کرونا حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام - شاہد محمود

میں کرونا وائرس کو حقیقت سمجھتا ہوں اس لئے میرے اکثر دوستوں، کزنز سےبھی اس معاملے پر اختلافات ہیں اور کچھ دوست تو ہر وقت بحث مباحثے کے موڈ میں رہتے ہیں لیکن وہ بحث مباحثہ حدود و قیود کے اندر رہتا ہے۔ میں اپنانقطہ نظر پیش کرتا ہوں میرے دوست اور کزن مجھے اپنے خیالات سے آگاہ فرماتے رہتے ہیں ۔

زیادہ تر دوست یہ کہتے ہیں کہ کرونا کوئی بیماری نہیں ہے یہ صرف ایک ڈرامہ ہے جو کہ امداد لینے کے لئے رچایا گیا ہے اور عالمی دنیا اس کے جواعداد و شمار بتا رہی ہے ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ایک یہ کہتا ہے کہ یہ وائرس مغربی ممالک میں تو موجود ہے لیکن ہمارے ملک میں اس وائرس کی آڑمیں اسلامی شعار پر حملہ کیا جا رہا ہے کچھ کے خیال میں یہ وائرس بہت کم پیمانے پر موجود ہے اس کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کئے جا رہے ہیں ہیں تاکہ بیرونی امداد لی جا سکے اور ان اعدادوشمار کو بڑھانے کے لئےلوگوں کو اسپتالوں میں زہر کے ٹیکے بھی لگائے جا رہے ہیں، جبکہ چند ایک کے خیال میں تو ہسپتال مریض کی ڈیڈ باڈی بھی واپس نہیں کرتے ۔

بلکہ اس کےبدلے میں تابوت میں روئی یا پتھر بھر کر دیئے جاتے ہیں اس کے علاوہ بھی مختلف خیالات ہیں ۔جب کہ میرا یہ ماننا ہے کہ پاکستان سمیت جتنے بھی غریب ممالک ہیں عالمی بینک اور آئی ایم ایف قدرتی آفات اور وباؤں کے موقع پر ان کی امداد کرتے رہتے ہیں جس کے لیے وہ لاشوں کا مطالبہ نہیں کر سکتےاور ان دنوں میں تو ویسے بھی امداد دینے والے ممالک کی اپنی معیشت بھی تباہ ہو چکی ہے اس لیے ایک لاش کے بدلے میں دس ہزار ڈالر یا پانچ ہزارڈالر لینے والی بات ہی سمجھ سے بالاتر ہے، دوسرا جو مذہبی شعار پر حملےوالی بات ہیں یہ ہمارے ملک کے حکمرانوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جو کمزور طبقہ ہو اور جلدی دباؤ میں آجائے اسی کو زیادہ دبایا جاتا ہے جو بس سے باہر ہواس سے آنکھیں چرائی جاتی ہیں مساجد اور مدارس کے منتظمین پر ایس او پیزنافذ کروانے کے لئے سختی سے عملدرآمد کروایا گیا جبکہ مارکیٹ اور دوسری تقریبات پر ایسی کوئی سختی دیکھنے میں نہیں آئی لیکن اس کے باوجود ایس او پیز کے تحت ملک کی زیادہ تر مساجد کھلی رہیں اور علماء اور حکومت کے باہمی مشورے سے ایس اوپیز کے تحت مسجد میں تراویح بھی ادا کی گئی۔

اوراعتکاف میں بھی لوگ بیٹھے ہیں اور اس وبا کے دوران زیادہ تر لوگ دین کی طرف راغب ہوئے جو لوگ برائے نام مسلمان تھے وہ بھی نماز روزے کی پابندی کرنے والے بن گئے اور مساجد میں لوگوں کا پہلے سے زیادہ رجحان دیکھنے میں آیا ، آخری اعتراض کے جواب میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی گورنمنٹ کے مفاد میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ مریضوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے۔اس کو اس ملک کی بد انتظامی اور نااہلی تصور کیا جاتا ہے جبکہ کئی ممالک نے تو مریضوں کی تعداد کو بہت کم ظاہر کیا اور میڈیا پرپابندیاں لگائیں کہ مریضوں کی تعداد کو میڈیا پر کم بتایا جائے اس لئےمریضوں کی تعداد کو بڑھانا یا زیادہ بتانا گورنمنٹ کی بدانتظامی تصور کی جاتی ہے اور ایسے ممالک پر طویل عرصے کے لیے سفری اور دوسری پابندیاں لگنے کا خدشہ موجود رہتاہے اس لیے میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی گورنمنٹ ایسی بیوقوفی کرے گی۔

اب کرونا وائرس چاہے قدرتی ہو یا مصنوعی طور پر تیار کیا گیا بہرحال وہ ایک حقیقت اور خطرناک مرض ہے اور اس وقت پاکستان میں اس بیماری سے ایک لاکھ پچاسی ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 3500 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ستر ہزار سے زائد تندرست ہو گئے ہیں۔ جب کہ یہ وائرس دن بدن پھیلتا ہی جا رہا ہے اور اس کے جان لیوا حملے سے کئی اراکینِ اسمبلی، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی متاثر ہو چکا ہے حکومت پاکستان کی غلط منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے فقدان نے اس کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب وائرس کے چند کیس پاکستان میں آئے تو عوام اور ڈاکٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی بارڈرز اورفضائی سروس کو بند کیا جائے لیکن حکومتی وزیروں کی نااہلی اور اقربا پروری سے بارڈر کو کھول دیا گیا اور ان زائرین کے لیے کوئی خاص حفاظتی انتظامات بھی نہیں کیے گئے تفتان بارڈر پر موجود قرنطینہ سنٹر میں سہولیات کی کمی، کی وجہ سے مریض فرار ہوتے رہے جس کی وجہ سے وائرس مقامی سطح پر پھیل گیا۔

اس کے بعد بھی اگر حکومت چاہتی تو اس مرض کو زیادہ پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا جب پاکستان میں چند سو مریض تھے تو ڈاکٹروں کی تنظیم نے گورنمنٹ سے لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس کو بھی سیاست کی نذر کر دیا گیا اگر شروع میں ایک ماہ کا سخت لاک ڈاؤن کیا جاتا تو یہ وائرس زیادہ تباہی نہ پھیلاتا ،مزدور طبقہ اور غریب عوام بھی زیادہ متاثر نہ ہوتے اس کےبعد کئی علاقوں میں سخت لاک ڈاؤن اور کچھ علاقوں میں برائے نام لاک ڈاؤن شروع ہوگیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور وائرس مقامی سطح پر پہنچ چکا تھا اس کے بعد بھی ابھی تک گورنمنٹ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے عام پاکستانی عوام اس وائرس کو ڈرامہ سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ کے ہسپتالوں میں کئی کیسز ایسے دیکھنے میں آئے کےمریض کسی اور مرض میں اسپتال گیا اور وہاں پر اس کی موت واقع ہوگئی توڈاکٹر نے اس کی موت کی وجہ کورونا وائرس کو قرار دیا ۔

میرے کئی جاننےوالے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا کہ ان کے کسی پیارے عزیز کسی اورمرض کا علاج کرواتے ہوئے ہوئے مر گئے لیکن اسپتال انتظامیہ نے ان کو لاش دینے سے انکار کیا اور ان کو کرونا وائرس کا سرٹیفکیٹ دینے پر اصرارکیااور ایس او پیز کے تحت تدفین پر زوردیا مندرجہ بالا وجوہات پر لوگوں کا اس وائرس کی موجودگی سے ہی اعتماد اٹھ گیا اور لوگوں نے ہسپتال جانے کے بجائے گھر میں علاج کرنا بہتر سمجھا اس کے رد عمل میں لوگ ڈاکٹروں کے دشمن بن گئے اور ان سے نفرت کرنے لگے ابھی بھی حکومت اور ڈاکٹرز کو چاہیے کہ اس سلسلے میں عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں اور جو زہر کا ٹیکہ لگانے کی افواہیں گردش میں ہیں ۔

اس کو عملی طور پر غلط ثابت کریں اور میڈیا کے ذریعے عوام سے گزارش کی جائے کہ اگر ایسا کوئی بھی کیس دیکھیں تو متعلقہ ہسپتال ،ڈاکٹر اور مریض کا نام فراہم کریں اگر کچھ لوگ ایسی غلط افواہ پھیلا رہے ہیں تو ان سے ثبوت مانگے جائیں اگر کوئی ثبوت دیتا ہے تو ایسے انسان دشمن اور پیسے کے پجاریوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اگر کسی کے پاس ثبوت موجود نہیں ہے تو ان افواہ سازوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ لوگ فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹروں اور متعلقہ اداروں پر کیچڑ نہ اچھال سکی

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */