سید اطہر علی ہاشمی بھی غریقِ رحمت ہوئے - حبیب الرحمن

محترم اطہر علی ہاشمی صاحب سے میری کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن میں ان کی شخصیت کے متعلق جو کچھ بھی معلومات رکھتا تھا وہ سب کی سب میرے لئے بہت متاثر کن تھیں۔ ایک حسرت تھی کہ میں ان سے شرف ملاقات حاصل کروں لیکن اب یہ حسرت ہمیشہ کی حسرت ہی رہ گئی۔ کالج کی زندگی سے فارغ ہو کر غمِ روز گار میں ایسا گرفتا ہوا کہ جو کچھ تھوڑا بہت لکھنا آتا تھا وہ سب کچھ جیسے بھول کر ہی رہ گیا یوں نہ جانے کتنے ہم عصر شعرا اور لکھاریوں سے برس ہا برس کی دوریاں ہوتی چلی گئیں ۔

یہاں تک کہ فاصلوں کا گرد و غبار شناساؤں کے چہروں کو بھی اتنا دھندلا گیا کہ اکثر کے چہرے تک یاد نہیں رہے۔ اپنی ملازمت کی مدت پوری کرنے کے بعد طبعیت دوبارہ لکھنے لکھانے کی جانب مائل ہوئی تو ماہنامہ بتول، اردو ڈائجسٹ اور سر گزشت ڈائجسٹ میں کہانیاں افسانے اور مضامین ارسال کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جو گزشتہ کئی برس سے جاری ہے۔ جسارت میں تین چار برس سے "صریرِ خامہ" کے عنوان کے تحت اکثر کالم شائع ہو جایا کرتے ہیں۔ جس کیلئے میں جسارت کا ممنون و مشکور ہوں۔

اطہر علی ہاشمی صاحب کے انتقال کی خبر سن کر بہت صدمہ ہوا۔ نہ جانے سال 2020، جس کے متعلق اعلیٰ سطح پر یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ خوشخبریوں کا سال ہوگا، نہایت افسوس ناک خبریں لئے ہوئے کیوں گزر رہا ہے۔ پورا پاکستان بحران در بحران کا شکار ہے اور پاکستان سمیت پوری دنیا "کوویڈ 19" کی وبا میں گرفتار ہو کر رہ گئی ہے۔ اس سال کئی ایسے چہرے اور شخصیات جن کو کسی صورت بھلایا ہی نہیں جا سکتا، وہ پیوندِ خاک ہو چکی ہیں جن میں صرف اطہر علی ہاشمی ہی نہیں، سید منور حسن صاحب جیسی خوبصورت و خوب سیرت شخصیت بھی شامل ہے۔ اللہ ان تمام نیک بندوں کو جنت میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا کرے (آمین)۔

عظیم اور ہردل عزیزانسان کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد صرف اس کے اپنے ہی یاد نہیں کر رہے ہوتے بلکہ وہ پوری دنیا کے دل افسردہ اور آنکھیں پُرنم ہو جایا کرتی ہیں۔ جسارت اخبار کے چیف ایڈیٹر جناب اطہر علی ہاشمی صاحب کیلئے اتنے اداروں اور شخصیات نے اپنے نیک جذبات اور خیالات کا اظہار کیا ہے ان سب کی ساری عقیدتوں کو اگر تھوڑا تھوڑا بھی ضبطِ تحریر میں لایا جائے تو ایک طویل مضمون کی شکل اختیار کر جائے۔ میں نے ہاشمی صاحب کے بارے میں چند اداروں اور شخصیات کے کچھ تراشے انٹر نیٹ سے حاصل کئے ہیں جن کو میں ذیل میں درج کرنا چاہتا ہوں جس سے لوگوں اور اداروں کی ہاشمی صاحب سے قربت، لگاؤ، احترام، عقیدت اور محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ ان سب نے نہ صرف ہاشمی صاحب کی خدمات، ان کی قابلیت اور ان کی شخصیت کو سراہا اور اجاگر کیا ہے بلکہ جس عزت و احترام کا مقام ان کو دیا ہے، واقعی وہ اس کے لائق تھے۔

جسارت اخبار میں "بادنما" کے تحت کالم لکھنے والے "محمد انور" رقم طراز ہیں کہ "محترم اطہر علی ہاشمی صاحب بھی ہم سب کو روتا چھوڑ گئے۔ میری ان سے آخری گفتگو 2 اگست کی رات دس بجکر 50 منٹ پر، 13 منٹ 19 سکینڈ کی ہوئی۔ ہاشمی صاحب میرے لیے ایک ایسے رہنما تھے جو مجھے ہمیشہ اردو کے الفاظ، تلفظ اور ان کی ادائیگی کا طریقہ بتاتے رہتے تھے۔ بات کوئی بھی ہورہی ہو وہ میری غلطیوں کی اصلاح فوری کیا کرتے تھے اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ وہ اردو سے محبت نہیں عشق کیا کرتے تھے۔ اردو کے غلط العام الفاظ کو درست کرنے کے لیے وہ ہفت روزہ فرائڈے اسپیشل میں ’’خبر لیجیے زباں بگڑی‘‘ کے عنوان سے مسلسل کالم لکھا کرتے تھے۔ جبکہ روزنامہ جسارت میں بھی وہ "بین السطور" کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے۔ ان کی تحریریں قارئین میں بہت مقبول تھیں"۔

جسارت اخبار نے کچھ اس طرح رپورٹ کی ہے کہ "صحافت میں اطہر ہاشمی ایک استاد کی حیثیت رکھتے تھے، ان کی عمر کا بہت بڑا حصہ اسی پیشے سے جڑا رہا، وہ آخری دم تک صحافت کے میدان میں رہے اورملک میں ان کے کئی شاگرد پھیلے ہویے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اسپورٹس سے وابستہ شخصیات نے اطہر ہاشمی کے انتقال پر تعزیت کرتے ہویے کیا۔ ان میں کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدر پروفیسر سید سراج الاسلام بخاری، کے سی سی اے زون ایک کے سابق سیکریٹری منیر علی قادری، کراچی امپائرز ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری جنید غفور، پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے سیکریٹری امجد عزیز ملک، گوادر کرکٹ کلب کے سابق صدر حاجی محمد حنیف اور پاکستان ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم کے میڈیا مینجر نظام الدین شامل ہیں"۔

جیو نیوز نے خبر نشر کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اردو سمیت مختلف زبانوں پر عبور رکھنے والے سینئر صحافی اور اردو روزنامہ جسارت کے چیف ایڈیٹر اطہر علی ہاشمی آج اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ 74 برس کی عمر میں انتقال کرنے والے اطہر علی ہاشمی طویل عرصے سے عارضہ قلب سمیت ديگر امراض ميں مبتلا تھے۔ اطہر علی ہاشمی روزنامہ جسارت کےچيف ايڈيٹر تھے۔ انہوں نے زندگی کے44 برس شعبہ صحافت میں صرف کیے۔ ان کی نہ صرف اردو زبان بلکہ عربی، فارسی، ہندی اور سنسکرت پر مضبوط گرفت تھی۔ زبان کی اصلاح کےحوالے سے ان کا ہفتہ وار کالم ''خبر ليجيےزباں بگڑی'' کے عنوان سے انتہائی مقبول تھا۔ وہ جدہ سے شائع ہونے والے پہلے اردو اخبار "اردو نیوز" کے بانیوں میں شامل تھے۔ روز نامہ جنگ لکھتا ہے "روزنامہ ’جسارت‘ کے ایڈیٹر انچیف سید اطہر علی ہاشمی کراچی میں 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اطہر علی ہاشمی نے ’علاؤالدین خلجی کی معاشی پالیسی‘ پر مقالہ لکھ کر ایم فل کی ڈگری حاصل کی تھی"۔

آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا نے لکھا ہے کہ "سید اظہر علی ہاشمی پاکستان کے مایہ ناز صحافی و مصنف روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف تھے۔ وہ 1946ء کو پیدا ہوئے، ایف سی کالج لاہور اور جامعہ کراچی میں تعلیم مکمل کی،اطہر علی ہاشمی نے "علاؤالدین خلجی کی معاشی پالیسی" پر مقالہ لکھ کر ایم فل کی ڈگری حاصل کی تھی۔ "خبر لیجیے زباں بگڑی" کے نام سے جسارت بلاگ بنا رکھا تھا جو اپنے انداز بیان کے اعتبار سے پر مغز ہوتا تھا۔ وہ روزنامہ جنگ لندن سے بھی وابستہ رہے اور روزنامہ امت کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی رہے۔ وہ مختلف اخبارات و میگزین میں لکھتے بھی تھے۔ اردو نیوز جدہ کے بانیوں میں سے تھے، آپ کے فرزند حماد علی ہاشمی بھی شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں"۔

اردو نیوز، اب تک، روزنامہ 92 کے علاوہ پاکستان کی بہت ساری سیاسی و مذہبی پارٹیوں اور تنظیموں کی جانب سے بھی نہ صرف تعزیت اور اظہار افسوس کیا گیا بلکہ ان کی شخصیات کے بہت سارے پہلوؤں کو اجاگر بھی کیا گیا۔ ان کی زندگی کا ایک سنہری پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے ناظمِ تعلیمات اور استاذِ حدیث حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب مدظلہ کے بڑے بھائی بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے لوحقین کو صبر جمیل کی توفیق دے (آمین)۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */