نیب کا معاملہ ، نیتوں اور اخلاص کا مسئلہ - وقاص احمد

افسوس ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ صرف ڈھائی ارب روپے میں ایک سو بیس احتساب عدالتیں بن سکتی ہیں۔ اور نجانے گزشتہ بیس سالوں سے ہمارے حکمران ملک کو کس آسمان پر لے جارہے تھے کہ ان کا دھیان کرپشن کے کیسز نمٹانے کی طرف گیا ہی نہیں۔ خیر، چیف جسٹس نے وزارت قانون کو اب ایک مہینے میں کی مہلت دے کر مثالوں سے واضح کیا کہ ڈھائی ارب روپے کی اس اہم کام کے سامنے کیا اوقات۔

بلا شبہ ملک کے بڑے بڑے عہدوں پر رہنے والے کرپٹ و بدعنوان عناصر جب لوٹ مار کر کے ڈکار بھی لیتے ہیں تو وہ ڈھائی ارب روپے سے زیادہ کی ہوتی ہے۔ اصل میں احتساب عدالتوں کی تعداد بڑھانے سے زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ احتساب بیورو کے قانون پر سنجیدہ اور خالص ماہرانہ نظر ثانی کی جائے۔ میڈیا پر یہ بحث چل پڑی ہے کہ نیب کے نوکیلے پنجے اوراسکے پر کاٹنے کی سازش ہورہی ہے اور یہ کام حکومت اور اپوزیشن مل کر کررہے ہیں۔ اس شک کی وجہ نیب قانون پر نظر ثانی کرنے والی چوبیس رکنی کمیٹی میں شامل وہ ممبران ہیں جو خود ملزمان ہیں۔ جونیب کی تفتیش سے نالاں و پریشان یا پھر ضمانت پر رہا ہیں۔ دوسری طرف کے تجزیہ کار اور اینکرز سپریم کورٹ کے ریمارکس کی روشنی میں یہ اخذ کر رہے ہیں کہ نیب کا ادارہ نا ا ہلیوں ، کمزوریوں ، سیاسی اانتقام اور پولیٹیکل انجنئیرنگ کی آماج گاہ بن گیا ہے اور اسے بند کردینا ہی مناسب ہے۔

معروضی سطح پر بات کی جائے تو اس بات سے اختلاف ممکن نہیں کہ نیب ایک ڈکٹیٹر کا بنایا ہوا ادارہ تھا جس کا بنیادی مقصدمخالف سیاسی قیادت کو جائز و ناجائز مقدمات میں پھنسا کر سیاسی فوائد اور وفاداریاں حاصل کرنا تھا۔ نیب نے اس دوران اچھے کام بھی کئے ہونگے، لوٹے ہوئے مال کی ریکوری بھی کی ہوگی لیکن سیاسی سطح پر کاروائیوں کا مقصد اور اسکے نتائج کچھ اور ہی نظر آئے۔ سیاسی حکومتوں نے نیب آرڈیننس کو ایکٹ بنایا، چیئرمین کی تقرری کا نظام بنایا لیکن نیت میں فتور ہونے کی وجہ سے قانون کا گہرائی میں مطالعہ نہیں کیا اور بہت سارے سقم و مسائل چھوڑ دیے گئے جو انہی کے گلے پڑے۔ قانون تو ایسا ہوناچاہیے جس میں عدل و انصاف کے ہر پہلو پر غور کیا جائے ، سقم دور کیے جائیں اور ضروری حقوق یقینی بنائے جائیں ۔ تحقیقات، گرفتاری اور ریفرنس بنانے کے اصول و ضوابط جہاں ایک طرف غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہونےچاہیے وہیں دوسری طرف ایسی کمزوریوں سے پاک ہونے چاہئے جس کا فائدہ مجرم اٹھا سکے۔ اس حوالے سے سب سے پہلے یہ معلو م ہونا چاہیے کہ نیب کے افسران، خاص طور پر تحقیقاتی افسران ، پراسیکیوٹرز، وکلاء کس طریقہ کار اور اہلیت پر بھرتی ہوئے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی نورا کشتی بمع نورا دوستی نے نیب کا جو کباڑہ کیاوہ سب جانتے ہیں۔ اس حوالے سے کوئی بورڈ اور کمیشن بنایا جاسکتا ہے جو ملازمین کی بھرتی اور ان کی اہلیت کی نگرانی کرے۔

اس بات کا تعین بھی بے حد ضروری ہے کہ نیب چیئر مین جو نیب کا مختار کل ہوتا ہے آخر کس کو جواب دہ ہے۔ اس کے پاس صوابدیدی اختیارات کس نوعیت و مقدار کے ہیں۔ کیا صوابدیدی اختیارات پر کوئی چیک اینڈ بیلنس اور نگرانی کا قانونی مکینزم ہے یہ سب انتہائی سنجیدہ پہلو ہیں۔ بغیر قانونی تحدید انتہائی اختیارات کا حامل شخص لالچ و ہوس یا کسی ذاتی و مالی مسئلے میں بلیک میل ہوجانے کی وجہ سے دونوں صورتوں میں خطرناک ہوتاہے۔ اس لئے چیئرمین نیب کی کارکردگی کا نگران قانونی طور متعین ہونا چاہیے۔ اچھی شہرت کے حامل حاضر اور ریٹائرڈ ججز کا گورننگ بورڈ یہ کام کر سکتا ہے ۔ اس کام سے نیب چیئرمین کی مبینہ طور پر جانبداری پر بھی موثر طور پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ موجودہ نیب چیئر مین کی مہینوں سستی اور اچانک پھرتی بہت ساری باتیں عیاں کردیتی ہیں ۔ سسٹم کا ملزمان پر کبھی سختی اور کبھی اچانک نرمی نچھاور کرنا بہت معنی خیز باتوں کو ہوا دیتا ہے اور ہر ڈرائنگ روم اور بیٹھک میں لوگ نادیدہ سایوں کی طرف ہی اشارے کرتے ہیں ۔

راقم کو کل شب ایسے ہی خیال آیا کہ نواز شریف کی لندن روانگی ، مریم نواز، آصف زرداری، فریال تالپور اور خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی نومبر2019 سے لیکر دسمبر کے وسط تک تیس پینتیس دنوں میں رونما ہوئی۔ ہمیں تو حکومت اور سٹیبلشمنٹ سے جڑے صحافیوں نے لالی پاپ دیا تھا کہ سارے کیسز ہی اوپن اینڈ شٹ ہیں ۔ ملزمان کا بچنا انتہائی مشکل ہے ۔ راقم نے اس حسین اتفاق پر مزید غور کرنے کی کوشش کی کہ اس کے بدلے اپوزیشن سے کیا حاصل کیا گیا ہوگا تو ذہن سینٹ چیئرمین کی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی طرف گیا لیکن مایوسی ہوئی کیونکہ وہ تو اگست 2019 کا معاملہ تھا۔ چونکہ اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت سب سے زیادہ پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم اور قانون سازی میں ہی ہوتی ہے خاص طور پر سینٹ میں جہاں ان کی اکثریت ہے تو خاکسار کو یاد آیا کہ ان واقعات کے دو تین ہفتے بعد ہی تینوں آرمڈ فورسز کے چیفس کی تقرری اور مدت ملازمت کا بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے متفقہ طور پر پاس ہوا تھا ۔

راقم کو اس بات پر شدید حیرت ہوئی کہ حکومت نے اس سازگار ماحول میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ بھی سینٹ سے پاس کروالیا۔ کیا آپ جانتےہیں کہ سینٹ سے پاس ہونے والا یہ تحریک انصاف حکومت کا واحد ایسا بل ہے جو ان کے الیکشن کے وعدوں یا ریفارمز سے متعلق ہے۔ باقی دوسرے سب بلز اپوزیشن کے تعاون کے نہ ہونے سے یا آرڈیننس کی شکل میں ہیں یا ایسے ہی پڑے ہیں ۔ سو نیب کو بغیر ثبوت گرفتاریوں، کمزور ریفرینسز اور رہائیوں کے ڈراموں سے بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ٹھوس مؤثر قانون۔ نیب چیئرمین کو جانبداری ، سستی و کاہلی ،ذاتی پسند و نا پسند کا کم سے کم موقع اور اختیار ملنا چاہیئے اور وہ صرف ایک مضبوط اور جامع قانون سے ہی ممکن ہے ۔ مضبوط جامع قانون سے ملزمان کے ساتھ نہ زیادتی ہوگی نہ ان کو ناجائز فائدہ ہوگا ۔ جہاں ایک طرف نیب کی جگ ہنسائی میں کمی واقع ہوگی وہیں اس قوی تاثر میں بھی کمی آئے گی کہ نیب صرف خفیہ اشاروں پر چلتا ہے۔

یہاں ایک غور طلب نکتہ یہ ہے کہ نیب کو پاکستان میں جتنا بھی غیر جانبدار کر لیا جائے، فرشتے بھی اگر حکومت کر رہے ہوں تب بھی جب سیاسی مخالفین کے خلاف تحقیقا ت اور کاروائیاں ہو نگی تو اپوزیشن حکومت کو ہی ظلم و زیادتی اور سیاسی انتقام کا طعنہ دے گی ۔ دوسری طرف ہائی پروفائل نیب مقدمات میں نیب کی کارکردگی صفر ہونے کی وجہ سے عوام حکومت کو ہی کھری کھری سناتی ہے ۔ حکومت کے لیے اس مسئلے سے نکلنے کا حل راقم پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہے کہ حکومت ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن اور وائٹ کالر کرائم ونگ کے ذریعے بہترین تحقیقات اور ریفرنس بنانے میں نیب کی مدد کرے ۔ اور اس تعاون کو قانونی شکل دی جائے ۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ حکومت کو انتہائی تجربہ کار اور فعال ایف آئی اے کی مدد حاصل ہو جائے گی اور نیب کی نا اہلی اور کوتاہی سے کسی کیس کو ضائع ہونے سےبھی بچایا جاسکے گا۔ واضح رہے جعلی اکاؤنٹ اور چینی اسکینڈل پر ساری تحقیقات اور رپورٹ ایف آئی اے نے ہی جاری کی۔

تفتیش ، بلاوے ،گرفتاری کا فیصلہ بے شک نیب اپنے طور پر کرے لیکن تفتیش اور ریفرنس بنانے کے عمل میں ایف آئی اے اور دوسرے ادارے شامل ہونے کی گنجائش نئے نیب قانون میں مو جود ہونی چاہیے ۔ مقدمات بنانا ، تفتیش کرنا، عدالت میں چالان پیش کرنا ہر زمانے میں حکومت اور انتظامیہ کا ہی کام رہا ہے، پولیس، محکمہ اینٹی کرپشن، اینٹی نارکوٹکس، ایف آئی اے، ایف بی آر وغیرہ اسی کام کے لیے بنائے گئے۔ وہ تو سیاسی اشرافیہ سے سیاسی انتقام کے نام پر ظلم نہ ہوجائے اور حکومت مقبول عوامی رہنماؤں کے ساتھ زیادتی نہ کر جائے اس کی وجہ سے نیب کو خاص طور پر حکومت سے دور کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ پاکستان کے حالات میں ٹھیک بھی ہے لیکن یہ بھی تو ہے کہ کوئی تو ہے جو نظامِ نیب چلا رہا ہے اور وہ صرف چیئر مین نیب نہیں ہے۔ امید ہے حکومت اپوزیشن اور اعلیٰ عدلیہ مل کر ایک ایسا مضبوط مؤثر اور متوازن قانون سامنے لائیں گی جسکا مقصد قطع نظر ملزم کے قد و کاٹھ اور مقبولیت ،صرف اور صرف عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ہو اور مجرم کو قرار واقعی سزا دینا ہو۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */