کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں- ارشاد احمد عارف

قوم نے یوم استحصال کشمیر منا لیا‘ حکومت نے جرأت کی‘ پاکستان کا حتمی سیاسی نقشہ پیش کردیا جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر‘ لداخ اور جموں پاکستان کا حصہ ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دعویٰ ہے کہ بھارت نے مختلف اطراف سے پاکستان کو مذاکرات کی پیشکش کی‘ یہ سنجیدہ پیشکش تھی مگر پاکستان نے 5 اگست کے یکطرفہ اقدام کی واپسی تک مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کردیا‘لیکن؟کشمیری عوام بھارتی محاصرے سے آزاد ہوئے نہ شہادتوں اور گرفتاریوں میں کمی آئی اور نہ نام نہاد عالمی برادری کے دبائو پر ایک سال سے اپنے گھروں میں قید بامشقت بھگتنے والے کشمیری مرد و زن کو رہائی ملی۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ بھارت دبائو میں ہے‘ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کامیابی سے ہمکنار اور حالات پاکستان کے حق میں سازگار لیکن مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا پرنالہ جہاں تھا وہیں ہے‘ کشمیری عوام کے مصائب کم ہوئے نہ آزادی کی جدوجہد میں پیش رفت کے آثار نمایاں ؎ نہ گل کھلے ہیں نہ تم سے ملے نہ مے پی ہے عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے حکومت پاکستان کی طرف سے تاخیر سے سہی سیاسی نقشے کا اجراء موزوں اقدام ہے۔ 9/11 کے بعد پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر پسپائی شعار کی‘ اپنے تاریخی موقف سے انحراف کرتے ہوئے عجیب الخلقت فارمولے تشکیل دیئے اور بھارت کے بیانئے کو تقویت پہنچائی۔ پرویز مشرف کے دور میں کبھی ایک فارمولہ اور کبھی دوسرا فارمولہ آزمایا گیا جس سے آزادی کی جدوجہد کو نقصان پہنچا اور عالمی برادری نے لاتعلقی اختیار کرلی۔ آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے دور میں بیک چینل ڈپلومیسی سے یہ مسئلہ حل کرنے کی سعی ہوئی جو سعی ناکام ٹھہری کہ بھارت کے ارادے کبھی تنازع کشمیر حل کرنے کے تھے‘ نہ ہوں گے۔ اسلامی تشخیص کی نیوکلیئر ریاست بھارت کو خیر کیا ہضم ہوگی‘ اس کے امریکی و یورپی سرپرستوں کو بھی سازگار نہیں۔ پاکستان کے بعض دانشوروں اور سیاستدانوں کو یہ خوش فہمی لاحق ہے کہ کسی نہ کسی انداز میں کچھ لے دے کر جموں و کشمیر سے جان چھڑا کر بھارت سے دوستی ممکن ہے اور یہاں دودھ شہد کی نہریں بہائی جا سکتی ہیں۔ معاشی طاقت اور اقتصادی کمزوری کا فلسفہ بیان کرکے یہ لگڑ بگڑ پاکستانی عوام کو باور کراتے ہیں کہ ایک بڑی معاشی طاقت بھارت سے بزور کشمیر حاصل کیا جا سکتا ہے نہ پاکستان کی بقا ممکن ہے۔

مثال وہ سوویت یونین کی دیتے ہیں جو ان کے بقول معاشی بدحالی کی بنا پر افغانستان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکا۔ یہ مثال حالانکہ سو فیصد بھارت پر صادق آتی ہے جو سوویت یونین کی طرح فطری ریاست نہ اپنے مقبوضہ علاقوں کو تادیر سنبھالے رکھنے کی اہلیت سے بہرہ ور معاشی و دفاعی قوت۔ اندرونی‘ لسانی‘ نسلی اور مذہبی اختلافات بھارت کی ایسی کمزوری ہیں جنہیں پاکستان اگر کامیابی سے ابھار سکے تو اس انتہا پسند‘ تنگ نظر‘ ہندو ریاست کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا ناممکن۔ مختلف اقوام‘ مذاہب اور لسانی و نسلی اکائیوں کے اس مجموعے کو ہندو توا کا فلسفہ اور جموں و کشمیر‘ مشرقی پنجاب‘ جھاڑ کھنڈ‘ آسام‘ تری پورہ کی مزاحمتی تحریکیں بکھیرنے کے لیے کافی ہیں لیکن نریندر مودی کی خوش قسمتی یہ کہ پاکستان سمیت اس کے کسی ہمسائے نے ان تضادات کو اب تک سنجیدگی سے ابھارنے کی سعی کی نہ تنگ نظر برہمن قیادت کے مظالم سے تنگ آئے مظلوموں کی عملی اعانت کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ کشمیری عوام نے ایک لاکھ شہادتوں سے مودی سرکار کو 5 اگست کے اقدام پر مجبور کیا جسے عمران خان خودکشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ 9/11 کے بعد عالمی برادری نے واقعتاً جموں و کشمیر کی مزاحمتی تحریک خودارادیت کو دراندازی اور دہشت گردی سمجھنا شروع کردیا تھا مگر اب صورتحال مختلف ہے۔ ایک سالہ محاصرے نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا مگر پاکستان اس صورتحال سے کماحقہ فائدہ نہ اٹھا سکا۔ عمران خان کا انداز کار اور انداز فکر سابقہ حکمرانوں سے جدا ہے‘ لہجہ معذرت خواہانہ ہے نہ فہم میں کجی‘ جارحانہ سفارت کاری کے تقاضے مگر وہ بھی پورے نہیں کرپائے‘ سیاسی نقشہ چھ آٹھ ماہ قبل منظر عام پر آنا چاہیے تھا۔ کشمیر کمیٹی کی قیادت شہریار آفریدی کے بجائے کسی سنجیدہ فکر‘ فعال اور سفارت کاری کے تقاضوں سے آشنا فرد کو سونپنے کی ضرورت تھی‘ جو ایپکس اور سیاسی کمیٹی اب بنی یہ پہلے بن جاتی اور عالمی برادری کو متوجہ کرنے کی ذمہ داری ان کمیٹیوں کے سپرد ہوتی تو بہتر نتائج نکل سکتے تھے مگر کسی نے سوچا نہیں۔ تاخیر سے کشمیری عوام بے یقینی کی چکی میں پستے رہے‘ اعتماد اور بے اعتمادی کی یہ ملی جلی کیفیت انسان پر قیامت ڈھاتی ہے لیکن تاخیر سے سہی یہ کام ہوا ؎ دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا‘ ویسے ہم گھبرائے تو سیاسی نقشے سے عالمی برادری اور بھارت کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان کا پورے کشمیر بشمول جموں و لداخ پر دعویٰ برقرار ہے‘ یہ قائداعظم کے الفاظ میں ہماری شہ رگ ہے۔

بھارت نے 5 اگست کے اقدام کے بعد جو نقشہ جاری کیا اس میں جموں و لداخ سے لے کر گلگت بلتستان تک علاقے کو اپنا حصہ قرار دیا۔ یہ اپنے آپ کو افغانستان کا ہمسایہ ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش تھی اور حق شفعہ جتلانے کی ڈھٹائی‘ جو پاکستان نے ناکام بنا دی۔ ضرورت مگر اب مزید آگے بڑھنے‘ ایک سالہ کارگزاری کا جائزہ لینے اور سفارتی‘ اقتصادی‘ معاشی اور دفاعی سطح پر ان کمزوریوں کو دور کرنے کی ہے جن کے باعث کشمیری عوام آزادی کی منزل کے مزید قریب ہو سکے نہ ہم ٹھوس سفارتی کامیابی کا دعویٰ کرنے کے قابل۔ سید علی گیلانی کو نشان پاکستان کا اعزاز دے کر حکومت پاکستان نے کشمیری عوام اور اس کی مزاحمتی قیادت کی طویل قربانی کا اعتراف کیا‘ یہ ترجیحات کا تعین ہے۔ خیبر سے کیماڑی تک پاکستانیوں نے کشمیری عوام سے یکجہتی ظاہر کی لیکن ایک سالہ سعی و تدبیر کا نقد ثمر؟ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی سے بھارت کے خلاف مذمتی قرارداد؟ اسلامی کانفرنس کا سربراہی اجلاس؟ بین الاقوامی مبصرین کی مقبوضہ کشمیر آمد اور بھارتی مظالم کی پردہ کشائی؟ یا کم از کم سید علی گیلانی سمیت کشمیری قیادت کی رہائی اور ایک سالہ محاصرے کا خاتمہ؟ گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں۔ پاکستان موجودہ صورتحال سے اگر فائدہ نہیں اٹھاتا‘ اپنی اندرونی کمزوریوں کے احساس جرم میں مبتلا رہتا اور ایک نیو کلیئر ریاست‘ افغانستان کے بے سروسامان حریت پسندوں سے سبق حاصل نہیں کرتی تو ہم نقشے جاری کرکے خوش ہوتے رہیں‘ بھارت کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟ بھارت کو پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک سے روک لینا اور آزاد کشمیر‘ گلگت بلتستان پر قبضے سے باز رکھنا ہی اگر ہماری کامیابی ہے تو مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کیا فائدہ؟ ساری سفارتی جدوجہد اور دفاعی تیاریوں کا یہ ثمر تو سفر رائیگاں ہے۔ پاکستان کی شہ رگ کو چھڑانے کی سنجیدہ کوشش نہیں ؎ کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں کب کوئی بلا صرف دعائوں سے ٹلی ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */