اچھی تربیت - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

جو لائی کا آخری ہفتہ چل رہا تھا ‘گر می اورحبس زوروں پر ‘مسلسل سورج کی آتش فشانی ‘ گر می ایسی کہ پہلے تو سورج کے گو لے نے زمین کو تپتا ہوا کڑا ہا بنا دیا کہ ہوائوں نے بھی آگ کا لباس پہن کر انسانوں پرندوں جانوروں ، درختوں فصلوں کو جھلسا کر رکھ دیا ‘ مسلسل گرمی کے ساتھ اب حبس کی دیوی بھی آشامل ہوئی ‘ انگارے بر ساتی گرمی میں حبس کی آمیزش ہو ئی تو انسانوں کے ساتھ زمین کے بھی پسینے نکلنا شروع ہو گئے۔

کرونا ‘لاک ڈائون ‘آگ برساتا سورج اور پسینہ نکالتا حبس کہ سانس لینا مشکل ،میں حبس گرمی سے منہ چھپائے ٹھنڈے کمرے میں ائر کنڈیشنڈ کی ٹھنڈی پھوا ر کے مزے لوٹ رہا تھا ساتھ میں کتاب لکھنے کا عمل بھی جاری تھا ‘ ٹھنڈی شکنجبین کا جگ گلاس سامنے تھے دو گلاس پینے کے بعد جسم کا درجہ حرارت کافی نارمل تھا باقی پینے کا ارادہ تھا دروازے پر کسی نے آکر ڈور بیل پر ہاتھ رکھ دیا ہاتھ رکھنے کے بعد وہ شاید ہاتھ اٹھانا بھول گیا تھا مہذب روئیے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے پر تُلا ہوا اُس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ ہر صورت میںمل کر جائے گا اُس کا ٹلنے کا ارادہ بلکل بھی نہیں تھا اُس کی جارحیت چٹانی موڈ دیکھ کر مجھے آنے والے کے آہنی عزائم کا ادراک ہو گیا تھا کہ وہ ہر حا ل میں ملنے پر بضدہے میں نے شکست مانی ہتھیار ڈال کر جاکر دروازہ کھولا تو جواں میاں بیوی بچے کے ساتھ کھڑے تھے ایک سال کے بچے کا گرمی سے برا حال تھا اُس کی حالت زار دیکھ کر میں اُن تینوں کو جلدی سے ٹھنڈے کمرے میں لے آیا ۔

اور آرام دہ صوفوں پر بٹھا کر فوری طور پر ٹھنڈی نمکین میٹھی شکنجبین کا گلاس بھر کر ماں کو پیش کیا کہ فوری طور پر بچے کو پلائے بچے نے دوتین گھونٹ لیے تو میر ی جان میں جان آئی‘ میری یاداشت کا کمپیوٹر بار بار سگنل دے رہا تھا کہ میں اِس لڑکی سے پہلے بھی مل چکا ہوں اُس کا چہرہ جانا پہچانا لگ رہاتھا کمرے میں آکر اُس نے اپنے چہرے سے ماسک اتارا تو چہرہ جاناپہچانا لگا میری سوالیہ نظروں کو دیکھ کر لڑکی بولی سر آپ نے شاید مجھے پہچانا نہیں ‘ میں ہما کرمانی ہوں دو سال پہلے اپنی ماں کے ساتھ آپ کے پاس آئی تھی اُس کے بعد آپ سے ملاقات نہیں ہو ئی لیکن فون پر دو چار با رتفصیلی بات ہوئی تو مجھے دو سال پہلے کا وہ دن یاد آگیا جب میں آفس سے تھکا ہارا گھر آیا تو گیراج میںایک جوان خوبرو سفید رنگ کی پتلی دراز قد لڑکی اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی تھی مجھے دیکھ کر دونوں بولیں ہم نے پروفیسرصاحب سے ملنا ہے۔

وہ کسی کے بتانے پر پہلی بار مُجھ سے ملنے آئی تھیں لیکن چہرے سے نہیں پہچانتی تھیں میں تھوڑا سا ناگوار سا بیٹھ گیا اور بولا آپ جمعہ کے دن تشریف لائیں تو آپ کی ان سے ملاقات ہو جاتی تو لڑکی بولی میں بہت ایمرجنسی میں آئی ہوں میرا گھر اُجڑ رہا ہے شاید اُن کے ملنے سے میرا گھر اجڑنے برباد ہونے سے بچ جائے مجھے اُن سے ہر حال میں ملنا ہے تو میں بولا آپ جن سے ملنے آئی ہیں وہ میں ہی ہوں ‘ میرے اقرار کر نے پر دونوں ماں بیٹی نے حیران نظروں سے مجھے سر سے پائوں تک بے یقینی کی حالت میں دیکھا میرے یقین دلانے پر لڑکی بولی سر اگر آپ بھٹی صاحب ہیں تو خدا کے لیے میری مدد کریں میں بہت مشکل میں ہوں تو میں بولا جی بیٹی بتائو مسئلہ کیا ہے تو اُس نے پٹاخہ چھوڑا سر میری تیسری شادی ٹوٹنے والی ہے پٹاخہ اس لیے کہ وہ بائیس تئیس سال کی جواں خوبصورت پڑھی لکھی لڑکی تھی ایسی خوبصورت لڑکی کی دو شادیاں ناکام اور اب تیسری ٹوٹنے کے قریب تھی یہ میرے لیے بہت بڑا دھماکہ تھا کہ جواں خوبصورت لڑکی کے ساتھ کو نسا سنجیدہ مسئلہ تھا جن تھا بھوت تھا جادو ٹونا یا کو ئی دنیاوی مسئلہ کہ پڑھی لکھی جوان خوبصورت ہونے کے باوجود اُس کی شادیا ں اوپر تلے فلاپ ہوتی جارہی تھیں اب میں پوری طرح متوجہ ہو کر اُس کی بات سننے لگا تو اُس نے بتایا کہ اُس کے خاوند کی بھی یہ تیسری شادی ہے وہ مُجھ سے عمر میںبھی دس سال بڑا ہے۔

لیکن پھر بھی یہ شادی خطرے میںہے یہ میرے لیے اور بھی حیران کن بات تھی کہ بڑی عمر کے شخص کو پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی مل جائے وہ بھی دو ناکام شادیوں کے بعد تو پھر وہ کیوں ایسی خوبصورت جوان پڑھی لکھی لڑکی کو چھوڑ رہا تھا اب میںاُس نقطے کوتلاش کرنا چاہتا تھا کہ آخر اِن ناکام شادیوں کی وجہ کیا ہے اب میں نے کہا آپ ساری بات بتائو وجہ کیا ہے ۔ تو وہ کہنے لگی میری پہلی دو شادیاں ایک سال کے اندر فلاپ ہو گئیں تو میری شادی کراچی میں ہو ئی میرا خاوند وہاں دوکانداری کرتا ہے اُس کا اچھا کام ہے لیکن وہ میری بات نہیں مانتا میںاُسے لاہور آنے کا کہتی ہوں وہ کہتا میں لاہور میں کیا کروں گا اِس بات پر ہمارا جھگڑا پچھلے دو ماہ سے چل رہا ہے میراوہاں دل نہیں لگتا وہ لاہور نہیں آرہااِس کے علاوہ کوئی اور مسئلہ تو اُس نے معمولی باتیں بتائیں جو عام گھروں میں ہو تی ہیں اچانک ماں بولی پروفیسر صاحب میں نے بہت اچھی طرح دیکھا ہے اُس کو اُس کے باہر لڑکیوں کے ساتھ تعلقات ہیں وہ غلط کام کر تا ہے شرابی جوا کھیلتا ہے تو میں نے پوچھا آپ نے شادی سے پہلے یہ کیوں نہیں دیکھا ۔

اورآپ کو یہ ساری باتیں کس نے بتائیں تو وہ بولی قاری صاحب تو میں بولا آپ نے خود اِن باتوں کی تصدیق کی تو لڑکی بولی قاری صاحب اور میری ماں یہ باتیں کرتی ہیں لیکن میں نے ایسی کوئی غلط بات اُس میں نہیں دیکھی تو میں نے لڑکی سے پوچھا تم کیا چاہتی ہو بتائو گھر بسانا چاہتی ہو یا ختم تو ماں فوری بولی ہمیں طلاق چاہیے ہم نے مزید اُس کے ساتھ نہیں چلنا تو میں لڑکی طرف متوجہ ہو کر بولا اگر آپ لوگوں نے طلاق ہی لینی ہے تو آپ میرے پاس کس لیے آئے ہیں تو لڑکی بولی میں طلاق نہیں چاہتی تو ماں بولی پروفیسر صاحب بندہ ٹھیک نہیں ہے ہاں آپ اِس کو کہہ دیں کہ وہ غلط ہے عیاش شرابی ہے تو آپ کے کہنے سے اِس کی تسلی ہوجائے گی ۔ہم نے اب طلاق لینی ہے اب لڑکی بار بار کہہ رہی تھی کہ آپ اُس کو ٹھیک کر دیں جبکہ ماں بار بار ایک ہی بات ہم نے طلاق لینی ہے تو میں فوری سمجھ گیاکہ اِس لڑکی کا بار بار گھر اُجڑنے اور پہلی دو طلاقوں میں بھی اِس کی ماں کا کردار ہے یہ ماں بیٹی کا گھر بسانے والی نہیں ہے اِس لیے تو کسی قاری صاحب کا سہارا لے کر خاوند کو برا بنا کر بیٹی کو طلاق پر اکسا رہی ہے میں نے لڑکی کی مدد راہنمائی کا فیصلہ کیا اوراُس کو اپنا فون نمبر دیا کہ بیٹی میںرات کو اچھی طرح چیک کر وں گا تم کل میرے سے بات کر نا ۔

پھر دونوں چلی گئیں اگلے دن جب لڑکی کا فون آیا تو میں نے کہا تمہارا خاوند بلکل ٹھیک ہے تمہاری ماں تمہارا گھر اجاڑ نا چاہتی ہے وہ ایسا کیوں چاہتی ہے تو وہ پھٹ پڑی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میںاکلوتی ہوں میرا والد فوت ہو چکا ہے میرے نام تین دوکانیں ہیں جن کا کرایہ آتا ہے جو میری ماں اور چاچے کو جاتا ہے میں نے اُس سے پچھلی دو شادیوں کی تفصیل بھی پو چھیں تو بات کھل کر سامنے آگئی ماں اور چاچا بلکل نہیں چاہتے تھے ایک بار شادی کرا کر تڑوا دی خوبصورتی کی وجہ سے دوسری ہو گئی وہ بھی تڑوا دی اب تیسری بھی ختم کر نے پر تُلے ہو ئے تھے ۔ میں نے لڑکی کو اچھی طرح سمجھایا کہ تمہارا خاوند اچھا ہے آرام سے چلی جائو ساتھ ہی وظیفہ بھی دیا لڑکی کو بات سمجھ آگئی اور چلی گئی اُس کے بعد تین ماہ تک رابطے میں رہی اور کہا کہ وہ اپنے گھر بہت خوش ہے اور میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری طلاق نہ ہو نے دی پھر کوئی رابطہ نہ ہوا آج دو سال بعد وہی لڑکی اپنے خاوند اکے ساتھ بچہ گود میں اٹھا ئے میر ے سامنے بیٹھی تھی میں خوشی سے دونوں کو دیکھ رہا تھا تو خاوند بولا سر اِس نے مجھے بتایا تھا کہ آپ کے سمجھانے پر میں کراچی آئی ہوں۔

جب اِس کا دل آپ کی باتوں سے صاف ہوا تو اب دو سال ہو گئے ہمارا کبھی جھگڑا نہیں ہوا اللہ نے بیٹا دیا ہمارا گھر مثالی اور ہماری زندگی شاندا ر ہے میںآج اِس کے ساتھ لاہور آیا تو صرف آپ کا شکریہ ادا کر نے آیا کہ آپ نے اِس کو اچھی بات سمجھا ئی ورنہ اِس کی ماں نے تو مجھے شرابی کبابی بنادیا تھامیاں بیوی دونوں بیٹھ کر شکریہ ادا کر کے چلے گئے تو میں سوچنے لگا میری پچیس سالہ روحانی زندگی میں یہ بار بار میں نے دیکھا ہے کہ جن لڑکیوں کی مائیں شادی کے بعد مثبت رویہ اپناتی ہیں بیٹیوں کو ٹھیک عقل مندی اور صلح جوئی والا مشورہ دیتی ہیں وہ اپنے گھروں میں خوش ہیں جن کی مائیں غلط مشورے دیتی ہیںوہ طلاق جھگڑوں عدالتوں میں دھکے کھاتی نظر آتی ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */