قلم کاسفر - پروفیسر جمیل چودھری

قلم بڑا خوش قسمت ہے۔کہ اﷲتعالیٰ نے پہلی ہی وحی میں قلم کاذکر کردیا۔ترجمعہ"پڑھیے آپ کارب بڑاکریم ہے۔جس نے علم سکھایا قلم کے واسطے سے"سورۃ العلق آیت(34)قلم کی اہمیت اس سے زیادہ ہوہی نہیں سکتی۔کہ اس کائنات کے خالق نے قلم کاذکر پہلی ہی وحی میں کردیا۔تمام علوم کوسیکھنے اورپھیلنے کاذریعہ قلم کو ہی قرار دیا۔ایسے ہی قرآن میں ایک پوری سورۃ کانام ہی"القلم"ہے۔ترجمعہ"ن۔قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں"سورۃ القلم آیت(1)دونوں آیات قلم اور کتابت کی اہمیت واضح کررہی ہیں۔قلم کے استعمال سے لکھنے کافن سیکھا گیا۔بڑے پیمانے پر علم کی اشاعت ،ترقی اورنسلاً بعد نسلاً اس کے بقا اور تحفظ کاذریعہ بنایا۔

اگراﷲ تعالیٰ الہامی طورپر انسان کوقلم اورکتابت کاعلم نہ دیتا۔توانسان کی علمی قابلیت منجمد ہوجاتی۔مسلم امت نے اپنے سنہری دورمیں قلم کے ذریعے علم کوکرۂ ارض پرپھیلادیا۔قرآن۔قلم کے ذریعے لکھاجاتارہا اور پھرمزید قلم کے استعمال سے وہ دوردراز علاقوں تک پہنچا۔حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں قرآن کے کئی نسخے قلم کے ذریعے لکھے گئے اورمسلم امت کے اس وقت کے مراکز تک پہنچائے گئے۔قرآن کے یہ نسخے اب تک کئی لائبریریوں میں محفوظ ہیں۔قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث نبوی کی کتابت بھی شروع ہوگئی تھی۔ڈاکٹر محمد حمید اﷲ یورپ کے مرکزپیرس میں بیٹھ کران قلمی مسودات کوچھاپ کردنیا بھر میں پھیلاتے رہے ۔بغداد،دمشق اورقرطبہ کے شہر قلم کے ذریعے بے شمار علم پھیلاتے رہے۔سیرت نبوی پرشروع کے ہی دنوں میں قلم کے ذریعے ایک بڑی اورمستند کتاب ترتیب پاگئی تھی۔اب یہ کتاب ابن اسحاق اورابن ہشام کے نام سے دنیا بھرمیں جانی جاتی ہے۔قرآنی تفاسیر اوراحادیث کے مسودات بھی قلم کے ذریعے جلد ہی معرض وجود میں آگئے تھے پھر قلم کے ذریعہ دینی اور دنیوی علوم صدیوں تک پھیلتے رہے۔قلم کااستعمال اسلام سے پہلے یونانیوں نے بھی کیاتھا۔

بہت کچھ یونانیوں نے لکھا اور اسے پھیلایا۔قدیم چینی تہذیب کی بہت سی کتابیں بھی اب تک موجود ہیں۔ہندی اورساسانی تہذیب کی باقیات بھی ہمیں معلوم ہیں۔کئی صدیوں سے علم کابڑا مرکز اب یورپ اورامریکہ بن چکاہے۔دینی لٹریچر کے ساتھ ساتھ مجھے مغربی لٹریچر کے مطالعہ کاکافی شوق رہا ہے۔ول ڈیورنٹ،آرنلڈٹائن بی،اورپال کینیڈی میرے زیرمطالعہ رہتے ہیں۔جرمن فلاسفرز سے بھی واقف ہوں۔ذاتی لائبریری میں اور بھی بہت کچھ اکٹھا ہوگیاہے۔قلم کاسفر اس وقت زیادہ تیز ہوگیاجب1450ء میں جرمنی کے ایک شخص گٹن برگ نے متحرک پریس ایجاد کرلیا۔پرانے قلمی مسودات اب چھپی ہوئی کتابوں میں تبدیل ہونے لگے۔لکھنے والوں کی اب آسانی ہوگئی۔ان کی کتابیں تیزی سے چھپ جاتیں اور دوردراز ملکوں تک پھیل جاتیں۔یہ مسلمانوں کی بدقسمتی تھی کہ ترک خلفاء نے 3۔صدیوں تک گٹن برگ کی ایجاد کو اپنے علاقوں میں نہیں آنے دیا۔برصغیر میں بھی متحرک پریس ابتدائی آنے والے انگریز لیکر آئے۔اگردیکھاجائے تو ٹائپ رائٹر بھی قلم کی تبدیل شدہ شکل تھی۔اور اب انٹرنیٹ کے زمانے میں قلم کے ذریعے لکھی ہوئی کتابیں چند گھنٹوں میں مطالعہ کے لئے دستیاب ہوجاتی ہیں۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ قلم کے سفر میں بہت تیزی آگئی ہے۔قلم اب نئی سے نئی شکلیں اختیار کرتاجارہا ہے۔کمپیوٹر کمپوزنگ بھی قلم کی ہی ایک شکل ہے۔اور اب آواز کے ذریعے بھی کمپوزنگ شروع ہوگئی ہے۔قلم مختلف شکلیں بدلتا رہے گا۔لیکن اس کابنیادی مقصد وہی ہے۔جوہزاروں سال پہلے تھا۔اس مضمون میں میں اپنے قلم کے استعمال کے بارے کچھ باتیں شئیر کرناچاہتا ہوں۔ہر مطالعہ کرنیوالہ انسان چاہتا ہے کہ وہ بھی کچھ لکھے۔جب کالجوں کی سرکاری ملازمت میں آئے۔مطالعہ کے لئے لائبریریوں سے فائدہ تو اٹھاتے رہے۔لیکن قلم لکھنے کے لئے تیارنہیں ہوا۔70ء کی دہائی میں ایک تحریر"ماہنامہ اشراق" کے لئے لکھی۔اس تحریر کی مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد نے بہت تعریف کی تھی۔یہ جھنگ کے دورکی بات تھی۔اس کے بعد پڑھنا اورپڑھانے کاکام ریٹائرمنٹ تک چلتارہا۔سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد3۔سیشنز بھی پڑھانے میں گزارے۔لیکن پرائیویٹ اداروں کے سٹاف روم میں وہ رونق نہ تھی جوسرکاری کالجوں میں تھی۔پھرلکھنے کی خواہش نے سرابھارا اورپہلا آرٹیکل روزنامہ پاکستان میں لگا۔پھریہ سلسلہ چل نکلا۔

روزنامہ پاکستان سے کئی سال وابستگی رہی ۔پھر روزنامہ نئی بات بڑی آن بان سے شائع ہوناشروع ہوا۔اسکے ساتھ وابستگی 6سال جاری رہی۔اکنامکس کے استاد کی حیثیت سے شروع کے مضامین زیادہ ترپاکستانی معیشت سے ہی متعلقہ تھے۔یہ بھی معلوم ہوتارہتا تھا کہ معاشی مسائل کی Readershipدرمیانی سی ہوتی ہے۔معیاشیات کے موضوعات چٹخارے دار نہیں ہوتے۔پاکستانی عوام کی اکثریت سیاست اور مذہب سے زیادہ شوق رکھتی ہے۔ساری عمر چونکہ شعبہ تعلیم سے وابستگی رہی تھی۔لہذا معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیم کی طرف بھی توجہ دی جانے لگی۔میرا پہلا مجموعہ"بحرانوں کی معیشت" کے نام سے 2012ء میں چھپا۔اس میں معاشی مسائل کے ساتھ سب سے زیادہ موضوعات تعلیم ہی سے متعلق ہیں۔2009ء کی نئی تعلیمی پالیسی پرکافی کچھ لکھا گیا۔زرعی مسائل بھی کافی زیربحث رہے۔پانی کی قلت بہت عرصے سے پاکستان کامسلۂ ہے۔بارش کے دنوں میں بے شمار پانی ضائع ہوجاتا ہے۔پانی کی قلت اورکثرت کوکئی آرٹیکلز میں موضوع بنایاگیا۔صنعت اورتجارت کے مسائل بھی زیربحث آتے رہے۔

عالمی معاشی طاقتوں کاذکر بھی ہوتارہا۔پاکستان کے سالانہ میزانیوں پرایک دوتبصرے بھی ہوتے رہے۔پہلا مجموعہ بحرانوں کی معیشت کے نام سے مرحوم پروفیسر انیس اکرام فطرت کے خوبصورت دیباچہ کے ساتھ شائع ہوا۔ہرلکھنے والے کواپنی کتاب کی اشاعت سے خوشی ہوتی ہے۔تب کتاب سرائے کے اصل بانی پروفیسر عبدالجبار شاکرحیات تھے۔انہو ں نے مسودہ کے عنوانات دیکھتے ہی شائع کرنے کی حامی بھرلی۔اخبارات کے ساتھ ساتھ کئی مضامین"ماہنامہ افکار معلم" میں بھی شائع ہوتے رہے۔روزنامہ نئی بات کے دور میں موضوعات بہت پھیل گئے۔مسلم لیگ نے آکر بڑ ے بڑے پروجیکٹ شروع کئے۔سی پیک کے شروع ہوتے ہی پورے ملک میں سٹرکوں کاجال بچھنے لگا۔بجلی کی کمی کودور کرنے کے لئے بھی کئی پروجیکٹ شروع ہوگئے۔چینی سرمایہ نے پاکستان کارخ کرلیاتھا۔بدلتی ہوئی سیاست نے معیشت کوبھی بدل کررکھ دیا۔اس صورت حال پرکافی کچھ لکھاگیا۔عالم عرب میں ایک بڑی تبدیلی شروع ہوگئی تھی۔عرب بہار کے اثرات کے مثبت نتائج کااطلاق توصرف تیونس تک رہا۔مصر اورشام میں اس کے اثرات برے ہی ہوئے۔

عرب بہار کے دور میں عرب ممالک زیادہ زیر بحث رہے۔ملک کے اندر پاکستانی طالبان کاکردار اور اسکی تباہ کاریاں اکثر زیربحث رہتی۔ترکی میں طیب اردگان اورعبداﷲگل کے آنے کے بعد حالات میں بنیادی تبدیلیوں کاذکر کافی ہوتارہا۔عالم اسلام میں ترکی کی اٹھان کومسلمان بہت توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔مسلمانوں نے ترک لیڈر کومسلم نشاۃ ثانیہ کی شکل میں دیکھنا شروع کردیا ہے۔اورپھر ترکوں کی معیشت کی بہتری سے اسکاG20میں آنا خوش کن صورت حال لگتی ہے۔اس کے تعلیمی معیار کی بلندی اورعزیز سنکار کا2015ء میں کیمسٹری میں نوبل انعام لینا۔یہ سب موضوعات اپنے اپنے وقت میںزیربحث رہے۔ماہنامہ افکارمعلم کی معمولی اشاعت کی وجہ سے ادھرزیادہ توجہ نہیں جاتی۔افغانستان گزشتہ4دہائیوں سے جہنم زاربنا ہواہے۔روس کے بعد امریکہ کاقبضہ۔فولاد کے بنے ہوئے طالبان شکست تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اور اب تک امریکہ کے سامنے ڈٹے ہوئے ۔

ان حالات پر تبصرے ہوتے رہے۔چین اب دوسری بڑی عالمی قوت بن گیا ہے۔اس کاذکر مضامین میں آتارہا۔اب بھی آتارہتا ہے۔ایک ارب34کروڑ لوگوں پرمشتمل قوم نے42سال میں جومعاشی معجزہ کردکھایا ہے۔ا س کاذکر میں کرتارہتا ہوں۔لوگ اکثر معیشت پر گفتگوکرتے اورلکھتے وقت پاکستان کی مجموعی معیشت کا ہی ذکرکرتے ہیں۔میں نے پنجاب،سندھ اورکراچی کی معیشت کاالگ الگ جائزہ بھی پیش کیا۔اسلامک بینکنگ اب ہمارے ملک کاایک بڑا شعبہ بن گیاہے۔قوم کا سود کے خاتمے کاسفرجاری ہے۔میں نے کئی آرٹیکلز میں اس بدلتی ہوئی صورت حال کاذکر کیا ہے۔سب دوست جانتے ہیں کہ اس وقت کرۂ ارض کو سرمایہ دارانہ سسٹم نے گھیر رکھا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کے چیمپین امریکہ میں بھی اب اس کے خلاف کئی تحریکیں کام کررہی ہیں۔متبادل معاشی نظام کی تلاش جاری رہتی ہے۔میں نے بھی کئی تحریروں کے ذریعے اپنا حصہ ڈالا۔اقبال بھی یہ تمنا کرتے چلے گئے۔

؎کب ڈوبے گاسرمایہ پرستی کاسفینہ

کمیونزم تو واضح طورپر 80ء کی دہائی کے آخر میں ڈوب گیا تھا۔لیکن سرمایہ داری نظام کے پنجے بہت ہی مضبوط نظر آتے ہیں۔اس کے ڈوبنے کے امکانات کب پیداہوتے ہیں۔کسی کے پاس بھی اس کا واضح جواب نہیں ہے۔یورپ میں کچھ ریاستیں فلاحی ریاست کے طورپر ضرور نظر آتی ہیں۔باقی دنیا میں امیر،امیرتر اورغریب ،غریب ترہوتے جارہے ہیں۔ان موضوعات پر اب امریکہ میں سب سے زیادہ لٹریچر معرض وجود میں آرہاہے۔ان کتابوں میں سے ایک"شراکتی معیشت"آجکل میرے زیر مطالعہ ہے۔تحریروں کادوسرامجموعہ"پاکستان کی سیاسی معیشت"محترم ڈاکٹر پروفیسر میاں محمد اکرم کے جاندار دیباچہ کے ساتھ شائع ہوا۔اس کتاب کومیں نے اپنے خاندان کی نئی نسل کے نمائندوں سمیر،شہاب،اسامہ،سفیان اورجو ہم کے نام منتسب کردیا۔T.Vپربیٹھے ہوئے تجزیہ کار توصرف اندھیروں کاہی ذکر کرتے ہیں۔میں نے اندھیروں کے ساتھ ساتھ کامیاب اداروں کا ذکرکیا۔میری یہ تحریر بہت پسند کی گئی۔اخبارات کے بعد میں نے اردو کی سب سے بڑی ویب سائٹ Daleel.P.Kپرلکھنا شروع کردیاتھا۔

گزشتہ70۔سالوں میں پاکستان کے حالات میں بڑی تبدیلیاں آگئی تھیں۔اس کاذکر میں نے کئی تحریروں میں کیا۔معیشت میں آنے والی 2۔بڑی تبدیلیوں کو لوگ اہمیت ہی نہیں دیتے۔پاکستان کی آبادی کاکافی بڑاحصہ اب مڈل کلاس میں آگیا ہے۔اس بات کو ایک بڑے ادارے ایشیائی ترقیاتی بنک نے بھی اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے۔وائرس سے پہلے پاکستان کی40۔فیصد آبادی مڈل کلاس میں شمار ہوتی تھی۔میں نے اپنے مضامین میں انکا ذکر کیا ہے۔ایسے ہی اب پاکستان کوزرعی ملک نہیں کہاجاسکتا۔اس کے حقائق کوکئی مضامین میں واضح کیاگیا ہے۔زراعت قومی آمدنی کاموجودہ سال کے اعدادوشمار کے مطابق29فیصد مہیاکرتی ہے۔چھوٹے کاروبار اب بہت پھیل گئے ہیں۔پاکستان اب دیہی پاکستان نہیں ہے۔60فیصد کے قریب آبادی اب شہری شمارہوتی ہے۔اب دیہاتوں اورچھوٹے ٹاؤنز میں شہروں جیسی سہولیات پہنچ گئی ہیں۔دیہی اور شہری کاتناسب مکمل طورپرتبدیل ہوگیا ہے۔

پاکستان کے کئی معیشتدانوں نے دیہی /شہری موضوع پرتحقیق کی ہے ۔نتیجتاًاب پاکستان کودیہی اورزرعی نہیں کہاجاسکتا۔ان موضوعات کوزیربحث لایاگیا۔دینی موضوعات میں"سید مودودی کی یادیں اورباتیں"ایسی تحریر تھی جس کامطالعہ پوری اردو دنیا میں ہوا۔پاکستان،بھارت،یو۔اے۔ای اور امریکہ تک میں اس میں دلچسپی لی گئی۔اورتبصرے ہوئے۔پاکستان کے پہلے پاکستانی"ایک بندہ صحرائی"کے نام سے شائع ہوئی۔یہ نومسلم محمد اسد کاتذکرہ تھا۔قرآنی حقائق اورجدید سائنس پرایک بڑامضمون Daleel.pkپرشائع ہوا۔مجھے سائنس اورسائنسدانوں کے ساتھ کافی دلچسپی ہے۔آئن سٹائن اورسٹیفن ہاکنگ یہ میرے2۔مضامین کافی دلچسپی سے پڑھے گئے۔مشرق وسطیٰ کے فرقہ وارانہ جھگڑوں کاذکر بھی کئی کالموں میں ہوا۔یہ جھگڑے اب بھی جاری ہیں اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کررہے ہیں۔ایران اور سعودی حکومتوں کی پالیسیوں پرکئی مضامین میں ذکر کیاگیا۔انٹرنیٹ نے پوری دنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے۔کتاب کا مستقبل نامی تحریر اسی موضوع سے متعلق شائع ہوئی اورکافی لوگوں کے زیرمطالعہ رہی۔

سائنسی تخلیقات اور ایجادات میں مسلم دنیا بہت پیچھے رہ گئی ہے۔میں اکثر اپنی تحریروں میں اس کا ذکر کرتارہتاہوں۔مسلم علاقوں میں سائنس کازوال اور اس زوال کوکیسے کمال میں تبدیل کیاجائے۔اس موضوع سے مجھے بڑی دلچسپی ہے۔میری کئی تحریریں دلیل پر اسی موضوع سے متعلق تھیں۔یہ تحریریں کافی پسند کی گئیں۔ان کی زیادہSharingکی وجہ سے یہ تحریریں ہزاروں لوگوں تک پہنچیں۔تعلیمی بجٹ کازیادہ ہونا اور شرح خواندگی میں اضافہ کاذکر اکثرکرتا رہتاہوں۔فطری سائنس میں مسلمانوں کی توجہ تحقیق اورتخلیق میں نہ ہونے کے برابر ہے اس طرف توجہ دلانا اساتذہ کاکام ہے۔میرا تیسرا مجموعہ"اندھیرے اجالے"کے نام سے2019ء کے آخر میں شائع ہوا۔اس کادیباچہ محترم پروفیسر راؤجلیل صاحب نے تحریر کیا۔کتاب کے نام کی مناسبت سے انہوں نے دیباچہ کو اس شعر پر ختم کیا۔

؎ملے گا منزل مقصود کااسی کو سراخ

اندھیری شب میں ہو چیتے کی آنکھ جس کاچراغ

Daleel.pkایک بہت ہی خوبصورت ویب گاہ ہے۔جب میں یہ ویب سائٹ کھولتا ہوںتو میرے سامنے مختلف رنگوں کے بے شمار پھول آجاتے ہیں۔دینی تحریریں اس ویب سائٹ کی اصل پہچان ہیں۔اس کے علاوہ تعلیم،معیشت،مسلم ممالک کے حالات،اردو کے نفاذ کی جدوجہد جیسے اہم موضوعات پر آپکومستند تحریریں مطالعہ کے لئے ملتی ہیں۔ایسی تمام تحریروں کے مطالعہ کے بعد تشنگی محسوس نہیں ہوتی۔بے شمار ویب سائٹس پر انتہائی گھٹیا مواد موجود ہوتا ہے۔لیکن دلیل اپنے قارئین کواپنی تہذیب اور اپنے دین کی شناخت پر قائم رکھے ہوئے ہے۔انٹرنیٹ کی دنیا میں یہ ایک خصوصی شناخت ہے جودلیل نے قائم رکھی ہوئی۔آئندہ بھی یہی توقع ہے۔میرے قلم کے سفرکو شروع ہوئے اب13سال ہوگئے ہیں۔مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میں نے2007ء میں لکھنے کاصحیح فیصلہ کیاتھا۔زندگی کے جتنے دن باقی ہیں دلیل کے لئے ہی لکھنے کاارادہ ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */