اٹھارہ ذی الحج شہادت حضرت عثمان غنی ؓ - محمد حنیف عبدالعزیز

ابو عبداللہ عثمان بن عفان ؓ576 عیسوی میں مکہ میں پیدا ہوئے ۔آپ ؓ اموی خاندان سے تھے حضور اکرم محمد رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی کا نکاح آپ ؓ سے ہوا جب وہ فوت ہو گئیں تو حضور اکرم ﷺ نے دوسری صاحبزادی کا نکاح آپ ؓ سے کر دیا جب وہ بھی وفات پاگئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری اور بیٹی ہو تی تو وہ بھی حضرت عثمان غنی ؓ کے نکاح میں دے دیتا ۔ اس وجہ سے آپؓ ذولنورین کہلائے ۔

آپ ؓ تیسرے خلیفہ مقر ر ہوئے اور گیارہ سال گیارہ ماہ اور نو ددن تک خلیفہ رہے آپ کی شہادت بہت درد ناک طریقے سے ہوئی جو کہ حضرت اما م حسین علیہ سلام سے بھی درد ناک ہے ۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت ایک ایسا واقعہ ہے جسے بھلایا نہی جا سکتا ۔یہ وہی عثمانؓ ہیں جس نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شادی کا سارا خرچہ اٹھایا یہ وہی عثمان ہیں جس کی حفاظت کے لئے حضرت علی کرم اللہ وجہ حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسین ؑ کو تعینات کر تے ہیں حضرت عثمان غنی ؓ کے گھر کا چالیس دن تک محاصرہ کیے رکھا گھر میں نہ پانی ہے اور نہ ہی کھانے کے لئے کچھ ہے حضرت علی کرم اللہ وجہ پانی کا مشکیزہ لے کر جاتے ہیں اس پر بھی تیروں کی بارش کی جا تی ہے۔

اس عثمان ؓ کا پانی بند کیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے لئے میٹھے پانی کا کنوں اپنی جیب سے خرید کر دیتے ہیں اور سب کے لئے وقف کر دیتے ہیں ۔ اس عثمان ؓ کے ہاتھوں کو کاٹا جاتا ہے جن ہاتھوں پر حضور اکرم ﷺ نے بیت کی ہوتی ہے۔ چالیس دن کے محاصرے کے بعد بروز جمعۃالمبارک اٹھارہ ذی الحج ۳۵ ہجری (۶۵۶ء) کو آپؓ کو برچھی مار کر شہید کر دیا گیا ۔ شہادت کے وقت آپ ؓ کی عمر مبارک تقریباًبیاسی سال تھی ۔شہادت کے بعد آپ کی میت چار دن بے گوروکفن پڑی رہی آخر چوتھے روزبغیر غسل اور بغیر کفن بہت ہی سخت حالات میں رات کے آخری پہر آپ کو جنت البیقی میں دفن کر نے کوشش کی گئی مگر ناکام رہے اور جنت ا لیبقی کے باہر ہی آپ کی میت کو دفن کیا گیا جنازے میں صرف چار اشخاص نے شرکت کی ۔

آپ ؓکی میت کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ امت المومنین نائلہ روشنی کے لئے چراغ لے کرتشریف لے گئیں ۔ آپ ؓ نے شہادت سے پہلے فرمایا تھا کہ اے لوگوں اگر تم مجھےؓ قتل کرو گے اس کے بعد مسلمان دوبارہ اکٹھے نہ ہو سکیں گے اور نہ ہی تلواریں نیعاموں میں ڈال سکیں گے ۔ آپ کا یہ فرمان بلکل پورہ ہوا ۔ انا للہ و انا علیہ راجیعون

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */