لیکن سرمایہ کی کمی رکاوٹ بن رہی ہے۔خلاء کے بارے میں تحقیقاتی ادارے تو ان بڑے مسلم ممالک میں بھی موجود ہیں۔جیسے سپارکو پاکستان کے ادارے کانام ہے۔انسان نے خلاء اوراس سے اوپر کی کائنات کی طرف سفرکئی دہائیوں سے شروع کیاہوا ہے۔جب صلاحیتوں کاادراک ہوگیا۔تو اوپر کی طرف جانے کے لئے سازوسامان کی تیاری شروع ہوئی۔چاندکی بات تو اب قصہ قدیم لگتی ہے۔Space Stationبھی امریکہ اوریورپ نے ملکرکئی سال پہلے قائم کرلیاتھا۔مریخ پرپہنچنے کاشوق اب انسان کو اوپر کی طرف جانے کے لئے اکساتارہتا ہے۔انسان نے کرۂ ارض پر اپنی تعداد بہت بڑھالی ہے۔اس چھوٹے سے کرۂ ارض پر2۔سے7.5۔ارب کی تعداد بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔سٹیفن ہاکنگ جیسے سائنسدان بھی انسان کویہی مشورہ دیتے رہے کہ اب انسان کوکسی اور سیارہ پر اپنا مستقر بناناچاہئے۔آنجہانی کے مطابق اب اس کرۂ ارض پر انسان کامستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

وہ2۔وجوہات کاذکر کھلم کھلا کیاکرتے تھے۔آبادی کابہت زیادہ ہونا۔دوسرا نکلیائی ہتھیار۔یہ دونوں مسائل انسان نے خود ہی اپنے لئے پیدا کئے ہیں۔آبادی بھی انسانوں نے خود ہی بڑھائی اور تباہ کن ہتھیار بھی خود ہی تیارکئے اور اب یہ تباہ ہتھیار درجن بھر ملکوں کے پاس موجود ہیں۔کسی کی غلطی سے بے شمار تباہی ہوسکتی ہے۔اب انسان کی یہ کوشش ہے کہ کسی دوسرے سیارے پر ایسا ماحول معلوم ہوجائے جہاں انسان آباد ہوسکے۔پانی اور آکسیجن انسان کی زندگی کے لئے2۔بنیادی چیزیں ہیں۔Nasaوالوں نے تاریخ میں ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔اورمزید بات آگے سے آگے بڑھ رہی ہے۔سب سے پہلے امریکی پاتھ فائنڈر1997ء میں مریخ پر اترا۔اور ایک گاڑی مریخ پر تجربات کے لئے استعمال کی گئی۔مریخ کے لئے چوتھا امریکی پروگرام نومبر2011ء میں لانچ کیاگیاتھا۔یہ شٹل فراٹے بھرتی ہوئی8۔ماہ اور15۔دن بعد6۔اگست 2012ء کومریخ کے قریب پہنچی۔وہاں اس سے Rover Cuorisityکو انتہائی کامیابی سے پہلے سے طے شدہ مریخ کے علاقے پرپہنچایا۔بڑے سائز کی گاڑی کے برابر یہRoverانتہائی جدید آلات سے لیس تھا۔

اس لیبارٹری میں10۔انتہائی حساس سائنسی آلات اور17۔کیمرے نصب تھے۔یہ گاڑی اپنے آلات سے کبھی کبھی چٹانوں کوتوڑتی بھی نظر آتی تھی۔ہماری زمین سے مریخ کافاصلہ تقریباً5۔کروڑ کلومیڑ ہے اوروہاں بندہ خاکی کے بنائے ہوئے آلات اورکیمرے100۔فیصد درست کام کررہے تھے۔زمین پر ریکارڈ کی ہوئی ایک آواز مریخ پر گئی اوروہاں سے واپسNasaکے دفتر میں سن بھی لی گئی۔جہاں تک سگنلزکاتعلق ہے۔یہ توہروقت موصول ہورہے تھے۔Imagesآرہے تھے۔اورNasaانہیں ویڈیوکی شکل میں تبدیل کرکے زمین پرموجود انسانوں کودیکھابھی رہاتھا۔انسانی عقل نے حدکردی ہے۔انسان خدائی حدود کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مریخ کی اس وقت کی ویڈیوز میرے ذہن میں اب تک محفوظ ہیں۔ذراتصور کریں انسان کی بنائی ہوئی ہرشے 5۔کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پرہرلحاظ سے درست کام کرتی رہیں۔یہ تمام کام سائنس فکشن نہیں تھا۔بلکہ حقیقتوں کی دنیاتھی۔اورمریخ تو اپنے ہیSolar Systemکاسیارہ ہے۔امریکہ کا چھوڑا ہواایک ایسا ہی سیارہ ہے۔جو ہمارے سولر سسٹم کاتمام فاصلہ طے کرکے اس سے بھی اگلی کائنات میں پہنچ چکا ہے۔

امریکہ کی اتاری ہوئی چوتھی گاڑی کی مدت2سال تھی۔2014ء میں وہاں سے سگنلز آنابند ہوگئے تھے۔گزشتہRoverکے اترنے کے ایک سال بعد امریکہ میں سروے کرایا گیاتھا۔جس کے مطابق71۔فیصد امریکی چاہتے ہیں کہ انسان کومریخ پربھیجا جائے۔2033ء وہ سال ہے کہ امریکیوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ انسان کو مریخ پر روانہ کیاجائے۔اس وقت تک امریکہ کئی تجربات کرچکا ہوگا۔کہ انسان وہاں زندہ رہ سکتا ہے یانہیں۔بندراور ڈاگ پر تجربات اب شروع ہونے والے ہیں۔اس کے بعد جبNasaکو کامل یقین ہوجائے گا۔تب ہی کسی انسان کو مریخ پر اتاراجائے گا۔اگر یہ مشن کامیاب ہوگیا کہ انسان مریخ پرجاکر رہ سکتا ہے۔توحضرت انسان کی یہ بڑی کامیابی ہوگی۔کبھی صرف شاعرحضرات ایسی باتیں کیاکرتے تھے۔

دل سے جوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پرنہیں،طاقت پروازمگررکھتی ہے

قدسی الاصل ہے رفعت پرنظر رکھتی ہے

خاک سے اٹھتی ہے گردوں پرنظر رکھتی ہے

گزشتہ جولائی میں3۔سپیس کرافٹ مریخ کی طرف روانہ ہوئے۔پہلا متحدہ عرب امارات کی طرف سے تھا۔یہ اسلامی دنیا کاپہلا مریخ مشن تھا۔اس کاکام مریخ کے مدارمیں پہنچ کر مریخ کی آب وہوا کاپتہ لگانا ہے۔اس کے بعد چین نے اپنا Space Craftروانہ کیا۔اسکا نامTianwen-wanہے۔یہ ایکRoverمریخ پر اتارے گا۔اس میں 6۔حساس آلات ہونگے۔جومریخ کامطالعہ کریں گے۔اس طرح چین ،امریکہ اورروس کے بعد تیسرا ملک بنا جائے گا جس کے حساس آلات مریخ کے بارے معلومات مہیا کریں گے۔2030ء تک چین ایسا Space Craftتیار کرنے کاپروگرام بنارہا ہے جو مریخ کی اشیاء کو واپس بھی لے کر آئیگا۔یہ چین کی بڑی کامیابی ہوگی۔اس کے بعد امریکہ نے اپناSpace Craftروانہ کردیا ہے۔اس پر سات عدد حساس آلات ہیں۔جومریخ پر قدیم زندگی کی موجودگی کاپتہ لگائیں گے۔45۔کلومیٹر تک کے علاقے کاسروے کرنا امریکی آلات کے سپرد ہے۔اس میں ایک قدیم جھیل اوردریائی ڈیلٹا شامل ہے۔ان علاقوں سے مٹی کے نمونے لیکر وہیں محفوظ کئے جائیں گے۔اور کئی سال بعد جانے والا یورپی۔Space Craftانہیں واپس لائے گا۔

اورپھر لیباٹریوں میں مطالعات ہونگے۔جس سے معلوم ہوگا کہ مریخ پرکبھی زندگی موجود رہی ہے یانہیں۔امریکی گاڑی جو مریخ پراترے گی اس کانامPerseveranceہے۔اس پرچھوٹا ساہیلی کاپٹر بھی جارہا ہے،جومریخ پرمخصوص علاقوں پرجاسکے گا۔انسان کا بنایاہوا ہیلی کاپٹر اوراڑے گا مریخ کی سطح پر۔یہ بات حیران کن ہے۔ایک اور پروگرام جس پر یورپی یونین اور روس کام کررہے تھے۔اسے2022ء تک ملتوی کردیاگیاہے۔قارئین آپ دیکھ رہے ہیں کہ اب انسان نے مریخ کی طرف بہت توجہ کرلی ہے۔کئی ممالک معلومات حاصل کرنے کے لئے Space Craftروانہ کررہے ہیں۔یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ مریخ پر زندگی انسان کے لئے ممکن ہے۔جوں جوں تجربات آگے بڑھیں گے کئی چیزیں واضح ہوجائیں گی۔انسان حیران کن کامیابیاں حاصل کرتاجارہا ہے۔زمین کے بے شمار وسائل اب انسان استعمال کرچکا ہے۔

تیل کے ذخائر بھی خاتمے کے قریب جارہے ہیں۔کرۂ ارض کاماحول انتہائی خطرناک ہوتاجارہا ہے۔درجہ حرارت کے بڑھنے سے اب کرۂ ارض کے حالات صدیوں پہلے کی طرح نارمل نہیں رہے۔اوزون کی تہہ میں بھی دراڑیں پڑچکی ہیں۔تمام موسموں میں شدت نظر آتی ہے۔نیوکلئیر اسلحہ کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔اب بہتریہی ہے کہ انسان موجودہ کرۂ ارض کی بجائے کسی اور سیارے پر اپنا ٹھکانہ ڈھونڈھے۔اب اگلی منزل مریخ ہی نظرآرہی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */