دو واقعات‘ دو کہانیاں اور ایک غزل- خالد مسعود خان

تہتر برس گزر گئے پاکستان کو بنے۔ اس عرصے میں پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والی نسل قریب قریب رخصت ہو گئی۔ یہ وہ نسل تھی جس کا ایک آدرش تھا، خواب تھا، تخیل تھا اور نئے ملک کے بارے میں ایک تصور تھا۔ اس آدرش کے حصول کے لیے انہوں نے کتنی قربانیاں دیں اور کس خون کے دریا کو پار کیا اس کا بیان لفظوں میں کسی طور ممکن نہیں۔ ایسے ایسے درد ناک واقعات ہیں کہ لکھتے ہوئے ہاتھ شل، آنکھیں دھندلی اور الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا آج کسی کو اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان کے لیے اپنے پیاروں کو چھوڑنے کا دکھ، گھر والوں کے لاشے بے گور و کفن چھوڑ آنے کا غم اور بلوائیوں کے بہنوں، بیٹیوں کو اٹھا لے جانے کی نہ ختم ہونے والی اذیت برداشت کرنے والوں نے اس ملک کے حصول اور یہاں آ کر سانس لینے کے لیے اپنا اور کیا کیا کچھ کھویا تھا؟
کیا انہوں نے ایسے پاکستان کے بارے میں سوچا تھا؟ کیا انہوں نے ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا؟ عدل و انصاف اور میرٹ کے ان واقعات کے بارے میں کبھی گمان بھی کیا ہو گا جو آج ہو رہے ہیں؟ نئی نسل کا کل علم فیس بک اور واٹس ایپ پر مشتمل ہے اور انہیں اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے بزرگوں نے مملکت خدا داد پاکستان کو حاصل کرتے ہوئے کس خون کے دریا کو پار کیا تھا۔
اس ملک کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا ہے اس کا اندازہ لگانے کے لیے آج چند سطروں میں صرف دو واقعات سناؤں گا۔ پھر دو کہانیاں اور ایک غزل۔
پہلا واقعہ:وزیر اعلیٰ پنجاب جناب سردار عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان کے انڈر میٹرک اللہ بخش کورائی کو اپنا ترجمان مقرر کر دیا ہے۔ موٹر سائیکلوں کے معمولی سے شو روم سے براستہ قبضہ گیری ڈیرہ غازی خان کے سب سے بڑے سپر سٹور کی ملکیت تک پہنچنے والے اللہ بخش کورائی کو ایک نوٹیفکیشن کے تحت وزیر اعلیٰ پنجاب کا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔

دوسرا واقعہ: سردار آفتاب اکبر (میٹرک پاس) کو پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔ پی ایچ ڈی ارکان کی موجودگی میں صوبے بھر کے ہزاروں تعلیمی اداروں کی گورننگ باڈی کے چیئرمین کی تعلیمی قابلیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمرانوں کی ترجیحات کیا ہیں۔ ادارے ایسے ہی برباد نہیں ہوتے۔ اس قسم کی تقرریاں ہی اداروں کی بربادی کا سبب بنتی ہیں۔
اور اب دو کہانیوں میں سے پہلی کہانی
وہ پانچ Sullivian بھائیوں کو یاد کرتے ہوئے دکھی ہو گئے۔ یہ پانچوں بھائی دوسری جنگ عظیم میں اکٹھے مارے گئے تھے۔ یہ پانچ بھائی امریکی بحری جہاز USS juneau پر سیلرز تھے۔ 1942 میں اس بحری جہاز پر جاپان نے ہوائی حملہ کیا اور اس کے نتیجے میں یہ جہاز ڈوب گیا۔ 687 لوگ مارے گئے۔ ان میں پانچ سگے بھائی بھی تھے۔ ان پانچ بھائیوں کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وہ خاموش ہو گئے۔ پھر کہنے لگے: لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ پانچوں بھائی ایک ہی فوج کی طرف سے لڑتے ہوئے مرے تھے‘ ایک دوسرے کی متحارب افواج کی جانب سے لڑتے ہوئے نہیں مرے تھے۔ یہ صاحبزادہ یعقوب خان تھے۔

ریاست رام پور میں پیدا ہونے والے صاحبزادہ یعقوب خان اور ان کا بھائی صاحبزادہ یونس خان‘ دونوں برٹش آرمی میں بھرتی ہوئے۔ دونوں نے جنگ عظیم دوم میں حصہ لیا۔ دونوں کو جنرل سروس میڈل سے نوازا گیا۔ صاحبزادہ یعقوب خان مصر اور لیبیا کے بارڈر کے نزدیک جنگ میں گرفتار ہوئے۔ اٹلی اور جرمنی کی قید کے دوران اٹالین اور جرمن زبان سیکھی۔ 1947ء میں پاکستان بنا تو صاحبزادہ یعقوب پاکستان آ گئے اور پاک فوج کا حصہ بن گئے جبکہ ان کے بھائی صاحبزادہ یونس خان بھارت میں رہ گئے اور بھارتی فوج کا حصہ بن گئے۔ کشمیر میں 1948ء میں ہونے والی جنگ میں دونوں بھائی اپنے اپنے ملک اور اپنی اپنی فوج کی نمائندگی کرتے ہوئے آمنے سامنے تھے۔ دونوں بھائی قریب ایک سال کے بعد ایک دوسرے سے ملے اور ملے بھی اس طرح کہ دونوں اپنی اپنی بٹالین کی کمان کر رہے تھے اور گولیوں کی زبان میں گفتگو کر رہے تھے۔ اس گولیوں والی گفتگو میں میجر یونس خان کی گولی نے میجر یعقوب خان کو زخمی کر دیا۔ جب دوسری والے بھائی کو احساس ہوا کہ اس کی گولی نے چھوٹے بھائی کو زخمی کر دیا ہے تو اس نے آواز دی ''چھوٹے! افسوس مت کرنا۔ ہم سپاہی ہیں اور اپنا فرض ادا کر رہے ہیں‘‘۔ کرنل مانک شا (بعد ازاں فیلڈ مارشل) اور کرنل جسبیر سنگھ نے میجر یونس کی تعریف بھی کی اور اس سے اظہار ہمدردی بھی کیا۔ دونوں بھائیوں کے درمیان اس مڈ بھیر کے بعد کامل بارہ سال تک دوبارہ کوئی رابطہ نہ ہوا۔ دونوں مخالف افواج میں تھے۔ 1960ء میں صاحبزادہ یونس نے صاحبزادہ یعقوب کی طوبیٰ خلیلی سے شادی کے موقع پر مبارکباد کا پیغام بھیجا۔

جب صاحبزادہ یعقوب خان 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاک فوج کے آرمرڈ ڈویژن کی قیادت کر رہے تھے تب صاحبزادہ یونس بھارتی فوج سے ریٹائر ہو چکے تھے۔ 1971ء میں صاحبزادہ یعقوب مشرقی کمانڈ کے کمانڈر تھے۔ تھری سٹار جنرل صاحبزادہ یعقوب خان کو عوامی لیگ کے خلاف آپریشن کا حکم دیا گیا‘ لیکن انہوں نے ڈکٹیٹر یحییٰ خان کو اس سلسلے میں سمجھانے میں ناکامی اور انتخابی نتائج کو قبول نہ کرنے کے باعث فوج سے استعفیٰ دیا اور گھر آ گئے۔ پھر وہ فارن سروس کا حصہ بن گئے اور دہلی کے سرکاری دورے کے دوران 1982ء میں پورے پینتیس سال بعد اپنے سگے بھائی سے ملے۔
دوسری کہانی: لکھنؤ میں میاں اور بیوی کے درمیان کئی روز تک یہ جھگڑا چلتا رہا کہ پاکستان بننے پر پاکستان جانا ہے یا ہندوستان ہی رہنا ہے۔ شوہر پاکستان آنے پر بضد تھا اور بیوی اپنے عزیز و اقارب اور والدین کے ساتھ ہندوستان رہنے پر بضد تھی‘ حتیٰ کہ 14 اگست کا دن آ گیا۔ شوہر نے اپنا بڑا بیٹا ساتھ لیا اور پاکستان کو چل پڑا۔ بیوی کے ساتھ آٹھ سالہ بیٹا ہندوستان رہ گیا۔ باپ کے ساتھ سلمان نے ساری عمر کراچی میں گزار دی اور ماں کے ساتھ عرفان نے ساری عمر بھارت کے شہر لکھنؤ میں گزار دی۔ عشروں بعد عرفان صدیقی کراچی آیا تو ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی بار بھائی سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے تناظر میں عرفان صدیقی نے‘ جو بھارت کا بہت ہی نامور اور مشہور شاعر تھا‘ ایک غزل لکھی۔

جب یہ غزل میں نے اس کے پس منظر کو جانتے ہوئے پڑھنے کی کوشش کی تو لگتا تھا کہ دل پھٹ جائے گا۔ اور بھلا یہ غزل ایک بار میں پڑھی بھی کب گئی تھی؟
اور آخر میں یہی غزل
تم ہمیں ایک دن دشت میں چھوڑ کر چل دیئے تھے تمہیں کیا خبر یا اخی
کتنے موسم لگے ہیں ہمارے بدن پر نکلنے میں یہ بال و پر یا اخی
شب گزیدہ دیاروں کے ناقہ سواروں میں مہتاب چہرہ تمہارا نہ تھا
خاک میں مل گئے راہ تکتے ہوئے سب خمیدہ کمر بام و در، یا اخی
جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے تو پھر میرے دل کی کمیں گاہ میں کون ہے
ایک شقی کاٹتا ہے تنابیں میرے خیمۂ خواب کی رات بھر، یا اخی
یہ بھی اچھا ہوا تم اس آشوب سے اپنے سرسبز بازو بچا لے گئے
یوں بھی کوئے زیاں میں لگانا ہی تھا ہم کو اپنے لہو کا شجر، یا اخی
زرد پتوں کے ٹھنڈے بدن اپنے ہاتھوں میں لیکر ہوا نے شجر سے کہا
اگلے موسم میں تجھ پر نئے برگ و بار آئیں گے تب تلک صبر کر، یا اخی

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */