تربیت اولاد (حصہ اول ) - ام محمد عبداللہ

کسی بھی چیز کو تدریجاً نشوونما دے کر حد کمال تک پہچانا تربیت کہلاتا ہے۔ جب ہم یہی اصطلاح اولاد کے حوالے سے استعمال کرتے ہیں تو مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو اللہ عزو جل کی جانب سے ودیعت کردہ صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں حد کمال تک پہنچا دیا جاٸے۔ عام طور پر جب ہم تربیت اولاد پر بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کوٸی واضح مقصد نہیں ہوتا۔ مختلف حالات میں درحقیقت ہم ان سے اپنے من چاہے ردعمل مانگ رہے ہوتے ہیں۔

مثلاً ہم تربیت سے مراد لیتے ہیں کہ بچے بات مانیں۔بڑوں کے سامنے با ادب رہیں۔چیزیں نہ بکھیریں۔ وقت پر پڑھیں۔بہن بھاٸیوں کے ساتھ لڑاٸی جھگڑا نہ کریں۔ہر طرح کا کھانا آرام سے کھا لیں وغیرہ وغیرہ یا پھرہم چاہتے ہیں ہمارے بچے جسمانی اعتبار سے صحت مند رہیں اور ذہنی اعتبار سے سب پر سبقت لے جانے والے ہوں۔ تعلیم و تربیت میں ڈاکٹر اور انجينئر کے عہدوں تک پہنچانا ہمارے خوابوں کی منزل ہے۔

لیکن کیا یہی سب تربیت کا مطلوب ہے؟ آٸیں قرآن کریم کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں ایک فرد کی تربیت سے کیا مراد ہے؟ سورہ آل عمرآن آیت نمبر 110 میں اللہ پاک فرماتے ہیں۔ ”تم وہ بہترین امت ہو ۔ جسے بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے برپا کیا گیا ہے۔ تم معروف کا حکم دیتے ہو، منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہو۔ “اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ہم تربیت اولاد کے لیے اپنا نصب العین واضح کر سکتے ہیں۔

1.. اللہ پر پختہ ایمان

ہمیں اپنے بچوں کی تربیت ایسے کرنی ہے کہ اللہ تبارک تعالی کی ذات پر پختہ ایمان و یقین ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگے۔ یہی ایمان و یقین اخلاقیات کی وہ گہری جڑیں باطن میں پھیلاتا ہے جو ادب اور اخلاق کے پھول ظاہر میں کھلاتیں ہیں۔

2..ہمارے بچے ہر حال میں معاشرے کے کارآمد اور مخلص شہری بنیں۔ اب چاہے وہ ڈاکٹر بنیں یا انجينئر قلم کار ہوں یا تاجر ہر حال میں ان کا مقصود و منتہا معاشرے کی فلاح ہو گی اور یہ مقصد فرد سے معاشرے تک سب کو عروج عطا کرتا ہے۔

3.نیکی کا حکم دینے والے۔۔ نیکی کا حکم دینے والا خود نیکی سے محبت کرنے والا اس پر استقامت دکھانے والا ہوتا ہے۔ اس کی تبلیغ اس کا عمل ہوتا ہے۔

4.براٸی سے روکنے والا۔ براٸی سے نفرت کرنے والا ایسی بہادر اور مضبوط شخصیت جو نہ صرف اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے بلکہ معاشرے کی براٸیوں کے خلاف مزاحم ہونے کی بھی ہمت رکھتا ہے۔ یہ ہیں وہ خوبیاں جن کے بیج ہمارے بچوں کی ننھی منی شخصیتوں میں موجود ہیں اور جن کو نمو دے کر ہم نے پروان چڑھانا ہے۔ اب جبکہ طے ہو گیا کہ بچوں کی تربیت کیا کرنی ہے تو مرحلہ یہ آن پہنچا کہ یہ تربیت کیسے کرنی ہے؟ جاری ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */