آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر- اوریا مقبول جان

محبّی محترمی عرفان صدیقی صاحب کا حج کا سفر نامہ آیا تو اس وقت وہ ایک اہم عہدے پر مسندنشین تھے، ان کی عنایت کہ فقیر کو یاد رکھا اور کتاب بھجوائی، لیکن کرم بالائے کرم یہ کہ پاکستان ٹیلی ویژن کے کرتا دھرتائوں سے یہ کہہ دیا کہ اگر اس کتاب پر کوئی پروگرام کرنا ہو تو نظامت مجھ فقیر سے کروائی جائے۔ جس گداز سے یہ سفر نامہ تحریر کیا گیا ہے، اس کے تو چند صفحات پڑھتے ہوئے آنکھیں یوں بھیگ جاتی ہیں کہ ان کی دھندلاہٹ میں سوائے مکہ و مدینہ کے اور کچھ نظر ہی نہیں آتا، ایسے سفر نامہ نویس کے روبرو بیٹھ کر اس روحانی روئیداد پر گفتگو کرنا بہت مشکل تھا، لیکن بعض احباب کے سامنے تو ’’سرتسلیمِ خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے‘‘ والی کیفیت ہوتی ہے۔ اس ایک گھنٹے کے پروگرام میں عرفان صدیقی بار بار عینک کے پیچھے آنکھوں کے کونوں پر آئے ستارہ نما آنسوئوں کو صاف کرتے رہے۔ ایک مقام پر تو رقت ایسی طاری ہوئی کہ چند ثانیوں کیلئے ہم دونوں کی زبان سے کچھ بھی ادا نہ ہو سکا۔ یہ وہ مقام تھا جب عرفان صدیقی صاحب نے اس لوح مزار کا تذکرہ کیا جس پر علامہ اقبال کی وہ مشہور رباعی کنندہ ہے جو علامہ اقبال نے ڈیرہ غازی خان کے استاد ’’محمد رمضان عطائی‘‘ کو بخش دی تھی تو غنی از ہر دو عالم من فقیر روزِ محشر عذر ہائے من پذیر گر تو می بینی حسابم ناگزیر از نگاہِ مصطفیؐ پنہاں بگیر ترجمہ:-’’تو مالک ہے دوعالم کا اور میں تیرا ایک حقیر بندہ ہوں۔ روز محشر میری ایک درخواست قبول فرما۔ اگر میرا حساب و کتاب ناگزیر ہو تو میرا حساب و کتاب رسول اکرم ﷺ کی نگاہوں کے سامنے نہ لینا‘‘۔ چند دنوں سے یہ سب کچھ اس لئے آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے کہ اس فانی دنیا سے ایک ایسی ہستی نے سفرِ آخرت اختیار کیا ہے کہ یوں لگتا ہے، ہدایت اس پاکیزہ نفس شخص کا تعاقب کررہی تھی۔ اس شخصیت سے میرا تعارف بھی عرفان صدیقی کے کالم ’’گنگا سے زمزم‘‘، ان کے سفر نامے اور پھر اس پروگرام کے دوران ’’بین السطور‘‘ گفتگو سے ہوا تھا۔ عرفان صدیقی صاحب نے جس عقیدت و محبت سے اس شخصیت کا ذکر کیا، دل میں ایک تڑپ سی جاگی کہ کبھی حرمِ نبویؐ کی حاضری نصیب ہوئی تو زیارت کا شرف حاصل کروں گا، لیکن یہ تو نصیب کی بات ہوتی ہے۔

میرے جیسے کچھ لوگوں نے محرومِ تمنا ہی رہنا ہوتا ہے۔ کیا آفتاب تھا، جو دیگر صدہا آفتابوں کی طرح ’’جنت البقیع‘‘ میں زمین کا رزق ہوگیا۔ وہ ’’بقیع الغرقد‘‘ جسے سید الانبیاء ﷺ نے اپنے ساتھیوں اور اہلِ بیت کے آخری مسکن کے طور پر منتخب کیا اور سب سے پہلے ’’حضرت عثمان بن مظعون‘‘ کو دفن کرتے ہوئے فرمایا، ’’اے ابو سائب! تم اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا‘‘۔ اس دن سے امہات المومنین، اہلِ بیتِ رسول ﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے لے کر اب تک کتنے خوش نصیب ہیں جو اس منتخب خطۂ ارض میں دفن ہونے کی سعادت کے امین بن گئے۔ میرے آقاﷺ نے فرمایا تھا، ’’جو کوئی مدینہ میں مرنے کی استطاعت رکھے، اسے چاہیے کہ وہ مدینہ میں مرے، کیوں کہ جو مدینہ میں مرے گا، میں اس کی شفاعت کروں گا (ترمذی)۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ دعا فرمایا کرتے تھے، ’’اے اللہ مجھے اپنے راستے میں شہادت کی موت عطا فرما اور میری موت اپنے محبوب کے شہر میں عطا کر (صحیح بخاری)۔ اس سال جب لوگ میدانِ عرفات میں اللہ کے حضور دعائوں میں مشغول تھے، تو مدینے کے باسی، ایک عظیم انسان، محمد ضیاء الرحمن اعظمی جو اللہ کی امانت تھی، اسے ’’بقیع الغرقد‘‘ میں اللہ کے سپرد کررہے تھے۔ منتخب لوگوں میں سے ایک شخص جوہدایت کیلئے ہرلمحہ آمادہ روح لے کر ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوا۔ اعظم گڑھ کے قریب ’’بلریا گنج‘‘ کی بستی میں اس کا باپ ایک بہت بڑی کاروباری شخصیت تھا، جس کا کاروبار کلکتہ تک پھیلا ہوا تھا۔ 1943ء میں پیدا ہونے والا یہ بچہ جب ساٹھ کی دہائی میں شبلی کالج اعظم گڑھ میں داخل ہوا تو مطالعے کا شوق اور ہدایت کی طلب نے اس کے ہاتھ میں سید الاعلی مودودی کی کتاب ’’دینِ حق‘‘ تھمادی۔ کتاب ایسی تھی کہ بار بار پڑھنے پر مائل کرتی گئی۔ میرا ذاتی تجربہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ الحاد کے زمانے میں شیخ ظہور ؒاحمد نے مجھے جو تین چھوٹی چھوٹی کتابیں پڑھنے کو دیں تھیںوہ ’’سلامتی کا راستہ، دینِ حق اور تنقیحات کا مضمون عقلیت کا فریب‘‘ تھیں۔ ان میں سے دینِ حق نے یوں لگتا تھا کہ میرا دامن پکڑ لیا ہو۔ میںاعظم گڑھ کے اس ہندو نوجوان ’’ بانکے رام‘‘ کی حالت بخوبی سمجھ سکتا ہوں۔ یہ کتاب آپ کی انگلی پکڑتی ہے اور پھر اللہ آپ کو اندھیروں سے روشنی کی سمت لے جاتا ہے۔

بانکے رام نے ’’خواجہ حسن نظامی‘‘ کا قرآن کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا، دل اب بھی بے چین سا تھا، ویدوں کے پروفیسروں اور عالموں سے ملاقاتیں کیں، تسلی نہ ہوئی، مولانا مودودی کی کتب کا مطالعہ شروع کردیا۔ شبلی کالج کے ایک پروفیسر کالج میں ہفتہ وار قرآن کا درس دیتے تھے، وہاں جانے لگا۔ جب سورہ ’’العنکبوت‘‘ کی اس آیت پر پہنچے، ’’ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جو گھر بناتی ہے اور سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش لوگ اس حقیقت سے باخبر ہوتے‘‘۔ اس آیت نے ’’بانکے رام‘‘ کے دل کی دنیا ہی بدل دی، گھر بار سے چھپ کر اسلام قبول کر لیا اور خاموشی سے اپنا نام ضیاء الرحمن رکھ لیا۔ پہلے کچھ عرصہ خاموشی سے چھپ کر نماز پڑھی، پکڑے گئے، پھر سب کچھ چھوڑا اور کر بدایوں کی درس گاہِ اسلامی سے قرآن و حدیث پڑھی، جامعہ دارالسلام عمر آباد سے عا لمیت اور فضیلت کی سند حاصل کی، لیکن مدینے کی فضائیں اس جوہرنایاب کو اپنی آغوش میں سمونے کیلئے بے تاب تھیں۔ ضیاء الرحمن اعظمی کے دلِ بے تاب کو 1966ء میں اس سرزمین میں امان ملی۔ وہ مدینہ یونیورسٹی میں طلبِ حصولِ علم کے راستے پر چل نکلا۔ ان کا پہلا کام ہی کمال کا تھا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ کی احادیث پر مستشرقین کے اعتراضات پر کام کیا اور دنیا کو حیران کر دیا کہ حضرت ابوہریرہؓ جو حدیث کے سب سے بڑے راوی ہیں ان کی بیان کردہ احادیث کی اکثریت ایسی ہے جنہیں باقی بڑے جلیل اللہ صحابہ نے بھی بیان کیا ہے۔ یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ باقی تمام صحابہ کو جو 5374 علیحدہ علیحدہ احادیث یاد تھیں، وہی تمام حدیثیں اکیلے سیدنا ابوہریرہ ؓ کو یاد تھیں۔ ان کی یہ عظیم کتاب ’’ابوھریرہ فی ضوء مردباتہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جو اسلامی تاریخ کا بہت بڑا کام ہے۔

جب کہ اللہ نے اپنے اس بندے سے ایک اور بڑا کام لیا، امت مسلمہ مدتوں اس بات پر بحث کرتی رہتی تھی کہ صحیح، حسن، مرفوع، مثبت اور موضوع احادیث کون کونسی ہیں، اور عام لوگ صحیح احادیث کی تلاش میں سرگرداں رہتے۔ صحیح احادیث پر کوئی ایک جامع کتاب میسر نہ تھی۔ ضیاء الرحمن اعظمی نے ’’الجامع الکامل‘‘ کی بارہ جلدوں میں سولہ ہزار آٹھ سو (16,800)صحیح احادیث کو جمع کردیا۔ امت کی چودہ سو سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ یہ کام ہوا کہ ہر متلاشی حدیث کے لئے سید الانبیاء ﷺ کی صحیح احادیث کو ایک جگہ اکٹھا کردیا گیا۔ یہ تمام احادیث، 170مصادر سے حاصل کی گئی ہیں اور پھر ان کی تخریج کی گئی جو بہت بڑا کام ہے۔ اللہ جن لوگوں کو منتخب کرتا ہے ان پر زندگی کے مقاصد شروع دن سے واضح کردیتا ہے۔ شیخ یا سرقاوی کو انٹریو دیتے ہوئے ضیاء الرحمن اعظمیؒ نے کہا تھا، ’’میں مسلمان تو ہوگیا تھا، اب میں ڈاکٹر اور انجینئر بھی بن کر دنیا کما سکتا تھا، لیکن میں نے سوچا جس دین نے مجھے ہدایت بخشی اسی دین کا ہی علم سیکھوں گا‘‘۔ جب اس خوش بخت شخص ضیاء الرحمن اعظمی کو لوگ جنت البقیع میں دفن کر رہے ہوں گے تو یقینا بہت سوں کو رسول اکرم ؐ کے وہ الفاظ یقینا یاد آئے ہوں گے جو انہوں نے بقیع کے پہلے مدفون عثمان بن مظعونؓ کو دفن کرتے ہوئے فرمائے تھے، ’’تم اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا‘‘۔ کمال ہوتے ہیںیہ منتخب لوگ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */