اسٹیٹس - ام سلمان

کچھ عرصہ پہلے تک خواتین کو جب لڑنا ہوتا تو اپنی اپنی چوکھٹ پہ کھڑی ہو کے اگلی کو خوب سناتیں.... کچھ دیر بعد متعلقہ خاتون بھی دروازے پر نمودار ہوتیں اور برابر کی گولہ باری شروع ہو جاتی.پھر آہستہ آہستہ پڑوس کے دروازے کھلنا شروع ہوتے اور کچھ من چلی خواتین گھروں سے نکل کر اخباری رپورٹروں کی طرح ایسی جگہ سنبھال لیتیں جہاں سے سب کچھ صاف دکھائی اور سنائی دے تاکہ صورت حال کا صحیح اندازہ لگایا اور پھر مرچ مسالا لگا کے آگے بڑھایا جا سکے.!

ایک بی بی دروازے سے ایک ٹانگ باہر نکال کر کہتی."اپنے پپو کو سنبھال کے رکھ ہاجرہ! ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا." دوسری بی بی جواب دیتی."تجھ سے برا تو ویسے بھی کوئی نہیں کلثوووووووم! اور ذرا اپنی منی کو سنبھال کے رکھ. آئندہ میرے پپو کو ہاتھ نہ لگائے ورنہ ہاتھ توڑ کے رکھ دوں گی" بہرحال دونوں پڑوسنوں کی تو تو میں میں جاری رہتی.اور اتنے میں پپو اور منی پھر ایک ساتھ گلی میں کھیل رہے ہوتے۔ پھر کہیں سے دو تین صلح جو قسم کی بزرگ عورتیں میدان میں اترتیں، صلح صفائی کرواتیں اور یوں معاملہ رفع دفع ہوتا۔

اسی طرح خاندانوں میں دیوارنی جیٹھانی، نند بھاوج اور ساس بہو کے جھگڑے اور کھینچا تانی چلتی مگر رشتوں کا کچھ نہ کچھ احترام باقی تھا کہ بہو، ساس کو دیکھ کے بڑبڑا کر ہی رہ جاتی۔ ظالمہ!! دودھ کا برتن رات پھر فریج میں رکھ کے تالا لگا دیا... نی میں کنوں اکھاں.. ہائے دہائی.! مگر آج کل جدید دور ہے بھئی... محلے پڑوس اور خاندان بھر کی خواتین کو اگر ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہو جائے تو پھر ساری جنگ اسٹیٹس پہ ہوتی ہے! جی ہاں اسٹیٹس پہ! ہاہاہاہا... آپ بھی ہنس لیجیے. ہمیں بھی لڑائی کے اس مہذب انداز پہ کافی ہنسی آتی ہے۔کیا بتائیں بس! متعلقہ لوگوں کے اسٹیٹس دیکھنے والے ہوتے ہیں! جس کو جو کہنا ہو جی بھر کے کہو بلکہ کہنے کی زحمت سے بھی بچو آپ کو ہر طرح کے طنزیہ، مزاحیہ، تنقیدی جملے نیٹ پر دستیاب ہو جائیں گے۔ حسب ضرورت حسب ذائقہ جملہ یا ویڈیو اپلوڈ کیجیے اور مخالف کی اینٹھن کا خوب مزہ لیجیے!

پھر کچھ دیر بعد جواب ملاحظہ کیجیے اور اگلی گولہ باری کے لیے کوئی تیر بہدف جملہ یا ویڈیو منتخب کر کے لگا دیجیے۔ کوئی آپ کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا... ارے ہاں بھئی ہماری وال ہماری مرضی جو دل چاہے لگائیں.. کسی کو کیا...؟لوگوں کو تکلیف ہے تو نہ دیکھا کریں ہمارا اسٹیٹس!اففففف! اب بل کھانے یا پھر مزید کوئی تگڑا اسٹیٹس لگانے کے سوا چارہ ہی کیا ہے!!

ویسے آپس کی بات ہے بندہ تھوڑا وقت نکال کے کبھی کبھار لوگوں کے اسٹیٹس بھی دیکھ لیا کرے، حالات حاضرہ سے اچھی واقفیت ہو جاتی ہے۔لوگوں کا ما فی الضمیر پتا چلتا رہتا ہے۔ کون خوش ہے کون غمگین، کون مصروف اور کس کا کس سے جھگڑا چل رہا ہے!کچھ لوگ بہت اچھے عمدہ اسٹیٹس لگاتے ہیں، پڑھ سن کر ہی ایمان بڑھ جاتا ہے۔ کوئی آیت، حدیث یا کوئی خوب صورت سی بات جو علم و عمل میں بڑھا دے یا کوئی ایسی بات جو اپنے محاسبے پر مجبور کر دے. اسی طرح کچھ لوگوں کے لطیفے بےساختہ ہنسنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ایک بار تو ایک اسٹیٹس ہمیں بڑا ہی پسند آیا.. لکھا تھا: اسٹیٹس کسی اور کے لیے لگاتے ہیں اور فیل feel کوئی اور کر جاتا ہے." ہاہاہاہا... ہے نا مزے کی بات!

جن کے لیے لگاتے ہیں وہ دیکھتے نہیں اور سارا جگ دیکھ لیتا ہے۔ خیر چھوڑیے جی!پورا جگ دیکھے یا آدھا.. ہمیں کیا!کچھ کی سوشل میڈیا سے متعلق نت نئی سرگرمیاں بھی اسٹیٹس سے معلوم ہوتی رہتی ہیں۔ کون کون سے نئے کورس آن لائن ہونے والے ہیں۔ زوم پر کوئی فری کلاس ہونے والی ہے... کسی عالم دین کا بیان ہونے والا ہے، اس کے علاوہ بھی اور بہت کچھ..... مثلاً کہ کس کے ہاں قربانی کا کون سا جانور آیا ہے، وہ بھی دیکھ لیجیے۔ گائے بکرے بھی اسٹیٹس پہ۔۔۔ حتیٰ کہ سجے سجائے دسترخوان اور کھانے کی بھری پُری میزیں بھی اسٹیٹس پہ! چلیے جی باتیں تو بہت ہو گئیں.. اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف۔ایک دن بیٹھے بٹھائے ہمارے لخت جگر کو جانے کیا سوجھی کہ موبائل پر گانا سننے لگے.پہلے تو ہمیں یقین ہی نہیں آیا پھر حیرت اور غم کے شدید جھٹکوں کے ساتھ پوچھا:"برخوردار!! آپ گانے سماعت فرما رہے ہیں؟" برخوردار ہکلا بوکھلا کے گویا ہوئے، "نہیں تو امی حضور!! گانے تو نہیں سن رہا۔ میں تو اسٹیٹس دیکھ رہا تھا اس میں ویڈیو پر گانا لگا ہوا ہے.""تو بیٹا جی آپ ایسی چیزیں نہ دیکھیں جن میں موسیقی ہو."

کہنا تو یہی تھا اور بہت درد سے کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان بچے اور بچیاں ٹک ٹاک پہ جا کر خوب ویڈیو بناتے ہیں اور دنیا کو دکھاتے ہیں.. اسٹیٹس پر لگاتے ہیں اور خوب واہ وا سمیٹتے ہیں!!
کہاں گئی ہماری غیرت.؟نت نئے کیمرے ڈاؤن لوڈ کر کے فلٹر اور بیوٹی لگا کے، بے حیائی کے پوز بنا کے ہر لڑکی اپنے آپ کو حسینہ عالم سمجھنے لگتی ہے۔ہماری بچیاں ناچ ناچ کے آنکھیں مٹکا کے، ہونٹ لٹکا کے، ٹھمکے لگا لگا کے ویڈیو بنا رہی ہیں تو گھر والے کہاں ہوتے ہیں؟یا کسی کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا؟غیرت کے جنازے کب اٹھ گئے پتا ہی نہیں چلا۔ ہم مسلمان ہیں؟ کچھ لاج رکھی ہے ہم نے اسلام کی؟ کچھ تو سوچیے! کیا ہماری ماؤں بہنوں نے قیامِ پاکستان کے وقت اپنی عصمت کی چادروں کو اس دن کے لیے تار تار کیا تھا؟پھر کہتے ہیں ہم پر اتنے عذاب کیوں آ رہے ہیں؟خدارا اپنی نوجوان نسل کی طرف توجہ دیں، یہ کیا کررہے ہیں؟ یہ ہمارے بچے خودرو پودوں کی طرح بڑھ رہے ہیں! ان کی کوئی تربیت نہیں جو دل میں آئے کرتے ہیں۔ پھر بات سمجھاؤ تو جواز ڈھونڈنے لگتے ہیں۔

میرے وطن کے نونہالو!!

آخر تم کب اپنی فکر کرو گے؟ کب سدھرو گے؟

جب کوئی بڑا نقصان ہوگا، تب؟

جب زندگی اجیرن ہو جائے گی، تب؟

یا پھر جب موت سامنے نظر آئے گی، تب!!!!

اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ وَهُمۡ فِىۡ غَفۡلَةٍ مُّعۡرِضُوۡنَ‌ۚ ۞ (سورۃ الانبیاء)

لوگوں کے حساب کا وقت نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */