پاکستانی ڈاکٹرز اور پاکستان میں ان کا تاریک مستقبل - ڈاکٹر جہان عالم

ھوش سنبھالتے ھی پاکستانی معاشرے میں بچوں کو ایک لمبے دورانیے کی ذھنی مشق یعنی سکول میں داخل کروا دیا جاتا ھے اور تمام معتدل اور خوشحالی پسند خاندانوں کی یہی خواھش اور منشا رھتی ھے کہ تعلیم کے زیور سے اراستہ ھوکر ان کی اولاد کارھائے نمایاں سرانجام دے سکے۔سکول کی زندگی میں بچوں کیساتھ ساتھ والدین کو بھی ھر لمحہ آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ھے کیونکہ اولاد کی کامیابی اور ناکامی ماں باپ کیلیے آزمائش سے کم نہیں ھوتی۔

ستر فی صد سے زیادہ پاکستانی بچے اس طویل اور روزمرہ کی ذھنی آزمائش کو درمیان میں ھی ادھورا چھوڑ دیتے ھیں کیونکہ کجا عاشق کجا کالج کی بکواس اور یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ تو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس !لیکن کچھ ایسے سر پھرے بھی ھوتے ھیں جنھوں نے اس آشفتہ سری کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ضد اور انا پالی ھوتی ھے اور یہی وہ گناہگار ھیں جو پہلی جماعت سے لیکے میٹرک تک اور پھر ایف ایس سی میں اہنی سر دھڑ کی بازی لگاکر, بےشمار راتوں کو جاگ کے امتحانات میں نمایاں سکورز اور گریڈز لیتے ھیں لیکن پھر بھی انٹری ٹیسٹ نامی کے ٹو جتنے کٹھن پہاڑ کو سر کرکے ھی میڈیکل اور انجینیرنگ یونیورسٹیز تک پہنچنے کا معرکہ سر انجام دیتے ھیں۔انٹری ٹیسٹ میں پورے صوبے کے ھزاروں طلبا ھوتے ھیں ۔مثال کے طور پہ دو سال پہلے پختونخواہ میں میڈیکل انٹری ٹیسٹ کیلیے کوئی پچیس ھزار طلبا ٹیسٹ میں حاضر ھوئے جبکہ میڈیکل کی سیٹس اس کے مقابلے میں بہت ھی کم گویا اونٹ کے منہ میں زیرہ۔۔۔اسطرح ھزار ھا طلبا میڈیکل اور انجینرنگ یونیورسٹیز میں جانے سے رہ جاتے ھیں اور متبادل کے طور پر فوج ,عدلیہ یا سول سروس کا امتحان پاس کرکے پولیس, بیوروکریسی کا حصہ بن جاتے ھیں کیونکہ ان تمام شعبہ جات میں شامل ھونے کیلیے تعلیمی قابلیت کی وہ حد نہیں ھوتی جو کہ ڈاکٹر یا انجینر بننے کیلیے درکار ھوتی ھے۔

اب یہ جو چند سو طلبا میڈیکل اور انجنیرنگ یونیورسٹیز میں پہنچ پاتے ھیں ان کی زندگی سہل ھونے کی بجائے مزید کٹھن ھوجاتی ھے کیونکہ اب انھیں قلیل سہولیات میں پیچیدہ علوم کا نہ صرف حصول کرنا پڑتا ھے بلکہ امتیازی نمبر بھی حاصل کرنا ھوتے ھیں کیونکہ یہ ان کو مستقبل میں فارغ التحصیل ھونے پر ملنی والی ڈگری کی افادیت کو متاثر کرتی ھے خدا خدا کرکے جب یہ پانچ سال گزرجاتے ھیں اور تقریباً پچاس سے زیادہ مضامین میں عملی اور نظریاتی مہارت حاصل کرنے کے بعد ان کو بیچلر آف میڈیسن ایمڈ سرجری کی ڈگری ملتی ھے اور ان کو پہلی عملی تربیت گاہ یعنی ٹیچنگ ھسپتال میں ایک سال کیلیے بطور ھاوس افیسر تعینات کردیا جاتا ھے جہاں پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے نصاب کے مطابق سرگرمیوں کے علاوہ پروفیسر حضرات کے ذاتی گھریلو کام کاج بھی ان جونئر ڈاکٹرز کو مجبوراً کرنا پڑتے ھیں اور اس کے بدلے میں چند ھزرا روپے کا ماھانہ وظیفہ بھی ایک سال کیلیے دیا جاتا ھے ۔
ایک سال بعد ھاوس جاب ختم ھوتے ھی یہ نوجوان ڈاکٹرز بےروزگار ھوجاتے ھیں اور نوکری کی تلاش میں دربدر خوار ھوتے رھتے ھیں۔

اور حیرت زدہ بھی کہ یہ ماجرہ کیا ھوا ھے جو اسقدر جانفشانی اور تگ و دو کے بعد بھی وہ اس قدر بد نصیب کیوں ھیں, ساتھ ھی ساتھ انھیں معلوم ھوجاتا ھے کہ بہت سارے نکمے اور نالائق طلبا دوست ملک چین اور افغانستان کی بوگس اور غیر معیاری یونیورسٹیوں سے ڈاکٹر کہلائے جانی والی خوبصورت رنگین گتے میں مزین ڈگری بھی مارکیٹ میں لاچکے ھوتے ھیں اور ھر بار ان سے ملاقات ھونے پر یہ لوگ ایک جملہ ضرور بولتے ھیں کہ اب تو ھم برابر ھیں تمھاری سولہ سالہ مشقت اور میری چین اور کابل یاترہ کی نصابی کارکردگی ایک برابر ھے۔یہ تمام پاکستان سے فارغ اتحصیل نوجوان ڈاکٹرز جب اپنے لیے روزگار کا مطالبہ کرتے ھیں تو نئے پاکستان کی حکومت ان کی اس گستاخی پر یک زبان ھوکر خیبر سے کراچی تک ان پر ڈنڈے برساتی ھے اور جیلوں میں ان قیدیوں کیساتھ رکھتی ھے جو عادی مجرم ھوتے ھیں ۔ؔھمارے ملک کے بیوروکریٹس جن کی تعلیمی قابلیت اسٹبلشمنٹ کے جوانوں سے تھوڑی زیادہ یعنی بی اے پاس ھوتی ھے ان نوجوان ڈاکٹروں کی کردار کشی کبھی خواتین ڈاکٹرز کو ھاسٹل سے باھر نکلوا کر کرتی ھیں اور کبھی پولیس افسر بن کر ان پر سر عام تشدد کرواتی ھے اور عقل و فہم غیرت و حمیت سے عاری ظاھر اور پس پردہ حکمرانوں کی ٹولی ٹس سے مس نہیں ھوتی ۔

حکومت پاکستان کی نا اھلی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اپنے سالانہ بجٹ میں صحت کو یکسر نظر انداز کیے ھوئے ھے ۔ کرونا کی وبا سے برسر پیکار ڈاکٹرز کیلیے چین سے بجھوائے گئے ماسکس اور کٹس تب ڈاکٹرز تک پہنچیں جب بڑے مگرمچھ اس مال مفت سے خوب سیر ھوگئے اور ڈھکار کیساتھ ساتھ متلی بھی کرنے لگے لیکن اس وقت تک بےشمار ڈاکٹرز کرونا کی وبا کا لقمہ اجل بن گیۓ اور بدلے میں ان کو سڑک پر حراساں کرکے روکا جاتا رھا تاکہ سلوٹ کی ویڈیو فیس بک پر لوڈ کی جاسکے اور اپنا مکروہ چہرہ چھپایا جاسکے۔بہت سارے پاکستانی ڈاکٹر راضی بہ رضا ھوکر سر جھکا کر شکست تسلیم کر لیتے ھیں جبکہ کچھ جو میری طرح کے باغی ھوتے ھیں جو ھر لمحہ تقدیر سے سر ٹکرانے کو تیار ھوتے ھیں وہ یورپ اور امریکی ھسپتالوں میں پہنچنے کیلیے پہلے انگریزی کا امتحان اتنے نمبر سے پاس کرلیتے ھیں جتنے انگریزوں کے بھی نہیں آتے اور پھر پلیب, یو ایس ایم لی, ایم آر سی پی, اور آئریش میڈیکل کونسل کی ممبر شپ حاصل کرکے ھی اپنی انا کی تشنگی کو بجھاتے ھیں۔

ان تمام حالات کا تقابلی جائزہ لیکر ھم بحیثیت قوم جس طرف جارھے ھیں وہ تو واضح ھے لیکن ایک بات یہ بھی ھے کہ والدین بچوں کے نصابی مستقبل کے فیصلے اب محتاط ھو کر کریں گے اور ایک سعی لاحاصل کی آگ میں شاید اپنے بچوں کا مستقبل مزید جلانے سے گریز کرنے لگیں گے جس کا نتیجہ یہی ھوگا کہ سرکاری ھسپتالوں کی زبوں حالی ابتر ھوتی جائیگی اور خواتین روزمرہ رکشوں میں نومولود کو جنم دیتی رھیں گی۔وہ دن دور نہیں جب سستے داموں چینی اور گندم برآمد کرکے مہنگے داموں وھی گندم اور چینی درامد کرنے والے عقلمند ارسطو صفت حکمران انہی بیرون ملک جانے والے پاکستانی ڈاکٹروں کو بحرانوں سے نمٹنے کیلیے واپس آنے کی منتیں کریں گے لیکن اس وقت آخری فیصلہ بےجان گندم یا چینی کے ذرات نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسان کریں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */