کیا امیر جماعت درست فرما رہے ہیں - حبیب الرحمن

امیر جماعت اسلامی نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ "قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ہوتے ہوئے اتنی بڑی تعداد میں آرڈی ننسز لانا حکومت کا اس آئین پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ آئین کو پس پشت ڈالنے والی حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ پارلیمنٹ نے جو آئین بنایا ہے وہ واحد دستاویز ہے جس پر عمل کر کے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ پاکستان کی بقا اور اس کی تعمیر و تر قی کے لیے یہ واحد دستاویز ہے جس پر پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا اور ہے"۔

جسارت اخبار میں لگنے والی اس خبر کے یہ ابتدائی جملے ہیں تو ساری سچائی سمیٹے لیکن اس کے باوجود میں یہ گستاخی کرنے کی جسارت کرونگا کہ وہ جس نظام کا حصہ بننے کا مسلسل اصرار کرتے چلے آ رہے ہیں اور عملاً جس کا مظاہرہ کیا جا رہا، وہی اس پاکستان کی تباہی و بربادی کا راستہ ہے۔ پہلی بات تو یہی ہے کہ 1958 کے بعد سے تا حال، پاکستان چلا ہی آرڈی ننسوں کے ذریعے ہے۔ ایوبی اور یحیائی دور تو تھا ہی "جو میں کہتا ہوں وہی قانون" کے تحت۔ ان ادوار کو ہم "زمینی خداؤں" کے دور کا زمانہ کہہ سکتے ہیں۔ ان کے بغل بچوں کا، پھر زمینی خداؤں کا اور پھر ان ہی کے بغل بچوں کے ادوار کا ایسا سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔

لہٰذا آرڈیننسوں کے اجرا پر اتنی چراغ پائی کی اس لئے ضرورت نہیں کہ ہم اس سسٹم کو سسٹم کے اندر رہتے ہوئے توڑ دینے کے فریب میں مبتلا ہیں جو کئی دھائیاں گزر جانے کے باوجود نہ صرف یہ کہ ٹوٹ نہیں سکا ہے بلکہ اس میں مسلسل رہنے کی وجہ سے ہم اپنی جسمانی اور روحانی طاقت کو ریزہ ریزہ کرتے چلے جا رہے ہیں اور اب یہ عالم ہو گیا ہے کہ کسی بھی جارحانہ انداز کو اپنا تے ہوئے ہم سب تپ لرزہ میں مبتلا فرد کی طرح کانپنے لگتے ہیں۔ دنیوی خسارے کا خوف اور جیلوں کی سلاخوں کے ڈراوے ہم پر اس حد تک غالب آ چکے ہیں کہ ایسے کچھ گروہ جو خالص ہو کر کسی نظام کو نافذ کرنے کی عملی جد و جہد کرتے نظر آتے ہیں، وہ سب ہمیں شدت پسند، غدارانِ ملک و ملت اور دہشتگرد نظر آنے لگتے ہیں۔

کسی بھی اسمبلی کے فلور پر یہ بات کہنا ہی فضول ہے کہ آئین کے ہوتے ہوئے آرڈیننسوں کے ذریعے حکومت چلانے کا کیا مقصد ہوتا ہے اس لئے کہ آرڈیننسوں کے اجرا کی اجازت بھی تو یہی آئین و قانون دیتا ہے۔ جب آئین کی نظر میں آرڈیننس کوئی غیر آئینی قدم نہیں تو خوامخواہ اس پر تکرار اس لئے بھی فضول ہے کہ "آئین" میں رہتے ہوئے ہم اپنی "منزل" کو پالینے کے پُر فریب دام میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ فرما یا گیا کہ غیر آئینی حکومتیں زیادہ عرصے نہیں چل سکتیں۔ اول تو 1958 سے لیکر آج تک جتنی بھی حکومتیں قائم ہوتی رہیں کیا ان کو خالص آئینی حکومتیں کہا جا سکتا ہے۔ جب ہر آنے والا چور دروازے سے ہی اقتدار پر براجمان ہوتا رہا ہے تو پھر اس کے اٹھائے جانے والے دیگر اقدامات کیسے آئین اور قانون کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ وہ حکومتیں جو قائم ہی آئین و قانون کی دھجیاں بکھیر کر ہوئیں وہی اب تک پاکستان میں سب سے زیادہ طویل عرصے حکومت کرتی رہی ہیں اور ہم نے نہ صرف ہر مارشل لائی دور کو خوش آمدید کہا ہے بلکہ کئی اعتبار سے ہم اسے قانونی جواز بھی فراہم کرتے رہے ہیں کیونکہ ہم سسٹم میں رہتے ہوئے اپنی منزل حاصل کرنے پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ 1973 کا آئین ہی ہمیں اپنی مزل تک پہنچا سکتا ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کی منزل اور جس کا مشن دنیا کے ہر آئین و قانون سے بلند و بالا ہے اس کا 1973 کے آئین کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کا راستہ سمجھ لینا ہی جماعتی مقاصد سے متصادم ہو تو پھر بات ساری کی ساری دین سے ہٹ کر دنیوی اغراض و مقاصد تک ہی سمٹ کر رہ جاتی ہے۔ ایک تو یہ کہ اگر 1973 کے آئین کو 1973 میں کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو شاید اسے ایک مبہم سا "اسلامی" راستہ کہا جا سکتا ہو لیکن جس آئین کے چہرے کہ سارے خد و خال ہی مسخ کرکے اسے وحشت و بربریت بھری شکل میں تبدیل کردیا گیا ہو، اس کے متعلق یہ خیال کرنا کہ یہ پاکستان کو پاکستان کے مقصد وجود تک لیجائے گا اللہ کے قانون سے بغاوت والی سوچ ہی کہا جا سکتا ہے۔ ان ساری باتوں کو سامنے رکھا جائے تو پھر ہمیں کئی باتوں پر از سر نو غور کرنا پڑ جائے گا۔ مثلاً، کیا پاکستان واقعی اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے بنایا گیا تھا؟۔

کیا ساری قربانیاں چند اقتدار پرستوں کو ایک خطہ زمین دلانے کیلئے مانگی گئی تھیں؟۔ کیا اس ملک میں جتنی بھی دینی جماعتیں ہیں وہ چند دنیوی مفادات کے عوض اپنی قیمت لگا چکی ہیں؟۔ کیا جماعت اسلامی اپنے مشن سے منحرف ہو چکی ہے؟۔ اور کیا جماعت نے سارے ہتھیار 1971 کے سے انداز میں ان ساری طاقتوں کے سامنے پھینک دیئے ہیں جو پاکستان میں حکومت کرتی یا چلاتی رہی ہیں؟ اور کیا اس نے اپنا سارا وہ عزم "مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی"، ترک کردیا ہے اور میدان میں تھکے ہوئے گھوڑے کی طرح اپنی گردن زمین کی جانب لٹکالی ہے۔
سسٹم کے تقاضے تو یہی کچھ ہیں باقی رہی امیر جماعت کی اپنی جماعت کی پالیسی تو وہ تو منور حسن کو پارٹی کی امارت سے نکال دینے کے بعد سو فیصد یو ٹرن لے چکی ہے اور اب وہ اتنی ہی "اسلامی" ہے جتنا پاکستان کی جمہوریت "اسلامی" کہلائی جاتی ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ہمارے لئے طیب اردگان۔کی مثال کافی ہے ، وہ قوتیں جنہوں نے بندوقیں اٹھا کر ملک میں خانہ جنگی پیدا کی بدقسمتی سے دین کا حلیہ بگاڑنے کے باعث بنے ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ کلمہ حق کہنے کی جو ریت منور حسن نے ڈالی تھی اسکو روکنا جماعت اسلامی کے لئے درست نہیں ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */