ملک مقدس ہے‘ صوبے نہیں- سجاد میر

میں یہ بات کئی بار لکھ چکا ہوں مگر آج اس پر زور دینے کے لیے گفتگو کا آغاز ہی اس سے کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کہ صوبے مقدس نہیں‘ ملک مقدس ہے۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ یہ ملک صوبائی اکائیوں نے مل کر بنایا تھا۔ سچ پوچھئے تو جب یہ ملک بنا تھا تو صوبے تقسیم ہوئے تھے۔ پنجاب اور بنگال دو ٹکڑوں میںبٹے تھے۔ سندھ پہلے ہی تقسیم کے عمل سے گزر چکا تھا وگرنہ وہ ممبئی میں شامل تھا اور خیبر پختونخوا میں تو بہت سا علاقہ وفاق کے ماتحت قدرے آزادانہ حیثیت رکھتا تھا اور بلوچستان تو صوبہ تھا ہی نہیں۔ بعض ریاستیں بھی تھیںجو پاکستان میں شامل ہوئیں‘ بہاولپور‘ قلات‘ سوات‘ خیرپور اور ہم تو اس میں کشمیر کو بھی ثابت کرتے ہیں۔ یہ جو آج کل بحث چلی ہوئی ہے کہ ہم سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے اور جنوبی پنجاب کا صوبہ بنا کر رہیں گے۔ ہم اس کے اصل تناظر میں نہیں دیکھ پاتے۔ بہرحال کہنا مجھے یہ ہے کہ صوبے مقدس نہیں‘ اصل تقدس ملک کو حاصل ہے۔ ارے بھئی اگر پنجاب تقسیم ہو سکتا ہے تو سندھ کیوں نہیں جبکہ انتظامی طور پر اس کی ایک ضرورت ہے۔ کسی نے دلیل دی ہے کہ وہاں کے لوگ نہیں چاہتے۔ کس نے کہا کہ آپ سے۔ اندرون سندھ کے لوگ نہیں چاہتے مگر کراچی کے لوگوں سے پوچھئے تو ان کا جواب مختلف ہوگا۔ جب پاکستان بنا تھا تو کراچی تین لاکھ کی آبادی کا ایک ساحلی شہر تھا۔ بندرگاہ تھی۔ اب یہ تین کروڑ نہ سہی ڈیڑھ دو کروڑ کا شہر ضرور ہے۔ یہ وہ شہر نہیں جو پاکستان بنتے وقت پاکستان میں شامل ہوا تھا۔ اس کی ڈیموگرافی ہی الگ ہے۔ یہاں کی آبادی کے مسائل ہی مختلف ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ تقسیم کے وقت ملک کا وفاقی دارالحکومت بن گیا تھا۔ اس میں اس وقت سے انفرادیت کے بیچ بو دیئے گئے تھے۔ پھر یہاں زرعی کلچر یا معیشت تو ہے ہی نہیں۔ ساری آبادی سراسر شہری ہے جس کا اپنا طرز فکر ہے۔ ون یونٹ ٹوٹا تو اس وقت بھی تجویز پیش کی گئی کہ کراچی کی انفرادیت کی وجہ سے سندھ سے الگ ایک حیثیت دے دی جائے۔ مگر عجیب بات ہے اس وقت کراچی کی قیادت نہ مانی۔ اس وقت سندھ کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں دیہی آبادی کا غلبہ ہے۔ دیہی آبادی کے لیے شہروں کو ساتھ لے کر چلنا آسان نہیں۔

بدقسمتی سے سندھ پر شہری آبادی کی حکومت قائم ہونے کا دور دور تک امکان نہیں اور دیہی آبادی کا شہری میکانیات کو سمجھنا دشوار ہے۔ کراچی کے لوگوں کا فرق اس طرح سمجھ لیجئے کہ لوگ بار بار مجھ سے پوچھتے تھے تم نے دیہات دیکھے ہیں۔ اس سوال کے پیچھے یہ فکر تھی کہ کراچی کے گرد سو سو کلومیٹر تک حقیقی معنوں میں کوئی دیہات ہے ہی نہیں۔ شہر یہی کراچی شہر ہے جو پھلتا ہی جا رہا ہے یا ویرانہ ہے۔ لوگوں نے دیہات دیکھے ہی نہیں۔ ادھر اندرون سندھ کا معاملہ یہ ہے کہ (حیدر آباد سکھ سمیت) وہاں کوئی حقیقی معنوں میں شہر ہے ہی نہیں۔ جب پنجاب میں شہری حکومت آتی ہے مثلاً حنیف رامے‘ شریف برادران اور قدرے چوہدری بھی تو ان کا آڈٹ تک مختلف ہوتا ہے اور جب کھر جیسے جاگیردار آتے ہیں تو ان کا نکتہ نظر مختلف ہوتا ہے۔ آج کل بزدار جو جنوبی پنجاب کا نام لے لے کام کئے جارہا دراصل زرعی ذہنیت کا شاخسانہ ہے۔ اس پر میں پھر بھی لکھوں گا۔ میں تو اس بحث میں پڑتا ہی نہیں کہ جنوبی پنجاب میں کہیں حکومت ہو‘ بہاولپور کی الگ ہو کہ یہ بھی ون یونٹ ٹوٹنے کا ’’ناتکمیل شدہ‘‘ ایجنڈہ ہے یا ملتان‘ ڈی جی خان کو بہاولپور ملا کر بنائی جائے۔ میرا ایک ہی مسئلہ ہے وہ یہ کہ جنوبی پنجاب کو فیوڈل کلچر کے سپرد کرنا مجھے ایک رجعت پسندانہ اقدام لگتا ہے۔ البتہ انتظامی نکتہ نظر سے یہ ایک صائب فیصلہ ہے۔ دیکھئے تقسیم کی خواہش کہاں نہیں۔ ایبٹ آباد کی علیحدگی کی تحریک تو زوروں پر رہی۔ بلوچستان کا تو ہم نے ناس مار دیا۔ وگرنہ وہاں اچھے دنوں میں بھی پختون اور بلوچ آبادی میں تصادم رہا ہے۔ ملک کے اندر اور بہت سے اقدار و ثقافت کے تضادات ہیں۔ کوئی حرج نہیں۔ ملک کو مختلف اکائیوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس صدی کے آغاز میں ایک بحث چلی تھی کہ ملک میں 12 یا 15 صوبے یا ریاستیں بنا دی جائیں۔ مجھے تو اس میں کوئی اعتراض نظر نہ آتا تھا۔ کراچی کو اب چھ اضلاع میں بانٹا تھا تو تقسیم صاف نظر آتی ہے مگر جب 18 ٹائون میں بانٹا گیا تھا تو کسی کو اعتراض نہ تھا۔ معاملہ نیتوں کا ہے جو انتظامی معاملات کو خوش‘ اسلوبی یا بدنیتی سے حل کرنے کا بن جاتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ کراچی میں گزارا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں اندر سے لاہوریا ہوں یا کراچی والا۔ تاہم میں نے یہ بحث اس لیے چھیڑی ہے کہ ہم اگر صوبوں کو تقدس دے کر اس کی پوجا کرنے کے بجائے اپنے ملک کو اہمیت دیں تو مسئلے حل ہو سکتے ہیں۔ جب مشرف نے شہری نظام رائج کیا تو صوبوں کے تقدس کے ثناخواں آن پہنچے کہ یہاں صوبوں کو بائی پاس کر کے وفاق نے براہ راست بلدیات کو اہمیت دے دی ہے۔ حضور! اس وقت نچلی سطح پر اختیارات و وسائل تو پہنچ رہے تھے۔ ان صوبوں نے تو گویا سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ اس میں کوئی استثنیٰ نہیں ہے۔

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ہم نے اقتدار نچلی سطح پر بانٹ دیا ہوتے تو آج کوئی مسئلہ اس شدت سے پیدا نہ ہوتا۔ ایک خطرناک بات پھر کہہ دوں یہ صوبائی تقدس کا معاملہ بھی خاصا جاگیردارانہ مزاج یا زرعی معیشت کا پیدا کردہ ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ مشرف کا بلدیاتی نظام اچھا تھا اور اس کے نتیجے میں کوئی جدید کلچر آ گیا تھا بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ صوبوں کے تقدس کے نام پر ہم ملک کے مفاد میں فیصلے کرنے سے کنی کتراتے ہیں۔ ایک بات اور یاد رکھئے کہ جب ریاست کا لفظ استعمال کرتے ہیں یا ریاست کی رٹ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب مملکت پاکستان ہونا ہے‘ کوئی صوبہ نہیں۔ صوبے انتظامی طور پر اس رٹ کو نافذ کرتے ہیں۔ اس سارے جھگڑے کا نتیجہ ہے کہ ملک میں بار بار مارشل لا لگنے کا جواز پیدا کردیا جاتا ہے۔ ملک کی بہتری اسی میں ہے کہ پورے ملک کو مختلف اکائیوںکے مجموعے کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے ایک ملک کے طور پر دیکھیں۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پارلیمانی نظام کو ختم کر کے یہاں کوئی وحدانی نظام نافذ کردیا جائے۔ اگرچہ جمہوریت کی ماں برطانیہ اسی راستے پر چلتی ہے۔ ہمیں اپنے انتظامی امور کو خود اپنے تقاضوں کے مطابق سوچنا ہے۔ جب بے نظیر نے ضلع کی سطح پر لیفٹیننٹ گورنر مقرر کر نے کی بات کی تھی تو مطلب یہ تھا کہ اختیارات کو نیچے تک تقسیم کردیا جائے۔ جو بھی کیجئے‘ یہ سوچ کر کیجئے کہ صوبہ مقدس نہیں‘ تقدس صرف ملک اور ریاست کو حاصل ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */