عید قربان یا رزق کی بے قدری - محمد حنیف عبدالعزیز

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے پورے سال میں تین عیدیں عطافرمائیں ہیں ان میں پہلی عید جمعۃ المبارک ہے جو سال میں تقریباً باون دفعہ آتی ہے اس کے لئے حکم یہی ہے کہ ہر جمعہ کو عید کی طرح نہا دھو کر خشبو لگا کر مسجد میں جایا جائے ۔ دوسری عید عیدالفطر ہے جو رمضان شریف کے بعد آتی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پورا مہینہ روزے رکھنے کے بعد روزہ داروں کے لئے اس کا اجر عطا کر نا ہو تا ہے ۔ تیسری عید ، عید قربان ہے جسے عید الضحیٰ بھی کہتے ہیں ۔

ویسے تو یہ عید سنت ابراہیم ؑکو پورا کر نے کے لئے ادا کی جاتی ہے ۔ قربانی کا مطلب صرف جانور کا خون بہانا ہی نہیں بلکہ ہر چہز کی قربانی کی جا نی چاہیے مثلاً خواہشات کی قربانی ،انا کی قربانی اور ظاہری شان وشوکت کی قربانی ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا ہو تا نہیں ہے ۔ خوہشات کو دبانے کی بجائے مزید بڑھایا جاتا ہے دوسروںکی خواہشات کا احترام کرنے کی بجائے مجروح کیا جا تاہے ۔ انا کو قربان کرنے بجائے اسے اپنی توہین سمجھا جاتا ہے اگر کسی رشتہ دار سے کسی معاملے میں رنجش ہو جاتی ہے اسے دور کر نے کے لئے اس کے پاس چل کر جا نا انا کا مسلہ بنا یا جاتا ہے ۔ظاہری شان وشوکت کے طور پر لوگوں دکھانے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر جانوروں کی خریداری کی جا تی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کس بات میںہے ۔

قربانی کے جانور میں جو چیزیں حرام ہیں ان کے بارے میں اہل علم کی دو رائے ہیں اہل بریلوی اور حنفی دیوبندی حضرات کے نزدیک سات چیزیں حرام ہیں ۔۱۔بہتا ہوا خون۔ ۲۔ نر اور مادہ کی شرم گاہ ۔۳۔ کپورے ۔۴۔ گردہ ۔۵۔ مثانہ ۔۶۔ پتہ۔۷۔بچہ دانی ۔جبکہ اہلحدیث کے نزدیک صرف بہتا ہوا خون حرام ہے کیونکہ قرآن مجید میں اس کے لئے واضح حکم ہے باقی ہر چیز ہلال ہے ہاں اگر کسی کو کسی ایک چیز کے کھانے میں کراہت مہسوس ہو وہ نہ کھائے۔ آج کل ایک اور بات عام ہے کہ اوجڑی حرام ہے اہل بریلوی علماء کے نزدیک حرام ہے جبکہ اہلحدیث کے نزدیک حلال ہے ۔

اگر دیکھا جائے تو آج سے تیس چالیس سال پہلے جب لوگ اتنے امیر نہیں ہوتے تھے بڑے جانور میں ایک حصہ مشکل سے ڈالتے تھے جس میں سے ایک حصہ دس بارہ کلو کا ہوتا تھا اورچھوٹا جانور بھی دس پندرہ کلو کا لے سکتے تھے اس وقت گھر والوں کواس میں ہی اپنے گھر والوں ، عزیز واکارب اور فقرا کو راضی کر نا ہوتا تھا اس وقت بریلوی حضرات قربانی کے بعد جو ہانڈی بناتے تھے اس میں اوجڑی کلیجی دل گردہ اور کچھ گوشت ڈال کے بناتے تھے اور اس پر ہی ختم شریف پڑ ھ کر کھاتے تھے اس و قت حلال تھا اور اب حرام ہے اس فتوے کی وجہ سے آج جو قربانی ہو رہی ہے اوجڑی کے ساتھ جانور کی سری بھی لوگ نہی کھاتے اور کچرا دانوں کی نظر کر رہے ہیں ۔

کیا یہ اللہ تعالیٰ کی حلال چیزوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے کیا یہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں ہے اس پر سب لوگوں کو خاص کر علماء کرام کو ضرور غور کر نا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اگرتم میری عطا کی ہوئی حلال نعمتوں کی قدر نہیں کرو گے وہ نعمتیں تم سے واپس لے لی جائیں گیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ناشکری سے بچائے آمین ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */